Daily Roshni News

ربیع الاول کا حقیقی پیغام ۔۔۔ تحریر ۔ ڈاکٹر افضل رضوی ( آسٹریلیا )

ربیع الاول کا حقیقی پیغام

تحریر ۔ ڈاکٹر افضل رضوی ( آسٹریلیا )

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ربیع الاول کا حقیقی پیغام ۔۔۔ تحریر ۔ ڈاکٹر افضل رضوی ( آسٹریلیا ))        الحمد  للہِ ربِ العالمین و سلام’‘ علیَ المرسَلین و الصلاۃ السلامُ علیَ عبدِہِ ورسولہِ محمدن المصطفٰی امام الانبیا و خاتم النبین و علیَ آلہِ واصحَبِہِ الطیبین الطاہرین رضوان اللہِ علِیھِم اجمعین-      امابعدفعوذباللہ من النشیطن الرجیم

 o    بسم اللہ الرحمن الرحیمo

      اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہ‘ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰٓاَیُّھَا الَّذِ ینَ ٰامَنُوا صَلُّو ا عَلَیہِ وَ سَلِّمُوا تَسلِمًاo

ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیںاس غیب بتانے والے نبی پراے ایمان والوان پردروداور خوب سلام بھیجو۔

 سورۃ الاحزاب آیت 56

قبل ازیں کہ ہم اپنی بات کو آگے بڑھائیں ، یہ بات نہایت غو رطلب ہے کہ یہ قرآن جس کی آیات ہم تلاوت کرتے ہیں ،یہ کس ذاتِ اعلیٰ صفات نے ہم تک پہنچایا۔ تھوڑا سا تفکر کرنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ ہستی خالقِ کائنات کے محبوب محمد رسول اللہ ﷺکی ہے۔ اور یہ وہ ہستی ہے جس کے لیے کائنات کا تخلیق کرنے والا اپنے فرشتوں کے ساتھ ہمہ وقت اس پر درود و سلام بھیجتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی بد بخت کو یہ موقع ہی نہیں دیا کہ وہ یہ کہہ سکے کہ یہ کہا ں لکھا ہے کہ سرورِ کائنات پر درودِ پاک بھیجا جائے۔ اللہ نے حکماََ فرمادیا:

      اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہ‘ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰٓاَیُّھَا الَّذِ ینَ ٰامَنُوا صَلُّو ا عَلَیہِ وَ سَلِّمُوا تَسلِمًاo

چنانچہ یہ بات ہر کس و ناکس پر عیاںہے کہ جب انسان مجبور و لاچار ہو جاتاہے، جب انسان وحشت کا مقابلہ نہیں کر پاتا، جب انسان بربریت کا شکار ہوجاتا ہے، جب انسان سمندر کی گہرائی اور آسمان کی وسعت سے سے گھبرا جاتاہے، جب انسان اپنے گرد و نواح میں کسی کو نہیں پاتااور جب انسان صحرائوں میں گم ہو جاتا ہے تو وہ صرف اور صرف ایک ہی ہستی کو پکارتا ہے اور وہ ہستی ہے ربِ محمدﷺ کی جو خالق و مالکِ کائنات ہے۔ اور وہ رب، وہ رب ہے جوارشاد فرماتا ہے کہ اے میرے محبوب اگر تجھے دنیا میں مبعوث کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں یہ کائنات ہی تخلیق نہ کرتا گویا آپ ﷺ وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں بھی اپنے رسولِ مقبولﷺ سے انتہا درجہ محبت کرنی چاہیے اور ان سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کے بتائے ہو ئے اصولوں کے مطابق گزاریں۔کیونکہ رب العالمین کا رحمۃاللعالمین کے بارے یہ واضح فرمان ہے: لقد کان لکم فی رسول للہ اسوۃ حسنہ (الاحزاب21)یعنی بے شک رسول اللہ کی زندگی میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اور سورۃ آلِ عمران(21 )میں حکمِ ربانی ہے:

قُل اِن کُنتُم تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِِعُونِی یُحبِِبکُمُ اللّٰہُ وَ یَغفِر لَکُم ذ ُنُو بَکُم ط وَ اللّٰہُ غَفُو ر’‘ رَّ حِیم’‘o

 ترجمہ: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جائو اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

یہ ربیع الاول کا مبارک مہینہ ہے جس میں آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی ﷺاس دنیا میں تشریف لائے یعنی آپ کی پیدائش ہوئی۔اس مہینے میں اہلِ اسلام محافل میلاد اور سیرت النبی کے جلسے منعقد کرتے ہیں اور اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ اللہ کے قانون واحکامات جو نبی ﷺ نے بنی نوع انسان تک پہنچائے ان پر عمل پیرا ہوں گے ۔

      یاد رکھیے! محافلِ میلاد یا سیرت النبی ﷺکے جلسوں کا مقصد صرف اور صرف محبوبِ رب العالمین ﷺ کی سیرت بیان کرنا ہے اور ان مجالس کو محافلِ میلاد کہیے یا محافلِ سیرتِ پاک اس میں کچھ مذائقہ نہیں البتہ ہم سب کو یہ ضرور بضرور معلوم ہو نا چاہیے کہ محافلِ میلاد کا منعقد کرنا سلف صالحین کا طریقہ ہے جن کے ذریعے سے دین ہم تک منتقل ہوا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو۔۔۔

      لفظِ عید عربی اسم مذکر ہے اور اس کے لغوی معنی جو بار بار آئے۔ خوشی کا تہوار۔ مسلمانوں کی خوشی کا تہوار جبکہ لفظ میلاد (می۔لاد) عربی اسم مذکر ہے ۔ جس کے معنی پیدا ہونے کا زمانہ، پیدائش کا وقت یا پیدائش ہے۔اور میلاد النبیﷺ کا مطلب نبی پاک ﷺ کی پیدائش یا پیدائش کا دن ہے اور یہ اسم ظرف زمان ہے۔ (صاحبِ فروز اللغات، ص1332)

یوں عیدِ میلاالنبیﷺ کے معنی ہوئے محمد رسول اللہ کی پیدائش کا دن اور چونکہ یہ دن جب تک یہ دنیا باقی ہے بار بار آئے گا اس لیے اسے عیدِ میلاالنبیﷺ کہا جاتاہے اور کیوں نہ کہا جائے کہ یہ وہ دن ہے جس دن وجہِ تخلیقِ کائنات کے اس دنیا میںآنے سے نبوت و رسالت کاباب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔کہ آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہ آئے گا۔

میلاد شریف کی محافل میں نبی پاک ﷺ کی پیدائش کے واقعات بالخصوص بیان کیے جاتے ہیں ۔اللہ سبحانہُ سورہ ابراہیم کی آیت5 میں ارشاد فرماتاہے: ’’ اور ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جائو۔ اور ان کو اللہ کے دن یاد دلائو۔ اور اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر و شاکر ہیں نشانیاں ہیں‘‘۔

مفسرینِ قرآن کے نزدیک ’ایام اللہ‘ سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو۔ ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کادن، سرکارِ مدینہ سرورِ سینہﷺ کی ولادت کا دن ہے،چنانچہ اس دن کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔اور یہ بات بھی قرآن حکیم سے ثابت ہے کہ اللہ کے فضل اور رحمت سے آپ ہی کی ذاتِ والا صفات مراد ہے۔ جب اللہ سورہ الاحزاب کی آیت 47میں فرماتا ہے کہ:

وَ بَشِّرِِ المُئومِنِینَ بِاَنَّ لَھُم مِّنَ اللّٰہِ فَضلاً کَبِیرًاo  اور مومنین کو خوش خبری سنادو کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔ اور سورہ الانبیا کی آیت 107میں حکم ہوتا ہے کہ:

وَمَآ اَرسَلنٰکَ اِلاَّ رَحمَۃً لِّلعٰلَمِینَo    اور ہم نے آپ کونہیں بھیجا لیکن جہانوں کے لیے رحمت بناکر۔

      بس اسی پر بات ختم  نہیں کردی بلکہ مالکِ کائنات نے سورۃالضحیٰ کی آیت11میں مومنین کو یہ حکم بھی دے دیا کہ  ؛

 وَ اَمَّا بِنِعمَۃِ رَبِّک فَحَدِّثo   اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

            پس آج کے پر آشوب دور میں رسالت مآب ﷺ کی ولادت باسعادت کی خبر نسلِ نو تک پہنچانا ایک بہت بڑا فریضہ ہے کیونکہ بچے کا ذہن کورا کاغذ ہوتا ہے اس پر جو ابتدا میں نقش ہو گیا اس کا اثر آخر عمر تک رہتا ہے۔لہٰذا یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو گاہے گاہے رسولِ پاک ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے متعلق بتاتے رہیں۔

