Daily Roshni News

آزاد کشمیر میں شدید ریاستی جبر: راولاکوٹ میں پرامن مظاہرین پر رینجرز کی فائرنگ

آزاد کشمیر میں شدید ریاستی جبر: راولاکوٹ میں پرامن مظاہرین پر رینجرز کی فائرنگ

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق تحریک کے سلسلے میں لانگ مارچ کے قافلے پیر کے روز فورسز کی شدید فائرنگ اور شیلنگ کے باوجود راولاکوٹ شہر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ راولاکوٹ کے اطراف سے پیر کو52روزہ احتجاجی دھرنوں اور لاک ڈاؤن کے بعد مارچ کا آغاز کیا گیا۔ فورسز کی فائرنگ اور شیلنگ سے کم از کم 21لوگوں کی جان گئی اور 50سے زائد زخمی ہوئے۔ تاہم شام پانچ بجے سے رات 12بجے تک جاری اس تصادم کے بعد بالآخر فورسز پسپا ہو گئیں اور لانگ مارچ کے شرکاء شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت نے آج منگل کی صبح مقبول بٹ شہید چوک راولاکوٹ میں اجتماع منعقد کرتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

فورسز کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں اس وقت تک مارے گئے کم از کم 20لوگوں کے نام سامنے آچکے ہیں، جبکہ ایک نوجوان کی میت اس وقت پلندری ہسپتال میں موجود ہے، جس کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ زخمی ہونے والوں میں سے کم از کم دو نوجوانوں کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

فورسز کی فائرنگ سے جان کی بازی ہارنے والوں میں عمر نذیر کشمیری کے چھوٹے بھائی عثمان نذیر(راولاکوٹ)،نعیم بٹ(ساکن کوٹلی)، نثارشاہین(پکھوناڑ، بلوچ)،کاشف یعقوب (راولاکوٹ)، سردار فدا حسین (گڑالہ تراڑکھل)، 6) مزمل اسحاق(علی سوجل)، باسط شاہ (ہجیرہ)، فہیم افضل(چھوٹا گلہ، راولاکوٹ)، کامران مشتاق (ہجیرہ)، زرغام خلیل (دریک راولاکوٹ)، ثاقب حنیف (ریڑھ بن راولاکوٹ)، ثاقب اسحاق (نمب گوارہ،پلندری)، اریل اصغر (تتہ پانی)، عثمان گل (دریک ڈھوک راولاکوٹ)، جفیر پہلوان (پپے ناڑ،تراڑ کھل)، علی حسین(کھڑی شریف)، علی حسین(کھڑی شریف)، خواجہ ابرار لطیف ڈار(خورشید آباد حویلی)،کامران حفیظ(کہوٹہ، حویلی)، فیصل صابر(نامنوٹہ، راولاکوٹ)٬سہیل مقبول (بائی بھیکھ، راولاکوٹ)، جبکہ ایک نامعلوم نوجوان شامل ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کی حکومت کی جانب سے تاحال کسی قسم کے مذاکرات کرنے کے حوالے سے کوئی پہل نہیں کی گئی۔ میڈیا پر حکومتی موقف دیتے ہوئے وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے ایک بار پھریہ دعویٰ کیا کہ مظاہرین انتخابات رکوانا چاہتے ہیں اور 12نشستیں ختم کروانے کے بغیر احتجاج نہ ختم کرنے پر بضد ہیں۔ تاہم کمیٹی کی جانب سے اتوار کو یہ واضح کیا گیا کہ وہ صرف 5جون 2026کے بعد ریاست کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی واپسی پر ہی احتجاج ختم کرنے پر رضامند تھے، بلکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کمیٹی کو کالعدم قرار دینے جانے کے فیصلے کوواپس لینے اور فورسز کی فائرنگ سے مارے جانے والے لوگوں کو معاوضے دینے کے مطالبے سے بھی دستبردار ہو چکے تھے۔ تاہم حکومت نے قیدیوں کو رہا کرنے، لاشیں حوالے کرنے اور مقدمات ختم کرنے جیسے مطالبات بھی ماننے سے انکارکر دیا ہے۔

ادھر میرپور ڈویژن کے 3اضلاع میں 13انتخابی نشستوں پر پیر کے روز عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ بھی کروائی گئی۔ نیشنل میڈیا پر اس الیکشن کو بھرپورکوریج دی گئی۔ سرکاری سطح پر یہ ظاہر کیا گیا کہ ٹرن آؤٹ40فیصد رہا، تاہم تمام سرکاری اور نجی میڈیا کی بھرپور کوریج کے باوجود کسی پولنگ اسٹیشن پرچند ووٹروں کی قطار کی کوئی ویڈیو بھی میڈیا پر نہیں چلائی جا سکی۔ مقامی سطح پر حقائق کے مطابق محض 10سے 15فیصد ووٹ ہی کاسٹ ہو سکے اور عوام نے انتخابات کو بری طرح سے مسترد کیا۔

Loading