Daily Roshni News

بر صغیر میں غلامی کا بدترین دور۔۔۔۔ ✍️

بر صغیر میں غلامی کا بدترین دور۔۔۔۔ ✍️

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )راولپنڈی کے مال روڈ اور مری روڈ کے سنگم پر کبھی ملکہ وکٹوریہ کا ایک بلند قامت مجسمہ نصب تھا۔ شہر کے بوڑھے لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں کہ بچپن میں جب وہ اس جگہ سے گزرتے تو اسے تاریخ کے کسی بھاری بھرکم نام سے نہیں بلکہ سادگی سے ’’ملکہ معظمہ کا بُت‘‘ کہتے تھے۔ اس وقت شاید بہت کم بچوں کو معلوم ہوگا کہ پتھر کی یہ عورت کون تھی، اس کے نام کے ساتھ ’’معظمہ‘‘ کیوں لگایا جاتا تھا اور ہزاروں میل دور بیٹھی ایک ملکہ کا مجسمہ ہندوستان کے ایک شہر کے سب سے نمایاں چوک پر کیوں کھڑا تھا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق راولپنڈی کوئین ایمپرس میموریل فنڈ نے 1910ء میں یہ مجسمہ تیار کروایا تھا۔ یہ 1956ء تک مال روڈ اور مری روڈ کے سنگم پر نصب رہا، پھر اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ آج یہ مجسمہ اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کے احاطے میں محفوظ بتایا جاتا ہے۔ مقامی روایت میں کہا جاتا ہے کہ 1956ء کے نہر سویز کے بحران کے دوران برطانیہ مخالف مظاہرین کے غصے کا نشانہ بننے سے اس کے بازو ٹوٹے، لیکن دستیاب مستند ریکارڈ اسکی تصدیق نہیں کرتا۔ اتنا ضرور ثابت ہے کہ جو مجسمہ کبھی راولپنڈی کے اہم ترین چوک پر سلطنت کی عظمت کی علامت بن کر کھڑا تھا، ایک دن اسے چوک سے اٹھا کر دیواروں کے اندر منتقل کرنا پڑا۔

مجسمہ باقی رہ گیا، سلطنت چلی گئی۔

پتھر سلامت رہا، اقتدار بکھر گیا۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کے ساتھ وہ ذہنیت بھی ختم ہوگئی جس کی نمائندگی وہ مجسمہ کرتا تھا؟

ملکہ وکٹوریہ صرف اٹھارہ سال کی تھی جب 20 جون 1837ء کو برطانیہ کے تخت پر بیٹھی۔ وہ 22 جنوری 1901ء تک ملکہ رہی۔ اس کا دور حکومت 63 سال اور 216 دن پر محیط تھا اور اپنے وقت تک یہ کسی بھی برطانوی فرمانروا کی طویل ترین حکمرانی تھی۔ اس کے عہد کو صنعتی ترقی، سائنسی تبدیلی، معاشی پھیلاؤ اور سب سے بڑھ کر برطانوی سامراج کی وسعت سے جوڑا جاتا ہے۔ 1876ء میں اسے باضابطہ طور پر ’’ایمپرس آف انڈیا‘‘ یعنی قیصرۂ ہند کا لقب دیا گیا، حالانکہ اس نے پوری زندگی ہندوستان کی سرزمین پر قدم نہیں رکھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب برطانوی جھنڈا دنیا کے مختلف حصوں پر لہرا رہا تھا۔ اسی لیے مشہور ہوا کہ برطانوی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ برطانیہ نے سورج کا راستہ بدل دیا تھا، بلکہ یہ کہ اس کی نوآبادیاں مختلف خطوں اور اوقات میں اتنی دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں کہ ایک حصے میں رات ہوتی تو دوسرے میں دن نکل چکا ہوتا۔ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، ہندوستان، افریقہ، کینیڈا، کیریبین اور دنیا کے دوسرے علاقوں پر پھیلے ہوئے اس اقتدار نے برطانیہ کو ایسا عالمی اعتماد دیا کہ اس کے حکمرانوں کو اپنی سلطنت دائمی محسوس ہونے لگی۔

