سورج کی سطح پر 10 لاکھ کلومیٹر لمبی پلازما دیوار — جدید دوربین نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا
مؤلف۔۔۔ طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ مؤلف۔۔۔ طارق اقبال سوہدروی)سورج بظاہر ایک پرسکون چمکتا ہوا ستارہ دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کی سطح ہر لمحہ انتہائی طاقتور دھماکوں، مقناطیسی میدانوں اور پلازما کی شدید سرگرمیوں سے بھری ہوئی ہے۔ حالیہ مشاہدات میں جدید شمسی دوربینوں نے سورج پر ایک نہایت طویل پلازما فلامنٹ (Solar Filament) ریکارڈ کیا، جس کی لمبائی تقریباً 10 لاکھ کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ اس میں تقریباً 80 زمینیں ایک قطار میں سما سکتی ہیں۔
یہ “پلازما دیوار” دراصل اینٹوں یا چٹانوں کی دیوار نہیں بلکہ سورج کی سطح کے اوپر معلق انتہائی گرم، برقی طور پر چارج شدہ گیس (Plasma) کا ایک عظیم فلامنٹ ہوتا ہے، جسے سورج کے طاقتور مقناطیسی میدان (Magnetic Field) اپنی جگہ پر قائم رکھتے ہیں۔
سائنس دانوں نے اس فلامنٹ کا مشاہدہ NASA کے Solar Dynamics Observatory (SDO)، ESA کے شمسی مشنز، اور دنیا کی جدید شمسی رصدگاہوں، خصوصاً Daniel K. Inouye Solar Telescope (DKIST) کی مدد سے کیا۔ ان آلات نے انتہائی باریک تفصیلات کے ساتھ دکھایا کہ سورج کی سطح پر پلازما کس طرح پیچیدہ مقناطیسی لکیروں کے ساتھ حرکت کرتا ہے۔
پلازما سورج کی چوتھی حالتِ مادہ ہے، جہاں درجہ حرارت لاکھوں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس شدید حرارت پر ایٹم اپنے الیکٹران کھو دیتے ہیں اور برقی چارج رکھنے والے ذرات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی پلازما سورج کی بیشتر سرگرمیوں کی بنیاد ہے۔
جب ایسے عظیم فلامنٹس غیر مستحکم ہو جاتے ہیں تو وہ اچانک پھٹ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں کورونل ماس ایجیکشن (CME) پیدا ہوتی ہے۔ اس عمل کے دوران اربوں ٹن پلازما خلا میں خارج ہو سکتا ہے۔ اگر یہ اخراج زمین کی سمت ہو تو چند دن بعد یہ زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکرا کر جیومیگنیٹک طوفان (Geomagnetic Storm) پیدا کر سکتا ہے۔
ایسے طوفان بعض اوقات سیٹلائٹس، GPS، ریڈیو مواصلات، بجلی کے گرڈ اور خلانوردوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف قطبی علاقوں میں شاندار شفقِ قطبی (Aurora) بھی انہی شمسی طوفانوں کی بدولت پیدا ہوتی ہے۔
سائنس دان ان عظیم فلامنٹس کا مسلسل مطالعہ اس لیے بھی کرتے ہیں تاکہ خلائی موسم (Space Weather) کی بہتر پیش گوئی کی جا سکے۔ مستقبل میں اگر شمسی سرگرمیوں کی درست پیش گوئی ممکن ہو گئی تو زمین پر موجود حساس ٹیکنالوجی کو بروقت محفوظ بنایا جا سکے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سورج اس وقت اپنے تقریباً 11 سالہ شمسی چکر (Solar Cycle) کے فعال مرحلے کے قریب ہے، اسی وجہ سے حالیہ برسوں میں شمسی دھماکوں، فلامنٹس اور پلازما سرگرمیوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔
قرآنِ مجید سورج کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں شمار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾
ترجمہ:
“اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے، یہ غالب اور خوب علم رکھنے والے اللہ کا مقرر کردہ نظام ہے۔”
(سورۃ یٰسین: 38)
یہ آیت سورج کے منظم نظام کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ جدید شمسی سائنس اسی نظام کی مزید گہرائی سے تحقیق کر رہی ہے۔ البتہ یہ کہنا درست نہیں کہ قرآن ان جدید پلازما فلامنٹس یا شمسی طوفانوں کی سائنسی تفصیلات بیان کرتا ہے، بلکہ قرآن انسان کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
ہر نئی شمسی تصویر ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہمارا سورج ایک زندہ اور مسلسل متحرک ستارہ ہے۔ جوں جوں دوربینیں زیادہ طاقتور ہو رہی ہیں، ویسے ویسے اس کے اندر چھپے ہوئے حیرت انگیز راز بھی ایک ایک کر کے ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔
معتبر حوالہ جات
NASA – Solar Dynamics Observatory (SDO): Solar Filaments and Coronal Mass Ejections.
Daniel K. Inouye Solar Telescope (DKIST) – High-Resolution Solar Observations.
European Space Agency (ESA) – Solar Orbiter Mission.
The Astrophysical Journal – Solar Magnetic Fields and Filament Dynamics.
NOAA Space Weather Prediction Center – Solar Activity and Geomagnetic Storms.
ہیش ٹیگز
#سورج #SolarFilament #SpaceWeather #NASA #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں
![]()

