سلطان نور الدین محمود زنگی کی سوانح حیات۔۔ ✍️
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تاریخِ اسلام ایسے درخشندہ ستاروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے ایمان، شجاعت، اور تدبر سے نہ صرف تاریخ کا دھارا موڑا بلکہ اینٹ سے اینٹ بجتی دنیا میں عدل، انصاف اور امن کی شمع روشن کی۔ انھی جلیل القدر اور جرات مند حکمرانوں میں سلطان نور الدین محمود زنگی علیہ الرحمہ کا نامِ نامی ایک سنہرے باب کی حیثیت رکھتا ہے۔سلطان نور الدین زنگی وہ نابغہ روزگار شخصیت ہیں جنہوں نے صلیبی جنگوں کے کٹھن دور میں مسلمانوں کو متحد کیا، عدل و انصاف کی حکمرانی قائم کی، اور بیت المقدس کی آزادی کا وہ خاکہ تیار کیا جس پر آگے چل کر ان کے روحانی اور سیاسی فرزند، سلطان صلاح الدین ایوبی نے عمل درآمد کیا۔ ان کی زندگی تقویٰ، شجاعت، اور علم پروری کا ایک ایسا حسین امتزاج تھی جس کی مثال تاریخ عالم میں بہت کم ملتی ہے۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر:
سلطان نور الدین محمود زنگی فروری 1118ء (511ھ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدِ گرامی عماد الدین زنگی تھے، جو خود ایک نامور، بہادر اور بیدار مغز زنگی حکمران تھے۔ عماد الدین زنگی نے ہی سب سے پہلے صلیبیوں کی چھاتی پر مونگ دلتے ہوئے “رُہا” (Edessa) کی صلیبی ریاست کو فتح کیا تھا اور مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عزیمت کو دوبارہ زندہ کیا تھا۔نور الدین زنگی کی تربیت ایک ایسے جنگی اور دینی ماحول میں ہوئی جہاں ایک طرف شمشیر زنی اور فنونِ سپاہ گری سکھائی جا رہی تھی تو دوسری طرف قرآن، حدیث اور فقه کی تعلیم دی جاتی تھی۔ بچپن ہی سے ان کی پیشانی پر شرافت، ذہانت اور دین داری کے آثار نمایاں تھے۔ والد کی وفات (1146ء) کے بعد زنگی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ بڑے بھائی سیف الدین غازی نے موصل کا اقتدار سنبھالا، جبکہ نور الدین محمود زنگی کے حصے میں حلب (Aleppo) کی حکومت آئی۔
سیاسی اور عسکری کارنامے:
حلب کے حکمران بنتے ہی سلطان نور الدین زنگی کے سامنے دو بڑے چیلنج تھے: ایک طرف صلیبیوں کا تیزی سے پھیلتا ہوا غلبہ اور دوسری طرف مسلمانوں کی داخلی انتشار اور گروہ بندی۔ سلطان نے بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے پہلے شام کی چھوٹے چھوٹے مسلم علاقوں اور امارتوں کو متحد کرنے کا عزم کیا۔
دمشق اور شام کا اتحاد:
شام کا شہر دمشق سیاسی لحاظ سے انتہائی حساس اور مرکزی حیثیت رکھتا تھا، لیکن وہاں کے بعض حکمران اپنی کرسی بچانے کے لیے صلیبیوں کے ساتھ ساز باز کر رہے تھے۔ نور الدین زنگی نے اپنی حکمت عملی اور عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر 1154ء میں دمشق پر بغیر کسی بڑے خون خرابے کے قبضہ کر لیا۔ دمشق کی شمولیت سے شام ایک مضبوط اور متحدہ اسلامی ریاست میں ڈھل گیا۔
مصر کی فتح اور فاطمی خلافت کا خاتمہ:
سلطان نور الدین زنگی کی دور اندیشی کا سب سے بڑا ثبوت مصر کی طرف توجہ دینا تھا۔ مصر اس وقت زوال پذیر فاطمی خلافت کے زیرِ اثر تھا اور صلیبی اس پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اگر مصر پر صلیبیوں کا قبضہ ہو جاتا تو عالمِ اسلام دو حصوں میں کٹ کر رہ جاتا۔
سلطان نے اپنے زبردست سپاہ سالار اسد الدین شیرکوہ اور ان کے بھتیجے صلاح الدین ایوبی کو مصر بھیجا۔ کئی مہمات کے بعد، مسلمانوں نے مصر میں صلیبیوں کی سازشوں کو ناکام بنایا اور فاطمی سلطنت کا خاتمہ کر کے مصر کو دمشق اور بغداد کی عباسی خلافت کے ساتھ مربوط کر دیا۔ یہ وہی تاریخی قدم تھا جس نے آیندہ کے لیے فتحِ بیت المقدس کی راہ ہموار کی۔
