آخر اس وہم کی دوا کیا ہے؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیو ز انٹرنیشنل )کہتے ہیں کہ وہم کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان ترقی کی منازل طے کرتا ہوا، ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہوا۔ اس ترقی نے دنیا کو بڑے بڑے حکیم ، طبیب، معالج اور ماہرین نفسیات مہیا کیے۔ ان لوگوں نے دن رات کی مسلسل کاوشوں اور تحقیق سے بڑی بڑی بیماریوں کے علاج ڈھونڈ لیے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ جیسے جیسے دنیا نے ترقی کی ویسے وہم کو بھی ترقی ملی۔ آج پھر دفتر دیر سے پہنچنے کی وجہ سے رضوان پر اس کے باس کا غضب نازل ہو رہا تھا۔ وہ ہفتے میں تقریباد و چار روز ہی وقت پر آتا تھا بلکہ زیادہ تر وہ لیٹ ہو جاتا تھا۔ باس نے کئی بار خبر دار بھی کیا تھا کہ اگر یہی معمول رہا تو آپ کو اپنا انتظام کسی دوسری جگہ کرنا ہو گا۔ اس نے باس کی وار نگ کو سنجیدگی سے لیا تھا اور حتی الامکان کوشش کر کے پورے ہفتے وقت پر دفتر پہنچا بھی تھا لیکن آج وہ چاہنے کے باوجود پھر وقت پر پہنچ نہیں سکا تھا کیونکہ گھر سے نکلتے ہوئے اسٹاپ کے قریب کالی بلی نے اس کا راستہ کاٹ دیا تھا۔ اب اسے اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا جس کے باعث وہ دیر سے آفس پہنچا اور اب باس کی ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ ساتھیوں کے سامنے بھی تماشا بنا ہوا تھا۔
شاید آپ نے ایسے فرد کو دیکھا ہوگا۔ جس کے ذہن میں یہ بات نقش ہو جاتی ہے کہ وہ اگر گھر سے باہر نکلیں گے تو ان کا ایکسیڈنٹ ہو جائے گا۔ یہ خیال اس پر شدت سے مسلط ہو جاتا ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگوں کے ذہن میں کتے ، بلی کا خوف بیٹھ جاتا ہے اور یہ خوف ان کے دماغ سے اس طرح چھٹ جاتا ہے کہ وہ ذہنی مریض بن کر رہ جاتے ہیں۔ حالانکہ اس خوف کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ بس ایک مفروضے کے تحت کوئی بھی خیال خوف بن کر دماغ پر چھا جاتا ہے اس کی وجہ سے دماغ میں موجود خلیات کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔
و ہم اور شک کی بنیاد بے یقینی پر ہے۔ جس قدر و ہم اور شک اور بے یقینی دماغ میں کم ہوگی اسی مناسبت سے آدمی کی زندگی کامیاب گزرے گی اور جس مناسبت سے بے یقینی اور شک زیادہ ہو گا، زندگی ناکامیوں میں بسر ہو گی۔ وہم اور شک کی زیادتی ہی کی وجہ سے دماغی خلیوں میں ٹوٹ پھوٹ واقع ہوتی ہے اور یہ بات تو سبھی مانتے ہیں کہ ان ہی دماغی خلیوں کے زیر اثر تمام اعصاب کام کرتے ہیں۔
جس شخص کے دماغ میں وہم اور شک کی زیادتی ہوتی ہے۔ اسے قدم قدم پر خطرہ محسوس ہوتا ہے، وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی زندگی سخت خطرے میں ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد فضائی سفر کے خوف سے دوچار ہے۔ ایک فضائی کمپنی نے سروے کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا گیا، اس کے مطابق لاکھوں افراد فضائی سفر کے دوران خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اپنی نشست پر بیٹھتے ہی ان پر تشیع کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ دل کی دھڑکن میں اضافہ ہو جاتا ہے، حلق خشک ہو جاتا ہے اور الفاظ ٹھیک طرح سے ادا نہیں ہو پاتے، ماتھے پر پسینہ آجاتا ہے اور اپنی اس کیفیت کو چھپانے کے لیے وہ لوگ اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ پورے سفر کے دوران ان کی یہی حالت رہتی ہے۔
