حرفِ راز
قسط 04: عشقِ مصطفیٰ ﷺ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وہ چراغ جس کے بغیر ہر راستہ اندھیرا ہے
اندھیروں کا مسافر اور مدینے کا چراغ
اے راہِ سلوک کے مسافر جب سالک نفسِ امارہ کی چالوں سے برسرِ پیکار ہوتا ہے اور دل کے آئینے سے صدیوں کا زنگ اتارنے میں مصروف رہتا ہے، تو ایک ایسا مقام آتا ہے جہاں عقل کے سارے چراغ بجھنے لگتے ہیں۔ علم کی روایتی روشنی ماند پڑ جاتی ہے، زہد کا غرور بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے، اور سالک ایک ایسی تاریک گھاٹی میں تنہا کھڑا رہ جاتا ہے جہاں چاروں طرف گھپ اندھیرا ہوتا ہے۔ اس گھمبیر اندھیرے میں اگر کوئی روشنی راہ دکھا سکتی ہے، تو وہ صرف اور صرف محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چراغ ہے۔
منقول ہے کہ ایک بار صحرا کا ایک سادہ دل بدو بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوا۔ نہ اس کے پاس علم کے بڑے بڑے دلائل تھے، نہ عبادت و ریاضت کا کوئی دعویٰ۔ اس نے سرکارِ دو عالم ﷺ کے چہرۂ انور کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں بھیگ گئیں،
اور اس نے نہایت عجز سے عرض کیا:
“یا رسول اللہ قیامت کب آئے گی؟”
حضور نبی اکرم ﷺ نے مسکرا کر دریافت فرمایا: “تو نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟”
اعرابی کا دل بھر آیا، آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے، اور اس نے کہا: “یا رسول اللہ میرے پاس نہ کثرتِ نماز کا ذخیرہ ہے، نہ روزوں کی پونجی، نہ صدقات کا انبار… مگر ایک بات ہے، میرے دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بے پناہ محبت بسی ہوئی ہے”۔
یہ سن کر رحمۃ للعالمین ﷺ نے وہ بشارت عطا فرمائی جو آج تک طریقت کے ہر سالک کی روح کی غذا بنی ہوئی ہے: “انسان (قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔”
اے طالبِ راہِ حق زہد و عبادات کے دفتر اپنی جگہ مسلم، مگر جو مقامِ قرب عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے چند آنسوؤں سے حاصل ہو جاتا ہے، وہ صد سالہ بے عشق ریاضتوں سے بھی نصیب نہیں ہوتا۔ جس دل میں حضور ﷺ کی سچی محبت کا چراغ روشن ہو جائے، وہاں سے وسوسوں کے سارے اندھیرے خود بخود کافور ہونے لگتے ہیں۔
فنا فی الرسول ﷺ اور طریقت کا محور
طریقت کے تمام سلاسل، خواہ قادریہ کی دستگیری ہو، چشتیہ کا سوز و ساز، نقشبندیہ کا سکوتِ قلبی یا سہروردیہ کا زہد و پرہیزگاری، سب ایک ہی مرکز کے گرد طواف کرتے ہیں۔ تصوف کی اصطلاح میں اسے “فنا فی الرسول ﷺ” کہا جاتا ہے۔
-
تمام منازل کا اصل مقصد
سالک جب طریقت میں قدم رکھتا ہے، تو ابتداء فنا فی الشیخ سے کرتا ہے، یعنی مرشد کی ذات میں گم ہو جانا۔ مگر یاد رہے، مرشد کا ہاتھ سالک کو اپنے ساتھ باندھنے کے لیے نہیں بلکہ سرکارِ دو عالم ﷺ کے نعلینِ پاک تک پہنچانے کے لیے ہوتا ہے۔ جب سالک فنا فی الرسول ﷺ کے مقام تک رسائی پاتا ہے، تو اس کے تمام خطرات، باطنی الجھنیں اور شیطانی وسوسے ہمیشہ کے لیے ساقط ہو جاتے ہیں۔
-
عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور شریعت کا ربط
کچھ کم فہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عشق اور شریعت دو الگ الگ راستے ہیں۔ حالانکہ مشائخِ طریقت فرماتے ہیں کہ شریعت حضور ﷺ کا جسمِ اطہر ہے اور عشق حضور ﷺ کی روح ہے۔ جہاں عشق نہ ہو، وہاں طاعت و عبادت محض بے جان لاش بن کر رہ جاتی ہے۔ کوئی شخص حضور ﷺ کی سنتِ مبارکہ اور ادب سے انحراف کرکے عشقِ الٰہی کا دعویٰ نہیں کر سکتا، کیونکہ خدا تک پہنچنے کی ایک ہی شاہراہ ہے، سید المرسلین ﷺ کی غلامی۔