خصائص الکبریٰ کی جلد اول میں امام جلال الدین سیوطی ؒ اور المواہب اللدنیہ میں امام احمدبن محمد قسطلانیؒ

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضر ت آمنہؓ اپنے حمل کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتیں کہ جو حالت دوسری عورتوں کو لاحق ہوتی ہے وہ مجھے لاحق ہوئی ۔میں نے ایک زوردار دھماکا سنا جس سے مجھے خوف آنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ ایک سفید پرندے کے پر نے میرے دل پر مسح کیا ہر ڈر اور درد جو میںپاتی تھی وہ مجھ سے دور ہو گیاپھر میں نے توجہ کی تو میرے لیے سفید رنگ کا مشروب تھا جو میں نے لے لیاتو مجھے بلند پایہ نور حاصل ہوا۔پھر میں نے کچھ عورتوں کو دیکھاجوکھجور کے درخت کی طرح طویل القامت تھیں گویا عبدِ مناف کی بیٹیوں میں سے ہوں ۔ انہوں نے مجھے گھیر رکھا تھا، میں متعجب تھی کہ کوئی میری مدد کرے، ان کو کیسے علم ہو گیا۔اور کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا کہ انہیں لوگوں سے چھپائو۔ حضرت آمنہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ کہ فضا میں کھڑے ہیں۔ان کے ہاتھوں میں چاندی کے لوٹے ہیں۔پھر میں نے پرندوں کا غول دیکھ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے میرے حجرے کو گھیر لیا ۔ان کی چونچیں زمرد کی اور پر یاقوت کے ہیں۔اللہ نے میری آنکھوں سے پردہ ہٹایا تومیں نے زمین کے مغربوں اور مشرقوں کو دیکھ لیا۔ان حالات میں محمدﷺ کی پیدائش ہوئی۔بقول شاعر:

 وہ دن آیا کہ پورے ہوگئے تورات کے وعدے

 خدا نے آج کر دیے ہر بات کے وعدے

 مرادیں بھر کے دامن میں مناجات زبور آئی

 سحر کی روشنی پڑھتی ہوئی آیات نور آئی

 نظر آئی بالآخر معنی انجیل کی صورت

 ودیعت ہوگئی انسان کو تکمیل کی صورت

       البدایہ و النہایہ میں امام ابن کثیر (بصری دمشقی)ابنِ عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ پیدا ہوئے توتمام آسمانوں سے شیاطین روکے گئے آسمانوں کی شہب کے ذریعے سے حفاظت کی گئی ۔آپﷺ پیر کے دن 12/ربیع الاول کو پید ا ہوئے (اکثریت اس پر متفق ہے)جس دن آپﷺ اس دنیا میں تشریف لائے اس روز آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب رات بھر بیت اللہ میں اپنے رب سے دعائیں مانگتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا جب حضور پرنورﷺ کی ولادت کا وقت آیا تو بیت اللہ ہلنے لگا اور بالکل حضرت آمنہؓ کے گھر کی جانب جھک گیا اور تمام بت منہ کے بل گر پڑے۔جب آپ کی ولادت باسعادت کی اطلاع آپ ﷺ کے دادا تک پہنچی تو وہ انہیں اٹھا کر بیت اللہ میں لے گئے اور دعا مانگی۔ ساتویں روز قربانی کی اور قریش کو دعوت دی۔ لوگوں نے پوچھا عبدالمطلب تم نے پوتے کا نام کیا رکھا ہے تو انہوں نے جواب دیا ’محمدﷺ‘ ۔ لوگوں نے کہا آپ نے خاندان کے تمام مروجہ نام چھوڑ کر یہ نام کیو ں منتخب کیا تو انہوں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ میرا بچہ دنیا بھر کی ستائش اور تعریف کا حق دار بنے۔ پھر دستورِ عرب کے مطابق آپ ﷺ کو رضاعت کے لیے حلیمہ سعدیہ کے حوالے کر دیاگیا۔دو سال کے بعد آپ ﷺ کا دودھ چھڑا دیا گیا اور چارسال تک آپﷺ مائی حلیمہ کے ہاں رہے۔ اس دوران ہر چھٹے ماہ وہ آپﷺ کو ان کی والدہ سے ملانے لے آتی تھیں۔ چار سال کے ہوئے تو والدہ محترمہ نے آپﷺ کو اپنے پاس رکھ لیا ؛لیکن ابھی آپﷺ چھ برس کے ہی ہوئے تھے کہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ چنانچہ آپ ﷺ کی پرورش کی ذمہ داری دادا عبدالمطلب نے سنبھال لی۔ عمرِ مبار ک آٹھ سال ہوئی تھی کہ ان کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا اور یوں آپ ﷺ کی تعلیم و تربیت کی سعادت حضرت ابو طالب کے حصے میں آئی۔

       ابن عساکرنے جلہمہ بن عرفطہ سے روایت کی ہے کہ میں مکہ آیا تو وادی میں قحط تھا قریش نے ابو طالب سے درخواست کی کہ ابرِ باراں کے لیے دعا کیجیے۔ابو طالب ایک بچہ ساتھ لے کر برآمد ہوئے۔ بچہ ابرآلود سورج معلوم ہوتا تھا جس سے گھنا بادل ابھی ابھی چھٹا ہو۔ ان کے ساتھ اور بچے بھی تھے۔ ابو طالب نے بچے کی پیٹھ خانہ کعبہ سے لگا دی اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا نہ تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف سے بادل آگئے اور خوب برسے یہاں تک کہ وادی میں سیلاب آگیا اور ہر طرف شادابی نظر آنے لگی اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابو طالب نے آپ ﷺ کی مدح میں کہا تھا:

                        وابیض یُستَسقَی الغمَامُ بوَجھہ

ثِمال الیَتَامٰی عِصمَۃ’‘ للارامِلِ

وہ خوب صورت ہیں ان کے چہرے سے بارش کا فیضان طلب کیا جاتا ہے۔ یتیموں کے ماویٰ اور بیوائوں کے محافظ ہیں۔(الرحیق المختوم ص 88)

      مولانا حالی نے بھی اسی واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے

      وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

      مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

      مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

      وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

      فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ

      یتیموں کا والی ، غلاموں کا مولا

      خطا کار سے در گزر کرنے والا

      بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا

      مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا

      قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

      اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

      اور اک نسخہ ¿ کیمیا ساتھ لایا

       آپ ﷺ نے جوانی میں قدم رکھا تو اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت کرنے لگے۔ آپﷺ کی ایمانداری سارے عرب میں مشہور ہونے لگی چنانچہ مکہ کی ایک نہایت امیر خاتون بی بی خدیجہ ؓنے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آپﷺ اسکے روپے سے تجارت کریں۔ نبی  ¿ ُپاک ﷺ نے یہ بات قبول کرلی اور سامانِ تجارت لے کرشام روانہ ہوئے اس سفر میں بی بی خدیجہؓ کا غلام میسرہ بھی شریکِ سفر ہوا۔ اس مرتبہ منافع پہلے سے کہیں زیادہ ہوا اور میسرہ نے جو خوبیاں سرکارِ دو عالم میں دیکھیں وہ بھی بیان کیں۔ چنانچہ بی بی خدیجہ ؓ نے آپ ﷺ کے کردار سے متاثر ہو کر نکاح کا پیغام بھیجا جو آپ ﷺ نے قبول کرلیا؛ حالانکہ حضرت خدیجہؓ کی عمر اس وقت چالیس سال جب کہ آپ ﷺ کی عمر مبارک پچیس سال تھی۔

      یوں نبی پاک ﷺ کی ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا۔ پھر زندگی میںبہت سے اتار چڑھائو آئے لیکن آپﷺ نے ان کا جواں مردی سے مقابلہ کیا ۔ آپ ﷺ جوانی ہی سے بہت عبادت گذار تھے اکثر غارِ حرا میں عبادت کے لیے تشریف لے جاتے۔ جب آپ ﷺ چالیس سال کے ہوئے تو جبریلِ امین اللہ کے آخری رسول کی طرف وحی لے کر آئے اور کہا ،بشارت قبول فرمائیے آپ ﷺ اللہ کے رسول اور میں جبریلؐ ہوں۔گھر آئے تو  اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓسے کہا کہ میرے اوپر چادر اڑادیجیے۔ جب طبیعیت ذرا سنبھلی تو فرمایا میں ایسے واقعات دیکھتاہوں کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہو گیا ہے۔ اس پر حضرت خدیجہ نے وہ کلمات کہے جو آج تاریخ کا حصہ ہیںعرض کیا آپ ﷺکو کس بات کا ڈر ہو گا کہ آپﷺ اقربا پر شفقت کرتے اور سچ بولتے ہیں۔بیوائوں، یتیموں اور بے کسوں کی دستگیری فرماتے ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت زدوں کی مدد فرماتے ہیں اس لیے اللہ آپ کو کبھی تنہا نہ چھوڑے گا۔ حضرت خدیجہؓ خود بھی تھوڑی پریشان ہوئیں؛ چنانچہ یہ سارا واقعہ عیسائی عالم ورقہ بن نوفل کو سنایا۔ وہ فوراََ بول اٹھاآپ ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں، کاش میں جوان ہوتا اور اس وقت آپﷺ کی خدمت کرتا جب آپ کی قوم آپ کو ہجرت پر مجبور کردیتی۔چند دنوں بعد جبریلِ امین پھر حاضرِ خدمت ہوئے اورکہا پڑھیے اپنے رب کے حکم سے اوریہ آیات آپﷺ کو پڑھائیں:

