حضرت اُزیرؑ کی داستان — قسط 3**
پاکستان(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب ایک اندھی بوڑھی عورت نے سو سال بعد اپنے نبی کو پہچان لیا**
> **نوٹ:** اس داستان کی بنیاد **قرآنِ مجید** ہے۔ اس قسط میں موجود بعض تفصیلات تاریخی و اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہیں، اس لیے انہیں قطعی تاریخی حقیقت کے طور پر نہیں بلکہ روایات کے طور پر پڑھا جائے۔
**”پورا شہر کہہ رہا تھا…**
‘یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے!’
مگر…
ایک اندھی بوڑھی عورت نے صرف ایک دعا سن کر کہا…
**’یہ آواز… میں نے سو سال پہلے بھی سنی تھی!’**”
—
حضرت اُزیرؑ آہستہ آہستہ شہر کی گلیوں میں چل رہے تھے۔
ہر چہرہ ان کے لیے اجنبی تھا…
اور ہر شخص انہیں حیرت سے دیکھ رہا تھا۔
انہوں نے ایک نوجوان سے پوچھا:
“بیٹا… کیا تم فلاں خاندان کو جانتے ہو؟”
نوجوان مسکرایا۔
“بابا! وہ لوگ تو بہت پہلے ختم ہو گئے۔ شاید سو سال سے بھی زیادہ ہو گئے ہوں۔”
یہ سن کر حضرت اُزیرؑ کا دل بیٹھ گیا۔
وہ واقعی ایک نئی دنیا میں آ چکے تھے۔
چلتے چلتے وہ ایک ٹوٹے ہوئے مکان کے سامنے رکے۔
یہ کبھی ان کا اپنا گھر تھا۔
اب صرف چند دیواریں باقی تھیں۔
اسی دوران ایک نہایت بوڑھی عورت وہاں سے گزری۔
اس کی کمر جھکی ہوئی تھی…
آنکھوں کی روشنی جا چکی تھی…
اور ہاتھ میں ایک لکڑی کا سہارا تھا۔
حضرت اُزیرؑ نے نرمی سے پوچھا:
“امّاں… کیا آپ حضرت اُزیر کو جانتی تھیں؟”
بوڑھی عورت کی سانس رک گئی۔
اس نے آہستہ سے کہا:
“ہاں… میں بچپن میں ان کے گھر آیا کرتی تھی۔”
پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“وہ اللہ کے نیک بندے تھے… مگر ایک دن اچانک غائب ہو گئے۔”
“ہم نے بہت تلاش کیا…
مگر وہ کبھی واپس نہ آئے…”
حضرت اُزیرؑ نے آہستہ سے فرمایا:
“میں ہی اُزیر ہوں۔”
یہ سنتے ہی اردگرد کھڑے لوگ ہنسنے لگے۔
ایک آدمی بولا:
“دیکھو! یہ بوڑھا خود کو سو سال پہلے والا اُزیر کہہ رہا ہے!”
دوسرا بولا:
“اگر تم واقعی اُزیر ہو…
تو کوئی نشانی دکھاؤ۔”
بوڑھی عورت خاموش رہی۔
پھر اس نے آہستہ سے کہا:
“اگر تم واقعی اُزیر ہو…
تو میرے لیے دعا کرو۔
میں برسوں سے اندھی ہوں۔”
–
حضرت اُزیرؑ نے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
“اے اللہ!
اگر میں تیرا وہی بندہ ہوں…
جسے تو نے اپنی نشانی دکھائی…
تو اس بوڑھی عورت کی بینائی واپس لوٹا دے۔”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر…
بوڑھی عورت نے اچانک اپنی آنکھیں کھول دیں۔
اس نے کانپتے ہوئے حضرت اُزیرؑ کے چہرے کو دیکھا…
اور زور سے رونے لگی۔
“یہی چہرہ…
یہی آواز…
یہی نور…
اللہ کی قسم!
یہ واقعی حضرت اُزیر ہیں!”
پورا مجمع خاموش ہو گیا۔
اب کسی کے پاس بولنے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔
لوگ دوڑتے ہوئے حضرت اُزیرؑ کے گرد جمع ہونے لگے۔
ہر کوئی انہیں غور سے دیکھ رہا تھا۔
کچھ لوگ رونے لگے۔
کچھ سجدے میں گر گئے۔
اور کچھ ابھی تک حیرت میں تھے کہ…
**کوئی شخص سو سال بعد کیسے زندہ واپس آ سکتا ہے؟**
مگر حضرت اُزیرؑ جانتے تھے…
اصل معجزہ ان کا زندہ ہونا نہیں تھا…
بلکہ لوگوں کے دلوں کو دوبارہ اللہ کی طرف موڑنا تھا۔
اسی دوران…
ایک عالم نے آگے بڑھ کر کہا:
“اگر آپ واقعی حضرت اُزیر ہیں…
تو ہمیں تورات سنا کر دکھائیں…
کیونکہ اصل تورات تو برسوں پہلے گم ہو چکی ہے۔”
حضرت اُزیرؑ خاموش ہو گئے…
کیا وہ واقعی پوری تورات سنا دیں گے؟
اور کیا یہی واقعہ بعد میں بنی اسرائیل میں ایک بہت بڑے فتنے کی وجہ بنے گا؟
**یہ جاننے کے لیے قسط 4 ضرور پڑھیے۔**
—
# 📖 **قرآن میں کیا آیا؟**
قرآنِ مجید اس مرحلے کی تفصیلات بیان نہیں کرتا۔ قرآن صرف سورۃ البقرہ (آیت 259) میں سو سال بعد زندہ کیے جانے کا واقعہ بیان کرتا ہے۔
—
# 📜 **تورات اور تاریخی روایات میں**
بعض یہودی اور اسلامی تاریخی روایات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت اُزیرؑ (عزرا) کی واپسی کے بعد لوگوں نے انہیں پہچاننے کے لیے مختلف نشانیاں طلب کیں، اور بعد میں انہوں نے بنی اسرائیل میں تورات کی تعلیم دوبارہ عام کی۔ ان روایات کی تفصیلات قرآن یا صحیح احادیث سے ثابت نہیں، اس لیے انہیں **تاریخی و اسرائیلی روایات** کے طور پر ہی سمجھنا چاہیے۔
![]()

