اسوہ رسول ﷺ
خواجہ شمس الدین عظیمی /ادارہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اسوہ رسول ﷺ۔۔۔ خواجہ شمس الدین عظیمی /ادارہ) آپ ﷺکی تمام انقلابی تعمیری سرگرمیوں کا محرک اللہ کی رضا اور نوع انسانی کے لیے خیر وعافیت کی جستجو تھا۔
رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا جو مقصد تھا یا الفاظ دیگر جو مشن اللہ نے آپ کو دیا، اسے پورا کرنے کی مردم طلب و جستجو تھی۔
ذکرالی میرامونس
عربی لغات کے مطابق ”انس “ کے معنی ہیں مانوس ہونا، تسلی ہونا اور سکون قلب پانا۔ اور مونس انس دینے والے کو کہتے ہیں۔ یہ قول جتنا مختصر ہے، معانی و مطالب میں اتنا ہی وسیع ہے۔
ذکر انہی کے متعلق خود اللہ تعالی فرماتے ہیں: اطمینان قلب، اللہ تعالی کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ مخلوق اور خالق کے درمیان ایک رابطہ اور
اعتماد میر اخزانہ
وثقہ کے معنی کسی چیز پر اعتماد ، بھروسہ اور توکل کرنے کے ہیں، تو کل اور بھروسے سے مراد یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام معاملات اللہ کے سپر د کر دے۔ توکل اور بھر وسہ دراصل ایک خاص تعلق ہے جو بندے اللہ کے درمیان قائم ہے ۔ جس بندے کا اللہ کے ساتھ یہ تعلق قائم ہو جاتا ہے اس کے اندر دنیا کی طمع نہیں ہوتی۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے ” وہ لوگ جو راسخ فی العلم ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں ہمارا ایمان ہے اور اس بات پر یقین ہے کہ ہر چیز ہمارے رب کی طرف سے ہے۔“
اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا اصل اعتماد و بھروسہ اللہ تعالٰی پر ہونا چاہئے۔
فکر مندی میری رفیق
الحزن کے لغوی معنی غم اور فکر مندی کے ہیں، فکر مندی دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک اپنی ذات کے لیے اور دوسری انسانیت کے لیے۔ قرآن مجید، احادیث اور حیات طیبہ سے واضح ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو ساری انسانیت کی فکر تھی۔ آپ ﷺ کا قلب انور پوری انسانیت کیلئے غمخواری اور ہمدردی سے بھر پور تھا۔ رسول اللہ ﷺ انسانیت کیلئے بے لوث ہمدردی اور غم خواری کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بیشک میری مثال اور میری امت کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے آگ جلائی تو حشرات اور پتنگے اس میں کرنے لگے ، پس میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑے ہوئے ہوں ) اور آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں) “ [ صحیح مسلم]
علم میر اہتھیار
دین اسلام میں علم کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی۔ علم کو انبیاء علیہم السلام کی میراث بتایا گیا ہے۔ اس ارشاد میں یہ اہم نکتہ بھی مضمر ہے کہ آپ نے تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ علم کی قوت سے کامیابی حاصل کی۔
صبر میر الباس
صبر کے لغوی معنی روکنے اور سہارنے کے ہیں۔ صبر انسان کو اللہ تعالی سے قریب کر دیتا ہے۔ صبر کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنی تدابیر اور کوششوں کا نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ اپنے ارادے کی نفی کر کے اللہ کو قادر مطلق جان لے اور اپنے کاموں میں تاخیر اور ناکامی پر اللہ تعالی کے ارادے اور فیصلے کا انتظار کرے۔ قدرت کی جانب سے جو کچھ حاصل ہو اس پر راضی ہو جائے۔ صبر کا پورا سسٹم فرمانبرداری کو ذہن میں راسخ کرنے کا پروگرام ہے۔
آپ ﷺ کو اپنے مشن میں قدم قدم شدید دشواریوں اور مصائب کا سامنا رہا لیکن آپ ﷺ نے کبھی کسی قسم کی کمزوری یا خوف خطر کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ شجاعت و مردانگی سے مشکلات کا مقابلہ کیا اور ثابت قدم رہے۔
ایک بات غور طلب ہے کہ یہاں رسول ﷺ نے صبر کو اپنا لباس کہا ہے۔ انسان گرم و سرد موسم سے محفوظ رہنے کے لئے اور اپنے آپ کو تپش اور سرد لہروں سے بچانے کے لئے لباس اختراع کرتا ہے۔ صبر بھی لباس کی طرح انسان کو دشواریوں اور مصائب و آلام سے بچاتا ہے۔ خوشنما لباس پہن کر آدمی اپنے اندر فرحت محسوس کرتا ہے اسی طرح صبر انسان کو سکون اور اطمینان قلب عطا کرتا ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے که بنده راضی بہ رضا ر ہے جو لوگ صابر و شاکر اور مستغنی نہیں ہیں وہ اللہ ۔ اللہ سے دور ہو جاتے ہیں اور اللہ سے دوری سکون و عافیت اور اطمینان قلب سے محرومی ہے۔
رضا میر امال غنیمت
عموما جنگ کے دوران و ضمن کا جو ساز و سامان اور مال و دولت ہاتھ لگے اسے مال غنیمت کہتے ہیں۔ لغوی اعتبار سے عربی زبان میں غنم ، ہر اس شے کو کہا جاتا ہے جو کوشش اور سعی سے حاصل Achieve کی جائے۔
حضور نبی کریمﷺ کے اس ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺکی تمام تر کوششیں اور سعی اس لیے تھیں کہ آپ رضا السی کو پاسکیں۔ کتب حدیث و سیرت النبی مہم شاہد ہیں کہ آپ ﷺ اور آپ میم کے ہر فقا اور اہل و عیال کی زندگی کا ما حاصل فقط رضائے الہی تھا۔ انسان کے لئے سب سے بڑی دولت رضائے الہی کا حصول ہے۔
عجز میر افخر
آپ ﷺ پیغمبر اعظم و نبی آخر بھی تھے اور حکمران بھی، ہادی و مرشد بھی تھے اور معلم و سپہ سالار بھی۔ عظمت انسانی کے بلند ترین مقام محمود پر متمکن ہونے کے باوجود تواضح اور انکساری آپ ﷺ کا وصف خاص تھا۔ آپ میں غرور و تکبر نام کی کوئی چیز نہیں تھی، اپنا کام خود کرتے۔ عام لوگوں میں گھل مل کر رہتے ۔ اس قدر اونچے درجے پر پہنچ کر یہ عاجزی یہ انکساری، یہ آپ کا کمال تھا۔
حضور ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے واسطے ایک درجہ انکساری اختیار کرتا ہے خدا اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔ ایک اور حدیث ہے کہ وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہو گا۔ جامع ترندی]
آپ ﷺ اپنے عجز و انکسار کو اپنا سرمایہ افتخار مجھتے ، اور آپ اس اوصاف حسنہ، عاجزی و انکساری، رحم دلی سے انسان کو اپنا گروید و بنا لیتے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ستمبر 2024
![]()

