مطالعہ قرآن
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) حال معلوم ) تعداد اس طرح ہے۔ زمین ایک چاند، مریخ دو چاند، نمیچون 14 چاند، یور فیس 27 چاند ، ز حل 62 چاند، مشتری 67 چاند، زہرہ اور عطارد کے گرد کوئی چاند نہیں دیکھا گیا۔
ہمارے نظام شمسی میں مندرجہ بالا کے علاوہ پلوٹو (Pluto)، سیریں (Ceres)، سیکھنے (Makemake) ایرس (Eris) بہاؤ میا (Haumea) بھی سیاروں کی طرح سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں البتہ اپنے چھوٹے حجم کی وجہ سے انہیں سیاروں میں شمار نہیں کیا جاتا۔
اس کائنات میں کئی کہکشائیں Galaxies موجود ہیں۔ ماہرین فلکیات نے ان کہکشاؤں کو مختلف نام دیے ہوئے ہیں۔ ہمارا نظام شمسی کہکشاں Milky Way کا حصہ ہے، اس کہکشاں میں ستاروں کی (صرف ستاروں کی تعداد 200 ارب سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ہماری کہکشاں Milky) Way سے قریب ترین کہکشاں کا نام اینڈرومیڈا Andromeda)ہے۔
ہماری زمین جس نظام شمسی کا حصہ ہے اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی جیٹ طیارے میں 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کیرفتار سے مسلسل سفر کیا جائے تو نظام شمسی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کے لیے ساڑھے تین ہزار سال سے زیادہ وقت لگے گا۔ عالمین کے انتہائی اختصار کے ساتھ اس ذکر کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ الحمد اللہ رب العالمین میں حمد کا مطلب کیا ہے…..
ہم حسین قدرتی مناظر دیکھتے ہیں۔ پہاڑ، دریا، صحرا، سر سبز میدان، جھیلیں، آبشار اور دیگر حسین مناظر دیکھ کر دل و زبان سے بے اختیار خالق کی تعریف بیان ہوتی ہے۔
انسانوں کی بنائی ہوئی چیزوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ ہم کوئی بہت اچھی عمارت دیکھیں، فن مصوری کا کوئی شاہ کار دیکھیں، کوئی ادبی شہ پارہ پڑھیں تو بے اختیار اس کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ جس چیز کی آپ تعریف کر رہے ہوں اس کا کوئی فائدہ بھی آپ کو مل رہا ہو۔ آپ نے ایک بہت اچھی تخلیق دیکھی، آپ نے کہا سبحان اللہ …. ماشاء اللہ
ایک صاحب بہت خوش اخلاق مشہور ہیں لیکن آپ کا ان سے کبھی کوئی واسطہ نہیں پڑا۔ آپ تک ان کی اچھی شہرت پہنچی تو آپ نے بھی ان کی تعریف کی۔ کسی ضرورت کے تحت ان صاحب سے واسطہ پڑا تو وہ آپ کے کام آئے۔ اب آپ ان کی تعریف کرنے کے ساتھ ان کا شکریہ بھی ادا کریں گے۔
کسی کی اچھی صفات کو ، اعلیٰ اوصاف کو بیان کرنا اس کی تعریف کہلاتا ہے۔ کسی سے فیض پایا جائے تو اس کا شکر یہ ادا کیا جاتا ہے۔
ان نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ دیکھیں کہ جب ہم الحمد اللہ کہیں گے تو اس کے کیا معنی ہوں گے….؟
اس کا ایک معنی یہ ہو گا کہ اللہ نے اتنی شاندار کائنات بنائی …. سبحان اللہ ۔ یہ اللہ کی ہی قدرت ہے۔ اللہ ساری کائنات کا خالق ہے اور مالک ہے۔ لیکن …. جب ہم اللہ کی تعریف اس کی کسی صفت کے ساتھ کرتے ہیں مثلاً الحمد اللہ رب العالمین کہتے ہیں تو دراصل اللہ کے نظام سے اپنے استفادے کا اقرار بھی کر رہے ہوتے ہیں۔
رب کا مطلب ہے پالنے والا تو الحمد اللہ رب العالمین کہتے ہوئے دراصل میں اپنے پالنہار ، زندگی گزارنے کے تمام وسائل عطا کرنے والی ہستی اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں۔
اس نکتے کو سامنے رکھتے ہوئے ” الحمد اللہ رب العالمین“ کے معانی تلاش کریں تو یہ کچھ اس طرح سامنے آتے ہیں۔ “اللہ کے لیے حمد اور شکر جو سب عالمین کا رب ہے۔“
واضح رہے کہ کسی کی عطا پر شکر گزار ہو نا محض لفظی شکریہ ادا کرنا نہیں ہوتا بلکہ حقیقی شکر گزاری میں احسان مندی بھی پنہاں ہوتی ہے۔ ہر اچھا شخص کسی کا احسان مند ہو گا تو وہ اس کے سامنے انکساری بھی اختیار کرے گا۔
واضح ہوا کہ کسی سے فیض ملنے پر آدمی اس کا شکر گزار ہوتا ہے۔ شکر گزاری سے احسان مندی اور انکساری بھی منسلک ہیں۔
اللہ نے ہمیں یہ زندگی عطا کی ہے۔ زندگی کو اچھی طرح بسر کرنے کے لیے زمین پر بے انتہا وسائل عطا کیے ہیں۔ ان وسائل کو اچھی طرح برتنے کے لیے عقل عطافرمائی ہے۔ انسان کو اچھائی برائی میں فرق کی سمجھ ودیعت فرمائی۔ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا
سور والشمس (91) : آیت 8]
زندگی کا سفر صحیح راہوں پر گزرے اس کے لیے اللہ نے انبیاء علیہم السلام اور کتابوں کے ذریعے رہنمائی عطافرمائی ہے۔ زندگی کے معاملات، رشتے ناطے، معیشت و معاشرت انسانوں کے لیے آسودگی، خوشی اور سکون کا ذریعہ ہوں اس کے لیے اللہ نے اپنی رحمتیں نازل فرمائی ہیں۔
اللہ تعالی کی نعمتوں کے احساس اور اعتراف کے ساتھ اللہ کی تعریف بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا بند ودل کی گہرائیوں سے اللہ تعالی کا شکر گزار اور احسان مند ہے۔
اس انتہائی مختصر بیان سے ا اسے الحمد اللہ رب العالمين …. کا مفہوم یہ سامنے آیا کہ سب تعریفیں اور بے انتہا شکر اللہ کے لیے ہے، جو کائنات کے ایک ایک رکن کو پال رہا ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2020
![]()

