بسم اللہ الرحمن الرحیم
صحف، کتب اور زبر حصہ سوم
زُبُر — قرآن کے ایک عظیم لفظ کی حقیقت
ایک ایسا لفظ… جسے اکثر لوگ صرف “زبور” سمجھ لیتے ہیں
قرآن مجید کی ایک خوبصورتی یہ ہے کہ اس کا ہر لفظ اپنے اندر معنیٰ کی ایک پوری دنیا سموئے ہوئے ہے۔ بعض الفاظ ایسے ہیں جنہیں ہم بار بار پڑھتے ہیں، مگر ان کے اصل مفہوم پر کم غور کرتے ہیں۔ “زُبُر” بھی انہی الفاظ میں سے ایک ہے۔ اکثر لوگ جب “زُبُر” سنتے ہیں تو فوراً حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب *زبور* ذہن میں آ جاتی ہے۔ یہ تصور جزوی طور پر درست ہے، لیکن مکمل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ “زُبُر” اور **”زبور”** کا تعلق ایک ہی مادے سے ضرور ہے، مگر قرآن میں “زُبُر” ہر جگہ حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ اگر ہم اس لفظ کو سمجھے بغیر قرآن کا مطالعہ کریں تو کئی آیات کا اصل حسن نگاہوں سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ اسی لیے اس آخری حصے میں ہم اس لفظ کا *لغوی، قرآنی اور تفسیری* مطالعہ کریں گے۔
“زُبُر” کا لغوی معنی کیا ہے؟
عربی زبان میں *زُبُر* کا مادہ **(ز ب ر)** ہے۔ لغت کی مشہور کتابوں، جیسے *راغب اصفہانی کی “المفردات”، *لسان العرب* اور *تاج العروس* میں اس مادے کے کئی معانی بیان کیے گئے ہیں، جن میں نمایاں یہ ہیں: * لکھنا۔ * مضبوطی سے ثبت کرنا۔
* کسی چیز کو محفوظ انداز میں درج کرنا۔ * مضبوط اور مستحکم تحریر۔ * نوشتہ یا مکتوب۔ اسی مادے سے *زبور* بھی بنا، جس کا مفہوم ہے “لکھی ہوئی الٰہی کتاب”۔ اس لیے لغوی اعتبار سے “زُبُر” کا مفہوم صرف ایک مخصوص کتاب نہیں، بلکہ *لکھی ہوئی مقدس تحریریں یا نوشتے* بھی ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن میں ہر مقام پر اس لفظ کا ترجمہ سیاق کے مطابق کرنا ضروری ہے۔
قرآن میں “زُبُر” کن معانی میں آیا ہے؟
یہاں سے ہماری تحقیق کا اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں “زُبُر” مختلف مقامات پر آیا ہے، اور ہر جگہ اس کا مفہوم ایک جیسا نہیں۔ یہی قرآن کے اعجازِ بیان کا حسن ہے۔
پہلا استعمال: سابقہ آسمانی نوشتے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ سے پہلے بھی رسول آئے، اور ان کے پاس واضح دلائل اور *زُبُر* آئیں۔ یہاں جمہور مفسرین کے نزدیک *زُبُر* سے مراد وہ الٰہی نوشتے ہیں جو مختلف انبیائے کرام علیہم السلام کو عطا کیے گئے تھے۔ یعنی:
* حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحف۔
* حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب۔
* حضرت داؤد علیہ السلام کا زبور۔
* دیگر انبیاء کی آسمانی تحریریں۔
گویا یہاں “زُبُر” ایک جامع لفظ ہے۔
دوسرا استعمال: حضرت داؤد علیہ السلام کا زبور
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ صاف فرماتے ہیں: “اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔” یہاں لفظ واحد آیا ہے: *زبور* یعنی ایک مخصوص کتاب۔ یہ وہ کتاب تھی جو حضرت داؤد علیہ السلام کو عطا کی گئی۔ اس میں اللہ کی حمد، دعا، مناجات، نصیحت، شکر، تسبیح اور روحانی تربیت کے مضامین غالب تھے۔ یہ شریعت کی نئی کتاب نہیں تھی بلکہ دلوں کی اصلاح کی کتاب تھی۔
*تیسرا استعمال: مضبوط تحریریں*
قرآن کی بعض آیات میں “زُبُر” سے مراد صرف آسمانی کتابیں نہیں بلکہ *لکھی ہوئی مضبوط تحریریں* بھی ہیں۔ یہاں لفظ کا اصل لغوی مفہوم سامنے آتا ہے۔ یعنی ایسی تحریریں جو محفوظ ہوں، ثبت ہوں اور جنہیں حوالہ بنایا جا سکے۔ یہ استعمال ہمیں بتاتا ہے کہ قرآن الفاظ کو جامد معنی میں استعمال نہیں کرتا بلکہ سیاق کے مطابق ان کی جہت واضح کرتا ہے۔
