۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خصوصی کلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسروں کو روشنی دینا نہیں چھوڑتے
انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی
موم بتی نے سوچا تھا
یہ دھاگہ میرا ہے،
میرے اندر ہے،
میرا حصہ ہے،
مگر یہی دھاگہ
آخر میں اسے
راکھ کر گیا۔
سب سے گہرے زخم
باہر سے نہیں آتے،
وہ اندر سے آتے ہیں،
وہ لوگ دیتے ہیں
جنہیں ہم نے
اپنے سینے میں جگہ دی تھی۔
دشمن نے کبھی
اتنا نہیں جلایا
جتنا اپنوں نے جلایا،
کیونکہ دشمن کے وار سے
ہم بچتے ہیں،
اپنوں کے وار کا
گمان بھی نہیں ہوتا۔
موم بتی روشنی دیتی رہی
سب کو،
اور جو اس کے سب سے قریب تھا
وہی اسے
آہستہ آہستہ
پگھلاتا رہا،
یہی المیہ ہے
محبت کرنے والوں کا۔
جو تمہارے راز جانتا ہے
وہی تمہاری کمزوری جانتا ہے،
جو تمہارے قریب ہے
وہی تمہیں چھو سکتا ہے،
اس لیے قریب آنے دو
مگر آنکھیں کھلی رکھو،
کیونکہ موم بتی کا دھاگہ
باہر سے نہیں آیا تھا۔
اندر کی آگ
باہر کی آگ سے
زیادہ خطرناک ہوتی ہے،
باہر کی آگ سے
بھاگا جا سکتا ہے،
اندر کی آگ سے
کہاں جاؤ گے۔
مگر موم بتی کی
سب سے بڑی عظمت یہ ہے
کہ وہ جانتے ہوئے بھی جلتی رہی،
اس نے دھاگے کو
نہیں نکالا،
کیونکہ وہ جانتی تھی
دھاگے کے بغیر
روشنی نہیں ہوتی،
محبت کے بغیر
زندگی نہیں ہوتی،
اور کچھ لوگ
جل کر بھی
دوسروں کو روشنی دینا
نہیں چھوڑتے۔
![]()