وکٹوریہ کے نام سے ایک پورا تہذیبی زمانہ منسوب ہوا۔ آج بھی وکٹورین طرز تعمیر، وکٹورین فرنیچر، وکٹورین لباس اور وکٹورین ادب کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ میدان جنگ میں غیرمعمولی بہادری کے لیے برطانیہ کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’’وکٹوریہ کراس‘‘ 1856ء میں قائم کیا گیا۔ ’’وکٹوریہ‘‘ نام کی بگھی بھی اس عہد اور شاہی طرز سواری سے منسوب ہوکر برصغیر میں عام ہوئی۔ لیکن اس زمانے کی اصل میراث صرف عمارتیں، بگھیاں، تمغے اور فرنیچر نہیں تھے۔ اس عہد نے انسانوں کو عہدے، رنگ، نسل، وفاداری اور سرکاری قربت کے پیمانوں میں تقسیم کرنے والے نظام کو بھی غیرمعمولی قوت دی۔

سلطنت صرف توپ سے حکومت نہیں کرتی۔

وہ پہلے لوگوں کے ذہن میں درجے بناتی ہے۔

وہ طے کرتی ہے کون حاکم ہے اور کون رعایا، کون وفادار ہے اور کون مشکوک، کون کرسی پر بیٹھے گا اور کون صاحب کے سامنے کھڑا رہے گا۔

برطانوی ہندوستان میں ضلع صرف نقشے پر کھینچی ہوئی ایک لکیر نہیں تھا۔ یہ نوآبادیاتی طاقت کا مکمل انتظامی قلعہ تھا۔ اوپر وائسرائے، پھر گورنر، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، تحصیل دار، پولیس افسر، پٹواری، زائل دار، لمبردار اور ان کے ساتھ مقامی بااثر خاندانوں کا ایک پورا سلسلہ موجود تھا۔ حکومت نے مقامی معاشرے میں ایسے اعزازی القابات اور درجے پیدا کیے جن کے ذریعے وفادار اشرافیہ کو عام آبادی سے ممتاز کیا جاتا تھا۔

’’کرسی نشین‘‘ کا تصور اسی معاشرتی دنیا کی علامت تھا۔ سرکاری دربار یا افسر کے سامنے کرسی پر بیٹھنے کی اجازت محض آرام کی سہولت نہیں تھی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ یہ شخص سرکار کے قریب ہے۔ عام لوگ کھڑے رہیں گے یا نیچے بیٹھیں گے، لیکن جسے حکومت نے عزت کی سند دے دی وہ صاحب بہادر کے سامنے کرسی پر بیٹھ سکتا تھا۔ ایک کرسی گاؤں کے پورے سماجی توازن کو بدل سکتی تھی۔

مختلف علاقوں کی مقامی یادداشت میں ’’سفید پوش‘‘ کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ایسے لوگ بظاہر معزز، صاحب حیثیت اور حکومت کے منظور نظر سمجھے جاتے تھے۔ یہ مشہور روایت بھی بیان کی جاتی ہے کہ حکومت انہیں سفید لباس کے جوڑے دیتی تھی، اگرچہ ہر سفید پوش کو باقاعدگی سے سالانہ دو جوڑے ملنے کی تفصیل کی مضبوط اور یکساں سرکاری شہادت دستیاب نہیں۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنر کے پاس ایک انتہائی خفیہ ’’بلیو بُک‘‘ ہونے، جس میں ضلع کے تمام معززین کا درجہ، پروٹوکول اور وفاداری لکھی ہوتی تھی،

لیکن چاہے وہ مخصوص بلیو بُک اسی شکل میں موجود تھی یا نہیں، اس نظام کی ذہنی بلیو بُک ضرور موجود تھی۔

اس میں ہر شخص کا درجہ لکھا تھا۔

یہ وفادار ہے۔

یہ باغی ہے۔

یہ صاحب کے سامنے بیٹھ سکتا ہے۔

یہ صرف کھڑا رہ سکتا ہے۔

یہ سلام کا مستحق ہے۔

اسے دیکھ کر سپاہی راستہ کھولے گا۔

اس کی درخواست فوراً سنی جائے گی۔

اس کی غلطی کو نظرانداز کیا جائے گا۔

اور یہ عام انسان ہے، اسے انتظار کرنے دو۔

انگریز نے چند لوگوں کو کرسی دی تاکہ پورا معاشرہ کرسی کی عبادت شروع کردے۔

اس نے چند خاندانوں کو خطاب، زمین، رسائی اور سرکاری عزت دی تاکہ وہ اپنے ہی لوگوں اور حکومت کے درمیان دیوار بن جائیں۔ خان بہادر، رائے بہادر اور دوسرے اعزازی القابات وفاداری اور خدمات کے اعتراف میں دیے جاتے تھے۔ لقب کے ساتھ صرف نام نہیں بدلتا تھا، سماجی حیثیت، دربار تک رسائی اور مقامی اثرورسوخ بھی بڑھ جاتا تھا۔

