جیمز ویب نے کائنات کا اب تک کا سب سے بڑا نقشہ تیار کر لیا — فلکیات میں ایک تاریخی سنگِ میل
مؤلف۔۔۔ طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ جیمز ویب نے کائنات کا اب تک کا سب سے بڑا نقشہ تیار کر لیا ۔۔۔ مؤلف۔۔۔ طارق اقبال سوہدروی) فلکیات میں ایک تاریخی سنگِ میل
کائنات کتنی وسیع ہے؟ اس میں کتنی کہکشائیں موجود ہیں؟ اور ابتدائی کائنات کیسی دکھائی دیتی تھی؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے صدیوں سے انسان کو حیرت میں مبتلا رکھا ہے۔ اب جدید فلکیات نے ان سوالات کے جوابات کے مزید قریب پہنچنے کی طرف ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ جیمز ویب خلائی دوربین (James Webb Space Telescope – JWST) کی مدد سے سائنس دانوں نے آسمان کے مختلف حصوں کی بے مثال گہرائی اور وسعت کے ساتھ تصویربرداری کرتے ہوئے کائنات کے اب تک کے سب سے بڑے اور تفصیلی نقشوں میں سے ایک تیار کیا ہے۔
یہ نقشہ کسی ایک تصویر پر مشتمل نہیں، بلکہ ہزاروں انتہائی حساس تصاویر کو جدید کمپیوٹر الگورتھمز کے ذریعے جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ اس میں لاکھوں دور دراز کہکشائیں، ستارے، نیبولا اور کائناتی ڈھانچے شامل ہیں، جن میں سے بعض اتنے دور ہیں کہ ان کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں 13 ارب سال سے بھی زیادہ وقت لگا۔
جیمز ویب کی سب سے بڑی طاقت اس کا انفراریڈ (Infrared) نظام ہے۔ عام دوربینیں صرف مرئی روشنی (Visible Light) دیکھ سکتی ہیں، لیکن جیمز ویب انفراریڈ روشنی کو بھی دیکھ سکتا ہے، جس کی بدولت وہ گرد و غبار کے بادلوں کے پیچھے چھپے ستاروں اور ابتدائی کہکشاؤں کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے ہبل خلائی دوربین سے کئی گنا زیادہ مؤثر بناتی ہے۔
حالیہ بڑے سرویز، جیسے COSMOS-Web اور JADES (JWST Advanced Deep Extragalactic Survey)، نے کائنات کے ایسے وسیع حصوں کا مشاہدہ کیا ہے جن کا پہلے کبھی اتنی باریکی سے مطالعہ نہیں کیا گیا تھا۔ ان منصوبوں کے ذریعے سائنس دان ابتدائی کہکشاؤں کی تشکیل، ستاروں کی پیدائش، کہکشاؤں کے ارتقا اور تاریک مادّہ (Dark Matter) کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان نقشوں سے ایک حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ ابتدائی کائنات میں بڑی اور روشن کہکشائیں ہماری سابقہ توقعات سے کہیں زیادہ تعداد میں موجود دکھائی دیتی ہیں۔ اس دریافت نے بعض موجودہ فلکیاتی نظریات پر نئے سوالات کھڑے کیے ہیں اور سائنس دان اب ان نتائج کی مزید تحقیق کر رہے ہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ “کائنات کا سب سے بڑا نقشہ” سے مراد پوری کائنات کا مکمل نقشہ نہیں ہے۔ کائنات اتنی وسیع ہے کہ اس کا مکمل نقشہ بنانا موجودہ ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں۔ اس اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ جیمز ویب نے اب تک کے مشاہدات میں آسمان کے ایک بہت بڑے حصے کا انتہائی گہرائی اور غیر معمولی تفصیل کے ساتھ نقشہ تیار کیا ہے۔
یہ تحقیق صرف فلکیات ہی نہیں بلکہ طبیعیات، کاسمولوجی اور کائنات کی ابتدا کو سمجھنے کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ آئندہ برسوں میں جیمز ویب مزید مشاہدات کرے گا، جن سے ممکن ہے کائنات کے آغاز، پہلی کہکشاؤں اور شاید زندگی کے لیے موزوں نئے سیاروں کے بارے میں بھی مزید حیرت انگیز معلومات سامنے آئیں۔
قرآنِ مجید انسان کو بار بار آسمانوں کی وسعت اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ﴾
ترجمہ:
“بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔”
(سورۃ الجاثیہ: 3)
یہ آیت ہمیں کائنات کی وسعت اور اس کے حیرت انگیز نظام پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ جدید فلکیاتی تحقیق بھی اسی جستجو کا حصہ ہے۔ البتہ یہ کہنا درست نہیں کہ قرآن جیمز ویب دوربین یا اس کے مخصوص سائنسی نتائج کا ذکر کرتا ہے، بلکہ قرآن انسان کو مشاہدہ، تحقیق اور تدبر کی ترغیب دیتا ہے۔
ہر نئی تصویر کے ساتھ جیمز ویب دوربین ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ کائنات ہماری سوچ سے کہیں زیادہ وسیع، پیچیدہ اور حیرت انگیز ہے۔ شاید آنے والے برسوں میں یہی دوربین ایسے راز بھی آشکار کرے جن کا آج ہم صرف تصور ہی کر سکتے ہیں۔
معتبر حوالہ جات
NASA – James Webb Space Telescope (JWST) Mission Updates
ESA – Webb Space Telescope Science Results
COSMOS-Web Survey – Largest JWST Extragalactic Mapping Project
JADES (JWST Advanced Deep Extragalactic Survey) – Early Galaxy Research
The Astrophysical Journal – Recent JWST Deep Field and Galaxy Evolution Studies
#JamesWebb #JWST #کائنات #فلکیات #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں
![]()

