Daily Roshni News

حضرت بابا تاج الدين اولياءؒ۔۔۔ تحریر۔۔۔عانیہ خان۔۔۔قسط نمبر2

حضرت بابا تاج الدين اولياءؒ

تحریر۔۔۔عانیہ خان

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ حضرت بابا تاج الدين اولياءؒ۔۔۔ تحریر۔۔۔عانیہ خان) بلالے رے ! بے چارہ پریشان ہے تاج الدین کسی کو کور و کتا جی۔“

راجہ کے ہمراہ سر بینجمن ننگے پاؤں حجرے میں داخل ہوا ہا باجی نے بڑے اطمینان سے کہا۔ تو کائے کو اتنا خرچہ کیا ….؟ بچی کا ناحق تکلیف دیا۔ بیٹا کو مٹی سنگھاتے رے، اچھے ہو جاتے۔“

کوئی نہ سمجھ سکا کہ بابا صاحب کیا کہہ رہے ہیں۔ دروازے کی جانب سر بنجمن کی میم اور جواں سال بھتیجی کھڑی تھی۔ بابا نے ان کو دیکھا فوراً کھڑے ہو گئے۔ بابا صاحب نے راجہ کی بیگم کو اپنی بیٹی بنارکھا تھا اور اس کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ آجاؤ رے اندر آجاؤ باہر کا ہے کو کھڑے۔۔؟

وہ ان سے مخاطب ہوئے رانی نے ہاتھ جوڑ کر سلام کیا اور ان دونوں نے بھی اس کی تقلید کی پھر رانی اس لڑکی کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھی جس کے آگے بڑھی جس کے سر پر پٹی بندھی تھی۔

بابا اس کے سر میں در در بہتا ہے لندن میں کسی بھی علاج سے فائدہ نہیں ہوا۔ سر بتحمن نے اسے آپ سے دم کرانے کے لیے وہاں سے بلوایا ہے۔“

وہ ایک ہی سانس میں پوری بات کہہ گئی۔ یہ تو پگلا ہے جی بچی کو تکلیف دیا۔ پھر بڑے پیار سے اپنے قریب بٹھایا اور بولے: پریشان نکو ہوتے بیٹی مٹی سونگھ لیتے اچھے ہو جاتے پٹی کھول دیتے ….

شفقت اور مٹھاس بابا صاحب کے لہجے سے پھوٹی پڑتی تھی۔ لڑکی پھر بھی نہ کبھی وہ اردو سے نا آشنا تھی، وہ حیرت بھری نگاہوں سے بابا کو دیکھ رہی تھی۔ کون سی مٹی….؟، رگھوجی نے پوچھا۔ یہ لائے گا جی۔ سڑک کی مٹی لائے گا۔ بچی کو سونگھا دیتے جی ! اچھے ہو جاتے۔“

سر بنجمن را برٹس بابا کی خدمت میں پہلے بھی۔ حاضری دے چکے تھے ، بات سمجھ گئے۔ فور اسٹرک سے تھوڑی سی مٹی اٹھا لائے اور بچی کو سونگھ لینے کی ہدایت کی۔

مٹی کو سو لکھتے ہی بچی کو تین چار چھینکیں آئیں۔ ” بس بیٹی بس اب اچھے ہو گئے۔“ یا با صاحب نے پورے اعتماد سے کہا۔ رانی نے اس کے سر کی پٹی کھولی۔

اور درد سر بالکل غائب ہو گیا ۔ فرط مسرت سے لڑکی کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور وہ تمام سراپا تشکر اور سپاس بنے ہوئے تھے۔ لڑکی کے اشارے پر سر بہمن نے احساس تشکر کے ساتھ ساتھ بابا صاحب کی خدمت میں کثیر رقم پیش کی تو آپ کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ مگر آپ کے الفاظ میں بڑی نرمی تھی۔

تو میری بیٹی ہے! بیٹی باپ کو نذرانہ نہیں باپ بیٹی کو دیتا ہے۔“

یہ کہا اور گاؤ تکیے کے نیچے سے ہاتھ ڈالا اور چند سکے لڑکی کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اس نے خوشی خوشی تحفہ قبول کر لیا اور پھر وہ شاداں و فرحاں رخصت ہو گئے۔

حضرت بابا تاج الدیؒن کی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف تھی۔ ہر وقت حاجت مند آپ کو گھیرے رہتے۔ آپ ہر ایک کے ساتھ شفقت اور ہمدردی سے پیش آتے اور ان کی حاجت روائی فرماتے۔ بلا لحاظ مذہب و ملت ہر قوم کے لوگ آپ کے پاس آتے اور آپ سب پر اپنی توجہ فرماتے۔ ہندوستان کے بڑے مشاہیر کے علاوہ بیرون ملک کے سرکردہ افراد بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مستفیض ہوئے۔

بابا تاج الدین ناگپوری علوم و فیوض کا ایسا سمندر ہیں جس سے ہزاروں لاکھوں افراد اپنے اپنے ظرف کے مطابق فیض یاب ہوئے۔

ناصرف مسلمان بلکہ ہندو، پارسی، عیسائی، سکھ سب دربار تاج الاولیاء میں حاضر ہوتے اور

ظاہری و باطنی ہر قسم کے فیض کے موتی چنتے۔ بابا تاج الدین کے ہاں مروجہ طرزوں میں بیعت و ارشاد کا طریقہ رائج نہ تھا۔ لوگ حاضر ہوتے اور بابا صاحب ” جس کے لیے جو ضروری سمجھتے اس کو تلقین کر دیتے۔ کسی کو کم کھانے کا حکم ہوتا تو کسی سے کہا جاتا کہ خوب کھاؤ۔ کسی کو خلوت نشیں کر دیتے اور کسی کو جلوت میں رہنے کے لیے ارشاد فرماتے۔

بابا تاج الدین کے فیض یافتگان میں سلسلہ عظیمیہ کے امام حضور قلندر بابا اولیاءؒ  بھی شامل ہیں۔ قلندر با بارشتے میں بابا تاج الدین ناگپوری کے نواسے ہیں۔ دوران تعلیم علی گڑھ میں قیام کے دوران قلندر بابا کی طبیعت میں درویشی کی طرف میلان پیدا ہو گیا تھا۔ اسی اثنا میں قلندر بابا اولیاء اپنے نانا تاج الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نانا نے انہیں اپنے پاس روک لیا۔ قلندر بابا اولیاء، بابا تاج الدین کے پاس نو سال مقیم رہے۔ بابا تاج الدین نے نو سال تک ان کی روحانی تربیت فرمائی۔ بابا تاج الدیؒن 35 سال تک مخلوق خدا کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے۔ اس دوران آپ سے کئی کرامات کا ظہور ہوا حضرت بابا تاج الدین ناگپوری نے 17اگست 1925ء مطابق 26 محرم الحرام میں شکر درا کے مقام پر اس فانی دنیا سے پردہ فرمایا اور وہیں پر آپ کا مزار ہے۔ حضرت بابا تاج الدین کے عقیدت مند ہجری اور عیسوی دونوں تاریخوں میں آپ کا عرس مناتے ہیں۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ  ا گست2020

Loading