Daily Roshni News

حدود  ضرور بنائیں… مگر دین، عدل اور اخلاق کی روشنی میں۔

حدود  ضرور بنائیں… مگر دین، عدل اور اخلاق کی روشنی میں۔
آج کل “Boundaries” ایک مقبول اصطلاح بن چکی ہے۔ ہر طرف یہی سننے کو ملتا ہے کہ اپنی حدود مقرر کریں، اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھیں اور کسی کو اپنے سکون پر حاوی نہ ہونے دیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ اسلام بھی ظلم سہنے یا کسی کو اپنے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
لیکن افسوس کہ اس خوبصورت تصور کو بعض اوقات غلط انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
کچھ لوگ چند تلخ تجربات کے بعد اپنے گرد ایسی دیواریں کھڑی کر لیتے ہیں کہ ہر مخلص انسان بھی انہیں مشکوک لگنے لگتا ہے۔ وہ محبت، خلوص، خیرخواہی اور تعلق نبھانے والے لوگوں کو بھی دور دھکیل دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے بدتمیزی کو خودداری، بے حسی کو ذہنی سکون، اور خود غرضی کو “Boundaries” کا نام دے دیا جاتا ہے۔
یاد رکھیے! ہر “نہیں” خودداری نہیں ہوتی، اور ہر قربانی کمزوری بھی نہیں ہوتی۔
اسلام نے ہمیں اعتدال سکھایا ہے۔ نہ کسی کا ناجائز فائدہ اٹھانا جائز ہے، نہ کسی کے خلوص، محبت اور ایثار کی توہین کرنا۔ بہترین حدود وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے مقرر فرمائی ہیں، جہاں اپنے حقوق بھی محفوظ رہتے ہیں اور دوسروں کے حقوق بھی ادا ہوتے ہیں۔
اگر ہماری حدود ہمیں تکبر، قطع رحمی، ناشکری، بدخلقی یا احساسِ برتری تک لے جائیں تو یہ حدود نہیں، بلکہ رویّے (Attitude) کا مسئلہ ہے۔
رشتے دیواریں کھڑی کرنے سے نہیں، انصاف، حسنِ اخلاق، اعتماد اور باہمی احترام سے قائم رہتے ہیں۔
حدود ضرور قائم کریں، مگر اتنی نہیں کہ محبت، اخلاص اور انسانیت ہی قید ہو جائے۔

Loading