🌸 صرف ایک لقمہ… اور پوری زندگی کا رخ بدل گیا! 🌸
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تاریخ میں حضرت شریک محدثؒ کا شمار نہایت متقی، پرہیزگار اور باوقار علماء میں ہوتا ہے۔ وہ حکمرانوں کی قربت، درباروں کی رونق اور دنیاوی مناصب سے ہمیشہ دور رہتے تھے۔
ایک مرتبہ عباسی خلیفہ مہدی نے انہیں اپنے دربار میں طلب کیا اور فرمایا کہ آپ کو تین میں سے ایک بات ضرور قبول کرنا ہوگی:
1️⃣ قاضی کا منصب قبول کر لیجیے۔
2️⃣ میرے شہزادوں کو تعلیم دیجیے۔
3️⃣ یا پھر میرے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر صرف ایک لقمہ کھا لیجیے۔
حضرت شریکؒ نے سوچا کہ قاضی بننے یا شاہی معلم بننے کے مقابلے میں صرف ایک لقمہ کھا لینا زیادہ آسان ہے، اس لیے انہوں نے تیسرا راستہ اختیار کر لیا۔
خلیفہ نے باورچی کو بہترین اور لذیذ کھانے تیار کرنے کا حکم دیا۔ روایت میں آتا ہے کہ جیسے ہی حضرت شریکؒ شاہی دسترخوان پر بیٹھے، باورچی نے کہا:
“آج یہ ایسے جال میں قدم رکھ رہے ہیں جس سے اب ان کی رہائی مشکل ہوگی۔”
وقت نے ثابت کر دیا کہ اس کی بات درست تھی۔ کچھ ہی عرصے بعد حضرت شریکؒ پہلے شہزادوں کے استاد بنے، پھر خلیفہ کے اصرار پر قاضی کا منصب بھی قبول کرنا پڑا۔
ایک ہی لقمہ ان کی زندگی کا رخ بدلنے کا سبب بن گیا۔
(تاریخ الخلفاء)
🌿 اس واقعے کا سبق صرف ایک شخصیت تک محدود نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے ہے۔
انسان اکثر یہ سمجھتا ہے کہ وہ غلط ماحول میں رہے گا مگر خود محفوظ رہے گا، دنیا کے فائدے لے گا مگر اپنے دین، کردار اور اصولوں پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحبت کا اثر آہستہ آہستہ ضرور ظاہر ہوتا ہے۔
اسی حقیقت کو سمجھانے کے لیے ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص اپنی بکری کو کھیت کی مینڈھ پر چرائے گا، ایک نہ ایک دن وہ بکری کھیت میں بھی داخل ہو جائے گی۔ اس لیے اگر کھیت کو بچانا ہے تو مینڈھ سے بھی دور رہنا ہوگا۔
اسی طرح جو شخص اپنے ایمان، کردار اور تقویٰ کی حفاظت چاہتا ہے، اسے ایسے ماحول، صحبت اور مفادات سے بھی محتاط رہنا چاہیے جو آہستہ آہستہ انسان کو اپنے رنگ میں رنگ دیتے ہیں۔
ہمارے بزرگ اسی لیے دنیا کے لالچ، اقتدار کی قربت اور ایسے تعلقات سے بچنے کی تلقین کرتے تھے جن سے دین اور حق گوئی متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر ایسے راستے سے محفوظ رکھے جو آہستہ آہستہ ہمیں حق سے دور کر دے، اور ہمیشہ حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲
🤍🌷 اگر آپ نے یہ تحریر مکمل پڑھی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں، تو کمنٹ میں اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں میں سے اپنا پسندیدہ ایک خوبصورت نام ضرور لکھیں۔
مثلاً: یَا رَحْمٰن، یَا رَحِیم، یَا وَدُود، یَا غَفُور، یَا لَطِیف۔ 🤍
![]()