ملکہ وکٹوریہ نے جون 1887ء میں اپنی حکمرانی کی گولڈن جوبلی منائی۔ سلطنت کے مختلف علاقوں میں تقریبات، جلوس، ضیافتیں اور یادگاری سرگرمیاں منعقد ہوئیں۔ ہندوستان کے شہروں میں ملکہ اور سلطنت سے منسوب عمارتیں، بازار، باغ، گھڑیال، سڑکیں اور مجسمے تعمیر ہوئے۔ یہ تعمیرات صرف خوب صورتی یا سہولت کے لیے نہیں تھیں۔ یہ پتھر میں لکھے ہوئے سیاسی پیغامات تھے۔ محکوم قوم کو ہر روز یاد دلایا جاتا تھا کہ اس کے شہر، اس کے بازار اور اس کی سڑکیں بھی فاتح کے نام سے پہچانی جائیں گی۔

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ اسی نوآبادیاتی یادداشت کی نمایاں مثال ہے۔ یہ 1884ء سے 1889ء کے درمیان تعمیر ہوئی اور ملکہ وکٹوریہ کے ’’ایمپرس آف انڈیا‘‘ کے لقب سے منسوب کی گئی۔ زمین ہندوستان کی تھی، معماروں اور مزدوروں میں مقامی لوگ شامل تھے، بازار ہندوستانیوں کے لیے تھا، مگر نام اس ملکہ کا تھا جو کبھی ہندوستان نہیں آئی۔

یہی سلطنت کی اصل نفسیات تھی۔

دولت آپ کی، نام ہمارا۔

زمین آپ کی، اختیار ہمارا۔

محنت آپ کی، یادگار ہماری۔

ملکہ وکٹوریہ کی جوبلی کے ساتھ پنجاب کی ’’جگنی‘‘ کی پیدائش کی ایک بہت مشہور داستان بھی منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سلطنت کی جوبلی کی کوئی علامتی مشعل شہر شہر اور ضلع ضلع لے جائی گئی۔ جہاں مشعل پہنچتی، سرکاری تقریبات ہوتیں، ڈھول بجتے، روشنیاں کی جاتیں اور مقامی انتظامیہ اس کا استقبال کرتی۔ روایت کے مطابق بشنا اور مندا نام کے دو پنجابی لوک فنکار اس جلوس کے ساتھ یا اس کے راستے پر گیت گاتے تھے۔ انگریزی لفظ ’’جوبلی‘‘ عوامی زبان میں بدلتے بدلتے ’’جگنی‘‘ بن گیا اور یوں جگنی شہر شہر سفر کرنے لگی:

جگنی جا وڑی ملتان،

جگنی جا وڑی گجرات۔

 لوک روایت میں تاریخ سے بھی بڑی سچائی چھپی ہوتی ہے۔

فرض کریں انگریز اپنی جوبلی کی مشعل لے کر پنجاب آیا تھا۔ وہ چاہتا تھا لوگ ملکہ کی عظمت کے گیت گائیں۔ پنجاب نے وہ مشعل اٹھائی، اس کا نام اپنی زبان میں بدلا، اس میں اپنے دکھ، اپنے گاؤں، اپنے محبوب، اپنے ملاں، اپنے زمیندار، اپنے تھانے دار اور اپنے حاکم سب شامل کردیے۔

انگریز نے جوبلی نکالی تھی۔

پنجاب نے جگنی بنا دی۔

سلطنت کا جلوس ختم ہوگیا، جگنی کا سفر جاری رہا۔

ملکہ مر گئی، گیت زندہ رہا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ بادشاہوں کے ترانے بادشاہوں کے ساتھ مر جاتے ہیں، لیکن عوام کے گیت نسلوں کے سینوں میں سفر کرتے رہتے ہیں۔

اس پوری داستان کا ایک دوسرا سرا دہلی کے مہرولی میں جا کر ملتا ہے۔ 1857ء کی جنگ ناکام ہونے کے بعد آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کیا گیا، ان پر مقدمہ چلایا گیا اور پھر انہیں ان کی اہلیہ زینت محل اور خاندان کے چند افراد کے ساتھ رنگون جلاوطن کردیا گیا۔ وہ 7 نومبر 1862ء کو رنگون میں وفات پا گئے اور وہیں دفن ہوئے۔