اِ قرَا بِا سمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَoخَلَقَ الاِ نسَانَ مِن عَلَقo اِقرَ ا وَ رَبُّک الاَکرَمُo الَّذِی عَلَّمَ بِالقَلَمِo عَلَّمَ الاِنسَانَ مَالَم یَعلَمo

 ترجمہ:اے نبی ﷺاپنے پرور دگا ر کا نام لے کر پڑھیے جس نے تمام کائنات کو پیدا کیا۔جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔

       اوریوں وحی کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو تئیس سال تک جاری رہا۔ مختصراََ یہ کہ وادیئ طائف ہو یا مکے کی گلیاں،  شعبِ ابی طالب کا زمانہ ہو یا ہجرتِ مدینہ کا وقت، غارِ ثور کی مشقت ہو یا میدانِ بدرکے حالات ، احد کی اذیت ہو کہ خندق کی تکالیف، خیبر کی فتح ہوکہ مکے میں واپسی ہر ہر موقع پر اللہ رب العزت نے اپنے محبو ب کی رہنمائی و مدد فرمائی۔آپﷺ نے تبلیغ کے جس سلسلے کا آغاز اپنے گھرسے کیا تھا وہ بالآخر مدینہ شریف میں اختتام پذیر ہوا۔

 حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ ، یدِ بیضا داری

آنچہ خوباں، ہمہ دارند،  تو تنہا داری

     اور

 عالمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ

  ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب

 لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب

   گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

       اور آخر میں اس حدیث کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں:

      حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’اللہ تبارک وتعالیٰ کے فاضل گشتی فرشتے ہیں جو مجالس ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں اور جیسے ہی انہیں ذکر کی مجلس ملتی ہے تو وہ اس میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے ایک دوسرے کو ڈھانپ ہوئے آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ انہیں بہت اچھی طرح جانتا ہے۔’’تم لوگ کہا ں سے آئے ہو؟‘‘ وہ جواب دیتے ہیںکہ’’ ہم زمین پر آپ کے بندوں کے پاس سے آرہے ہیںجوکہ آپ کی پاکی اور بڑائی، آپ کی توحید اور آپ کی حمد بیان کرتے ہوئے آپ سے مانگ رہے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے ؟‘‘ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔’’ کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ ‘‘ فرشتے کہتے ہیں کہ’’ اے اللہ دیکھی تو نہیں‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (تم تصور تو کرو)’’ اگر انہوں نے جنت دیکھی ہوتی تو ان کی کیا کیفیت ہوتی؟‘‘فرشتے کہتے ہیں کہ وہ آپ کی پناہ مانگ رہے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کس چیز کی پناہ مانگ رہے تھے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ اے اللہ ! آپ کی آگ سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ دیکھی تو نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ (تم تصور کرو) اگر انہوں نے میری آگ دیکھی ہوتی تو ان کی کیا کیفیت ہوتی! وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ آپ سے استغفار کررہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،’’ میں نے ان کی مغفرت کردی اور جو وہ مانگ رہے تھے ان کو عطا کردیا اور جس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے میں نے ان کو پناہ عطا کردی۔ نبی  ¿اکرم ﷺ نے فرمایا فرشتے عرض کرتے ہیں کہ  ’’ اے اللہ! ان میں فلاں گناہ گار بندہ وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔   حضور ﷺنے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے   ’’ میں نے اسے بھی معاف کر دیا کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا‘‘۔  ]مسلم جلد 6 ص274 حدیث نمبر6839

لہٰذا محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا صرف زبان سے درود و سلام پڑھنا نہیں بلکہ آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ اگر ہم سچائی کو اختیار کریں، کمزوروں پر رحم کریں، پڑوسیوں کا خیال رکھیں، اپنی زبان کو برائی سے محفوظ رکھیں، دوسروں کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، علم کی جستجو جاری رکھیں اور ضرورت مند انسانوں کی مدد کریں تو دراصل ہم اسوہ رسول ﷺ کو اپنی عملی زندگی میں زندہ کررہے ہوں گے۔

رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا یہی پیغام قرآنِ کریم کے اس جامع فرمان کی عملی تفسیر ہے:

 “بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔”

      پس ربیع الاول کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ ہم محبتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنے کردار، اپنے معاملات، اپنی معاشرت، اپنی تعلیم و تربیت اور اپنی خدمتِ انسانیت کے ذریعے ثابت کریں۔ یہی سیرتِ طیبہ کا زندہ پیغام اور یہی اسوہ

حسنہ کی اصل روح ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ü لقد کان لکم فی رسول للہ اسوۃ حسنہ  Û

ڈاکٹرافضل رضوی۔آسٹریلیا

         الحمد  للہِ ربِ العالمین و سلام’‘ علیَ المرسَلین و الصلاۃ السلامُ علیَ عبدِہِ ورسولہِ محمد ن المصطفٰی امام الانبیا و خاتم النبین و علیَ آلہِ واصحَبِہِ الطیبین الطاہرین رضوان اللہِ علِیھِم اجمعین-      امابعدفعوذباللہ من النشیطن الرجیم  o    بسم اللہ الرحمن الرحیمo

      اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہ‘ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰٓاَیُّھَا الَّذِ ینَ ٰامَنُوا صَلُّو ا عَلَیہِ وَ سَلِّمُوا تَسلِمًاo

ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیںاس غیب بتانے والے نبی پراے ایمان والوان پردروداور خوب سلام بھیجو۔              سورۃ الاحزاب آیت 56

      قبل ازیں کہ ہم اپنی بات کو آگے بڑھائیں ، یہ بات نہایت غو رطلب ہے کہ یہ قرآن جس کی آیات ہم تلاوت کرتے ہیں ،یہ کس ذاتِ اعلیٰ صفات نے ہم تک پہنچایا۔ تھوڑا سا تفکر کرنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ ہستی خالقِ کائنات کے محبوب محمد رسول اللہ ﷺکی ہے۔ اور یہ وہ ہستی ہے جس کے لیے کائنات کا تخلیق کرنے والا اپنے فرشتوں کے ساتھ ہمہ وقت اس پر درود و سلام بھیجتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی بد بخت کو یہ موقع ہی نہیں دیا کہ وہ یہ کہہ سکے کہ یہ کہا ں لکھا ہے کہ سرورِ کائنات پر درودِ پاک بھیجا جائے۔ اللہ نے حکماََ فرمادیا:

      اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہ‘ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰٓاَیُّھَا الَّذِ ینَ ٰامَنُوا صَلُّو ا عَلَیہِ وَ سَلِّمُوا تَسلِمًاo

      چنانچہ یہ بات ہر کس و ناکس پر عیاںہے کہ جب انسان مجبور و لاچار ہو جاتاہے، جب انسان وحشت کا مقابلہ نہیں کر پاتا، جب انسان بربریت کا شکار ہوجاتا ہے، جب انسان سمندر کی گہرائی اور آسمان کی وسعت سے سے گھبرا جاتاہے، جب انسان اپنے گرد و نواح میں کسی کو نہیں پاتااور جب انسان صحرائوں میں گم ہو جاتا ہے تو وہ صرف اور صرف ایک ہی ہستی کو پکارتا ہے اور وہ ہستی ہے ربِ محمدﷺ کی جو خالق و مالکِ کائنات ہے۔ اور وہ رب، وہ رب ہے جوارشاد فرماتا ہے کہ اے میرے محبوب اگر تجھے دنیا میں مبعوث کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں یہ کائنات ہی تخلیق نہ کرتا گویا آپ ﷺ وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں بھی اپنے رسولِ مقبولﷺ سے انتہا درجہ محبت کرنی چاہیے اور ان سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کے بتائے ہو ئے اصولوں کے مطابق گزاریں۔کیونکہ رب العالمین کا رحمۃاللعالمین کے بارے یہ واضح فرمان ہے: لقد کان لکم فی رسول للہ اسوۃ حسنہ (الاحزاب21)یعنی بے شک رسول اللہ کی زندگی میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اور سورۃ آلِ عمران(21 )میں حکمِ ربانی ہے:

قُل اِن کُنتُم تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِِعُونِی یُحبِِبکُمُ اللّٰہُ وَ یَغفِر لَکُم ذ ُنُو بَکُم ط وَ اللّٰہُ غَفُو ررَّ حِیمo

 ترجمہ: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جائو اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

      یہ ربیع الاول کا مبارک مہینہ ہے جس میں آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی ﷺاس دنیا میں تشریف لائے یعنی آپ کی پیدائش ہوئی۔اس مہینے میں اہلِ اسلام محافل میلاد اور سیرت النبی کے جلسے منعقد کرتے ہیں اور اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ اللہ کے قانون واحکامات جو نبی ﷺ نے بنی نوع انسان تک پہنچائے ان پر عمل پیرا ہوں گے ۔

      یاد رکھیے! محافلِ میلاد یا سیرت النبی ﷺکے جلسوں کا مقصد صرف اور صرف محبوبِ رب العالمین ﷺ کی سیرت بیان کرنا ہے اور ان مجالس کو محافلِ میلاد کہیے یا محافلِ سیرتِ پاک اس میں کچھ مذائقہ نہیں البتہ ہم سب کو یہ ضرور بضرور معلوم ہو نا چاہیے کہ محافلِ میلاد کا منعقد کرنا سلف صالحین کا طریقہ ہے جن کے ذریعے سے دین ہم تک منتقل ہوا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو۔۔۔

      لفظِ عید عربی اسم مذکر ہے اور اس کے لغوی معنی جو بار بار آئے۔ خوشی کا تہوار۔ مسلمانوں کی خوشی کا تہوار جبکہ لفظ میلاد (می۔لاد) عربی اسم مذکر ہے ۔ جس کے معنی پیدا ہونے کا زمانہ، پیدائش کا وقت یا پیدائش ہے۔اور میلاد النبیﷺ کا مطلب نبی پاک ﷺ کی پیدائش یا پیدائش کا دن ہے اور یہ اسم ظرف زمان ہے۔ (صاحبِ فروز اللغات، ص1332)      یوں عیدِ میلاالنبیﷺ کے معنی ہوئے محمد رسول اللہ کی پیدائش کا دن اور چونکہ یہ دن جب تک یہ دنیا باقی ہے بار بار آئے گا اس لیے اسے عیدِ میلاالنبیﷺ کہا جاتاہے اور کیوں نہ کہا جائے کہ یہ وہ دن ہے جس دن وجہِ تخلیقِ کائنات کے اس دنیا میںآنے سے نبوت و رسالت کاباب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔کہ آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہ آئے گا۔

      میلاد شریف کی محافل میں نبی  ¿ پاک ﷺ کی پیدائش کے واقعات بالخصوص بیان کیے جاتے ہیں ۔اللہ سبحانہُ سورہ ابراہیم کی آیت5 میںارشاد فرماتاہے:

وَ لَقَد اَرسَلنَا مُوسٰی بِاٰیٰتِنَآ اَن اَخرِج قَومَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّورِلا  وَذَکِّرھُم بِاَ یّٰمِ اللّٰہِ ط اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰ یٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍo ترجمہ: اور ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جائو۔ اور ان کو اللہ کے دن یاد دلائو۔ اور اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر و شاکر ہیں نشانیاں ہیں۔

      مفسرینِ قرآن کے نزدیک ’ایام اللہ‘ سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو۔ ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کادن، سرکارِ مدینہ سرورِ سینہﷺ کی ولادت کا دن ہے،چنانچہ اس دن کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔اور یہ بات بھی قرآن حکیم سے ثابت ہے کہ اللہ کے فضل اور رحمت سے آپ ہی کی ذاتِ والا صفات مراد ہے۔ جب اللہ سورہ الاحزاب کی آیت 47میں فرماتا ہے کہ:

وَ بَشِّرِِ المُئومِنِینَ بِاَنَّ لَھُم مِّنَ اللّٰہِ فَضلاً کَبِیرًاo  اور مومنین کو خوش خبری سنادو کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔ اور سورہ الانبیا کی آیت 107میں حکم ہوتا ہے کہ:

وَمَآ اَرسَلنٰکَ اِلاَّ رَحمَۃً لِّلعٰلَمِینَo    اور ہم نے آپ کونہیں بھیجا لیکن جہانوں کے لیے رحمت بناکر۔

      بس اسی پر بات ختم  نہیں کردی بلکہ مالکِ کائنات نے سورۃالضحیٰ کی آیت11میں مومنین کو یہ حکم بھی دے دیا کہ  ؛

 وَ اَمَّا بِنِعمَۃِ رَبِّک فَحَدِّثo   اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

            پس آج کے پر آشوب دور میں رسالت مآب ﷺ کی ولادت باسعادت کی خبر نسلِ نو تک پہنچانا ایک بہت بڑا فریضہ ہے کیونکہ بچے کا ذہن کورا کاغذ ہوتا ہے اس پر جو ابتدا میں نقش ہو گیا اس کا اثر آخر عمر تک رہتا ہے۔لہٰذا یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو گاہے گاہے رسولِ پاک ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے متعلق بتاتے رہیں۔

      خصائص الکبریٰ کی جلد اول میں امام جلال الدین سیوطی ؒ اور المواہب اللدنیہ میں امام احمدبن محمد قسطلانیؒحضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضر ت آمنہؓ اپنے حمل کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتیں کہ جو حالت دوسری عورتوںکو لاحق ہوتی ہے وہ مجھے لاحق ہوئی ۔میں نے ایک زوردار دھماکا سنا جس سے مجھے خوف آنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ ایک سفید پرندے کے پر نے میرے دل پر مسح کیا ہر ڈر اور درد جو میںپاتی تھی وہ مجھ سے دور ہو گیاپھر میں نے توجہ کی تو میرے لیے سفید رنگ کا مشروب تھا جو میں نے لے لیاتو مجھے بلند پایہ نور حاصل ہوا۔پھر میں نے کچھ عورتوں کو دیکھاجوکھجور کے درخت کی طرح طویل القامت تھیںگویا عبدِ مناف کی بیٹیوںمیں سے ہوں ۔ انہوں نے مجھے گھیر رکھا تھا، میں متعجب تھی کہ کوئی میری مدد کرے، ان کو کیسے علم ہو گیا۔اور کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا کہ انہیں لوگوں سے چھپائو۔ حضرت آمنہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ کہ فضا میں کھڑے ہیں۔ان کے ہاتھوں میں چاندی کے لوٹے ہیں۔پھر میں نے پرندوں کا غول دیکھ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے میرے حجرے کو گھیر لیا ۔ان کی چونچیں زمرد کی اور پر یاقوت کے ہیں۔اللہ نے میری آنکھوں سے پردہ ہٹایا تومیں نے زمین کے مغربوں اور مشرقوں کو دیکھ لیا۔ان حالات میں محمدﷺ کی پیدائش ہوئی۔بقول شاعر:

 وہ دن آیا کہ پورے ہوگئے تورات کے وعدے

 خدا نے آج کر دیے ہر بات کے وعدے

 مرادیں بھر کے دامن میں مناجات زبور آئی

 سحر کی روشنی پڑھتی ہوئی آیات نور آئی

 نظر آئی بالآخر معنی انجیل کی صورت

 ودیعت ہوگئی انسان کو تکمیل کی صورت

       البدایہ و النہایہ میں امام ابن کثیر (بصری دمشقی)ابنِ عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ پیدا ہوئے توتمام آسمانوں سے شیاطین روکے گئے آسمانوں کی شہب کے ذریعے سے حفاظت کی گئی ۔آپﷺ پیر کے دن ۲۱/ربیع الاول کو پید ا ہوئے (اکثریت اس پر متفق ہے)جس دن آپﷺ اس دنیا میں تشریف لائے اس روز آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب رات بھر بیت اللہ میں اپنے رب سے دعائیں مانگتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا جب حضور پرنورﷺ کی ولادت کا وقت آیا تو بیت اللہ ہلنے لگا اور بالکل حضرت آمنہؓ کے گھر کی جانب جھک گیا اور تمام بت منہ کے بل گر پڑے۔جب آپ کی ولادت باسعادت کی اطلاع آپ ﷺ کے دادا تک پہنچی تو وہ انہیں اٹھا کر بیت اللہ میں لے گئے اور دعا مانگی۔ ساتویں روز قربانی کی اور قریش کو دعوت دی۔ لوگوں نے پوچھا عبدالمطلب تم نے پوتے کا نام کیا رکھا ہے تو انہوں نے جواب دیا ’محمدﷺ‘ ۔ لوگوں نے کہا آپ نے خاندان کے تمام مروجہ نام چھوڑ کر یہ نام کیو ں منتخب کیا تو انہوں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ میرا بچہ دنیا بھر کی ستائش اور تعریف کا حق دار بنے۔ پھر دستورِ عرب کے مطابق آپ ﷺ کو رضاعت کے لیے حلیمہ سعدیہ کے حوالے کر دیاگیا۔دو سال کے بعد آپ ﷺ کا دودھ چھڑا دیا گیا اور چارسال تک آپﷺ مائی حلیمہ کے ہاں رہے۔ اس دوران ہر چھٹے ماہ وہ آپﷺ کو ان کی والدہ سے ملانے لے آتی تھیں۔ چار سال کے ہوئے تو والدہ محترمہ نے آپﷺ کو اپنے پاس رکھ لیا ؛لیکن ابھی آپﷺ چھ برس کے ہی ہوئے تھے کہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ چنانچہ آپ ﷺ کی پرورش کی ذمہ داری دادا عبدالمطلب نے سنبھال لی۔ عمرِ مبار ک آٹھ سال ہوئی تھی کہ ان کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا اور یوں آپ ﷺ کی تعلیم و تربیت کی سعادت حضرت ابو طالب کے حصے میں آئی۔

