Daily Roshni News

بدر خلیل: پاکستانی ڈراموں کی وہ “ماں” جسے پوری قوم نے اپنایا

بدر خلیل: پاکستانی ڈراموں کی وہ “ماں” جسے پوری قوم نے اپنایا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تعارف:پاکستانی ٹی وی ڈرامے کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ایک نام ایسا ملے گا جو “ماں” کے کردار کا مترادف بن گیا — بدر خلیل۔ اتنی محبت، اتنی سچائی، اور اتنی گہرائی کے ساتھ انہوں نے یہ کردار نبھائے کہ ناظرین انہیں پیار سے “مدر خلیل” کہنے لگے۔ آئیے آج تفصیل سے جانتے ہیں اس باکمال اداکارہ کی زندگی کی کہانی۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

بدر خلیل 5 جولائی 1945ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ 1947ء کی تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہو گیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے شوہر، معروف ڈائریکٹر شہزاد خلیل کے ساتھ کراچی کا رخ کیا، جہاں سے ان کے فنی سفر نے نئی جہت اختیار کی۔

فنی سفر کا آغاز

بدر خلیل نے 1968ء میں پی ٹی وی پر بچوں کے پروگرام کی میزبانی سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کی اصل پہچان اس وقت بنی جب انہوں نے مشہورِ زمانہ ڈرامے “بی جمالو” میں خود اپنے نام کا کردار نبھایا — یہ ڈرامہ ان کے شوہر شہزاد خلیل نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ اس کے بعد حسینہ معین کے کلاسک ڈرامے “انکہی” میں ان کی اداکاری نے انہیں گھر گھر پہچان دی۔

ازدواجی زندگی اور بچے

بدر خلیل کی شادی ڈائریکٹر شہزاد خلیل سے ہوئی، جو 1989ء میں دل کے دورے سے انتقال کر گئے۔ ان کے دو بیٹے ہیں — عمر خلیل اور ابراہیم خلیل۔ شوہر کی رحلت کے بعد بدر خلیل نے اپنے بچوں کی پرورش کے لیے چھوٹے بڑے ہر کردار کو قبول کیا۔

“تنہائیاں” میں مرینا خان کے ساتھ پہلی رفاقت

بدر خلیل اور مرینا خان نے سب سے پہلے “تنہائیاں” (1985) میں اکٹھے کام کیا، اور تقریباً تین دہائیوں بعد “تنہائیاں نئے سلسلے” (2012) میں دوبارہ اسکرین شیئر کی۔

“دھوپ کنارے” — وہ کلاسک جسے بھلانا ناانصافی ہوگی

بات کریں پاکستانی ڈرامے کی سنہری تاریخ کی، اور “دھوپ کنارے” (1987) کا ذکر نہ ہو، تو یہ واقعی بے انصافی ہوگی۔ یہ حسینہ معین کے قلم اور صاحرہ کاظمی کی ہدایتکاری کا وہ شاہکار ہے جو آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔

اس ڈرامے میں راحت کاظمی نے ڈاکٹر احمر انصاری کا مرکزی کردار نبھایا — ایک سنجیدہ، اصول پسند ڈاکٹر جس کی زندگی اس وقت بدل جاتی ہے جب اس کے مرحوم والد کی وصیت میں ایک انکشاف سامنے آتا ہے۔ مرینا خان نے ڈاکٹر زویا علی خان کا کردار نبھایا — ایک بے فکری مگر نیک دل نوجوان ڈاکٹر، جو احمر کے ہسپتال میں کام کرتی ہے اور دونوں کے درمیان آہستہ آہستہ محبت پروان چڑھتی ہے۔

اور یہیں پر بدر خلیل کا وہ کردار سامنے آتا ہے جس نے کہانی میں دلچسپ رنگ بھرا — ڈاکٹر شینا کرامت۔ شینا بھی احمر کی محبت کی خواہشمند تھی، اور یوں زویا اور شینا کے درمیان ایک خوبصورت، دلچسپ رقابت (نوک جھونک) نے کہانی کو مزید دلکش بنا دیا۔ ناظرین نے اس مثلث کو بے حد پسند کیا، اور یہی رقابت “دھوپ کنارے” کی سب سے یادگار خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔

یادگار ڈرامے

بدر خلیل کی فنکارانہ فہرست خاصی طویل ہے، جن میں شامل ہیں:

بی جمالو

انکہی (1982)

تنہائیاں (1985)

دھوپ کنارے (1987) — بطور ڈاکٹر شینا کرامت

ماروی

تنہائیاں نئے سلسلے (2012)

مٹھو اور آپا (2014)

شکوہ (2014)

آجکل کہاں ہیں؟

مختلف رپورٹس کے مطابق بدر خلیل نے اپنی طویل فنی خدمات کے بعد کینیڈا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، جہاں ان کا ایک بیٹا مقیم ہے۔

اختتامیہ

بدر خلیل صرف ایک اداکارہ نہیں، بلکہ پاکستانی ڈرامے کی وہ “ماں” ہیں جس نے لاکھوں گھروں میں اپنی جگہ بنائی — اور “دھوپ کنارے” کی ڈاکٹر شینا کے روپ میں انہوں نے یہ ثابت کیا کہ راقبانہ کردار بھی دل جیت سکتے ہیں۔

آپ کو “تنہائیاں” پسند ہے یا “دھوپ کنارے”؟ کمنٹ میں بتائیں۔

Loading