مہرولی میں ظفر محل کے قریب مغل خاندان کی قبروں کے درمیان ایک جگہ بہادر شاہ ظفر نے اپنے لیے پسند کی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ مرنے کے بعد اپنی مٹی، اپنے شہر اور اپنے خاندان کے پہلو میں دفن ہوں، مگر وہ جگہ خالی رہ گئی۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا آج بھی مہرولی کے اس محل اور شاہی قبروں کے احاطے کو محفوظ تاریخی مقامات میں شمار کرتا ہے۔

ذرا تاریخ کا منظر دیکھیے۔

دہلی میں ہندوستان کے آخری بادشاہ کی قبر کے لیے رکھی گئی جگہ خالی تھی۔

اور ہندوستان کے شہروں میں غیر ملکی ملکہ کے مجسمے کھڑے تھے۔

ایک بادشاہ اپنی مٹی میں دو گز زمین سے محروم رہا۔

ایک ملکہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر قیصرۂ ہند کہلائی۔

ایک کا تاج موجود تھا مگر اختیار ختم ہو چکا تھا۔

دوسری ہندوستان آئی بھی نہیں، مگر اس کے نام سے ہندوستان کے بازار اور عمارتیں آباد ہوگئیں۔

یہ صرف فوجی شکست نہیں تھی۔

یہ نام، تاریخ، یادداشت اور عزت پر قبضہ تھا۔

بہادر شاہ ظفر کو اپنی بے بسی کا احساس تھا۔ وہ جانتے تھے کہ وہ بادشاہ صرف نام کے ہیں اور اصل اختیار ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ میں جا چکا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک ایسے انسان کا دکھ بولتا ہے جس کے سر پر تاج تو رکھ دیا گیا لیکن ہاتھ سے سلطنت چھین لی گئی:

یا تو افسر مرا شاہانہ بنایا ہوتا

یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا

زور معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفر

ایسی بستی سے تو ویرانہ بنایا ہوتا

وکٹوریہ کی وفات کے اٹھارہ سال بعد 13 اپریل 1919ء کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں وہ نوآبادیاتی ذہنیت اپنی بدترین شکل میں سامنے آئی۔ بیساکھی کے موقع پر باغ میں ایک بڑا مجمع موجود تھا۔ بریگیڈیئر جنرل ریجینالڈ ڈائر فوجیوں کے ساتھ وہاں پہنچا اور نہتے لوگوں پر فائرنگ کا حکم دے دیا۔ باغ سے نکلنے کے راستے محدود تھے اور لوگ جان بچانے کے لیے دیواروں اور کنویں کی طرف بھاگے۔ سرکاری برطانوی اعداد میں 379 ہلاکتیں بتائی گئیں، جبکہ ہندوستانی اندازے اس سے کہیں زیادہ تھے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ جنرل ڈائر نے ملکہ وکٹوریہ کے ذاتی حکم یا اس کے دیے ہوئے براہ راست اختیار کے تحت گولی چلائی، کیونکہ وکٹوریہ 1901ء میں مر چکی تھی۔ لیکن ڈائر کے پیچھے وہی سامراجی نظام اور ذہنیت کھڑی تھی جس میں ایک انگریز افسر خود کو ہزاروں ہندوستانیوں کی جان سے زیادہ اہم سمجھ سکتا تھا۔

اسے یقین تھا اس کی وردی قانون ہے۔

اس کا خوف امن ہے۔

اس کا حکم انصاف ہے۔

اور ہندوستانی کی جان سلطنت کے وقار سے سستی ہے۔

بعد میں ڈائر کے اقدام کی تحقیقات ہوئیں اور اسے فوجی خدمت سے ہٹا دیا گیا، لیکن برطانیہ کے بعض سامراج نواز حلقوں نے اسے مجرم کے بجائے ہیرو سمجھا اور اس کے لیے بھاری رقم جمع کی۔ یہی واقعہ بتاتا ہے کہ مسئلہ صرف ایک افسر نہیں تھا۔ مسئلہ وہ ذہن تھا جو قتل کو نظم و ضبط اور رعایا کی خاموشی کو وفاداری سمجھتا تھا۔

