وہ مرد جنہیں بادشاہوں کے محل میں داخل ہونے کی قیمت اپنی مردانگی سے ادا کرنا پڑتی تھی!
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی تاریخ کے شاہی محلات جتنے شاندار دکھائی دیتے ہیں، ان کی دیواروں کے پیچھے اتنی ہی خوفناک، پراسرار اور دردناک کہانیاں دفن ہیں۔ انہی کہانیوں میں ایک داستان اُن مردوں کی بھی ہے جنہیں جسمانی طور پر خصی کر کے خواجہ سرا بنا دیا جاتا تھا۔
یہ لوگ محض دروازوں پر کھڑے خادم نہیں ہوتے تھے۔ انہیں بادشاہوں کے حرم، شاہی خواتین کے کمروں، خفیہ خزانے اور ایسے رازوں کی نگرانی سونپی جاتی تھی جن کا افشا سلطنت کو ہلا سکتا تھا۔ کئی خواجہ سرا وقت کے ساتھ بادشاہوں کے سب سے قابلِ اعتماد مشیر، چیمبرلین، سفارت کار، جرنیل اور طاقتور سیاسی کھلاڑی بن گئے۔
خواجہ سراؤں کا قدیم ترین تاریخی ذکر دوسری ہزاری قبل مسیح کے سمیری شہر لگاش سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان ہزاروں سال پہلے بھی مخصوص افراد کے جسم کو تبدیل کر کے انہیں اقتدار، مذہب اور شاہی خدمت کے نظام میں استعمال کر رہا تھا۔
عیسائی تاریخ میں بھی خصی ہونے کا تصور ایک مختلف صورت میں سامنے آیا۔ دوسری صدی عیسوی سے حضرت عیسیٰؑ سے منسوب متی 19:12 کے ایک قول کو ترکِ شہوت اور روحانی پاکیزگی کی علامت سمجھا گیا۔ بعض عیسائی خود کو جسمانی نہیں بلکہ مجازی خواجہ سرا کہتے تھے، یعنی ایسے لوگ جنہوں نے مذہب کی خاطر جنسی خواہشات ترک کر دی تھیں۔
لیکن حقیقی خصی کیے جانے کا عمل نہایت خوفناک تھا۔
اکثر متاثرہ شخص کو زبردستی باندھ دیا جاتا۔ چاقو یا استرے جیسے تیز دھار آلے سے خصیے، ان کی تھیلی اور بعض صورتوں میں عضوِ تناسل تک کاٹ دیا جاتا۔ خون روکنے کے لیے حصوں کو پہلے مضبوطی سے باندھا جاتا، جبکہ پیشاب کی نالی میں ایک باریک نلکی ڈال دی جاتی تاکہ زخم بھرنے تک پیشاب خارج ہو سکے۔
نہ جدید بے ہوشی، نہ جراثیم سے پاک آپریشن تھیٹر، نہ محفوظ اینٹی بایوٹکس۔
صرف درد، خون، خوف اور زندہ بچ جانے کی امید!
ہر شخص کو زبردستی خواجہ سرا نہیں بنایا جاتا تھا۔ ویتنام میں بعض مرد شاہی محل میں ملازمت اور طاقت حاصل کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو خصی کرواتے تھے۔ روس کے مذہبی فرقے سکوپتسی کے پیروکار اسے گناہ اور جنسی خواہش سے نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ کچھ لوگ شدید غربت، معاشی دباؤ یا شاہی زندگی کی آسائشوں کی امید میں یہ قدم اٹھاتے تھے۔
مگر بہت سے بدقسمت انسانوں کے لیے خصی ہونا کوئی انتخاب نہیں بلکہ سزا تھی۔
جنگی قیدیوں، غلاموں، مجرموں اور سیاسی مخالفین کو خصی کر کے نہ صرف ان کی نسل ختم کر دی جاتی بلکہ ان کی شناخت، آزادی اور جسم پر اختیار بھی چھین لیا جاتا۔ یوں خصی کرنا محض ایک طبی عمل نہیں بلکہ طاقت، سزا اور سماجی کنٹرول کا ہتھیار بن گیا۔
اس عمل میں زندہ بچ جانے کا امکان ہر جگہ یکساں نہیں تھا۔ چنگ خاندان کے بعض ادوار میں شرحِ اموات تقریباً دو فیصد بتائی گئی، لیکن منگ خاندان کے ابتدائی زمانے اور غلام بنانے کے لیے کیے جانے والے آپریشنز میں یہ شرح بیس فیصد تک پہنچ جاتی تھی۔
یعنی بعض اوقات ہر پانچ میں سے ایک انسان یہ عمل برداشت کرتے ہوئے مر جاتا تھا۔
چین نے دنیا میں سب سے طویل عرصے تک شاہی خواجہ سراؤں کا نظام قائم رکھا۔ تقریباً اٹھارہ سو سال تک خواجہ سرا چینی محلات، انتظامیہ اور دربار کا حصہ رہے۔ آخری معروف شاہی خواجہ سرا سن یاؤٹنگ 1996 میں فوت ہوئے، اور ان کے ساتھ انسانی تاریخ کا ایک انتہائی طویل اور تاریک باب بھی بند ہو گیا۔
