حضرتِ علامہ محمد اقبالؒ ، جناب واصف علی واصفؒ اور فلسفے کے مولوی!
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پاکستان کے جدید ادبی و فکری ترقی پسند حلقوں میں، دانشور کہلانے والے چند حضرات کی کتب اور تحریروں کا نفسیاتی و تجزیاتی مطالعہ، اس حیرت انگیز حقیقت کو بے نقاب کرتا چلا جاتا ہے کہ روایتی مذہب کو مسترد کرکے سائنس … الحاد … مارکسزم … لبرلزم یا سیکولرازم کو اپنانے والے چند افراد… اپنے نفسیاتی رویوں میں کس طرح کی بھونڈی … قدامت پسندی ، مولویانہ قطعیت … عدم برداشت .. فکری Authoritarianism اور اخلاقی برتری کا زعم پوری شدت سے پالے ہوئے ہیں!
ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایسے لوگوں کی ایک کھیپ موجود ہے جو جدید مغربی فلسفے اور مفکرین سے متاثر ہوئی ، ان کی کتب کے مطالعہ اور ترجمہ سے اپنا ایک انٹلکچول ریفرنس پوائنٹ قائم کیا ، مگر ساتھ ہی میں اپنی مقامی علمی و تہذیبی روایت اور دانش کو غیر معتبر ، غیر سائنسی اور اور کمتر شمار کرنے لگے ، گویا ایک احساس کمتری میں مبتلا ہوتے چلے گئے!
ــــــــــــــــ
اپنی لوک دانش اور Epistemology کے ساتھ ایک خاص مخاصمت اور تعصب کا رویہ برتنے کے بعد انہوں نے نہ صرف اپنی قد آور اور ہیرو شخصیات کو باقاعدہ Debunk کرنا شروع کیا بلکہ اسے اک علمی رجحان اور فیشن کے طور پر بھی رواج پذیر کرنے کی کوشش کی!
پچھلے کچھ عرصہ سے جناب علامہ اقبالؒ اور حضرتِ واصف علی واصفؒ ان کے باقاعدہ نشانے پر ہیں۔
ـــــــــــــــــــ
لوک تہذیب و دانش سے خفگی رکھنے والے ان چند بیمار دماغوں کو میں جب بھی دیکھتا ہوں تو ہندوستان میں فلسفہ پڑھانے والے محترم ڈاکٹر وِکاس دیویاکِرتی بہت یاد آنے لگتے ہیں اور اس خطے کی بدقسمتی پر رونے کا دل کرتا ہے جسے علماء و مشائخ تو درکنار ، لبرل و سیکولر اور ملحدین بھی جینوئن نہ مل سکے .. !
ــــــــــــــــــــــ
ڈاکٹر وِکاس ہندوستان میں فلسفہ کے معروف استاد ہیں، وہ بھارت کے سابق سول سرونٹ ہونے کیساتھ ساتھ اپنی تعلیمی خدمات پر متعدد دفعہ ریاستی سطح پر ایوارڈ یافتہ شخصیت ہیں، ان کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ ساری زندگی فلسفہ پڑھنے اور پڑھانے کے بعد بھی “باؤلے” نہیں ہوگئے ، وہ یہ کہہ کر لوگوں کو مذہب سے بیزار نہیں کرتے کہ فلسفہ تمہارے سب سوالوں کا جواب دے گا ، بلکہ ہر پہلی کلاس میں اپنے طلبہ کو بتاتے ہیں کہ
“Welcome to the enlightened ignorance”
شعوری جہالت میں خوش آمدید ۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
ڈاکٹر وِکاس بڑے ہلکے پھلکے انداز میں سمجھاتے ہیں کہ فلسفہ ہمیں ہمارے تمام بڑے سوالوں کے جواب نہیں دیتا بلکہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اگر ہمیں نہیں پتہ تو کسی کو بھی کچھ نہیں پتہ ، وہ تعلیمی طور پر فلسفہ کا ایک مکتب فکر پڑھانے کے بعد اس کا رد پڑھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس میں کیا کیا خامیاں موجود ہیں ، کانٹ ، ڈیکارٹ ، ہیگل اور بڑے مغربی ناموں پر تنقید کرتے ہوئے ان کی ٹانگیں نہیں کانپتی اور نہ ان کو پسینہ آتا ہے۔
ان کی سب سے نمایاں خوبی جو مجھے پسند ہے کہ وہ اپنے خطے کی لوک دانش اور حکمت سے مخاصمت نہیں رکھتے ، بلکہ مغرب کے فلسفیوں کے سامنے اپنے خطے کے بڑے ناموں کی حکمت و دانش کا بھرپور موازنہ کرتے ہوئے ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــ
ایک طالب علم نے جب سوال کیا کہ ہندوستان میں ایسے لوگ آتے رہے ہیں جنہوں نے اپنے پاس گیان اترنے کا دعویٰ کیا ، کسی mystical experience ہونے کی بات کی ، ایسے سنت ، صوفی ، جوگی ، فقیر یا عارف ہوتے رہے جنہوں نے حکمت اور عرفان کی باتیں کیں اور اسے کسی باطنی تجربے سے جوڑا ، اس پر آپ کا نقطہ نظر کیا ہے ۔
چند منٹ کے لئے سوچتا ہوں یہ سوال ہمارے ہاں کے کچھ لوگوں سے کیا جاتا تو وہ اس کا کیا جواب دیتے ، وہ تمام لوگ جو حضرتِ واصف علی واصفؒ کو کبھی قدرت اللہ شہاب ، کبھی ممتاز مفتی ، کبھی اشفاق احمد سے تو کبھی قاسم علی شاہ سے جوڑتے رہتے ہیں وہ اس کا کیا جواب دیتے ۔
ـــــــــــــــــ
ڈاکٹر وِکاس نے دیانتداری سے جواب دیتے ہوئے کہا :
میرے ساتھ کبھی کوئی روحانی یا باطنی تجربہ نہیں ہوا ، تو میں اسے Endorse نہیں کرسکتا ، لیکن کیونکہ ایسا کچھ کبھی میرے ساتھ نہیں ہوا ، اس بنیاد پر میں اسے ریجیکٹ بھی نہیں کرسکتا ۔
ــــــــــــــــــــــــ
ایک ایسا شخص جس نے فلسفہ کا مطالعہ تو کیا مگر اسے فلسفی ہونے کا زعم یا فلسفے کا ہیضہ نہیں ہوا ، اس سے اسی طرح کے جواب کی توقع کی جاسکتی ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــ
مرشد پاک حضرتِ واصف علی واصفؒ کے حوالے سے ان بیمار ذہن لوگوں کے بھونڈے اعتراضات کا بھرپور رد ہم آنے والی اقساط میں آپ کے سامنے پیش کریں گے ، یہ اس حوالے سے کی جانے والی ایک تمہیدی پوسٹ ہے جسے مرشدی کے اس فکر انگیز جملے پر اختتام پذیر کرتے ہیں:
” دنیا کے تمام عظیم لوگ ،
ہمیشہ غیر عظیم زمانوں میں پیدا ہوئے “
ــــــــــــــــــــــــــ
علی شاہ!
۱۵ اگست ۲۰۲۶
![]()

