کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی موت کے کیس میں ایک بڑا موڑ سامنے آیا ہے جہاں آج نیوز نے لاش ملنے کے مقام کے قریب کی سب سے اہم سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق دو گھنٹے سترہ منٹ پر محیط اس ویڈیو میں اٹھائیس اور انتیس جولائی کی درمیانی شب کے ایسے مناظر سامنے آئے ہیں جنہوں نے پولیس تفتیش پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس فوٹیج میں نہ صرف مشکوک افراد اور موٹر سائیکلوں کو دیکھا جا سکتا ہے بلکہ لاش ملنے کے مقام کے قریب پولیس موبائل کی موجودگی بھی ثابت ہوئی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں رات تین بج کر پینتیس منٹ سے تین بج کر سینتیس منٹ تک دو مشکوک موٹر سائیکلیں لاش ملنے کی جگہ کے قریب دیکھی گئیں۔ ان میں سے ایک موٹر سائیکل نرسری کے پاس ہیڈ لائٹ کی روشنی تبدیل کرتی نظر آئی۔ بعد ازاں رات چار بج کر پچاس منٹ پر ایک مشکوک شخص کو اسی علاقے میں ٹہلتے ہوئے دیکھا گیا۔
صبح پانچ بج کر آٹھ منٹ پر وہاں موجود پولیس موبائل کی نیلی اور پیلی بتیاں آن ہو گئیں، جس کے بعد صبح پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر ایک باوردی پولیس اہلکار بھی کیمرے میں نظر آیا۔
فوٹیج کے مطابق صبح پانچ بج کر باؤن منٹ پر یہ پولیس موبائل روانہ ہوئی لیکن محض پانچ منٹ بعد یعنی پانچ بج کر ستاون منٹ پر یہی گاڑی رانگ سائیڈ سے واپس آئی اور پھر صفورا چورنگی کی طرف نکل گئی۔
حیران کن بات یہ ہے کہ لاش کے قریب اتنی دیر موجود رہنے والی اس پولیس موبائل اور اس میں سوار اہلکاروں سے تاحال کوئی تفتیش نہیں کی جا سکی ہے۔
دوسری جانب کیس کی سائنسی تفتیش میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ جامعہ کراچی کی کیمیکل ایگزامنیشن لیبارٹری نے قبر کشائی کے دوران حاصل کیے گئے نمونوں کی تجزیاتی رپورٹ پولیس کو فراہم کر دی ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا کی کمر اور سینے کے ساتھ ساتھ اب ان کے دونوں ہاتھوں سے بھی گن شاٹ ریزیڈیو یعنی بارود کے ذرات ملنے کی تصدیق ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہاتھوں پر بارود کے آثار اس بات کا اشارہ ہو سکتے ہیں کہ میر رضا نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی کوشش کی ہو، تاہم اس کی بنیاد پر واقعہ خودکشی ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ حاصل کیے گئے تیرہ نمونوں میں سے نو ضائع ہو چکے ہیں اور صرف چار کا تجزیہ ممکن ہو سکا۔
نمونوں کی لیبارٹری تک منتقلی میں تاخیر اور ان کے ضائع ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈی این اے اور دیگر اہم نمونوں کے لیبارٹری نہ پہنچنے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں اور اس مجرمانہ تاخیر پر متعلقہ تفتیشی افسران کو جواب دینا ہوگا۔
دوسری طرف اس معاملے پر پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تمام نمونے تفتیشی افسر کے حوالے کر دیے گئے تھے اور سیمپلز کو لیبارٹری تک بروقت پہنچانا ان ہی کی ذمہ داری تھی۔
اس حوالے سے کیس کے موجودہ تفتیشی افسر غضنفر علی نے کہا کہ انہیں حال ہی میں تفتیشی کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے اور وہ سابقہ ٹیم میں شامل نہیں تھے، اس لیے وہ نمونوں میں ہونے والی تاخیر پر فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔
واضح رہے کہ میر رضا اٹھائیس جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس کے پاس سے ملی تھی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے خودکشی قرار دینے کی کوشش کی تھی، لیکن اہل خانہ کے اصرار اور عدالت کے حکم پر ہونے والی قبر کشائی و دوسرے پوسٹ مارٹم نے جسم پر تشدد اور چوٹوں کے نشانات ظاہر کر کے کیس کا رخ موڑ دیا۔
فی الوقت کیس میں استعمال ہونے والے اسلحے کی عدم برآمدگی، ضائع ہونے والے ثبوت اور ملوث پولیس اہلکاروں کا تعین تفتیشی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
![]()
