17 اگست: لیجنڈری اداکارہ شبنم کی 84ویں سالگرہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پاکستان فلم انڈسٹری کی لازوال اداکارہ شبنم آج 17 اگست کو اپنی 84ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔ ان کا اصل نام جھرنا بساک ہے۔ وہ 17 اگست 1942 کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئیں اور 1960، 70 اور 80 کی دہائیوں میں پاکستانی سینما کی صفِ اول کی اداکارہ رہیں۔
شبنم کو پاکستانی فلم انڈسٹری میں متعارف کرانے کا اعزاز اداکار وحید مراد کو حاصل ہے، جنہوں نے 1968 میں اپنی فلم سمندر, میں انہیں مرکزی کردار دیا۔ فلم کی کامیابی محدود رہی لیکن شبنم کے لیے یہ مغربی پاکستان میں ایک شاندار فلمی سفر کا آغاز ثابت ہوئی۔
اس سے قبل شبنم مشرقی پاکستان کی کم بجٹ فلموں چندا، تلاش، آخری اسٹیشن اور درشن میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی تھیں۔ بالخصوص آخری اسٹیشن میں ذہنی طور پر معذور نوجوان خاتون کا کردار ان کی یادگار پرفارمنسز میں شمار ہوتا ہے۔ پوری فلم میں صرف ایک مکالمہ ہونے کے باوجود شبنم نے اس کردار کو اپنی اداکاری سے امر کردیا۔
لاہور منتقل ہونے کے بعد شبنم نے سدھیر، کمال، وحید مراد، محمد علی اور ندیم سمیت اپنے دور کے تقریباً تمام بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ لاڈلہ، عندلیب، دوستی، انمول، آئینہ، پاکیزہ، قربانی، دوریاں، بندش، نہیں ابھی نہیں اور کبھی الوداع نہ کہنا سمیت ان کی متعدد فلمیں باکس آفس پر کامیاب ہوئیں۔
خصوصاً شبنم اور ندیم کی جوڑی پاکستانی فلمی تاریخ کی مقبول ترین جوڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 1979 میں ریلیز ہونے والی آئینہ نے پاکستان میں طویل عرصے تک زیرِ نمائش رہنے والی فلم کا اعزاز حاصل کیا اور تقریباً پانچ سال تک سینما گھروں کی زینت بنی رہی۔
شبنم کا سب سے بڑا اعزاز ان کے نگار ایوارڈز کا ریکارڈ ہے۔ انہیں بہترین اداکارہ کے طور پر 13 نگار ایوارڈز ملے، جو پاکستانی فلمی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ سمجھا جاتا ہے۔
اپنے شاندار کیریئر کے دوران شبنم نے 158 سے زائد فلموں میں کام کیا اور تقریباً تین دہائیوں تک پاکستانی فلم انڈسٹری کی صفِ اول کی اداکارہ رہیں۔
1980 کی دہائی کے اختتام پر شبنم بنگلہ دیش واپس چلی گئیں۔ پاکستان میں ان کی آخری ریلیز ہونے والی فلم اولاد کی قسم تھی، جبکہ بعد ازاں انہوں نے بنگلہ دیش میں بھی چند فلموں میں کام کیا۔
شبنم کی ذاتی زندگی بھی فنونِ لطیفہ سے جڑی رہی۔ انہوں نے 1966 میں معروف موسیقار روبن گھوش سے شادی کی۔ دونوں کا ایک بیٹا رونی گھوش ہے۔ روبن گھوش 13 فروری 2016 کو ڈھاکہ میں انتقال کر گئے۔
شبنم صرف ایک اداکارہ نہیں بلکہ پاکستان کے سنہری فلمی دور کی ایک مکمل علامت ہیں۔ ان کی اداکاری، انداز اور فلمی کردار آج بھی پاکستانی سینما کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔
🎂 شبنم جی کو 84ویں سالگرہ پر میٹرو لائیو ٹی وی کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد!
#Shabnam #PakistaniCinema #Lollywood
@topfans
![]()