سلطنتیں اسی دن مرنا شروع ہوجاتی ہیں جب وہ ظلم کو اختیار، خوف کو امن اور گولی کو قانون کا نام دینے لگتی ہیں۔

 برطانوی سلطنت کے زوال میں پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے مالی اور انسانی نقصانات، آزادی کی تحریکیں، ہندوستان اور دوسری نوآبادیوں کی مزاحمت، امریکا اور سوویت یونین کا ابھرنا، بدلتا عالمی نظام اور سلطنت کو برقرار رکھنے کی بڑھتی ہوئی قیمت بنیادی عوامل تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کے لیے وسیع نوآبادیاتی نظام کو اسی قوت سے قائم رکھنا ممکن نہ رہا۔

1956ء کا نہر سویز بحران اس زوال کی واضح علامت ثابت ہوا۔ مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے سویز کینال کمپنی کو قومی ملکیت میں لیا تو برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مصر کے خلاف فوجی کارروائی کی۔ لیکن بین الاقوامی دباؤ، خصوصاً امریکا کی مخالفت، کے باعث انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔ امپیریل وار میوزیم کے مطابق اس بحران نے برطانیہ کی گھٹتی ہوئی عالمی حیثیت کو نمایاں کردیا اور ثابت کیا کہ وہ اب پہلے درجے کی آزاد عالمی طاقت نہیں رہا۔

پروٹوکول سلطنت کے زوال کی واحد وجہ نہیں تھا، مگر وہ اس بیماری کی ایک نمایاں علامت ضرور تھا جس نے حاکم اور محکوم کے درمیان انسانیت کا رشتہ ختم کردیا تھا۔

یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عہدہ انسان سے بڑا ہوجائے۔

جب ریاست خدمت کے بجائے رعب بن جائے۔

جب افسر جواب دہ ملازم کے بجائے مقدس حاکم سمجھا جائے۔

جب قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے زنجیر بن جائے۔

یہ کہنا بھی درست نہیں کہ جدید برطانیہ میں اب کوئی پروٹوکول باقی نہیں رہا۔ وہاں آج بھی بادشاہت، شاہی تقریبات، حفاظتی انتظامات، سرکاری رہائش گاہیں اور ریاستی آداب موجود ہیں۔ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کوئی معمولی تین کمروں کا گھر نہیں بلکہ برطانوی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر ہے، جہاں سے حکومتی پالیسی اور حکمت عملی چلائی جاتی ہے۔

برطانیہ بھی کامل معاشرہ نہیں۔ وہاں سیاسی تنازعات، طبقاتی فرق، اسکینڈل اور ادارہ جاتی ناکامیاں موجود ہیں۔ اصل سبق یہ نہیں کہ حکمران کے پاس سرکاری گاڑی یا محافظ ہیں یا نہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ کوئی منصب قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے، اداروں کو شخصیات کا غلام نہیں بننا چاہیے اور شہریوں کو رعایا نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہوئی کہ ہم نے انگریز کو تو رخصت کردیا، مگر اس کی کرسی محفوظ کرلی۔

ڈپٹی کمشنر انگریز نہیں رہا، ڈپٹی کمشنری کا رعب باقی رہا۔

وائسرائے چلا گیا، وائسرائے ہاؤس کی نفسیات باقی رہی۔

صاحب بہادر چلا گیا، صاحب کے دروازے پر گھنٹوں انتظار کرنے والا نظام باقی رہا۔

کرسی نشین کا سرکاری لقب مٹ گیا، کرسی کی پرستش باقی رہی۔

بلیو بُک شاید تجوری سے نکل گئی، لیکن ہمارے ذہن میں ہر شخص کا درجہ آج بھی درج ہے۔

یہ طاقتور ہے، اس کے لیے سڑک بند کرو۔

یہ عام آدمی ہے، اسے انتظار کرنے دو۔

یہ صاحب کا رشتہ دار ہے، اسے اندر لے جاؤ۔

یہ سفارش کے بغیر آیا ہے، اسے کل آنے کو کہو۔

یہ قانون توڑ سکتا ہے کیونکہ اس کا نام بڑا ہے۔

یہ حق مانگ رہا ہے، اسے احسان سمجھاؤ۔

آج بھی کسی اہم شخصیت کے قافلے کے لیے عام شہریوں کا راستہ بند ہوتا ہے۔ آج بھی سرکاری دفتر میں عام انسان گھنٹوں دروازے کے باہر بیٹھا رہتا ہے اور بااثر شخص سلام کرتا ہوا اندر چلا جاتا ہے۔ آج بھی ہم انصاف سے پہلے سفارش تلاش کرتے ہیں۔ آج بھی سرکاری قافلہ، سائرن، مسلح محافظ، بند راستہ اور دوسروں کو انتظار کروانا طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

