شباب کی باتیں
جوتشی کوئی الٹ پھیر کا حل ہے کہ نہیں؟
تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔ جوتشی کوئی الٹ پھیر کا حل ہے کہ نہیں؟۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)حضرت انسان بھی عجیب ہے ویسے تو خود اس کے لیے بھی “حیوان ناطق” کا لقب استعمال کیا جاتا ہے اور خدا جانے یہ نام اسے کس “حیوان ظریف” نے دیا تھا، مگر ایک عرصے سے مختلف جانوروں کو سیاست میں گھسیڑ کر اب یہی انسان حشرات الارض کو بھی نہیں بخش رہا۔ بھارت کے نوجوانوں نے دیگر جانوروں کے بعد اب بیچارے “کاکروچوں” پر ہاتھ صاف کرنا اپنا مشغلہ بنا لیا ہے، اور (کاکروچ جنتا پارٹی) کے نام سے ایک احتجاجی تحریک کا آغاز کر کے مودی سرکار کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں۔ جبکہ صورتحال بگڑتے دیکھ کر اور اس تحریک کے خوف سے کہ کہیں ان “کاکروچوں” کا ہاتھ خود مودی جی کے گریبان تک نہ پہنچ جائے، اور ان کو مستعفی ہونے پر مجبور نہ کر دیاجائے، مودی جی نے اپنے ہی وزیر تعلیم کا بلیدان دیتے ہوئے اس سے وزارت تعلیم سے مستعفی ہونے کا کہا، جس کے بعد بھارت کے وزیر تعلیم دھرمندر پردھان نے اپنے استعفے سے کاکروچوں کی احتجاجی تحریک کو لگام ڈالنے کی اپنی سی کوشش تو ضرور کر ڈالی ہے۔ مگر کاکروچوں کی اس احتجاجی تحریک یا موومنٹ کو اب واپس کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ ویسے تو اگرچہ خواتین کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ کاکروچوں سے بہت ڈرتی ہیں اور اگر انہیں کوئی کاکروچ ایک میل دور سے بھی نظر آجاۓ، تو چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں اور جہاں بیٹھی ہوں وہیں ٹانگیں سکیڑ کر بلکہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتی ہیں ( ہم نے بہت احتیاط سے کام لیتے ہوئے ایسے الفاظ لکھنے سے احتراز کیا ہے جو بظاہر تو روزمرہ استعمال میں آتے ہیں مگر خواتین کے حوالے سے ان میں ذم کا پہلو نکلنے کے خدشات، امکانات اور خطرات، کاکروچوں سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں). خواتین اگر گھبراتی ہیں تو کاکروچوں کے علاوہ چوہوں سے بھی ان کی حالت غیر ہو جاتی ہے۔ خیر یہ تو جملہ ہائے معترضہ تھے، جبکہ بھارتی نوجوانوں کی اس نئی بننے والی پارٹی یعنی ‘کاکروچ جنتا پارٹی” نے پورے بی جے پی سرکار اور پردھان منتری نریندر مودی جی کی حالت خواتین سے بھی بدتر کر دی ہے. ویسے اصولی طور پر کسی بھی ملک میں دو دو پردھان منتری تو ہو بھی نہیں سکتے، اس لیے ایک اصلی پردھان منتری یعنی نریندر مودی جی کی موجودگی میں (خواہ نام ہی کے سہی) یعنی دھرمندر پردھان کو مودی جی کیسے برداشت کر سکتے تھے؟ اس لیے جیسے ہی “کاکروچوں” نے تحریک شروع کی، مودی جی نے موقع غنیمت جان کر، نام کے پردھان کو، جو تعلیم کے منتری تھے، اپنی وزارت عظمی’ پر قربان کرتے ہوئے ان کا بلیدان دے دیا، یعنی بقول ایک خاتون شاعرہ کومل جوئیہ
جوتشی کوئی الٹ پھیر کا حل ہے کہ نہیں؟
سب ستارے ہیں نحوست بھرے تعداد سمیت
کالم کے آغاز میں ہم نے حضرت انسان کا تذکرہ کرتے ہوئے پہلے مختلف جانوروں کو سیاست میں گھسیڑنے کی جانب اشارہ کیا تھا۔ اس حوالے سے سب سے بڑی عالمی طاقت – امریکا نے پہل کرتے ہوئے گدھے اور ہاتھی کے انتخابی نشان اپنی سیاسی جماعتوں کے لیے پسند کرنے کی طرح ڈالی، اور ایک سیاسی جماعت ڈیموکریٹ نے اپنا انتخابی نشان گدھا، جبکہ دوسری جماعت یعنی ریپبلکن نے ہاتھی کا نشان چنا تھا۔ اور اب یہ دونوں جماعتیں امریکی انتخابات میں انہی انتخابی نشانات کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں۔
