Daily Roshni News

ریٹینا،پردہِ چشم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ریٹینا (Retina) یا پردہِ چشم ہماری آنکھ کے پچھلے حصے میں موجود ایک انتہائی حساس بائیولوجیکل اسکرین (Biological Screen) ہے، جو کسی بھی ڈیجیٹل کیمرے کے سینسر سے کہیں زیادہ جدید ہے- انسانی آنکھ کا ریٹینا حیرت انگیز طور پر باریک ہوتا ہے- اس کی موٹائی محض 0.05 سے 0.1 ملی میٹر ہوتی ہے، جو کہ انسان کے ایک عام بال کی موٹائی سے بھی کم ہے لیکن اس معمولی سی تہہ کے اندر کروڑوں خلیات (cells) کا پورا ایک نظام کام کر رہا ہوتا ہے- ریٹینا میں موجود 120 ملین (12 کروڑ) راڈ سیلز (Rod Cells) ہماری رات کی بینائی (Night Vision) کے ذمہ دار ہوتے ہیں- یہ خلیات روشنی کے لیے انتہائی حساس ہوتے ہیں اور ہمیں اندھیرے یا مدہم روشنی میں دیکھنے کے قابل بناتے ہیں- یہ رنگوں کی پہچان نہیں کرتے بلکہ صرف سیاہ، سفید اور سرمئی (Grey) رنگوں کا احساس دلاتے ہیں- ریٹینا میں موجود 6 ملین (60 لاکھ) کون سیلز (Cone Cells) ہماری دن کی بینائی اور رنگوں کو دیکھنے کی صلاحیت کے ذمہ دار ہوتے ہیں- یہ خلیات تیز روشنی میں کام کرتے ہیں اور ہمیں چیزوں کو بالکل صاف (Sharp) اور باریکی کے ساتھ دیکھنے میں مدد دیتے ہیں- یہ بنیادی طور پر تین رنگوں (سرخ، ہرا اور نیلا) کو محسوس کرتے ہیں اور انہی کے ملاپ سے ہم دنیا کے لاکھوں رنگ دیکھ پاتے ہیں- جب روشنی ہماری آنکھ کے لینس سے گزر کر ریٹینا پر پڑتی ہے تو یہ کروڑوں راڈ سیلز (Rod Cells) اور کون سیلز (Cone Cells) اس روشنی کو فوراً برقی سگنلز (Electrical Signals) میں تبدیل کر دیتے ہیں- یہ سگنلز بصری رگ (Optic Nerve) کے ذریعے ہمارے دماغ تک پہنچتے ہیں اور دماغ ان کا ترجمہ کر کے ہمیں وہ خوبصورت اور رنگین دنیا دکھاتا ہے، جو ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں-

Loading