       ابن عساکرنے جلہمہ بن عرفطہ سے روایت کی ہے کہ میں مکہ آیا تو وادی میں قحط تھا قریش نے ابو طالب سے درخواست کی کہ ابرِ باراں کے لیے دعا کیجیے۔ابو طالب ایک بچہ ساتھ لے کر برآمد ہوئے۔ بچہ ابرآلود سورج معلوم ہوتا تھا جس سے گھنا بادل ابھی ابھی چھٹا ہو۔ ان کے ساتھ اور بچے بھی تھے۔ ابو طالب نے بچے کی پیٹھ خانہ کعبہ سے لگا دی اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا نہ تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف سے بادل آگئے اور خوب برسے یہاں تک کہ وادی میں سیلاب آگیا اور ہر طرف شادابی نظر آنے لگی اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابو طالب نے آپ ﷺ کی مدح میں کہا تھا:

وابیض یُستَسقَی الغمَامُ بوَجھہ

ثِمال الیَتَامٰی عِصمَۃ’‘ للارامِلِ

وہ خوب صورت ہیں ان کے چہرے سے بارش کا فیضان طلب کیا جاتا ہے۔ یتیموں کے ماویٰ اور بیوائوں کے محافظ ہیں۔(الرحیق المختوم ص 88)

      مولانا حالی نے بھی اسی واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ

یتیموں کا والی ، غلاموں کا مولا

خطا کار سے در گزر کرنے والا

بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا

مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا

قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

اور اک نسخہ ¿ کیمیا ساتھ لایا

       آپ ﷺ نے جوانی میں قدم رکھا تو اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت کرنے لگے۔ آپﷺ کی ایمانداری سارے عرب میں مشہور ہونے لگی چنانچہ مکہ کی ایک نہایت امیر خاتون بی بی خدیجہ ؓنے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آپﷺ اسکے روپے سے تجارت کریں۔ نبی  ¿ ُپاک ﷺ نے یہ بات قبول کرلی اور سامانِ تجارت لے کرشام روانہ ہوئے اس سفر میں بی بی خدیجہؓ کا غلام میسرہ بھی شریکِ سفر ہوا۔ اس مرتبہ منافع پہلے سے کہیں زیادہ ہوا اور میسرہ نے جو خوبیاں سرکارِ دو عالم میں دیکھیں وہ بھی بیان کیں۔ چنانچہ بی بی خدیجہ ؓ نے آپ ﷺ کے کردار سے متاثر ہو کر نکاح کا پیغام بھیجا جو آپ ﷺ نے قبول کرلیا؛ حالانکہ حضرت خدیجہؓ کی عمر اس وقت چالیس سال جب کہ آپ ﷺ کی عمر مبارک پچیس سال تھی۔

      یوں نبی پاک ﷺ کی ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا۔ پھر زندگی میںبہت سے اتار چڑھائو آئے لیکن آپﷺ نے ان کا جواں مردی سے مقابلہ کیا ۔ آپ ﷺ جوانی ہی سے بہت عبادت گذار تھے اکثر غارِ حرا میں عبادت کے لیے تشریف لے جاتے۔ جب آپ ﷺ چالیس سال کے ہوئے تو جبریلِ امین اللہ کے آخری رسول کی طرف وحی لے کر آئے اور کہا ،بشارت قبول فرمائیے آپ ﷺ اللہ کے رسول اور میں جبریلؐ ہوں۔گھر آئے تو  اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓسے کہا کہ میرے اوپر چادر اڑادیجیے۔ جب طبیعیت ذرا سنبھلی تو فرمایا میں ایسے واقعات دیکھتاہوں کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہو گیا ہے۔ اس پر حضرت خدیجہ نے وہ کلمات کہے جو آج تاریخ کا حصہ ہیںعرض کیا آپ ﷺکو کس بات کا ڈر ہو گا کہ آپﷺ اقربا پر شفقت کرتے اور سچ بولتے ہیں۔بیوائوں، یتیموں اور بے کسوں کی دستگیری فرماتے ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت زدوں کی مدد فرماتے ہیں اس لیے اللہ آپ کو کبھی تنہا نہ چھوڑے گا۔ حضرت خدیجہؓ خود بھی تھوڑی پریشان ہوئیں؛ چنانچہ یہ سارا واقعہ عیسائی عالم ورقہ بن نوفل کو سنایا۔ وہ فوراََ بول اٹھاآپ ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں، کاش میں جوان ہوتا اور اس وقت آپﷺ کی خدمت کرتا جب آپ کی قوم آپ کو ہجرت پر مجبور کردیتی۔چند دنوں بعد جبریلِ امین پھر حاضرِ خدمت ہوئے اورکہا پڑھیے اپنے رب کے حکم سے اوریہ آیات آپﷺ کو پڑھائیں:

اِ قرَا بِا سمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَoخَلَقَ الاِ نسَانَ مِن عَلَقo اِقرَ ا وَ رَبُّک الاَکرَمُo الَّذِی عَلَّمَ بِالقَلَمِo عَلَّمَ الاِنسَانَ مَالَم یَعلَمo

 ترجمہ:اے نبی ﷺاپنے پرور دگا ر کا نام لے کر پڑھیے جس نے تمام کائنات کو پیدا کیا۔جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔

       اوریوں وحی کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو تئیس سال تک جاری رہا۔ مختصراََ یہ کہ وادیئ طائف ہو یا مکے کی گلیاں،  شعبِ ابی طالب کا زمانہ ہو یا ہجرتِ مدینہ کا وقت، غارِ ثور کی مشقت ہو یا میدانِ بدرکے حالات ، احد کی اذیت ہو کہ خندق کی تکالیف، خیبر کی فتح ہوکہ مکے میں واپسی ہر ہر موقع پر اللہ رب العزت نے اپنے محبو ب کی رہنمائی و مدد فرمائی۔آپﷺ نے تبلیغ کے جس سلسلے کا آغاز اپنے گھرسے کیا تھا وہ بالآخر مدینہ شریف میں اختتام پذیر ہوا۔

 حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ ، یدِ بیضا داری

آنچہ خوباں، ہمہ دارند،  تو تنہا داری

     اور

 عالمِ آب و خاک میںتیرے ظہور سے فروغ

 ذرہ ¿ ریگ کو دیاتو نے طلوعِ آفتاب

 لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب

 گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میںحباب

       رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ صرف تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ قیامت تک انسانیت کے لیے اخلاق، عبادت، معاشرت، رحم، عدل، رواداری اور حسنِ کردار کا کامل نمونہ ہے۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کو اسو? حسنہ قرار دیا اور احادیثِ مبارکہ نے آپ ﷺ کے اخلاق و کردار کی عملی تصویر ہمارے سامنے پیش کی ہے۔ اس سلسلے میں چند مستند ارشاداتِ نبوی ﷺ نہایت اہم ہیں:

      حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں‘‘(صحیح مسلم)۔ یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام میں انسان کی عظمت صرف ظاہری عبادات یا ظاہری وجاہت سے نہیں بلکہ حسنِ اخلاق سے بھی وابستہ ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے‘‘(صحیح بخاری)۔یہ ارشاد اسلامی معاشرے میں اخوت، ایثار، ہمدردی اور باہمی احترام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

      حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘(صحیح بخاری) ۔آج کے دور میں اس حدیث کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ زبان کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع بھی کسی کو اذیت پہنچانے کا وسیلہ بن سکتے ہیں۔ اسوہ ¿ رسول ﷺ ہمیں گفتگو، اختلاف اور اظہارِ رائے میں شائستگی اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘اسی حدیث میں پڑوسی کو تکلیف نہ دینے اور مہمان کی عزت کرنے کی بھی تاکید فرمائی گئی ہے۔یہ ارشاد ہمیں بتاتا ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ گفتگو اور معاشرتی رویے بھی اس میںشامل ہیں۔

      حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

      ’’آسانی پیدا کرو، دشواری پیدا نہ کرو؛ خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔‘‘یہ ارشاد دعوتِ دین، تعلیم، تربیت اور معاشرتی معاملات سب کے لیے ایک عظیم اصول فراہم کرتا ہے۔اسی طرح حضرت جریر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘ (صحیح بخاری)۔ یہ حدیث اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ رحمتِ نبوی ﷺ کا تعلق صرف انسانوں سے نہیں بلکہ تمام مخلوقات کے ساتھ حسنِ سلوک سے ہے۔اسی مضمون کی ایک اور حدیث  حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے ۔وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسنؓ کو بوسہ دیا۔ ایک شخص نے کہا کہ میرے دس بچے ہیں مگر میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا::’’جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘ (صحیح بخاری)۔  یہ واقعہ خصوصاً والدین اور اساتذہ کے لیے ایک اہم تربیتی اصول فراہم کرتا ہے کہ بچوں کی شخصیت محبت، شفقت اور حسنِ سلوک کے ماحول میں زیادہ بہتر طور پر پروان چڑھتی ہے۔حضرت ابوہریرہؓ  ہی سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’بے شک اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور

 اعمال کو دیکھتا ہے‘‘(صحیح مسلم)۔ یہ حدیث انسان کی حقیقی قدر و قیمت کا معیار واضح کرتی ہے نیز دل کی پاکیزگی، نیت کی درستی اور عملِ صالح کی ترغیب دلاتی ہے۔

      ایک اور حدیث جس سے علم کی اہمیت واضح ہوتی ہے ، اسے بھی حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے‘‘(صحیح مسلم)۔ یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ تعلیم و علم کا حصول اسلامی تہذیب کا بنیادی حصہ ہے۔

      اور آخر میں اس حدیث کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں:

      حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’اللہ تبارک وتعالیٰ کے فاضل گشتی فرشتے ہیں جو مجالس ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں اور جیسے ہی انہیں ذکر کی مجلس ملتی ہے تو وہ اس میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے ایک دوسرے کو ڈھانپ ہوئے آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ انہیں بہت اچھی طرح جانتا ہے۔’’تم لوگ کہا ں سے آئے ہو؟‘‘ وہ جواب دیتے ہیںکہ’’ ہم زمین پر آپ کے بندوں کے پاس سے آرہے ہیںجوکہ آپ کی پاکی اور بڑائی، آپ کی توحید اور آپ کی حمد بیان کرتے ہوئے آپ سے مانگ رہے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے ؟‘‘ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔’’ کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ ‘‘ فرشتے کہتے ہیں کہ’’ اے اللہ دیکھی تو نہیں‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (تم تصور تو کرو)’’ اگر انہوں نے جنت دیکھی ہوتی تو ان کی کیا کیفیت ہوتی؟‘‘فرشتے کہتے ہیں کہ وہ آپ کی پناہ مانگ رہے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کس چیز کی پناہ مانگ رہے تھے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ اے اللہ ! آپ کی آگ سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ دیکھی تو نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ (تم تصور کرو) اگر انہوں نے میری آگ دیکھی ہوتی تو ان کی کیا کیفیت ہوتی! وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ آپ سے استغفار کررہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،’’ میں نے ان کی مغفرت کردی اور جو وہ مانگ رہے تھے ان کو عطا کردیا اور جس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے میں نے ان کو پناہ عطا کردی۔ نبی  ¿اکرم ﷺ نے فرمایا فرشتے عرض کرتے ہیں کہ  ’’ اے اللہ! ان میں فلاں گناہ گار بندہ وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔   حضور ﷺنے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے   ’’ میں نے اسے بھی معاف کر دیا کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا‘‘۔  ]مسلم جلد 6 ص274 حدیث نمبر6839

      لہٰذا محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا صرف زبان سے درود و سلام پڑھنا نہیں بلکہ آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ اگر ہم سچائی کو اختیار کریں، کمزوروں پر رحم کریں، پڑوسیوں کا خیال رکھیں، اپنی زبان کو برائی سے محفوظ رکھیں، دوسروں کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، علم کی جستجو جاری رکھیں اور ضرورت مند انسانوں کی مدد کریں تو دراصل ہم اسو? رسول ﷺ کو اپنی عملی زندگی میں زندہ کررہے ہوں گے۔

رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا یہی پیغام قرآنِ کریم کے اس جامع فرمان کی عملی تفسیر ہے:

’’بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘

      پس ربیع الاول کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ ہم محبتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنے کردار، اپنے معاملات، اپنی معاشرت، اپنی تعلیم و تربیت اور اپنی خدمتِ انسانیت کے ذریعے ثابت کریں۔ یہی سیرتِ طیبہ کا زندہ پیغام اور یہی اسوہ ¿ حسنہ کی اصل روح ہے۔

Ü لقد کان لکم فی رسول للہ اسوۃ حسنہ  Û

ڈاکٹرافضل رضوی۔آسٹریلیا

         الحمد  للہِ ربِ العالمین و سلام’‘ علیَ المرسَلین و الصلاۃ السلامُ علیَ عبدِہِ ورسولہِ محمد ن المصطفٰی امام الانبیا و خاتم النبین و علیَ آلہِ واصحَبِہِ الطیبین الطاہرین رضوان اللہِ علِیھِم اجمعین-      امابعدفعوذباللہ من النشیطن الرجیم  o    بسم اللہ الرحمن الرحیمo

      اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہ‘ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰٓاَیُّھَا الَّذِ ینَ ٰامَنُوا صَلُّو ا عَلَیہِ وَ سَلِّمُوا تَسلِمًاo

ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیںاس غیب بتانے والے نبی پراے ایمان والوان پردروداور خوب سلام بھیجو۔              سورۃ الاحزاب آیت 56

      قبل ازیں کہ ہم اپنی بات کو آگے بڑھائیں ، یہ بات نہایت غو رطلب ہے کہ یہ قرآن جس کی آیات ہم تلاوت کرتے ہیں ،یہ کس ذاتِ اعلیٰ صفات نے ہم تک پہنچایا۔ تھوڑا سا تفکر کرنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ ہستی خالقِ کائنات کے محبوب محمد رسول اللہ ﷺکی ہے۔ اور یہ وہ ہستی ہے جس کے لیے کائنات کا تخلیق کرنے والا اپنے فرشتوں کے ساتھ ہمہ وقت اس پر درود و سلام بھیجتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی بد بخت کو یہ موقع ہی نہیں دیا کہ وہ یہ کہہ سکے کہ یہ کہا ں لکھا ہے کہ سرورِ کائنات پر درودِ پاک بھیجا جائے۔ اللہ نے حکماََ فرمادیا:

      اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہ‘ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰٓاَیُّھَا الَّذِ ینَ ٰامَنُوا صَلُّو ا عَلَیہِ وَ سَلِّمُوا تَسلِمًاo

      چنانچہ یہ بات ہر کس و ناکس پر عیاںہے کہ جب انسان مجبور و لاچار ہو جاتاہے، جب انسان وحشت کا مقابلہ نہیں کر پاتا، جب انسان بربریت کا شکار ہوجاتا ہے، جب انسان سمندر کی گہرائی اور آسمان کی وسعت سے سے گھبرا جاتاہے، جب انسان اپنے گرد و نواح میں کسی کو نہیں پاتااور جب انسان صحرائوں میں گم ہو جاتا ہے تو وہ صرف اور صرف ایک ہی ہستی کو پکارتا ہے اور وہ ہستی ہے ربِ محمدﷺ کی جو خالق و مالکِ کائنات ہے۔ اور وہ رب، وہ رب ہے جوارشاد فرماتا ہے کہ اے میرے محبوب اگر تجھے دنیا میں مبعوث کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں یہ کائنات ہی تخلیق نہ کرتا گویا آپ ﷺ وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں بھی اپنے رسولِ مقبولﷺ سے انتہا درجہ محبت کرنی چاہیے اور ان سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کے بتائے ہو ئے اصولوں کے مطابق گزاریں۔کیونکہ رب العالمین کا رحمۃاللعالمین کے بارے یہ واضح فرمان ہے: لقد کان لکم فی رسول للہ اسوۃ حسنہ (الاحزاب21)یعنی بے شک رسول اللہ کی زندگی میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اور سورۃ آلِ عمران(21 )میں حکمِ ربانی ہے:

قُل اِن کُنتُم تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِِعُونِی یُحبِِبکُمُ اللّٰہُ وَ یَغفِر لَکُم ذ ُنُو بَکُم ط وَ اللّٰہُ غَفُو ررَّ حِیمo