کیا زُبُر اور صحف ایک ہی چیز ہیں؟
یہ سوال بہت اہم ہے۔ جواب یہ ہے: *کبھی ہاں… اور کبھی نہیں۔* لغوی اعتبار سے دونوں تحریر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کے اسلوب میں ایک لطیف فرق محسوس ہوتا ہے۔ *صحف* زیادہ تر مقدس صفحات یا ابتدائی آسمانی نوشتوں کے لیے استعمال ہوا۔ جبکہ *زُبُر* ان نوشتوں کی مضبوط، لکھی ہوئی اور محفوظ حیثیت کو نمایاں کرتا ہے۔ گویا اگر “صحف” سے صفحہ ذہن میں آتا ہے تو “زُبُر” سے اس صفحے پر ثبت شدہ الٰہی پیغام نمایاں ہوتا ہے۔ یہ فرق ہمیشہ قطعی نہیں، مگر قرآنی اسلوب میں قابلِ توجہ ضرور ہے۔
کیا زُبُر اور کتاب ایک ہی چیز ہیں؟
یہاں بھی وہی اصول ہے۔ ہر کتاب ایک لکھی ہوئی چیز ہے۔ اس لیے وہ لغوی اعتبار سے “زُبُر” میں شامل ہو سکتی ہے۔ لیکن ہر “زُبُر” لازماً ایک مستقل شریعت والی کتاب نہیں ہوتی۔ “کتاب” زیادہ جامع اور منظم تصور پیش کرتی ہے۔ جبکہ “زُبُر” کبھی صرف نوشتوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ یہ فرق عربی زبان کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
قرآن نے تین الگ الفاظ کیوں استعمال کیے؟
یہ سوال پورے مضمون کا مرکزی نکتہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو ہر جگہ صرف “کتاب” کہہ دیتے۔ یا ہر جگہ “صحف”۔ یا ہر جگہ “زُبُر”۔ لیکن ایسا نہیں کیا۔ کیوں؟ کیونکہ ہر لفظ ایک الگ پہلو بیان کرتا ہے۔ *صحف* ہمارے ذہن میں وحی کے ابتدائی صفحات کا تصور پیدا کرتا ہے۔ *کتاب* ایک مکمل، مرتب اور جامع الٰہی دستور کا تصور دیتا ہے۔ *زُبُر* وحی کے لکھے جانے، محفوظ ہونے اور مضبوط نوشتے ہونے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ یہی قرآن کی بلاغت ہے۔ ہر لفظ اپنے مقام پر سب سے زیادہ موزوں ہے۔
اللہ نے وحی کو لکھوانے کا اہتمام کیوں کیا؟
یہ سوال بھی بہت اہم ہے۔ اگر وحی صرف زبانی رہتی تو کیا ہوتا؟ نسلیں بدل جاتیں۔ الفاظ بدل جاتے۔ لوگ اپنی یادداشت کے مطابق دین بیان کرتے۔ اختلاف بڑھتا جاتا۔ اسی لیے شروع ہی سے اللہ تعالیٰ نے وحی کو محفوظ کرانے کا انتظام فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو الواح عطا ہوئیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو زبور ملی۔ حضرت محمد ﷺ پر جب بھی وحی نازل ہوتی تو آپ فوراً کاتبینِ وحی کو بلاتے اور لکھوا دیتے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں *علم کو محفوظ کرنا بھی عبادت ہے۔*
قرآن کی حفاظت — وحی کا نقطۂ کمال
صحف آئے۔ پھر کتابیں آئیں۔ پھر زُبُر کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن تاریخ نے دیکھا کہ انسان اپنی امانت پوری طرح محفوظ نہ رکھ سکا۔ کہیں الفاظ بدلے۔ کہیں معانی بدلے۔ کہیں خواہشات کو دین پر غالب کر دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب نازل فرمائی۔ اور اس بار فرمایا: “بے شک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔” یہ صرف ایک وعدہ نہیں۔ یہ پوری تاریخِ وحی کا نقطۂ عروج ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہونے والا نور… حضرت نوح علیہ السلام سے گزرا… حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحف تک پہنچا… حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تورات میں جلوہ گر ہوا… حضرت داؤد علیہ السلام کے زبور میں گونجا… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل میں رحمت بنا… اور آخرکار حضرت محمد ﷺ پر قرآن کی صورت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا۔