-
سلاسلِ اربعہ کا متفقہ نکتہ
سلسلہ قادریہ
غوثِ پاکؒ فرماتے ہیں کہ ہر ولی کو ملنے والا فیض دراصل بارگاہِ مصطفوی ﷺ کی خیرات ہے۔
سلسلہ چشتیہ
خواجہ غریب نوازؒ کے ہاں عشقِ رسول ﷺ ہی اصل روحانی سلطنت کی چابی اور حقیقی امیری ہے۔
سلسلہ نقشبندیہ
مشائخِ نقشبند فرماتے ہیں کہ اتباعِ سنت اور دوامِ درود شریف دل کو چمکانے کا سب سے تیز ترین ذریعہ ہے۔
عشقِ رسول ﷺ کے بغیر ایمان کبھی کامل نہیں ہو سکتا، اور اس پر قرآن، حدیث اور اقوالِ اولیاء کی محکم گواہیاں شاہد ہیں۔
محبتِ رسول ﷺ کی فرضیت پر
اللہ رب العزت کا فرمانِ عالیشان ہے:
قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ”
آپ فرما دیجیے: اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے رشتے دار، تمہارے وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں، وہ تجارت جس کے مندا ہونے سے تم ڈرتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، اگر یہ سب تمہیں اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں، تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔
[سورہ التوبہ، آیت: 24]
کمالِ ایمان کا معیار
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
[صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث نمبر: 15]
فرمانِ شیخ اکبر ابنِ عربیؒ
سیدنا ابنِ عربیؒ اپنی تصانیف میں فرماتے ہیں:
کائنات کی تمام مخلوقات کی بنیاد ‘حقیقتِ محمدیہ’ پر ہے، اور جو شخص محمد ﷺ کے نور سے روشنی حاصل نہیں کرتا، وہ معنوی اعتبار سے اندھیروں میں بھٹکنے والا ہے۔”
[الفتوحات المکیہ]
سوال:سائل رو کر التجا کرتا ہے:
“مرشدِ پاک میں زبان سے تو دعویٰ کرتا ہوں کہ مجھے حضور ﷺ سے محبت ہے، لیکن میرے دل میں وہ سوز، وہ تڑپ اور وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی جو اولیاء اللہ کے ہاں دکھائی دیتی ہے۔ میں اپنے دل میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا چراغ کیسے روشن کروں؟”
جواب: اے میرے عزیز عشق ایک الٰہی تحفہ ہے جو زبردستی حاصل نہیں ہوتا، بلکہ عاجزی و طلب سے مانگا جاتا ہے۔ اپنے دل میں یہ چراغ جلانے کے تین عملی نسخے اپنا لو۔
-
کثرتِ درود شریف
روزانہ ایک خاص وقت مقرر کرکے ادب کے ساتھ درودِ پاک پڑھو، کیونکہ یہ وہ واحد عبادت ہے جو کبھی رد نہیں ہوتی۔
-
سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا مطالعہ
ااا سرکار ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ، آپ ﷺ کی امت پر بے پایاں شفقت اور آپ ﷺ کے معجزات کثرت سے سنو اور پڑھو، کیونکہ انسان جس کے احسانات کو جان لیتا ہے، اسی سے اس کا دل جڑ جاتا ہے۔
-
صالحین اور عاشقانِ رسول ﷺ کی صحبت
جن کے دل عشقِ رسول ﷺ سے معمور ہیں، ان کی مجلس اختیار کرو؛ آگ کے قریب بیٹھنے والے کو حرارت لازماً نصیب ہوتی ہے۔
جب سالک کا دل عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے نور سے منور ہو جاتا ہے اور وہ فنا فی الرسول ﷺ کی وادی میں قدم رکھتا ہے، تو پھر اسے اس شہرِ علم کے دروازے کی تلاش ہوتی ہے جس کے بغیر علومِ باطنی اور اسرارِ طریقت کا حصول ممکن نہیں۔
وہ عظیم الشان دروازہ کون سا ہے جہاں سے ولایت کی تمام نہریں پھوٹتی ہیں؟
مولا علیؑ کا مقامِ علم کیا ہے، اور ولایت کا یہ نظام کیسے رواں دواں رہتا ہے؟
اگلا حرفِ راز کیا ہے؟ علمِ باطن کا وہ چشمہ کیسے پھوٹتا ہے؟
جاننے کے لیے ملاحظہ فرمائیے اگلی قسط “بابِ مدینۃ العلم: مولا علی کرم اللہ وجہہ کے علم کی تابانی”۔
#Khaak_e_rawan #حرفـــــراز
![]()

