Daily Roshni News

امریکا کی جانب سے حملے روکنے کے بعد ہم نے بھی جوابی کارروائیاں روک دیں: ایران

ایران نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے گزشتہ دو راتوں سے حملے روکنے کے بعد اس نے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے خلاف اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔ دوسری جانب ذرائع اور امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ تقریباً دو ہفتوں کی شدید لڑائی کے دوران امریکا کو 37.5 ارب ڈالر سے زائد اخراجات برداشت کرنا پڑے جب کہ دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر میں تیزی سے کمی بھی مزید عسکری کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے تاہم واشنگٹن نے ان دعوؤں اور اخراجات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ ”حملے دو رات قبل تک جاری تھے لیکن گزشتہ دو راتوں سے امریکی حملے بند ہیں اور چوں کہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی کارروائی پر مبنی تھی، اس لیے ہم نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔“

ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے حملے روکنے کے فیصلے کے بعد ایران نے بھی اپنے حملے بند کر دیے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تقریباً دو ہفتوں سے جاری عسکری کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ فی الحال تھم گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اب اپنے پانچویں ماہ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ آبنائے ہرمز پر کشیدگی کے باعث واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششیں متاثر ہوئیں جب کہ بعد ازاں یہ تنازع امریکی فوجی اڈوں، خلیجی ممالک، علاقائی بحری جہاز رانی اور آبنائے ہرمز تک پھیل گیا۔

حالیہ وقفے کے بعد مذاکرات کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے تاہم امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی دفاعی ہتھیاروں، خصوصاً پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز اور دیگر دفاعی نظام کے ذخائر میں کمی بھی حملے روکنے کی ایک اہم وجہ ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکا کے لیے انتہائی مہنگی ثابت ہوئی ہے اور اب تک امریکی اخراجات 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جب کہ ایرانی میزائلوں کو ناکام بنانے کے لیے امریکی دفاعی نظام پر تقریباً 1.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل دفاعی کارروائیوں کے باعث امریکی میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس پر امریکی عسکری حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

سی این این نے ایک نامعلوم پینٹاگون عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں فی الحال ”ہولڈ“ پر ہیں، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایران پر ”اس سے کہیں زیادہ شدید“ حملوں کی دھمکی بھی دی تھی۔

اسی طرح نیویارک ٹائمز نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کے باعث جنگ میں مزید شدت لانے کے منصوبے فی الحال مؤخر کر دیے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی مسلح افواج کے اعلیٰ جنرل ڈین کین نے بھی جنگ میں مزید شدت پیدا ہونے پر خدشات کا اظہار کیا۔ جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ فوج دستیاب تمام عسکری آپشنز پر عملدرآمد کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم ان کے ممکنہ نتائج کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ مکمل فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جائے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو ”اس سے کہیں زیادہ شدید حملوں“ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے شروع کیے تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

اسی دوران یمن میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے شمال مغربی یمن میں سعودی ڈرون مار گرایا جب کہ ایک روز قبل سعودی عرب کے جیزان اور ینبع میں آرامکو تنصیبات کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ یونانی فضائیہ کے مطابق سعودی عرب میں تعینات یونانی اہلکاروں نے ینبع کے قریب دو بیلسٹک میزائل اور ایک ڈرون تباہ کیا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کا ذمہ دار ایران نہیں ہے اور انہوں نے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔

ادھر ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایرانی مسلح افواج نے وارننگ کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چھ بحری جہازوں کو روک دیا۔

رپورٹ کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان آبنائے ہرمز پر کشیدگی بدستور مرکزی تنازع بنی ہوئی ہے جب کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے مشترکہ اصولوں اور عملی طریقہ کار پر بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔

امریکا کی جانب سے ان دعوؤں، جنگی اخراجات اور دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی سے متعلق رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

Loading