Daily Roshni News

جنات اور دوسری مخلوقات — ایک ایسی دنیا جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے

جنات اور دوسری مخلوقات — ایک ایسی دنیا جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے

رات کے سناٹے میں جب آسمان ستاروں سے بھر جاتا ہے، انسان بے اختیار اوپر دیکھتا ہے اور سوچتا ہے: کیا اس وسیع کائنات میں صرف ہم ہی ہیں؟ کیا ہماری آنکھوں سے اوجھل بھی کوئی دنیا آباد ہے؟ کیا وہ مخلوقات، جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے، آج بھی ہمارے اردگرد موجود ہیں؟ اگر ہیں، تو ان کی حقیقت کیا ہے؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے ان کا تذکرہ ہمیں کیوں بتایا؟

یہ سوالات محض تجسس نہیں بلکہ ایمان، معرفت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کو سمجھنے کا دروازہ ہیں۔ قرآن مجید ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ انسان کا علم محدود ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا

ترجمہ: “اور تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔”
(سورۃ الإسراء: 85)»

مختصر تفسیر: امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ یہ آیت انسان کو اس کی علمی محدودیت کا احساس دلاتی ہے۔ خواہ وہ زمین کی گہرائیوں میں اتر جائے یا کہکشاؤں کی وسعتوں کو ناپ لے، پھر بھی اللہ کے علم کے مقابلے میں اس کا علم نہایت محدود ہے۔

جنات کی تخلیق — آگ سے پیدا کی گئی ایک مخلوق

قرآن مجید نے جنات کی تخلیق کے بارے میں واضح فرمایا:

«وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ

ترجمہ: “اور جن کو آگ کے بے دھوئیں والے شعلے سے پیدا کیا۔”
(سورۃ الرحمن: 15)»

ایک اور مقام پر فرمایا:

«وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِ

ترجمہ: “اور جن کو ہم نے اس سے پہلے نہایت گرم آگ سے پیدا کیا۔”
(سورۃ الحجر: 27)»

مختصر تفسیر: امام طبریؒ، امام قرطبیؒ اور امام ابن کثیرؒ کے مطابق “مارج من نار” سے مراد ایسی آگ ہے جو دھوئیں سے پاک، نہایت لطیف اور شدید حرارت والی ہو۔ اس کی اصل کیفیت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

کیا جنات بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں؟

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جنات صرف خوفناک مخلوق ہیں، لیکن قرآن اس تصور کی اصلاح کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

ترجمہ: “میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔”
(سورۃ الذاریات: 56)»

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جنات بھی ہماری طرح اللہ کے بندے ہیں۔ ان میں بھی ایمان والے ہیں اور کافر بھی۔

سورۂ جن — جنات کی اپنی گواہی

قرآن مجید میں ایک مکمل سورت “سورۃ الجن” اسی حقیقت کو بیان کرتی ہے۔

«قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ…

ترجمہ: “کہہ دیجیے! میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے قرآن سنا…”
(سورۃ الجن: 1)»

انہوں نے کہا:

«إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ۝ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ

ترجمہ: “ہم نے ایک عجیب قرآن سنا جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے، پس ہم اس پر ایمان لے آئے۔”»

یہ منظر انتہائی ایمان افروز ہے کہ وہ مخلوق جسے انسان دیکھ نہیں سکتا، وہ بھی قرآن سن کر ایمان لے آتی ہے۔

صحیح احادیث میں جنات

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«”فرشتے نور سے پیدا کیے گئے، جن آگ کے شعلے سے پیدا کیے گئے، اور آدمؑ کو اس چیز سے پیدا کیا گیا جو تمہیں بیان کی گئی ہے۔”
(صحیح مسلم)»

یہ حدیث تین بڑی مخلوقات کی تخلیق کی اصل بیان کرتی ہے۔

ایک اور صحیح روایت میں نبی کریم ﷺ نے سورۃ البقرہ کی تلاوت والے گھر کے بارے میں فرمایا کہ وہاں شیاطین نہیں ٹھہرتے۔
(صحیح مسلم)

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مومن کے لیے روحانی حفاظت کا ذریعہ ہے۔

کیا جنات ہمیں دیکھ سکتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ

ترجمہ: “بے شک وہ (شیطان) اور اس کا گروہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔”
(سورۃ الأعراف: 27)»

علماء کے مطابق عام حالات میں انسان جنات کو نہیں دیکھ سکتا، اگرچہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے کوئی خاص صورت دکھا دے، لیکن یہ عام اصول نہیں۔

کیا جنات غیب جانتے ہیں؟

قرآن اس غلط فہمی کو بھی دور کرتا ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی جنات کام کرتے رہے، یہاں تک کہ لاٹھی دیمک نے کھا لی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ

ترجمہ: “جب سلیمان گر پڑے تو جنات پر واضح ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت والے عذاب میں نہ رہتے۔”
(سورۃ سبأ: 14)»

