Daily Roshni News

جموں کشمیرمیں فورسز کاآپریشن:2روز میں سویلین اموات کی تعداد36سے تجاوز

جموں کشمیرمیں فورسز کاآپریشن:2روز میں سویلین اموات کی تعداد36سے تجاوز

راولاکوٹ(حارث قدیر)پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں لانگ مارچ کو روکنے کے لیے فورسز کا آپریشن منگل 28جولائی کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔ دو دنوں میں راولاکوٹ میں کم از کم 34سویلین کے فائرنگ کی زد میں آکر مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ دوسری جانب منگل کو میرپور میں ایک احتجاج پر فورسز کی فائرنگ سے کم از کم دو سویلین جانیں جانے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کم از کم 6افراد کی جان گئی ہے۔

منگل کو مارچ کے شرکاء نے بلدیہ اڈہ، کھڑک روڈ اور ڈی چوک سے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم فورسز کی بھاری تعداد نے تینوں مقامات پر مظاہرین پر فائرنگ اور شیلنگ کر کے ان کا راستہ روکے رکھا۔ فائرنگ اور شیلنگ کا یہ سلسلہ آخری اطلاعات تک رات12بجے تک وقفے وقفے سے جاری تھا۔ اس دوران راولاکوٹ میں منگل کے روز 12سویلین اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تاہم تعداد اس سے زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ادھر پیر کے روز فائرنگ اورشیلنگ کی زد میں آکر مارے جانے والے سویلینز کی تعداد22ہو گئی ہے۔ دو روز کے دوران راولاکوٹ میں 34سویلین افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہو چکی ہے اور میرپور میں دو افراد کی جان جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ دو دنوں میں مجموعی طور پر راولاکوٹ اور میرپور میں اموات کی تعداد36ہو چکی ہے۔دو روز کے دوران 100سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

5جون سے 28جولائی تک اس احتجاج کے دوران فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 81سویلین جانیں جا چکی ہیں۔

منگل کے روز راولاکوٹ میں مارے جانے والوں میں اسامہ جمیل(منگ، سدھنوتی)، رومان محمود(بیروٹہ پاچھیوٹ، راولاکوٹ)، ابرار حسرت(ہورنہ میرہ، راولاکوٹ)، سردار شہباز(ٹاہلیان، سدھنوتی)، قاری عبدالباسط(نڑ کوٹھیاں، تھوراڑ)، جاوید یاسین(منگ، سدھنوتی)، شوکت حیات(متیالمیرہ، راولاکوٹ)، عبدالرزاق ولد اسحاق(دھینگڑوں، منگ)، رضوان اسلم(منگ، سدھنوتی)، محمد عزیز خان(راولاکوٹ)، شہباز مشتاق(کھڑک، راولاکوٹ)، حسام بنارس(دریک، راولاکوٹ) شامل ہیں۔ جبکہ پیر کے روز فائرنگ کی زد میں آکر فرخ عزیز(انیاری، راولاکوٹ) کی جان جانے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔
منگل کے روز میرپور میں بن خرماں کے مقام پر احتجاجی مظاہرے پر فورسز کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں راجہ توقیر عالم(بن خرماں، میرپور)، اور امام مسجد عنایت اللہ(ساکن کھاریاں، جہلم) کی جان چلی گئی ہے۔ تاہم غیر مصدقہ ذرائع سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس فائرنگ کے دوران مجموعی طور پر 6افراد کی جان گئی ہے اور درجنوں زخمی ہیں، لیکن ابھی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر پیر کے روز راولاکوٹ میں فورسز کی فائرنگ سے جان کی بازی ہارنے والوں میں عمر نذیر کشمیری کے چھوٹے بھائی عثمان نذیر(راولاکوٹ)،نعیم بٹ(ساکن کوٹلی)، نثارشاہین(پکھوناڑ، بلوچ)،کاشف یعقوب (راولاکوٹ)، سردار فدا حسین (گڑالہ تراڑکھل)، 6) مزمل اسحاق(علی سوجل)، باسط شاہ (ہجیرہ)، فہیم افضل(چھوٹا گلہ، راولاکوٹ)، کامران مشتاق (ہجیرہ)، زرغام خلیل (دریک راولاکوٹ)، ثاقب حنیف (ریڑھ بن راولاکوٹ)، ثاقب اسحاق (نمب گوارہ،پلندری)، اریل اصغر (تتہ پانی)، عثمان گل (دریک ڈھوک راولاکوٹ)، جفیر پہلوان (پپے ناڑ،تراڑ کھل)، علی حسین(کھڑی شریف)، علی حسین(کھڑی شریف)، خواجہ ابرار لطیف ڈار(خورشید آباد حویلی)،کامران حفیظ(کہوٹہ، حویلی)، سہیل مقبول (بائی بھیکھ، راولاکوٹ)، تابش قیوم(چھوٹا گلہ)، اور فرخ عزیز(انیاری، راولاکوٹ)شامل ہیں۔

دو روز میں راولاکوٹ میں 100سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں، جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ منگل کے روز بھی 50سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ منگل ہسپتال منتقل ہونے والے زخمیوں میں منیر ولد رشید(بلدیہ اڈا، راولاکوٹ)، واجد عارف(دھینگڑوں، منگ)، حیدرضیا ولد امجد(تیتری نوٹ، پونچھ)، رویل زرین، نجیب ولد رزاق(سردی بھالگراں، تھوراڑ)، عبدالفیصل ولد افضل(تھوراڑ)، اعجاز ولد سوالات(منگ)، تیمور پرویز(پتن شیر خان)، امجد شبیر (پتن شیر خان)، افضل مکھن(تھوراڑ)، تیمور فضل(سردی بھالگراں)، عبدالرزاق(کھوئی رٹہ)، منیب (پتن شیر خان)، افضل (سردی بھالگراں)، عاقب طالب (ڈار)، محمد فاروق خان(منگ) اور دیگر شامل ہیں۔

منگل کے روز نیلم سے بھی مارچ کے شرکاء نے مظفرآباد کی طرف بڑھنے کی کوشش کی، جنہیں فورسز نے روک لیا۔ فائرنگ اور شیلنگ کی وجہ سے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کور ممبرخواجہ مجتبیٰ بانڈے بھی گولی لگنے سے زخمی ہو چکے ہیں۔

منگل کے روز کوٹلی کی تحصیلوں کھوئی رٹہ اور چڑھوئی میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور راولاکوٹ میں فورسز کے کریک ڈاؤن اور اموات کی مذمت کی گئی ہے۔

ادھر میرپور ڈویژن میں ہونے والے الیکشن کے حوالے سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ 50فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ رہا ہے اور مسلم لیگ ن نے 13میں سے 9نشستیں جیت لی ہیں۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرن آؤٹ25فیصد سے کم رہا ہے اور جعلی ووٹ ڈال کر مسلم لیگ ن کو فاتح قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان رائٹس موومنٹ کے رہنما سابق سینیٹر مشاق احمد چند افراد کے ہمراہ اسلام آباد سے راولاکوٹ جا رہے تھے، جنہیں پونچھ کے داخلی راستے آزاد پتن پر پولیس نے روک لیے اور انہیں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

فوت ہونے والے نوجوانوں کی میتیں منگل کے روز آبائی علاقوں میں پہنچیں اور وہاں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین کی گئی۔ کچھ میتیں ابھی تک ورثاء تک پہنچانے میں بھی مشکلات کے سامنے کی اطلاعات ہیں۔

Loading