گدھا ہمارے ہاں اگرچہ تحقیر کی نشانی ہے، اس لیے قدیم دور کے ایک شاعر، استاد رامپوری نے بھی کہا تھا کہ
ہم گدھے کو گدھا سمجھتے ہیں
جانے وہ ہم کو کیا سمجھتے ہیں؟
اس حوالے سے ہمارے ہاں روایتی طور پر بہت سی کہانیاں، واقعات اور لطائف بھی مشہور ہیں، جن کا ذکر فی الحال ممکن نہیں کیونکہ کالم اس تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا، البتہ دنیا جانتی ہے کہ اہل مغرب گدھے کو عقلمند جانور سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے انہیں گدھے نے کبھی دولتی رسید نہیں کی ہو اور چونکہ گدھوں کی سواری کے بارے میں بعض انتہائی برگزیدہ شخصیات کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، جبکہ ان کے علاوہ کروسیڈ یعنی صلیبی جنگوں پر مسلمانوں کے خلاف مغربی اقوام اور ممالک کو اکسانے کے لیے اس دور کے ایک پادری نے طویل سفر گدھے پر بیٹھ کر طے کیا تھا۔ اس لیے وہاں گدھے کی عزت کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں مشہور ہے کہ
خر عیسی’ اگر بہ مکہ رود
چوں بیاید ہنوز خراست
باقی جہاں تک ہاتھی کا تعلق ہے ہمارے ہاں تو سفید ہاتھی اور اس کے علاوہ پورس کے ہاتھی بھی تاریخی واقعات کے حوالے سے مشہور ہیں۔ جبکہ قران کریم میں سورہ فیل سے بھی ہاتھیوں کی پسپائی کا ثبوت ملتا ہے۔ جس پر ہمارا اپنا ہی ایک شعر ہے کہ
معجزہ تھا کنکر کا
فیل فیل خاموشی
یہ سب جانتے ہوئے بھی امریکا کی ری پبلکلن پارٹی نے اپنی جماعت کا انتخابی نشان ہاتھی رکھ کر دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ امریکا بہت طاقتور ہے، اگرچہ گزشتہ ایک ڈیڑھ صدی کے دوران امریکا کی طاقت تو دنیا نے ضرور دیکھ لی ہے، مگر وہ دنیا کے لیے سفید ہاتھی ہی ثابت ہوا ہے، مگر اب حالیہ ایران – امریکا مبارزت کے دوران، اپنے مقابلے میں چیونٹی جیسی کمزور مملکت ایران نے، اس کے کان میں گھس کر اسے جس طرح پاگل بنا کر رکھ دیا ہے اس کے بعد امریکا کی حالت شہزاد احمد کے اس شعر کی مانند ہے کہ
رہنے نہ دیا اس نے کسی کام کا مجھے
اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا
رہی بات بھارت کی کاکروچ جنتا پارٹی کی، تو مودی سرکار کی جانب سے نوجوانوں کی اس تنظیم کے آگے، اتنی جلدی گھٹنے ٹیکنے کے بعد اور خود ان نوجوانوں کی اپنی تحریک کو روکنے کی بجائے آگے بڑھانے کے کارن، آئندہ بی جے پی کا کیا حشر ہونے والا ہے؟ جبکہ دوسری جانب ریاست تلنگانہ کے وزیر اور سابق بھارتی کرکٹر محمد اظہر الدین کی مودی سرکار کو اس دھمکی کے بعد کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ نہ رکا تو بھارت کے مسلمان سفید ٹوپیاں پہن کر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ جس کے بعد نہ صرف مسمار شدہ مسجد کی تعمیر نو کے لیے مودی سرکار نے فنڈز جاری کر دیے بلکہ اس کے ہوش بھی ٹھکانے آگئے ہیں۔ گویا مودی سرکار کی سب چالیں الٹی پڑ رہی ہیں۔ اس حوالے سے ہمارا اپنا ہی ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ۔
مشتری برج ہو تو بدھ شدھ ہے
چال الٹی پڑے تو منگل ہے
![]()