آج ہمارے لیے اس پورے سفر کا کیا پیغام ہے؟
آج مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتاب نہیں۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ قرآن محفوظ نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ… قرآن ہماری الماری میں ہے… لیکن ہمارے فیصلوں میں نہیں۔ ہمارے موبائل میں ہے… لیکن ہمارے اخلاق میں نہیں۔ ہمارے گھروں میں ہے… لیکن ہماری تجارت میں نہیں۔ ہم اسے ثواب کے لیے پڑھتے ہیں… مگر ہدایت کے لیے کم کھولتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے صرف تلاوت کے لیے نہیں، **تبدیلی** کے لیے نازل فرمایا۔ جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآن سنتے تھے تو وہ صرف الفاظ یاد نہیں کرتے تھے، بلکہ اپنی زندگی بدل دیتے تھے۔ اسی لیے چند ہی برسوں میں وہ دنیا کی سب سے بااخلاق اور سب سے باکردار جماعت بن گئے۔
صحف، کتب اور زُبُر — تین الفاظ، ایک ہی حقیقت
اب اس پورے مضمون کا خلاصہ ایک نظر میں سمجھ لیجیے۔ *صحف* ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ابتدا ہی سے ہدایت دی، اور اپنی پہلی آسمانی نوشتوں کے ذریعے انسان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف بلایا۔ *کتب* ہمیں بتاتی ہیں کہ اللہ نے صرف چند نصیحتیں نہیں بھیجیں، بلکہ مکمل نظامِ زندگی عطا فرمایا، جس میں عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاملات اور عدل سب شامل تھے۔ *زُبُر* ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ وحی صرف کہی نہیں گئی، بلکہ لکھی گئی، محفوظ کی گئی اور نسل در نسل منتقل کی گئی، تاکہ اللہ کا پیغام ضائع نہ ہو۔ اور جب انسان اس امانت کی حفاظت میں کمزور پڑ گیا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب کی حفاظت خود اپنے ذمے لے لی۔
اختتامی پیغام
تاریخِ انسانیت کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید وہ یہ ہوگا: *اللہ تعالیٰ نے کبھی انسان کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا۔* جب انسان بھٹکا… اللہ نے نبی بھیجا۔ جب انسان بھولا… اللہ نے وحی نازل کی۔ جب انسان نے کتاب بدل دی… اللہ نے نئی کتاب عطا فرمائی۔ اور جب وحی کا سلسلہ مکمل ہو گیا… تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کو قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔ اب آسمان سے کوئی نئی کتاب نہیں آئے گی۔ کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ اب ہدایت کا چراغ وہی قرآن ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔
لہٰذا اگر آج بھی کوئی شخص حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحف کی خوشبو، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تورات کا نور، حضرت داؤد علیہ السلام کے زبور کی روحانیت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل کی رحمت اور تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت کو ایک جگہ دیکھنا چاہے، تو اسے کسی اور دروازے پر جانے کی ضرورت نہیں۔
*قرآنِ مجید* ہی وہ آخری، کامل، محفوظ اور زندہ کتاب ہے جس میں سابقہ تمام آسمانی ہدایت کا خلاصہ، تصدیق اور تکمیل جمع کر دی گئی ہے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا، وَنُورَ صُدُورِنَا، وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا. آمین۔
![]()