یہ آیت فیصلہ کن دلیل ہے کہ جنات غیب کا ذاتی علم نہیں رکھتے۔

دوسری مخلوقات — صرف جنات ہی نہیں

قرآن ہمیں صرف انسان اور جنات تک محدود نہیں رکھتا۔

فرشتے ہیں…

عرش اٹھانے والے فرشتے…

کروڑوں ستارے…

لاکھوں کروڑ کہکشائیں…

ایسے سیارے جن تک ابھی انسان کی رسائی نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

ترجمہ: “اور وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے۔”
(سورۃ النحل: 8)»

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات ہماری معلومات سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔

جدید فلکیات اور قرآن

آج فلکیات ہمیں بتاتی ہے کہ قابلِ مشاہدہ کائنات میں اربوں کہکشائیں موجود ہیں، اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے ہو سکتے ہیں۔ سائنس دان بعض سیاروں کو زندگی کے لیے موزوں قرار دینے کے امکانات پر تحقیق کرتے ہیں، لیکن اب تک زمین کے علاوہ کسی اور مقام پر ذہین مخلوق کا قطعی ثبوت نہیں ملا۔

یہاں ایک اہم اصول یاد رکھنا چاہیے: قرآن نے زمین کے علاوہ انسانوں یا جنات جیسی کسی اور ذی شعور مخلوق کی قطعی خبر نہیں دی، اور سائنس بھی ابھی اس بارے میں کوئی حتمی نتیجہ پیش نہیں کرتی۔ اس لیے اگر کوئی دوسری مخلوق کہیں موجود ہو تو یہ صرف ایک سائنسی امکان یا مفروضہ ہو سکتا ہے، اسے قرآن کی قطعی تفسیر قرار دینا درست نہیں۔ حتمی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

انسان کی محدود عقل

انسان آج دوربینوں سے اربوں نوری سال دور کہکشاؤں کو دیکھ رہا ہے۔

خلائی جہاز مریخ تک پہنچ رہے ہیں۔

مگر کیا انسان موت کو روک سکا؟

کیا وہ روح کی حقیقت جان سکا؟

کیا وہ جنات کی دنیا کو مکمل سمجھ سکا؟

ہرگز نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ

ترجمہ: “ہر علم والے کے اوپر ایک اور زیادہ علم والا موجود ہے۔”
(سورۃ یوسف: 76)»

جنات سے متعلق غلط عقائد

اسلام ہمیں جنات سے غیر ضروری خوف، تعویذ گنڈوں، غیر شرعی عملیات، نجومیوں، کاہنوں اور غیب دانی کے دعووں سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے کاہنوں کے پاس جانے اور ان کی غیب کی باتوں پر یقین کرنے سے سخت منع فرمایا۔ (صحیح مسلم)

مومن کا سہارا اللہ تعالیٰ ہے، نہ کہ توہمات۔

جب انسان رات کے آسمان کی طرف دیکھتا ہے، تو اسے محسوس ہونا چاہیے کہ وہ ایک ایسی سلطنت میں رہ رہا ہے جس کا بادشاہ اللہ رب العالمین ہے۔

ہم خود بھی اللہ کی بے شمار مخلوقات میں سے صرف ایک مخلوق ہیں۔

ہماری آنکھیں محدود ہیں…

ہماری عقل محدود ہے…

ہماری سائنس محدود ہے…

لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت، علم اور حکمت لامحدود ہے۔

شاید اسی لیے قرآن بار بار سوال کرتا ہے:

کیا تم غور نہیں کرتے؟

کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

کیا تم اللہ کی نشانیوں میں تدبر نہیں کرتے؟

جنات کا وجود قرآن و سنت سے ثابت ہے، مگر ان کی دنیا کا بڑا حصہ ہمارے لیے غیب ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کی وسعت ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔ جدید سائنس کائنات کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ہر نئی دریافت انسان کو یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ ابھی بہت کچھ ایسا ہے جو ہماری دسترس سے باہر ہے۔

لہٰذا ایک مومن کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ جہاں قرآن و سنت نے رہنمائی دی ہے وہاں پورے یقین کے ساتھ ایمان رکھے، اور جہاں خاموشی ہے وہاں بلا دلیل دعوے نہ کرے۔ یہی علمی دیانت، یہی ایمان کی پختگی، اور یہی بندگی کا تقاضا ہے۔

آئیے! ہم آسمانوں، زمین، جنات، فرشتوں اور پوری کائنات کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں کے طور پر دیکھیں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں، قرآن سے تعلق بڑھائیں، اور اس حقیقت کو کبھی نہ بھولیں کہ ہر راز کا آخری علم صرف اللہ رب العالمین کے پاس ہے۔ وہی خالق ہے، وہی مالک ہے، اور اسی کی طرف ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔

Loading