Daily Roshni News

امانت داری او علما کی ذمہ داری

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ایسا گناہ بھی ہے جو تلوار سے نہیں، بلکہ علم چھپانے سے ہوتا ہے؟ جب سچ جاننے والے خاموش ہو جائیں، امانت میں خیانت ہونے لگے، اور اللہ کا دین دنیا کے فائدے کے لیے بدل دیا جائے، تو پوری قوم گمراہی کے اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے۔ سورۂ آلِ عمران کی یہ آیات ہمیں اسی خطرناک انجام سے خبردار کرتی ہیں۔

ماخذ: سورۂ آلِ عمران، آیات 75 تا 80

اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتے ہیں کہ اہلِ کتاب میں دو طرح کے لوگ تھے۔ کچھ ایسے تھے کہ اگر ان کے پاس سونے چاندی کے ڈھیر بھی امانت رکھ دیے جاتے تو وہ پوری دیانت داری کے ساتھ واپس کر دیتے۔ لیکن کچھ ایسے بھی تھے کہ اگر ان کے پاس ایک معمولی سا سکہ بھی امانت رکھا جاتا تو وہ واپس کرنے سے انکار کر دیتے، مگر جب تک ان پر سختی نہ کی جاتی۔

انہوں نے اپنی اس خیانت کو چھپانے کے لیے ایک جھوٹا بہانہ بھی بنا لیا۔ وہ کہتے تھے کہ غیر قوم کے لوگوں کے معاملے میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بات اللہ نے کبھی نہیں فرمائی۔ وہ جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے ایک اصول بیان فرمایا کہ اللہ کے نزدیک عزت صرف اسی کے لیے ہے جو اپنا وعدہ پورا کرے، امانت کی حفاظت کرے اور تقویٰ اختیار کرے۔ بے شک اللہ تعالیٰ متقی لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔

اس کے بعد قرآن ایک اور بہت بڑی خیانت کا پردہ چاک کرتا ہے۔ کچھ لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو دنیا کے معمولی فائدے کے بدلے بیچ دیتے تھے۔ چند سکوں، تھوڑی سی شہرت یا وقتی فائدے کے لیے وہ حق کو بدل دیتے، چھپا دیتے یا لوگوں تک صحیح بات پہنچانے سے گریز کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں سے نہ اللہ بات کرے گا، نہ رحمت کی نظر سے دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔

پھر ایک اور سنگین حقیقت بیان ہوئی۔ کچھ علماء اپنی زبانوں کو کتاب کے الفاظ کے ساتھ اس طرح ملا دیتے تھے کہ سننے والے سمجھتے یہ اللہ کی کتاب ہے، حالانکہ وہ اللہ کا کلام نہیں ہوتا تھا۔ وہ جانتے بوجھتے حق میں ملاوٹ کرتے اور پھر اسے اللہ کی طرف منسوب کر دیتے تھے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ کسی نبی کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ اسے کتاب، حکمت اور نبوت عطا کرے، پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری عبادت کرو۔ انبیائے کرام ہمیشہ یہی تعلیم دیتے ہیں کہ اللہ والے بن جاؤ، کیونکہ تم اللہ کی کتاب سکھاتے بھی ہو اور خود بھی پڑھتے ہو۔ وہ کبھی فرشتوں یا نبیوں کو رب بنانے کا حکم نہیں دیتے۔ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف بلائے، وہ انبیاء کی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔

یہ واقعہ صرف بنی اسرائیل کی تاریخ نہیں، بلکہ ہر دور کے اہلِ علم، ہر امانت دار اور ہر مسلمان کے لیے ایک آئینہ ہے۔ امانت صرف مال کی نہیں ہوتی، علم بھی امانت ہے، حق بات بھی امانت ہے، اور دین کی صحیح تعلیم بھی امانت ہے۔ جب امانت کی حفاظت ہوتی ہے تو معاشرے میں انصاف زندہ رہتا ہے، اور جب امانت میں خیانت شروع ہو جائے تو گمراہی، ظلم اور فساد پھیل جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں امانت دار بننے، حق بات کو بغیر کسی خوف کے بیان کرنے اور اپنے دین کی صحیح حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حق پر ثابت قدم رکھے، تو کمنٹ باکس میں اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں میں سے کوئی ایک مبارک نام، مثلاً “الحق”، ضرور لکھیں، اور اس پیغام کو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

Loading