Daily Roshni News

استخارہ۔۔قسط نمبر2

استخارہ

قسط نمبر2

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔استخارہ )فَإِن رَأَيْتَ فِي فُلَالَةِ وَتُسَيِّيهَا بِاسْمِهَا) خَيرًا لي في دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتي فَاقْدُرْهَا لي وَإِن كَانَ غَيْرُهَا خَيْرًا فِي مِنْهَا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَنِي فَاقْضِ فِي ذَلِكَ

اے اللہ توہی قادر ہے اور میں تو کسی چیز پر بھی قادر نہیں ہوں اور تو سب کچھ جانتا ہے اور میں کچھ نہیں جانتا بے شک تو ہی غیب کی باتوں کو خوب جانتا ہے پس فلاں لڑکی یا لڑکے کا نام لیں) میں میرے لیے میرے دین کے اعتبار سے دنیا اور آخرت کے اعتبار سے بہتری ہو تو اس کو میرے لیے مقدر فرمادے اور اگر اس کے علاوہ اور کوئی میرے حق میں میرے دین کے اور آخرت کے اعتبار سے اس سے بہتر ہو تو اس کو میرے لیے مقدر فرمادے“۔ [مسند احمد بمستدرک حاکم ] بعض اوقات انسان کو جلد اور فوری فیصلہ کر نا پڑتا ہے، ایسے موقع کے لیے ایک مختصر مسنون دعا ہے۔

 اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَالْحتَولِي

“اے اللہ ! میرے لیے آپ پسند فرماد بیے ، میرے لیے آپ انتخاب فرمادیجیے ۔ [کنز العمال، ترندی] مزید مسنون دعائیں یہ ہیں۔

اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِحْنِ وَأَعِذْنِي مِنْ هَرَ نَفْسِي “اے اللہ ! مجھے ہدایت فرمائیے اور مجھے سیدھے

راستے پر رکھیے۔ میرے نفس کو شر سے محفوظ رکھیے۔“ (ترمذی، مسند احمد، صحیح مسلم]

اللَّهُمَ الْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعِلُ فِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي ے اللہ ! جو صحیح راستہ ہے وہ میرے دل پر

القا فر ماد بیجیے۔ اور میرے نفس کی برائی سے مجھے پناہ میں رکھیے۔“ (تربندی]

اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَزْهَدِ مْرِي ”اے اللہ اور میرے نفس کی برائی سے مجھے پناہ

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے اپنی کتاب روحانی علاج ” میں استخارے کا درج ذیل طریقہ تحریر فرمایا ہے۔ جس کی اجازت عام ہے۔

اول و آخر ایک ایک مرتبہ درود خضری صلى الله على حبيبه محمد وسلم کے ساتھ اکیس مرتبہ یہ پڑھیں ۔افتح افتح افتح

يا بديع العجائب با الخيرياً بديع

 اور دائیں کروٹ پر چہرے کے نیچے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی رکھ کر سو جائیں۔ سوتے وقت جو بات معلوم کرنی ہو ذہن میں دہرائیں۔ تین روز تک یہ عمل کریں۔ اس کے علاوہ ایک اور طریقہ کتاب “روحانی نماز“ میں تحریر ہے کہ

اگر کسی کام کے لیے استخارہ کرنا چاہیں تو اول وقت عشاء کی نماز پڑھ کر گیارہ سومر تبہ

يَا خَبِيرُ اخْبِرْنِي

پڑھیں اور بات کئے بغیر کان کے نیچے ہاتھ رکھ کر سیدھی کروٹ سو جائیں۔ ان شاء اللہ خواب میں معلومات حاصل ہو جائیں گی۔

دے اور میرے کام کے صحیح طریقے کا میرے لیے فیصلہ کر دیجیے“ [مسند احمد ]

الغرض استفار واللہ تعالی سے خیر مانگنے اور بھلائی طلب کرنے کا ایک مسنون ذریعہ ہے۔

استخارے کے اشارے

یہ سوال لوگ اکثر کرتے ہیں کہ استخارے کے دوران نظر آنے والے خواب سے مسئلے کا حل کس طرح معلوم ہو ….؟

استخارے کے دوران انکشافات کئی طرح سے ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ خواب میں واضح طور پر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے جس میں مزید وضاحت کی ما مزید وضاحت کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

