کیا تجھے برصیصا کا قصہ یاد نہیں؟
انتخاب ۔۔۔ میاں عاصم محمود
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کیا تجھے برصیصا کا قصہ یاد نہیں؟۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ میاں عاصم محمود)برصیصا بنی اسرائیل کا سب سے بڑا عابد تھا، 70 سال تک ایک حجرے میں تنہا عبادت کی۔ شیطان اسے براہِ راست گمراہ نہ کر سکا تو اس نے اپنے چیلے شیطانوں کو جمع کیا اور کہا “کون ہے جو اسے گمراہ کرے؟” ایک خبیث شیطان نے کہا میں اسے گمراہ کروں گا۔
شیطان کا 6 قدموں والا جال:
-
ایک حسین و جمیل عورت کو اس کے بھائیوں کے ذریعے برصیصا کے پاس امانت کے طور پر چھوڑا گیا کہ وہ جہاد پر جا رہے ہیں۔
برصیصا نے کہا “حجرے سے باہر خیمے میں ٹھہرا دو”
-
شیطان نے وسوسہ ڈالا “تو اتنا بڑا عابد، اس اکیلی عورت کو باہر چھوڑ دیا، اندر بلا لو، کھانا دروازے پر رکھنے کے بجائے اندر دے آیا کرو، ثواب ہوگا”
-
پھر کہا “بے چاری دن بھر اکیلی بور ہوتی ہے، کچھ حال احوال ہی پوچھ لیا کرو”
-
پھر تنہائی میں بات چیت، پھر ہنسی مذاق، یہاں تک کہ وہ عابد جو 70 سال سجدوں میں رویا تھا، زنا میں مبتلا ہو گیا۔
-
عورت حاملہ ہو گئی۔ شیطان پھر آیا “اب تیری 70 سالہ عبادت، عزت، سب ختم۔ لوگ کیا کہیں گے؟ اسے قتل کر دے”
اس نے قتل کر کے اسی حجرے میں دفن کر دیا۔
-
جب بھائی واپس آئے تو اس نے جھوٹا بہانہ بنا دیا کہ وہ بیمار ہو کر مر گئی۔ رات کو شیطان ان بھائیوں کے خواب میں آیا اور سارا سچ، قبر کی جگہ سمیت بتا دیا۔ انہوں نے جا کر قبر کھودی، بادشاہ کو بتایا، برصیصا کو گرفتار کر کے سولی پر لٹکا دیا گیا۔
آخری وار:
جب سولی ہونے لگی تو شیطان انسانی شکل میں آیا اور کہا:
“مجھے ایک سجدہ کر لے، میں تجھے اس قوم سے بچا لوں گا”
برصیصا نے موت کے خوف سے سجدہ کر لیا، اور اسی لمحے کافر ہو کر مر گیا۔ شیطان نے کہا:
اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ
اور یہی وہ لمحہ تھا جس پر اللہ نے قرآن نازل فرما دیا:
كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ: “شیطان کی مثال جیسے اس نے انسان سے کہا کفر کر، پھر جب وہ کفر کر بیٹھا تو کہنے لگا میں تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں”
[سورۃ الحشر، آیت 16]
حوالہ جات کتب سے:
-
تفسیر ابن کثیر (سورۃ الحشر آیت 16 کی تفسیر میں امام ابن کثیر نے یہ پورا قصہ تفصیل سے نقل کیا ہے) 2. تلبیسِ ابلیس – امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس قصے کو شیطان کے ہتھکنڈوں کی سب سے بڑی مثال کے طور پر بیان کیا ہے 3. قصص الانبیاء
![]()

