🐟 ایک عقلمند ماہی گیر اور لالچی دربان — ایک سبق آموز کہانی 🏰
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)ایک بادشاہ نے اپنے معزز مہمانوں کے اعزاز میں ایک شاندار ضیافت کا اہتمام کیا۔ ہر قسم کے بہترین کھانے تیار کیے گئے، لیکن ایک اہم چیز کی کمی تھی… مچھلی۔
بادشاہ نے فوراً اعلان کروایا:”جو شخص ضیافت شروع ہونے سے پہلے تازہ مچھلی لے کر آئے گا، اسے بہترین انعام دیا جائے گا۔”
اعلان سنتے ہی ایک محنتی ماہی گیر تازہ مچھلی لے کر محل کی طرف روانہ ہوا۔
جب وہ محل کے دروازے پر پہنچا تو وہاں موجود دربان نے اسے روک لیا اور کہا:
“اگر انعام میں سے آدھا حصہ مجھے دینے کا وعدہ کرو گے، تب ہی اندر جانے دوں گا، ورنہ واپس چلے جاؤ۔”
ماہی گیر جانتا تھا کہ اگر وہ انکار کرے گا تو بادشاہ تک پہنچ ہی نہیں سکے گا، اس لیے اُس نے بظاہر دربان کی شرط مان لی۔
جب بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا، کیونکہ اب ضیافت مکمل ہو سکتی تھی۔
اس نے خوش ہو کر ماہی گیر سے کہا:
“مانگو، تمہیں جو انعام چاہیے دیا جائے گا۔”
لیکن سب حیران رہ گئے جب ماہی گیر نے دولت یا سونا لینے کے بجائے کہا:
“بادشاہ سلامت! مجھے انعام کے طور پر میری پیٹھ پر سو کوڑے مارے جائیں۔”
دربار میں سناٹا چھا گیا۔
بادشاہ نے کئی بار پوچھا، مگر ماہی گیر اپنے فیصلے پر قائم رہا۔
آخرکار بادشاہ کے حکم پر ایک سپاہی نے کوڑے مارنے شروع کیے۔
جب پچاس کوڑے پورے ہوئے تو ماہی گیر نے بلند آواز میں کہا:
“بس! باقی پچاس کوڑے میرے شریک کے حصے کے ہیں۔”
بادشاہ حیران ہو کر بولا:
“تمہارا شریک کون ہے؟”
ماہی گیر نے ادب سے جواب دیا:
“محل کا وہی دربان، جس نے مجھے اندر آنے کی اجازت صرف اس شرط پر دی تھی کہ انعام کا آدھا حصہ اُسے دوں۔”
یہ سنتے ہی بادشاہ کو پوری حقیقت سمجھ آ گئی۔
فوراً دربان کو دربار میں بلایا گیا۔
اسے باقی پچاس کوڑے لگوائے گئے، اُس کی بددیانتی کی سزا دی گئی اور ہمیشہ کے لیے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
پھر بادشاہ نے اُس عقلمند ماہی گیر کو اُس کی حاضر دماغی، دیانت داری اور انصاف پسندی کے صلے میں خوب انعام و اکرام سے نوازا۔
🌹 سبق:
عقل، دیانت اور حاضر دماغی انسان کو مشکل ترین حالات سے بھی نکال سکتی ہے۔ لالچ انسان کو ذلت تک پہنچا دیتا ہے، جبکہ سچائی اور حکمت آخرکار عزت اور کامیابی کا سبب بنتی ہیں۔
🤍🌷 اگر آپ نے یہ تحریر پوری پڑھی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں، تو کمنٹ میں اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں میں سے کوئی ایک خوبصورت نام ضرور لکھیں۔
مثلاً: یَا رَحْمٰن، یَا رَحِیم، یَا وَدُود، یَا کَرِیم، یَا غَفُور 🤍
![]()