ایک صاحب کی صحت بالکل ٹھیک ہے، کسی قسم کا کوئی عارضہ نہیں لیکن جب سالانہ طبی معائنے کا وقت آتا ہے انہیں بلڈ پریشر کی شکایت ہو جاتی ہے، ماہرین کوشش کے باوجود اس کا طبی سبب دریافت نہیں کر سکے ، البتہ جب ان کی زندگی کی چھان بین کی گئی تو ایک عجیب واقعہ سامنے آیا کہ طالب علمی کے زمانے میں پرچہ میں فیل ہونے کے واقعے سے انہیں اتنا صدمہ ہوا کہ امتحان سے ڈرنے لگے ، یہ خوف ان کے ذہن کی گہرائیوں میں بیٹھ گیا۔
و ہم کی کئی قسمیں ہیں کوئی کیڑے مکوڑوں سے ڈرتا ہے تو کوئی بارش آندھی اور گرج چمک سے، کسی کو نجاست اور گندگی کا وہم ہے تو کوئی صفائی کے وہم میں مبتلا ہے کوئی آگ سے خوف زدہ ہے تو کوئی پانی کے قریب جاتے ہوئے ڈرتا ہے، کوئی بلندی پر چڑھنے سے خوف زدہ ہے تو کوئی گڑھوں، غاروں یا نیچی جگہوں میں اترتے ہوئے ڈرتا ہے تو کسی کو ہجوم کا خوف مارے ڈالتا ہے کوئی تنہائی سے ڈرتا ہے۔ کوئی سانپوں سے خوف کھاتا ہے، کوئی چھپکلی یا کا کروچ سے، کوئی رات کی تاریکی سے ڈرتا ہے۔ اسی طرح کوئی ریل کے سفر سے ڈرتا ہے اور موٹر گاڑیوں یا ہوائی جہاز کے سفر سے خوف کھاتا ہے۔ غرض لوگوں کی بڑی تعداد کسی نہ کسی شے کے خوف میں مبتلا ہے۔
ماہرین نفسیات کے مطابق کچھ خوف اور وہم بیماریوں کی شکل اختیار کر کے انسان کے لیے کئی مشکلات کا باعث بنتے ہیں ، مثلاً وہم کی ایک قسم جسے خط Obsession کہتے ہیں کافی تکلیف کا باعث فیتی ہے۔ اس بیماری میں مریض چیزوں کو بار بار درست کرتا ہے ، وہ اپنے کام سے مطمئن نہیں ہو پاتا۔ دروازے، لاک، گھڑی اور گیس کی لائن وغیرہ کو بار بار چیک کرتا ہے۔ حالانکہ اس نے تمام کام درست انجام دیے ہوتے ہیں۔ اس قسم کی بیماری Personality Disorder بھی ہو سکتی ہے جس کے باعث مریض کی روز مرہ کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ مثلاً وہ ایک ہی کام کو بار بار کرتا ہے، بار بار ہاتھ دھوتا ہے یا دیر تک نہاتا ہے، کام بہت آہستہ اور
رک رک کر کرتا ہے۔ یہ سب علامات و ہم کی ہیں۔ و ہم ایک ایسی کیفیت ہے جس کا تعلق لاشعور سے ہوتا ہے۔ اس کا علاج دواؤں اور Behavior Therapy سے کیا جاتا ہے لیکن یہ بیماری بڑھ جائے تو ساری زندگی کے لیے مسئلہ بن جاتی ہے اور مریض کا زندگی گزارنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ پر عزم افراد و ہم کو اپنے پاس نہیں آنے دیتے۔ کیونکہ وہ اپنی ہر بات سے مطمئن ہوتے ہیں اور خود کو اندیشوں سے آزاد رکھتے ہیں۔ جس کے باعث خوش حال زندگی گزارتے ہیں۔ وہم سے بیچ نکلنے کی آسان ترکیب یہی ہے کہ انسان منفی خیالات کو دماغ میں داخل ہی نہ ہونے دے۔ خود پر بھروسہ رکھے اور ایسے لوگوں سے منسلک رہے جو اسے صاف اور سلجھا ہوا راستہ دکھا ئیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ اس بات سے بھی مطمئن رہے کہ اس نے جو کام بھی کیا ہے پوری دیانتداری کے ساتھ جتنے بہتر طریقے سے ہو سکتا تھا کیا ہے لہذا اب نتیجہ بھی ان شاء اللہ اچھا نکلے گا۔ اگر ہم ان باتوں پر عمل کریں اور اور فضول باتوں پر دھیان نہ دیں تو طرح طرح کے وسوسے وہم میں تبدیل نہیں ہوں گے۔
روحانی علاج: وہم کا روحانی علاج یہ ہے کہ اللہ پر پورا بھروسہ اور توکل کیا جائے اور کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کیا جائے۔ وہم و خوف سے نجات دلانے میں بعض و ظائف کا ورد بہت موثر دیکھا گیا ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ستمبر 2021
![]()