ہم اپنے سے طاقتور کے سامنے جھکتے ہیں اور اپنے سے کمزور کو اپنے سامنے جھکاتے ہیں۔

یہی غلامی کی سب سے خطرناک شکل ہے۔

غلامی صرف یہ نہیں کہ حاکم کا رنگ سفید ہو اور جھنڈا غیر ملکی ہو۔

غلامی یہ بھی ہے کہ شہری اپنے حق کو حکمران کی مہربانی سمجھے۔

غلامی یہ بھی ہے کہ افسر عوام کا خادم ہونے کے بجائے عوام کا مالک بن بیٹھے۔

غلامی یہ بھی ہے کہ قانون جرم سے پہلے ملزم کا نام اور عہدہ دیکھے۔

غلامی یہ بھی ہے کہ ہم کسی انسان کو اس کے کردار کے بجائے اس کی گاڑی، کرسی، وردی، خاندان اور دروازے کے باہر کھڑے محافظوں سے پہچانیں۔

راولپنڈی کے چوک سے ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ ہٹا دیا گیا۔

دہلی میں بہادر شاہ ظفر کی قبر کی جگہ خالی رہ گئی۔

کراچی میں ایمپریس مارکیٹ آج بھی کھڑی ہے۔

جلیانوالہ باغ کی دیواریں آج بھی گولیوں کی یاد سنبھالے ہوئے ہیں۔

اور جگنی؟

جگنی آج بھی چل رہی ہے۔

کبھی کسی وزیر کے قافلے کے ساتھ۔

کبھی کسی افسر کی کرسی کے گرد۔

کبھی تھانے کے دروازے پر۔

کبھی عدالت کی راہداری میں۔

کبھی اس سرکاری دفتر میں جہاں عام انسان کو بتایا جاتا ہے کہ ’’صاحب میٹنگ میں ہیں‘‘، مگر صاحب کا واقف کار بغیر دستک کے اندر چلا جاتا ہے۔

جگنی ہم سے پوچھتی ہے کہ کیا آزادی صرف یونین جیک اتار کر اپنا جھنڈا لہرانے کا نام تھا؟

کیا ہم نے انگریز کو نکالا تھا یا صرف اس کی کرسی پر اپنا آدمی بٹھایا تھا؟

کیا ریاست آزاد ہوئی تھی یا صرف حکمران کا چہرہ اور زبان بدلی تھی؟

ہم نے ملکہ کا بُت تو چوک سے ہٹا دیا، مگر اپنے اندر بیٹھے چھوٹے چھوٹے وائسرائے زندہ چھوڑ دیے۔ تک سڑک عام شہری کے لیے بند اور طاقتور کے لیے کھلی رہے گی، جب تک قانون نام اور عہدہ دیکھ کر حرکت کرے گا، جب تک سرکاری ملازم عوام کا مالک بن کر بیٹھے گا، جب تک عزت انسان ہونے سے نہیں بلکہ دربار تک رسائی سے ملے گی، تب تک غیر ملکی جھنڈا نہ ہونے کے باوجود نوآبادیاتی راج ہماری سوچ میں زندہ رہے گا۔

بدلنا صرف سیاست دانوں کو نہیں ہے۔

افسر کو بھی بدلنا ہے، ادارے کو بھی بدلنا ہے اور سب سے بڑھ کر ہمیں خود کو بدلنا ہے۔

ہمیں اپنے اندر کی بلیو بُک پھاڑنی ہوگی۔

ہمیں اپنے ذہن کے کرسی نشین ختم کرنا ہوں گے۔

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ انسان کا مرتبہ اس کے عہدے، گاڑی، خاندان یا پروٹوکول سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور قانون کے سامنے مساوات سے طے ہوتا ہے۔

کیونکہ سلطنتیں پہلے نقشوں پر نہیں بنتیں۔

سلطنتیں پہلے انسان کے ذہن میں بنتی ہیں۔

اور آزادی بھی پہلے سرحدوں پر نہیں آتی۔

آزادی پہلے انسان کے ذہن میں آتی ہے۔۔۔۔ ✍️

Loading