 ترجمہ: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جائو اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

      یہ ربیع الاول کا مبارک مہینہ ہے جس میں آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی ﷺاس دنیا میں تشریف لائے یعنی آپ کی پیدائش ہوئی۔اس مہینے میں اہلِ اسلام محافل میلاد اور سیرت النبی کے جلسے منعقد کرتے ہیں اور اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ اللہ کے قانون واحکامات جو نبی ﷺ نے بنی نوع انسان تک پہنچائے ان پر عمل پیرا ہوں گے ۔

      یاد رکھیے! محافلِ میلاد یا سیرت النبی ﷺکے جلسوں کا مقصد صرف اور صرف محبوبِ رب العالمین ﷺ کی سیرت بیان کرنا ہے اور ان مجالس کو محافلِ میلاد کہیے یا محافلِ سیرتِ پاک اس میں کچھ مذائقہ نہیں البتہ ہم سب کو یہ ضرور بضرور معلوم ہو نا چاہیے کہ محافلِ میلاد کا منعقد کرنا سلف صالحین کا طریقہ ہے جن کے ذریعے سے دین ہم تک منتقل ہوا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو۔۔۔

      لفظِ عید عربی اسم مذکر ہے اور اس کے لغوی معنی جو بار بار آئے۔ خوشی کا تہوار۔ مسلمانوں کی خوشی کا تہوار جبکہ لفظ میلاد (می۔لاد) عربی اسم مذکر ہے ۔ جس کے معنی پیدا ہونے کا زمانہ، پیدائش کا وقت یا پیدائش ہے۔اور میلاد النبیﷺ کا مطلب نبی پاک ﷺ کی پیدائش یا پیدائش کا دن ہے اور یہ اسم ظرف زمان ہے۔ (صاحبِ فروز اللغات، ص1332)      یوں عیدِ میلاالنبیﷺ کے معنی ہوئے محمد رسول اللہ کی پیدائش کا دن اور چونکہ یہ دن جب تک یہ دنیا باقی ہے بار بار آئے گا اس لیے اسے عیدِ میلاالنبیﷺ کہا جاتاہے اور کیوں نہ کہا جائے کہ یہ وہ دن ہے جس دن وجہِ تخلیقِ کائنات کے اس دنیا میںآنے سے نبوت و رسالت کاباب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔کہ آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہ آئے گا۔

      میلاد شریف کی محافل میں نبی  ¿ پاک ﷺ کی پیدائش کے واقعات بالخصوص بیان کیے جاتے ہیں ۔اللہ سبحانہُ سورہ ابراہیم کی آیت5 میںارشاد فرماتاہے:

وَ لَقَد اَرسَلنَا مُوسٰی بِاٰیٰتِنَآ اَن اَخرِج قَومَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّورِلا  وَذَکِّرھُم بِاَ یّٰمِ اللّٰہِ ط اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰ یٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍo ترجمہ: اور ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جائو۔ اور ان کو اللہ کے دن یاد دلائو۔ اور اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر و شاکر ہیں نشانیاں ہیں۔

      مفسرینِ قرآن کے نزدیک ’ایام اللہ‘ سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو۔ ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کادن، سرکارِ مدینہ سرورِ سینہﷺ کی ولادت کا دن ہے،چنانچہ اس دن کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔اور یہ بات بھی قرآن حکیم سے ثابت ہے کہ اللہ کے فضل اور رحمت سے آپ ہی کی ذاتِ والا صفات مراد ہے۔ جب اللہ سورہ الاحزاب کی آیت 47میں فرماتا ہے کہ:

وَ بَشِّرِِ المُئومِنِینَ بِاَنَّ لَھُم مِّنَ اللّٰہِ فَضلاً کَبِیرًاo  اور مومنین کو خوش خبری سنادو کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔ اور سورہ الانبیا کی آیت 107میں حکم ہوتا ہے کہ:

وَمَآ اَرسَلنٰکَ اِلاَّ رَحمَۃً لِّلعٰلَمِینَo    اور ہم نے آپ کونہیں بھیجا لیکن جہانوں کے لیے رحمت بناکر۔

      بس اسی پر بات ختم  نہیں کردی بلکہ مالکِ کائنات نے سورۃالضحیٰ کی آیت11میں مومنین کو یہ حکم بھی دے دیا کہ  ؛

 وَ اَمَّا بِنِعمَۃِ رَبِّک فَحَدِّثo   اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

            پس آج کے پر آشوب دور میں رسالت مآب ﷺ کی ولادت باسعادت کی خبر نسلِ نو تک پہنچانا ایک بہت بڑا فریضہ ہے کیونکہ بچے کا ذہن کورا کاغذ ہوتا ہے اس پر جو ابتدا میں نقش ہو گیا اس کا اثر آخر عمر تک رہتا ہے۔لہٰذا یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو گاہے گاہے رسولِ پاک ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے متعلق بتاتے رہیں۔

      خصائص الکبریٰ کی جلد اول میں امام جلال الدین سیوطی ؒ اور المواہب اللدنیہ میں امام احمدبن محمد قسطلانیؒحضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضر ت آمنہؓ اپنے حمل کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتیں کہ جو حالت دوسری عورتوںکو لاحق ہوتی ہے وہ مجھے لاحق ہوئی ۔میں نے ایک زوردار دھماکا سنا جس سے مجھے خوف آنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ ایک سفید پرندے کے پر نے میرے دل پر مسح کیا ہر ڈر اور درد جو میںپاتی تھی وہ مجھ سے دور ہو گیاپھر میں نے توجہ کی تو میرے لیے سفید رنگ کا مشروب تھا جو میں نے لے لیاتو مجھے بلند پایہ نور حاصل ہوا۔پھر میں نے کچھ عورتوں کو دیکھاجوکھجور کے درخت کی طرح طویل القامت تھیںگویا عبدِ مناف کی بیٹیوںمیں سے ہوں ۔ انہوں نے مجھے گھیر رکھا تھا، میں متعجب تھی کہ کوئی میری مدد کرے، ان کو کیسے علم ہو گیا۔اور کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا کہ انہیں لوگوں سے چھپائو۔ حضرت آمنہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ کہ فضا میں کھڑے ہیں۔ان کے ہاتھوں میں چاندی کے لوٹے ہیں۔پھر میں نے پرندوں کا غول دیکھ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے میرے حجرے کو گھیر لیا ۔ان کی چونچیں زمرد کی اور پر یاقوت کے ہیں۔اللہ نے میری آنکھوں سے پردہ ہٹایا تومیں نے زمین کے مغربوں اور مشرقوں کو دیکھ لیا۔ان حالات میں محمدﷺ کی پیدائش ہوئی۔بقول شاعر:

 وہ دن آیا کہ پورے ہوگئے تورات کے وعدے

 خدا نے آج کر دیے ہر بات کے وعدے

 مرادیں بھر کے دامن میں مناجات زبور آئی

 سحر کی روشنی پڑھتی ہوئی آیات نور آئی

 نظر آئی بالآخر معنی انجیل کی صورت

 ودیعت ہوگئی انسان کو تکمیل کی صورت

       البدایہ و النہایہ میں امام ابن کثیر (بصری دمشقی)ابنِ عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ پیدا ہوئے توتمام آسمانوں سے شیاطین روکے گئے آسمانوں کی شہب کے ذریعے سے حفاظت کی گئی ۔آپﷺ پیر کے دن ۲۱/ربیع الاول کو پید ا ہوئے (اکثریت اس پر متفق ہے)جس دن آپﷺ اس دنیا میں تشریف لائے اس روز آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب رات بھر بیت اللہ میں اپنے رب سے دعائیں مانگتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا جب حضور پرنورﷺ کی ولادت کا وقت آیا تو بیت اللہ ہلنے لگا اور بالکل حضرت آمنہؓ کے گھر کی جانب جھک گیا اور تمام بت منہ کے بل گر پڑے۔جب آپ کی ولادت باسعادت کی اطلاع آپ ﷺ کے دادا تک پہنچی تو وہ انہیں اٹھا کر بیت اللہ میں لے گئے اور دعا مانگی۔ ساتویں روز قربانی کی اور قریش کو دعوت دی۔ لوگوں نے پوچھا عبدالمطلب تم نے پوتے کا نام کیا رکھا ہے تو انہوں نے جواب دیا ’محمدﷺ‘ ۔ لوگوں نے کہا آپ نے خاندان کے تمام مروجہ نام چھوڑ کر یہ نام کیو ں منتخب کیا تو انہوں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ میرا بچہ دنیا بھر کی ستائش اور تعریف کا حق دار بنے۔ پھر دستورِ عرب کے مطابق آپ ﷺ کو رضاعت کے لیے حلیمہ سعدیہ کے حوالے کر دیاگیا۔دو سال کے بعد آپ ﷺ کا دودھ چھڑا دیا گیا اور چارسال تک آپﷺ مائی حلیمہ کے ہاں رہے۔ اس دوران ہر چھٹے ماہ وہ آپﷺ کو ان کی والدہ سے ملانے لے آتی تھیں۔ چار سال کے ہوئے تو والدہ محترمہ نے آپﷺ کو اپنے پاس رکھ لیا ؛لیکن ابھی آپﷺ چھ برس کے ہی ہوئے تھے کہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ چنانچہ آپ ﷺ کی پرورش کی ذمہ داری دادا عبدالمطلب نے سنبھال لی۔ عمرِ مبار ک آٹھ سال ہوئی تھی کہ ان کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا اور یوں آپ ﷺ کی تعلیم و تربیت کی سعادت حضرت ابو طالب کے حصے میں آئی۔

