چلنے سے ذہنی سکون اور ٹیلی پیتھی کی طاقت حاصل کریں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے لوگ اس وقت کسی نہ کسی ذہنی الجھن کا شکار ہیں
کوئی کہتا ہے دل بھاری رہتا ہے۔
کوئی کہتا ہے مشق میں دل نہیں لگتا۔
اور کوئی یہ کہتا ہے کہ خیالات قابو میں نہیں آتے۔
یقین کریں میں آپ کی اس کیفیت کو سمجھتا ہوں۔
ٹیلی پیتھی، ذہنی تربیت، فوکس اور تصوراتی طاقت کا سفر آسان نہیں۔
یہ صرف آنکھیں بند کرکے بیٹھ جانے کا نام نہیں۔ یہ جسم اور ذہن کے باہمی توازن کا نام ہے۔
اور آج میں آپ کو ایک ایسا راز بتانا چاہتا ہوں جو شاید آپ نے پہلے کبھی نہیں سنا ہوگا۔
اگر جسم سست، تھکا ہوا یا دباؤ کا شکار ہو تو ذہن کبھی اپنی مکمل طاقت استعمال نہیں کر سکتا۔
وہ شکایت جو مجھے سب سے زیادہ سنائی دیتی ہے
ہر ہفتے مجھے وٹس ایپ پر درجنوں پیغامات ملتے ہیں۔
سر جی میرا دل اداس رہتا ہے۔
ذہن بوجھل ہے
مشق میں دل نہیں لگتا۔
خیالات قابو میں نہیں آتے۔
اور ہر بار میں دیکھتا ہوں کہ یہ محض جذباتی مسئلہ نہیں۔
یہ جسمانی اور کیمیائی مسئلہ ہے۔
آپ کو اچھی طرح اسے سمجھنا ہوگا۔
ہر ذہنی مسئلے کا آغاز جسم سے ہوتا ہے اور ہر ذہنی سکون کی پہلی سیڑھی بھی جسم ہی ہے۔لہذا آج سے چلنے سے ذہنی سکون اور ٹیلی پیتھی کی طاقت حاصل کریں۔
جب انسان زیادہ سوچتا ہے،خوف،تشویش یا مایوسی میں مبتلا ہوتا ہے تو دماغ میں تناؤ کے ہارمون خاص طور پر کورٹیسول بڑھ جاتے ہیں۔
یہ ہارمون دماغ کے اُس حصے کو کمزور کر دیتے ہیں جو توجہ،تصور،یقین اور گہری ذہنی لہروں کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔
یعنی سادہ الفاظ میں ذہنی دباؤ ٹیلی پیتھی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
جب کورٹیسول بڑھتا ہے تو ذہن بچاؤ کی حالت میں چلا جاتا ہے اور اس حالت میں نہ تصور کام کرتا ہے،نہ یقین،نہ ذہنی رابطہ۔
جسم کو حرکت دینے کا سادہ مگر طاقتور حل
اور اب میں آپ کو وہ حل بتاتا ہوں جو میں نے خود برسوں کے تجربے سے سیکھا ہے۔
یہ حل کسی پیچیدہ روحانی عمل یا خاص منتر میں نہیں بلکہ ایک بہت سادہ قدم میں چھپا ہے۔
جسم کو حرکت دو۔
اگر آپ لیٹے ہوئے ہیں تو اٹھ کر بیٹھ جائیے۔
اگر بیٹھے ہیں تو کھڑے ہو جائیے۔
اگر کھڑے ہیں تو چلنا شروع کر دیجیے۔
اور اگر چل رہے ہیں تو رفتار تیز کر دیجیے۔
یہ کوئی موٹیویشنل نعرہ نہیں۔ یہ دماغی سائنس کا تسلیم شدہ اصول ہے۔
جب آپ مسلسل بیس سے چالیس منٹ پیدل چلتے ہیں تو جسم میں یہ تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
خون کی روانی تیز ہوتی ہے۔
دماغ کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے۔
خوشی کے ہارمون خارج ہوتے ہیں۔
تناؤ کا ہارمون کم ہوتا ہے۔
دماغ منفی سوچ کے چکر سے باہر آنے لگتا ہے۔
سائنسی تحقیق کہتی ہے کہ بیس سے چالیس منٹ کی مسلسل چہل قدمی دماغ کو ایسے تازہ کرتی ہے جیسے کمپیوٹر کو دوبارہ چالو کیا جائے۔
اور میں نے خود یہ بات اپنے سینکڑوں سٹوڈنٹس میں دیکھی ہے۔
ٹیلی پیتھی سٹوڈنٹس کے لیے خاص پیغام
اگر آپ واقعی ٹیلی پیتھی میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات ذہن نشین کر لیں۔
مسلسل بیٹھے رہ کر ذہنی طاقت نہیں بنتی۔
صرف پڑھ لینے سے لہریں مضبوط نہیں ہوتیں۔
جسم کو نظر انداز کر کے ذہن کو قابو میں نہیں کیا جا سکتا۔
سوچیے۔
آپ کا جسم ایک اینٹینا ہے۔
اور ذہن ایک وصول کنندہ۔
اگر اینٹینا زنگ آلود ہو تو اشارہ کبھی صاف نہیں آئے گا۔
میں نے یہ بات اپنے ہزاروں سٹوڈنٹس کو بتائی ہے اور جنہوں نے اس پر عمل کیا ان کی زندگیاں بدل گئیں۔
روزمرہ زندگی میں کیا کریں؟
روزمرہ زندگی میں جسمانی حرکت کے آسان طریقے
مشق سے پہلے دس سے پندرہ منٹ تیز چہل قدمی کریں۔
ذہنی دباؤ میں فوراً جگہ بدلیں اور چلنا شروع کریں۔
نیند نہ آئے تو موبائل کے بغیر ہلکی چہل قدمی کریں۔
کوئی سوال بے چین کرے تو خاموشی سے بیس منٹ چلیں۔
جواب خود آئے گا۔
یقین کریں بہت سے سوالوں کے جواب چلتے چلتے خود مل جاتے ہیں۔
میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔
اگر آپ آج سے یہ عمل شروع کر دیں تو ایک ہفتے میں فرق محسوس ہوگا۔
جب جسم ہلکا ہوتا ہے تو ذہن گہرا ہو جاتا ہے
جب جسم حرکت میں ہوتا ہے تو ذہن سکون میں آتا ہے۔
اور یہی سکون ٹیلی پیتھی کی اصل بنیاد ہے۔
آج کا عمل
آج ہی پہلا قدم اٹھائیں۔
بیس منٹ چلنا شروع کریں۔
اور اپنے ذہن کو وہ سکون دیں جس کا وہ حقدار ہے۔
میں آپ کے ساتھ ہوں۔
آپ کی کامیابی میرا مقصد ہے۔
کمنٹ میں بتائیں
کیا آپ روزانہ 20 منٹ کی چہل قدمی کرتے ہیں
#Telepathy
#MentalHealthMatters
#MindPower
#WalkingBenefits
#SelfDevelopment
![]()

