ہر خیر تری سیرت تاباں
سے چلی ہے ۔ ۔۔۔
انتخاب ۔۔۔ چوہدری محمد اصغر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ہر خیر تری سیرت تاباں سے چلی ہے ۔ ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ چوہدری محمد اصغر)مدینہ منورہ کی گلی تھی وہ بچہ بھاگ رہا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم بھاگ رہے تھے حکمران مدینہ منورہ کونین کے والی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ایک گلی میں اس بچے کے ساتھ پکڑن پکڑائی کھیل رہے تھے وقت کیسے بدل جاتا ہےایک وہ بھی گلی تھی جو مدینہ منورہ کی نہیں مکہ مکرمہ کی گلی تھی تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے لخت جگر عبداللہ دنیا سے رخصت ہوئے تھے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم خود نہیں دوڑ رہے تھے بلکہ مکہ مکرمہ میں دوڑنے والا ابولہب تھا وہ خوش تھا بہت خوش تھا ابولہب کہتا جاتا تھا مبارک ہو آج محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی نسل کٹ گئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا لختِ جگر عبداللہ اس دن ان سے رخصت ہوگیا ہے اس دن رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا دل کس قدر چھلنی تھا مگر آج اس عمر میں رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم مدینہ منورہ کی گلی میں اس بچے کے ساتھ کھیل رہے تھے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اپنے بچپن میں یوں کھیل کود نہیں سکے تھے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بابا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ جو اس دنیا میں نہیں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا آنگن بہن بھائیوں سے بھی خالی رہا تھا بچپن
یوں تنہا ہی گزرا تھا جب انسان کی زندگی میں ایک رشتے کی کمی رہ جاتی ہے تو دوسرے رشتوں سے محبت خودبخود شدید ہوجاتی ہے حضرت سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیہاسے شادی کے بعد آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پہلی بار اپنے خاندان کو مکمل ہوتا دیکھ رہے تھے حضرت سیدنا قاسم علیہ السلام حضرت سیدنا عبداللہ علیہ السلام حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا حضرت سیدہ رقیہ سلام اللہ علیہا حضرت سیدہ امِ کلثوم سلام اللہ علیہا اور سب سے لاڈلی چھوٹی بیٹی حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا یہ سب پھول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے دل میں کھلےتھے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا دل کس طور سے کٹا تھا جب بڑے فرزند حضرت سیدنا قاسم علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے جدا ہوئے تھے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم وہ دن کیسے بھول سکتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے چھوٹے نونہال فرزند حضرت سیدنا عبداللہ علیہ السلام بھی شفیق بابا سے دور ہو گئے تھے اس دن امیدوں کی ایک فصل کٹی تھی ابولہب نے اس کٹی فصل پہ کیسے کیسے شعلے سلگائے تھے اب مدینہ منورہ میں وہ دن بھی تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے فرزند حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اکھڑتی ہوئی سانسیں لے رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم انہیں اپنے سینے مبارک سے چمٹائے ان کی سب تکلیفیں اپنے اندر اتار لینا چاہتے تھے کتنے برسوں بعد پروردگار نے پھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو بیٹے سے نوازا تھا آج وہ بیٹا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو چھوڑ کر جانے کو تھاغم کی آندھیاں تھیں کہ زوروں پہ تھیں آنکھ مبارک کے بادل تھے کہ برس برس گئے زبان مبارک پہ یہ الفاظ لرزے آنکھیں رو رہی ہیں دل غمگین ہے مگر زبان سے وہی بات نکالیں گے جس سے رب راضی ہو ورنہ اے بیٹے ابراہیم علیہ السلام تمہاری جدائی سے ہم دلگیر بہت ہوئے
آج مدینہ منورہ میں وہ بچہ بھاگتے ہوئے ہنس رہا تھا رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم بھی مسرور تھے اب وہ بچے کو پکڑ چکے تھے وہ بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا نواسہ حضرت سیدنا امام حسین ابن علی علیہ السلام تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس بچے حضرت سیدنا امام حسین ابن علی علیہ السلام کی ٹھوڑی مبارک کے نیچے رکھا اور دوسرا ہاتھ حضرت سیدنا امام حسین ابن علی علیہ السلام کے سر مبارک کے پیچھے رکھ کر چوم لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا حسین ابن علی علیہ السلام مجھ سے ہے اور میں حسین ابن علی علیہ السلام سے ہوں میری دعا ہے کہ جو حسین ابن علی علیہ السلام سے محبت کرے اللہ تعالی اس سے محبت کرے حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی اولاد سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو کتنی محبت تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم میں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے تو دونوں حضرت سید نا امام حسن علیہ السلام اور حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام تیار ہو کر سرخ لباس پہنے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم میں آئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم منبر شریف سے اترے انہیں تھاما اور ساتھ منبر پر لے گئے اپنی آغوش مبارک میں بھر لیا اور پھر سے خطبہ دینا شروع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو اپنے رب سے کتنی محبت تھی کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اپنے ربِ محبوب سے ملاقات کے لیے کھڑے ہوئے تو نواسی حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کو ڪندھوں پہ اٹھائے کھڑے ہوگئے رکوع میں جانے لگے تو بٹھا دیا کھڑے ہوتے وقت پھر سے اٹھا لیا یوں پوری نماز میں انہیں اٹھاتے بٹھاتے رہے وہ جن صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی نمازوں کے شغف کا عالم یہ تھا کہ رات بھر قیام سے پاؤں متورم ہوجاتے تھے وہ بچوں کے لیے کس قدر حساس تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم خود فرماتے ہیں میں جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ اسے طویل کروں مگر پھر اچانک کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو مختصر کردیتا ہوں کہ اس بچے کی ماں بےچین نہ ہو رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی بچوں کے ساتھ اس محبت کو پورا مدینہ منورہ شہر جان گیا تھاجب ہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم جب بھی کسی غزوہ سے واپس آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے استقبال کے لیے بچوں کو آگے کردیا جاتا تھا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیتے تھے آج بھی دنیا بھر میں سربراہِ مملکت یا عظیم شخصیات کا استقبال بچوں کے ہاتھ میں گلدستے دے کے کیا جاتا ہے خیرمقدم کا یہ انداز دنیا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اور اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے سیکھا ہے
ہر خیر تری سیرتِ تاباں سے چلی ہے
خوشبو کی ہر اک موج گلستاں سے چلی ہے
![]()