صلیبیوں کے خلاف جنگیں:
سلطان نے اپنی پوری زندگی میدانِ جنگ میں گزاری۔ جنگ انمب (Battle of Inab) میں انہوں نے انطاکیہ کے صلیبی شہزادے ریمنڈ کو شکست فاش دی اور اسے واصلِ جہنم کیا۔ وہ جنگوں میں محض ایک سپاہ سالار نہیں بلکہ عام سپاہیوں کی طرح صف اول میں لڑتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ:
”یہ جسم اللہ کی امانت ہے اور اس کا بہترین استعمال اسلام کی سربلندی کے لیے میدانِ کارزار میں ہی ہو سکتا ہے۔”
عدل و انصاف اور بہترین طرزِ حکمرانی
اگرچہ نور الدین زنگی ایک عظیم فاتح تھے، لیکن ان کی حقیقی عظمت ان کے عدل و انصاف میں پنہاں تھی۔ تاریخ دان ابن اثیر لکھتے ہیں کہ انہوں نے خلفائے راشدین اور عمر بن عبدالعزیز کے بعد نور الدین زنگی سے زیادہ عادل، رحم دل اور شریعت کا پابند کوئی حکمران نہیں دیکھا۔
دار العدل (عدالتِ عالیہ) کا قیام:
سلطان نے مظلوموں کی داد رسی کے لیے دار العدل کی بنیاد رکھی۔ وہ ہفتے میں دو دن خود اس عدالت میں بیٹھتے تھے جہاں کوئی بھی عام شہری، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، بغیر کسی روک ٹوک کے اپنے سلطان کے سامنے فریاد پیش کر سکتا تھا۔ اگر کوئی امیر، کاظم یا خود ان کے خاندان کا فرد بھی کسی پر ظلم کرتا تو سلطان بغیر کسی رعایت کے شرعی حد یا سزا نافذ کرتے تھے۔
سادگی اور زہد:
سلطان کا ذاتی طرزِ زندگی انتہائی سادہ تھا۔ وہ بیت المال (سرکاری خزانے) سے اپنے لیے یا اپنے گھر والوں کے لیے ایک روپیہ بھی اضافی نہیں لیتے تھے۔ایک مرتبہ ان کی زوجہ محترمہ نے شکایت کی کہ ان کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے اور کچھ اضافی رقم دی جائے۔ سلطان نے نہایت نرمی اور ثبات سے جواب دیا:”میرے پاس جو کچھ ہے وہ مسلمانوں کا بیت المال ہے۔ میں ان کی امانت میں خیانت کیسے کر سکتا ہوں؟ میرے پاس حلب میں صرف تین دکانیں ہیں جن کی آمدنی سے میرا گھر چلتا ہے۔ اگر تم چاہو تو وہ دکانیں اپنے نام کر لو، اس کے علاوہ میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں!”
علم دوستی، تعمیرات اور عوامی فلاح:
سلطان نور الدین زنگی محض شمشیر زن نہیں تھے بلکہ وہ ایک عظیم معمار اور علم و ادب کے عظیم سرپرست بھی تھے۔ انہوں نے اپنے علاقے کو مدارس، ہسپتالوں، خانقاہوں اور مساجد سے سجا دیا۔
المدرسۃ النوریہ:
انہوں نے شام، مصر اور عراق میں بیسیوں اعلیٰ درجے کے مدارس قائم کیے جہاں طلبہ کو مفت تعلیم، رہائش اور وظائف دیے جاتے تھے۔ تاریخِ اسلام میں حدیثِ نبوی ﷺ کی تعلیم و ترویج کے لیے سب سے پہلا مخصوص ادارہ دار الحدیث النوریہ دمشق میں سلطان نور الدین زنگی نے ہی قائم کیا تھا۔
مارستان نوری (بیمارستان):
دمشق میں ایک عظیم الشان ہسپتال اور میڈیکل کالج تعمیر کروایا گیا جہاں نادار اور غریب مریضوں کا مفت علاج ہوتا تھا اور ساتھ ہی ادویات بھی فراہم کی جاتی تھیں۔ یہ ہسپتال صدیوں تک طب کی دنیا میں مشعلِ راہ بنا رہا۔
مواصلاتی نظام: سلطان نے سیکیورٹی اور اطلاعات کی فوری رسائی کے لیے کبوتروں کے ذریعے ڈاک کے نظام کو انتہائی منظم اور فعال بنایا۔
فتحِ بیت المقدس کا خاکہ اور منبرِ نور الدین:
اگرچہ بیت المقدس کی حتمی آزادی سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں 1187ء میں ممکن ہوئی، لیکن اس فتح کی بنیاد اور جذبہ نور الدین زنگی نے ہی پیدا کیا تھا۔
سلطان زنگی کا اوڑھنا بچھونا اور دن رات کا خواب مسجدِ اقصی کی آزادی تھا۔ ان کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ انہوں نے مسجدِ اقصی کے لیے ایک انتہائی خوبصورت اور پرشکوہ لکڑی کا منبر تیار کروایا۔ جب لوگوں نے پوچھا کہ ابھی تو بیت المقدس صلیبیوں کے قبضے میں ہے، آپ یہ منبر کیوں بنوا رہے ہیں؟ تو سلطان نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:
”ہم نے فتح کی تیاری اور اپنا کام کر دیا ہے، اب اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں وہاں جا کر یہ منبر نصب کرنے کی توفیق دے۔”یہ وہی تاریخی منبر تھا جسے بعد میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتحِ بیت المقدس کے بعد مسجدِ اقصی میں اپنے ہاتھوں سے نصب کیا۔
تاریخی واقعہ:
سلطان نور الدین زنگی کی زندگی کا سب سے ایمان افروز واقعہ مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حفاظت سے متعلق ہے۔557ھ (1162ء) میں سلطان نے خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کی۔ حضور اکرم ﷺ نے دو سرخ رنگ کے بدقماش افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم ارشاد فرمایا: “نور الدین! ان کے شر سے میرا تحفظ کرو۔”سلطان گھبرا کر بیدار ہوئے۔ انہوں نے یہ خواب مسلسل تین بار دیکھا۔ اسی وقت انہوں نے اپنے وزیر جمال الدین موصلی کو ساتھ لیا اور چند باوفا محافظوں کے ساتھ دمشق سے مدینہ منورہ کے لیے تیزی سے روانہ ہو گئے۔مدینہ منورہ پہنچ کر سلطان نے تمام اہل شہر کی دعوت کی اور ہر شخص کو تحائف دینے کے بہانے غور سے دیکھا۔ جب وہ دو شخص نظر نہ آئے تو سلطان نے دریافت کیا کہ کیا کوئی باقی رہ گیا ہے؟ معلوم ہوا کہ اندلس سے آئے ہوئے دو زاہد و عابد شخصيات روضہ مبارک کے قریب ایک مکان میں مقیم ہیں اور وہ کسی کی دعوت میں نہیں آتے۔
سلطان خود ان کے مکان پر گئے۔ ظاہر میں وہ بڑے عابد و زاہد معلوم ہوتے تھے، لیکن جب سلطان نے ان کے مکان کی تلاشی لی اور قالین ہٹایا تو وہاں ایک سرنگ ملی جو روضہ اطہر کی طرف کھودی جا رہی تھی۔ وہ دونوں عیسائی جاسوس تھے جو نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ کے جسدِ اطہر کو منتقل کرنے کی ناپاک سازش کر رہے تھے۔سلطان نے ان دونوں کو سزائے موت دی اور روضہ مبارک کے گرد زمین میں گہری خندق کھدوا کر اس میں پگھلا ہوا سیسہ بھروا دیا تاکہ آیندہ کوئی بدبخت ایسی ناپاک جسارت نہ کر سکے۔ یہ سلطان کا وہ عظیم الشان کارنامہ ہے جس پر پوری امتِ مسلمہ ان کی ممنونِ احسان ہے۔
وفات:
مسلسل جدوجہد، روزوں، شب بیداریوں اور عسکری اسفار نے سلطان کی صحت پر اثر ڈالا۔ 15 مئی 1174ء (11 شوال 569ھ) کو گلے کی ایک مہلک بیماری (احتمالاً خناق) کی وجہ سے دمشق میں اس عظیم مجاہد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات پر پوری اسلامی دنیا میں غم و الم کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں دمشق میں ان کے قائم کردہ مدرسہ نوریہ میں ہی تدفین کی سعادت حاصل ہوئی۔
تاریخ کا روشن باب:
سلطان نور الدین محمود زنگی کا وجود تاریخ کے ان روشن ترین بابوں میں سے ہے جو امتِ مسلمہ کو یہ سبق دیتے ہیں کہ کامیابی محض اسلحے اور فوج سے نہیں بلکہ ایمان، عدل، اتحاد اور اخلاص سے حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے انتشار میں گھری ہوئی امت کو ایک پرچم تلے جمع کیا، علم و شریعت کی آبیاری کی، اور آنے والی نسلوں کے لیے صلاح الدین ایوبی جیسے عسکری اور سیاسی ہیرے تراشے۔ سلطان نور الدین زنگی کا نام تاریخ کے صفات پر ایک ایسے عادل، مجاہد اور درویش صفت حکمران کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا جس نے اپنی پوری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے وقف کر دی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مرقد پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔۔ ✍️
![]()

