Daily Roshni News

ایک سائنسدان نے آسمان سے سوال پوچھا

ہالینڈ(دیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )8 اپریل 1960 کی صبح تھی۔ ویسٹ ورجینیا کے ایک ویران پہاڑی علاقے میں، ایک 30 سالہ ماہرِ فلکیات اپنی ریڈیو ٹیلی سکوپ کے سامنے بیٹھا تھا۔ نام تھا فرینک ڈریک۔ اور جو کام وہ کرنے جا رہا تھا، اس سے پہلے کسی نے سرکاری طور پر کبھی نہیں کیا تھا۔

وہ کائنات کو سن رہا تھا۔

فرینک ڈریک کو یقین تھا کہ اگر کسی دوسرے سیارے پر کوئی تہذیب موجود ہے، تو وہ بھی ریڈیو لہریں استعمال کرتی ہوگی — بالکل ویسے جیسے ہم کرتے ہیں۔ تو کیوں نہ سنا جائے؟

اس نے دو قریبی ستاروں کا انتخاب کیا — Tau Ceti اور Epsilon Eridani۔ دونوں سورج جیسے، دونوں اتنے قریب کہ اگر وہاں کوئی سگنل بھیجے، تو شاید زمین تک پہنچ سکے۔

اس خاموش، پُراسرار تجربے کو اس نے نام دیا: Project Ozma — ایک کہانی کے کردار کے نام پر، جو ایک ایسی سرزمین کی ملکہ تھی جو بہت دور، بہت اجنبی تھی۔ بالکل ویسے ہی جیسے وہ ستارے، جن کی طرف اب دنیا کا کان لگا تھا۔

پہلے کئی دن — خاموشی۔ صرف کائنات کی مستقل، بے معنی سرسراہٹ۔

پھر، ایک دن، ہیڈفون میں ایک آواز ابھری۔

تیز۔ منظم۔ باقاعدہ وقفوں سے دھڑکتی ہوئی۔

ڈریک کا دل رک سا گیا۔ کیا یہ وہی لمحہ تھا؟ کیا انسانیت نے واقعی کسی اور تہذیب کی آواز سن لی تھی — پہلی ہی کوشش میں؟

اس نے ساتھیوں کو بلایا۔ سب خاموش، سب ساکت، سب اس دھڑکتے سگنل کو سنتے رہے جیسے کوئی معجزہ رونما ہو رہا ہو۔

مگر پھر سگنل اچانک غائب ہو گیا۔ اور جب انہوں نے دوبارہ اینٹینا کی سمت بدلی — سگنل پھر بھی وہیں تھا۔

ایک لمحے کے لیے امید مری، پھر دوبارہ جاگی، پھر آخر کار حقیقت سامنے آئی۔

وہ کوئی اجنبی تہذیب نہیں تھی۔

وہ ایک زمینی ہوائی جہاز کی خفیہ فوجی ریڈار ٹرانسمیشن تھی، جو غلطی سے ٹیلی سکوپ کے راستے میں آ گئی تھی۔

مایوسی؟ شاید تھوڑی سی۔ مگر جو چیز اس رات نے واقعی بدلی، وہ کچھ اور تھی۔

اس رات، انسان نے پہلی بار خود سے یہ سوال باقاعدہ، سائنسی انداز میں پوچھا: “کیا کائنات میں ہم اکیلے ہیں؟”

اور اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے، اس نے اپنے کان — کائنات کی طرف موڑ دیے۔

Project Ozma صرف چند ہفتے چلا۔ کوئی اجنبی سگنل نہیں ملا۔ مگر اس چھوٹے سے تجربے نے SETI (Search for Extraterrestrial Intelligence) کی پوری تحریک کو جنم دیا — وہ تحریک جو آج بھی، ساٹھ سال بعد، کائنات کو سنتی ہے۔ خاموشی سے۔ صبر سے۔ امید سے۔

اور شاید سب سے حیران کن بات یہ ہے: اسی فرینک ڈریک نے بعد میں وہ مشہور فارمولا بھی بنایا جو یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ کائنات میں کتنی تہذیبیں ہو سکتی ہیں — Drake Equation۔

ایک آدمی۔ ایک پہاڑی ریڈیو ڈش۔ ایک رات کی خاموشی۔

اور ایک سوال، جو آج تک زندہ ہے۔

اگر آج رات آپ آسمان کی طرف دیکھیں — کیا آپ کو لگتا ہے کوئی، کہیں، اسی لمحے، ہماری طرف کان لگائے بیٹھا ہے؟

اگر آپ کو خلاء کی ایسی کہانیاں پسند ہیں جو کہیں اور نہیں ملتیں — تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔

ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔

Loading