Daily Roshni News

عورت جس کی فریاد سات آسمانوں کے پار سنی گئی!!!

عورت جس کی فریاد سات آسمانوں کے پار سنی گئی!!!

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ حقیقت میرے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے کہ قرآنِ مجید کی ایک پوری سورت صرف ایک عورت کی شکایت کی وجہ سے نازل ہوئی۔

نہ کوئی بادشاہ…

نہ کوئی لشکر…

نہ کوئی عالم یا ولی…

صرف ایک عورت… جس نے اپنے رب کے حضور دل کھول کر فریاد کی۔

یہ واقعہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا ہے۔

ان کے شوہر نے ان پر ظہار کیا۔ اسلام سے پہلے عرب میں یہ ایک ظالمانہ رسم تھی کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتا تو عورت نہ مکمل بیوی رہتی اور نہ ہی طلاق یافتہ شمار ہوتی۔ وہ ایک عجیب اذیت میں معلق رہ جاتی۔

یہ سراسر ناانصافی تھی…

مگر خولہ رضی اللہ عنہا نے خاموش رہنے سے انکار کر دیا۔

وہ اپنا مسئلہ لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ لیکن اس وقت تک اس مسئلے کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔

خولہ رضی اللہ عنہا کے لیے یہ لمحہ بہت کٹھن تھا۔ انہیں محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کی دنیا بکھر رہی ہو۔

پھر انہوں نے وہ کیا جو ایک سچا مومن کرتا ہے…

انہوں نے براہِ راست اللہ سے فریاد کی۔

نہ شور مچایا…

نہ لوگوں میں ہنگامہ کھڑا کیا…

بس اپنے رب کے سامنے دل کا درد رکھ دیا۔

اور پھر آسمان سے وحی نازل ہوئی۔

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ

ترجمہ:

یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملے میں آپ سے گفتگو کر رہی تھی اور اللہ سے فریاد کر رہی تھی۔ بے شک اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ یقیناً اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

“میں اسی کمرے میں موجود تھی، مگر اس عورت کی ساری باتیں واضح طور پر نہیں سن سکی…”

سوچنے کی بات ہے…

چند قدم کے فاصلے پر موجود حضرت عائشہؓ بھی ان کی سرگوشیاں پوری نہ سن سکیں، مگر کائنات کے رب نے سات آسمانوں کے اوپر سے ان کی فریاد سن لی۔

اللہ نے صرف ان کا مسئلہ حل نہیں فرمایا…

بلکہ ان کی آواز کو ہمیشہ کے لیے قرآن کا حصہ بنا دیا۔

سورۃ المجادلہ — یعنی بحث کرنے والی عورت۔

یہ ہم سب کے لیے ایک عظیم یاد دہانی ہے:

اللہ ہر سرگوشی سنتا ہے…

وہ دعائیں بھی جو آپ بلند آواز میں مانگتے ہیں،

اور وہ سسکیاں بھی جو آپ رات کے اندھیروں میں تکیے میں منہ چھپا کر لیتے ہیں۔

وہ درد بھی…

جس کے لیے ابھی آپ کے پاس الفاظ بھی نہیں۔

کبھی یہ نہ سوچیں کہ آپ کی دعا چھوٹی ہے…

یا آپ کے وسائل بہت محدود ہیں…

جس رب نے خولہ رضی اللہ عنہا کی فریاد سنی،

وہی رب آج آپ کی بھی سن رہا ہے۔

برسوں بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن خولہ رضی اللہ عنہا سے ملے۔

وہ ایک ضعیف عورت تھیں۔

حضرت عمرؓ پورے قافلے سمیت رک گئے اور دیر تک ان کی بات سنتے رہے۔

لوگوں نے عرض کیا:

“امیر المؤمنین! آپ نے ایک بوڑھی عورت کے لیے پورا قافلہ روک دیا؟”

حضرت عمرؓ نے فرمایا:

“میں عمر، اُس عورت کی بات کیوں نہ سنوں… جس کی بات اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سے سنی تھی؟”

پس کبھی دنیا کو یہ احساس نہ دلانے دیں کہ آپ معمولی ہیں…

آپ کا رابطہ براہِ راست بادشاہوں کے بادشاہ سے ہے۔

اگر کبھی لگے کہ دعائیں قبول نہیں ہو رہیں…

تو خولہ رضی اللہ عنہا کو یاد کریں۔

ان کے کمرے کی دیواریں ان کی دعا کو روک نہ سکیں…

آسمان ان کی فریاد کو بلاک نہ کر سکا…

فاصلہ ان کی التجا میں رکاوٹ نہ بن سکا…

آپ بھی اُسی رب سے مخاطب ہیں…

جو آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔

وہ سنتا ہے…

وہ جانتا ہے…

اور وہی آپ کے لیے کافی ہے۔

نوٹ

 اپ سب سے گزارش ہے اگر اپ کو پوسٹ اچھی لگی ہو تو فالو کر لیں کمنٹ پہ کر دیں لائک بھی کر دیا کریں اور شیئر بھی کر دیا کریں شکریہ

#Islam #Quran #Dua #Allah #IslamicReminder #Muslim #Faith #Hope #highlight  #IslamicPosts

Loading