Daily Roshni News

حماس کے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے تک غزہ سے فوج کا انخلا ممکن نہیں: اسرائیل

دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ وہ اپنے بھاری ہتھیار صرف اس صورت میں حوالے کرے گی جب اسرائیل غزہ میں ہر قسم کی جارحیت ختم کرے اور اپنی تمام افواج واپس بلا لے۔

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے مکمل غیر مسلح ہونے کے معاہدے تک پہنچ گیا ہے۔

کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ معاہدے پر اسرائیل بہت خوش ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا، تاہم اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اس مسودے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔

یہ معاہدہ امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں پیش کیے گئے 20 نکاتی منصوبے میں معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے بورڈ آف پیس کے قیام، حماس کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی افواج کے انخلا اور غزہ کی تعمیرِ نو جیسے نکات شامل تھے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس کے ساتھ طے پانے والی تازہ تجویز پر ان کی اسرائیل کے ساتھ باہمی اعتماد موجود ہے اور حماس کے ہتھیار بورڈ آف پیس کے حوالے کیے جائیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حماس پہلے ہتھیار ڈالے گی یا اسرائیلی فوج پہلے غزہ سے واپس جائے گی، تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتِ حال انتہائی پیچیدہ ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے تاحال اس تازہ تجویز پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔

تاہم ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ حماس کے حقیقی معنوں میں غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) غزہ میں اپنی موجودہ ییلو لائن پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

ییلو لائن غزہ کے اندر وہ حد بندی ہے جہاں گزشتہ سال امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت اسرائیل نے اپنی افواج منتقل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس معاہدے کے مطابق اسرائیل کو عارضی طور پر ییلو لائن کے پیچھے واقع علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنا تھا، جو غزہ کے تقریباً 53 فیصد حصے پر مشتمل ہے، تاہم حالیہ دنوں میں وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے، جبکہ مئی میں کہا تھا کہ ان کی ہدایت 70 فیصد علاقے تک پیش قدمی کی تھی۔

Loading