مثلاً ایک صاحب پر کسی نے جھوٹا کیس کر دیا۔ پیشی کی تاریخ سے پہلے وہ صاحب بہت اسٹریس میں تھے۔ انہوں نے استخارہ کیا تو خواب میں دیکھا کہ ایک خونخوار شیر ان پر حملہ کرتا ہے وہ صاحب شیر کے حملے سے کی جاتے ہیں وہ شیر پلٹ کر آتا ہے اور دوسرا حملہ کرتا ہے مگر یہ حملہ بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ تیسرے حملے میں شیر ایک پنجرے میں بند ہو جاتا ہے۔

وہ صاحب جب اٹھے تو بہت مطمئن تھے۔ اس خواب کو انہوں نے اپنی کامیابی کی بشارت سمجھا۔ وہ صاحب مقدمہ جیت گئے۔ دشمن نے ان پر دوسرا جھوٹا کیس کیا اس سے بھی وہ بری ہو گئے اس نے تیسرا کیس بھی کر دیا۔ اس کیس سے بری ہونے کے بعد ان صاحب نے دشمن پر ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا چنانچہ اس بد خواہ کو جیل کی ہوا کھانی پڑی۔

دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ خواب میں تو کوئی خاص اشارہ نہیں ملا لیکن بیدار ہوتے ہی خیال آیا کہ اس کا حل یہ ہے یا گردو چوائس موجود ہوں تو ان میں سے کسی ایک چوائس پر آدمی کا دل مطمئن ہو جاتا ہے۔ بعض بزرگوں سے منقول ہے کہ خواب میں سفید یا سبز رنگ نظر آنا ہاں کی علامت ہوتی ہے۔ سرخ و سیاور نگ نظر آئے تو نہ کی علامت ہوتی ہے۔ تا ہم خواب میں رنگ نظر آنا کوئی ضروری نہیں ہے۔ استخارہ کرنے والے مختلف افراد کو استخارے کے خوابوں کے علیحدہ علیحدہ انداز میں اشارے مل سکتے ہیں۔ اس لیے کسی بزرگ سے جو آپ کے احوال و کیفیات سے واقف ہو ذکر کر نا مناسب ہے۔ تاکہ وہ اشارات کو صحیح سمجھ کر آپ کی رہنمائی کر سکیں۔

استخارہ، کب اور کیسے

موجودہ دور میں ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات وغیرہ میں استخارے کے نام کو بہت زیاد واستعمال کیا گیا ہے۔ استگار و در اصل خود کرنے کا عمل ہے۔ استخارے میں کوئی خواب نظر آنا بھی ضروری نہیں بلکہ اللہ سے خیر طلب کر کے دل کا اطمینان کافی ہے۔ اگر دل مطمئن نہیں ہورہا یا بات سمجھ نہیں آرہی تو آپس میں مشورہ کرنا چاہیے۔ البتہ اگر کوئی معتبر شخص عالم با عمل آپ کے حالات سے واقف آپ سے دلی تعلق رکھنے والا یا آپ کے رشتے داروں میں سے آپ کا ہمدرد آپ کیلیے استخارہ کر دے تو اور بات ہے۔

استخارہ خود کرنا بہتر ہے۔ استخارہ ایک مرتبہ سے لے کر کئی مرتبہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا دل ایک مرتبہ کے بعد ہی کسی ایک فیصلے پر جم جاتا ہے جبکہ بعض لوگوں کو بار بار طلب خیر کے بعد بھی دلجمعی حاصل نہیں ہو پاتی۔

بعض لوگ یہ پوچھتے بھی نظر آتے ہیں کہ استخارہ کتنی راتوں تک کیا جائے؟

اس کے لیے عموما تین، سات یا گیارہ راتیں تک بتائی جاتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پہلی ہی کوشش میں گوہر مقصود ہاتھ آجائے اور ممکن ہے رات کے حواس تک رسائی کے لیے کئی کوششیں کرنی پڑیں۔ یہ آدمی کی توجہ اور انہماک پر مبنی ہے۔

استخارہ کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ البتہ سونے سے قبل استخارہ کی نماز پڑھنا بہتر ہے ۔ استخارہ کی برکت سے انشراح صدر ہوتا ہے۔ دل کسی ایک طرف مائل ہو جاتا ہے۔ کسی معاملہ میں قلبی میلان نہ ہو تو سات دن تک استخارہ کرنا بہتر ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر2022

Loading