خواجہ سرا صرف حرم کے نگہبان نہیں تھے۔ بہت سے افراد اپنی وفاداری، ذہانت، انتظامی صلاحیت، تعلیم اور سیاسی حکمت کے باعث سلطنت کے طاقتور ترین لوگوں میں شامل ہو گئے۔ بادشاہ اکثر ان پر اس لیے اعتماد کرتے تھے کہ ان کی اپنی اولاد یا خاندانی سلطنت قائم کرنے کا امکان کم سمجھا جاتا تھا۔
لیکن یہی قربت بعض اوقات انہیں بادشاہ سے بھی زیادہ طاقتور بنا دیتی تھی۔
چینی تاریخ میں کئی خواجہ سرا ایسے گزرے جنہوں نے وزیروں کی تقرریاں کروائیں، شہزادوں کو تخت تک پہنچایا، مخالفین کو ختم کیا اور پسِ پردہ پوری سلطنت کے فیصلے کیے۔
عام خیال یہ ہے کہ خصی کیے گئے مرد مکمل طور پر غیر جنسی ہو جاتے تھے، مگر تاریخی شواہد اس تصور کو درست ثابت نہیں کرتے۔ بہت سے خواجہ سرا جذباتی اور جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔ بعض ثقافتوں میں انہیں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے پُرکشش سمجھا جاتا تھا۔
سلطنتِ عثمانیہ میں خواجہ سرا حرم کے انتہائی اہم محافظ تھے۔ مغربی سیاحوں اور مصنفین نے انہیں ایک ایسی پراسرار مخلوق کے طور پر پیش کیا جو نہ مکمل مرد تھی نہ عورت۔ حرم، شاہی خواتین اور جنسی اسرار سے قربت کے باعث ان کے متعلق بے شمار مبالغہ آمیز اور شہوانی قصے بھی گھڑے گئے۔
یورپ میں خواجہ سراؤں کی ایک اور حیران کن شکل کاسٹریٹی گلوکاروں کی صورت میں سامنے آئی۔
چھوٹے لڑکوں کو بلوغت سے پہلے خصی کر دیا جاتا تاکہ ان کی آواز ہمیشہ بلند، باریک اور مترنم رہے، جبکہ بالغ جسم کے بڑے پھیپھڑے ان کی آواز کو غیر معمولی طاقت فراہم کرتے۔ یہ بچے گرجا گھروں، شاہی درباروں اور اوپیرا ہاؤسز میں گاتے تھے۔
اٹھارہویں صدی کے آغاز میں صرف ناپولی کے موسیقی کے اداروں میں ہر سال ہزاروں بچوں کو عظیم گلوکار بنانے کے خواب میں خصی کیے جانے کی روایات بیان کی جاتی ہیں۔
ان میں سے چند ستارے بن گئے، دولت کمائی اور پورے یورپ میں مشہور ہوئے۔
لیکن ہزاروں دوسرے بچے؟
وہ نہ مشہور ہوئے، نہ امیر بنے، نہ تاریخ نے ان کے نام محفوظ کیے۔ وہ صرف اپنے والدین کے خواب، غربت یا لالچ کی قیمت اپنے جسم سے ادا کر کے گمنامی میں کھو گئے۔
اس پوری تاریخ کا ایک اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ خصی کیے گئے بعض مرد عام مردوں کے مقابلے میں زیادہ طویل عمر پاتے تھے۔ کوریا کے شاہی خواجہ سراؤں کے تاریخی ریکارڈ کے ایک مطالعے میں ان کی عمر غیر خصی مردوں کے مقابلے میں اوسطاً تقریباً بیس سال زیادہ بتائی گئی۔
ممکنہ طور پر مردانہ ہارمونز کی کمی، کم پُرتشدد زندگی اور شاہی محل میں بہتر خوراک و سہولیات نے ان کی طویل عمر میں کردار ادا کیا۔
مگر سوال یہ ہے:
کیا لمبی زندگی اُس جسمانی اور ذہنی اذیت کا نعم البدل ہو سکتی تھی جس میں ایک انسان سے اس کی مرضی، شناخت، خاندان قائم کرنے کی صلاحیت اور جسم پر اختیار چھین لیا جائے؟
خواجہ سراؤں کی تاریخ صرف جنس یا شاہی حرم کی کہانی نہیں۔
یہ طاقت، غلامی، مذہب، غربت، فن، سیاست اور انسانی جسم پر حکمرانوں کے اختیار کی ایک ایسی داستان ہے جسے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار کے محلات کی سب سے مضبوط بنیادیں اکثر بے آواز انسانوں کے درد پر کھڑی کی گئی تھیں۔
تاریخ دان
![]()