       ابن عساکرنے جلہمہ بن عرفطہ سے روایت کی ہے کہ میں مکہ آیا تو وادی میں قحط تھا قریش نے ابو طالب سے درخواست کی کہ ابرِ باراں کے لیے دعا کیجیے۔ابو طالب ایک بچہ ساتھ لے کر برآمد ہوئے۔ بچہ ابرآلود سورج معلوم ہوتا تھا جس سے گھنا بادل ابھی ابھی چھٹا ہو۔ ان کے ساتھ اور بچے بھی تھے۔ ابو طالب نے بچے کی پیٹھ خانہ کعبہ سے لگا دی اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا نہ تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف سے بادل آگئے اور خوب برسے یہاں تک کہ وادی میں سیلاب آگیا اور ہر طرف شادابی نظر آنے لگی اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابو طالب نے آپ ﷺ کی مدح میں کہا تھا:

وابیض یُستَسقَی الغمَامُ بوَجھہ

ثِمال الیَتَامٰی عِصمَۃ’‘ للارامِلِ

وہ خوب صورت ہیں ان کے چہرے سے بارش کا فیضان طلب کیا جاتا ہے۔ یتیموں کے ماویٰ اور بیوائوں کے محافظ ہیں۔(الرحیق المختوم ص 88)

      مولانا حالی نے بھی اسی واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ

یتیموں کا والی ، غلاموں کا مولا

خطا کار سے در گزر کرنے والا

بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا

مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا

قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

اور اک نسخہ ¿ کیمیا ساتھ لایا

       آپ ﷺ نے جوانی میں قدم رکھا تو اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت کرنے لگے۔ آپﷺ کی ایمانداری سارے عرب میں مشہور ہونے لگی چنانچہ مکہ کی ایک نہایت امیر خاتون بی بی خدیجہ ؓنے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آپﷺ اسکے روپے سے تجارت کریں۔ نبی  ¿ ُپاک ﷺ نے یہ بات قبول کرلی اور سامانِ تجارت لے کرشام روانہ ہوئے اس سفر میں بی بی خدیجہؓ کا غلام میسرہ بھی شریکِ سفر ہوا۔ اس مرتبہ منافع پہلے سے کہیں زیادہ ہوا اور میسرہ نے جو خوبیاں سرکارِ دو عالم میں دیکھیں وہ بھی بیان کیں۔ چنانچہ بی بی خدیجہ ؓ نے آپ ﷺ کے کردار سے متاثر ہو کر نکاح کا پیغام بھیجا جو آپ ﷺ نے قبول کرلیا؛ حالانکہ حضرت خدیجہؓ کی عمر اس وقت چالیس سال جب کہ آپ ﷺ کی عمر مبارک پچیس سال تھی۔

      یوں نبی پاک ﷺ کی ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا۔ پھر زندگی میںبہت سے اتار چڑھائو آئے لیکن آپﷺ نے ان کا جواں مردی سے مقابلہ کیا ۔ آپ ﷺ جوانی ہی سے بہت عبادت گذار تھے اکثر غارِ حرا میں عبادت کے لیے تشریف لے جاتے۔ جب آپ ﷺ چالیس سال کے ہوئے تو جبریلِ امین اللہ کے آخری رسول کی طرف وحی لے کر آئے اور کہا ،بشارت قبول فرمائیے آپ ﷺ اللہ کے رسول اور میں جبریلؐ ہوں۔گھر آئے تو  اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓسے کہا کہ میرے اوپر چادر اڑادیجیے۔ جب طبیعیت ذرا سنبھلی تو فرمایا میں ایسے واقعات دیکھتاہوں کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہو گیا ہے۔ اس پر حضرت خدیجہ نے وہ کلمات کہے جو آج تاریخ کا حصہ ہیںعرض کیا آپ ﷺکو کس بات کا ڈر ہو گا کہ آپﷺ اقربا پر شفقت کرتے اور سچ بولتے ہیں۔بیوائوں، یتیموں اور بے کسوں کی دستگیری فرماتے ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت زدوں کی مدد فرماتے ہیں اس لیے اللہ آپ کو کبھی تنہا نہ چھوڑے گا۔ حضرت خدیجہؓ خود بھی تھوڑی پریشان ہوئیں؛ چنانچہ یہ سارا واقعہ عیسائی عالم ورقہ بن نوفل کو سنایا۔ وہ فوراََ بول اٹھاآپ ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں، کاش میں جوان ہوتا اور اس وقت آپﷺ کی خدمت کرتا جب آپ کی قوم آپ کو ہجرت پر مجبور کردیتی۔چند دنوں بعد جبریلِ امین پھر حاضرِ خدمت ہوئے اورکہا پڑھیے اپنے رب کے حکم سے اوریہ آیات آپﷺ کو پڑھائیں:

اِ قرَا بِا سمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَoخَلَقَ الاِ نسَانَ مِن عَلَقo اِقرَ ا وَ رَبُّک الاَکرَمُo الَّذِی عَلَّمَ بِالقَلَمِo عَلَّمَ الاِنسَانَ مَالَم یَعلَمo

 ترجمہ:اے نبی ﷺاپنے پرور دگا ر کا نام لے کر پڑھیے جس نے تمام کائنات کو پیدا کیا۔جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔

       اوریوں وحی کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو تئیس سال تک جاری رہا۔ مختصراََ یہ کہ وادیئ طائف ہو یا مکے کی گلیاں،  شعبِ ابی طالب کا زمانہ ہو یا ہجرتِ مدینہ کا وقت، غارِ ثور کی مشقت ہو یا میدانِ بدرکے حالات ، احد کی اذیت ہو کہ خندق کی تکالیف، خیبر کی فتح ہوکہ مکے میں واپسی ہر ہر موقع پر اللہ رب العزت نے اپنے محبو ب کی رہنمائی و مدد فرمائی۔آپﷺ نے تبلیغ کے جس سلسلے کا آغاز اپنے گھرسے کیا تھا وہ بالآخر مدینہ شریف میں اختتام پذیر ہوا۔

 حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ ، یدِ بیضا داری

آنچہ خوباں، ہمہ دارند،  تو تنہا داری

     اور

 عالمِ آب و خاک میںتیرے ظہور سے فروغ

 ذرہ ¿ ریگ کو دیاتو نے طلوعِ آفتاب

 لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب

 گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میںحباب

       رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ صرف تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ قیامت تک انسانیت کے لیے اخلاق، عبادت، معاشرت، رحم، عدل، رواداری اور حسنِ کردار کا کامل نمونہ ہے۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کو اسو? حسنہ قرار دیا اور احادیثِ مبارکہ نے آپ ﷺ کے اخلاق و کردار کی عملی تصویر ہمارے سامنے پیش کی ہے۔ اس سلسلے میں چند مستند ارشاداتِ نبوی ﷺ نہایت اہم ہیں:

      حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں‘‘(صحیح مسلم)۔ یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام میں انسان کی عظمت صرف ظاہری عبادات یا ظاہری وجاہت سے نہیں بلکہ حسنِ اخلاق سے بھی وابستہ ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے‘‘(صحیح بخاری)۔یہ ارشاد اسلامی معاشرے میں اخوت، ایثار، ہمدردی اور باہمی احترام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

      حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘(صحیح بخاری) ۔آج کے دور میں اس حدیث کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ زبان کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع بھی کسی کو اذیت پہنچانے کا وسیلہ بن سکتے ہیں۔ اسوہ ¿ رسول ﷺ ہمیں گفتگو، اختلاف اور اظہارِ رائے میں شائستگی اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘اسی حدیث میں پڑوسی کو تکلیف نہ دینے اور مہمان کی عزت کرنے کی بھی تاکید فرمائی گئی ہے۔یہ ارشاد ہمیں بتاتا ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ گفتگو اور معاشرتی رویے بھی اس میںشامل ہیں۔

      حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

      ’’آسانی پیدا کرو، دشواری پیدا نہ کرو؛ خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔‘‘یہ ارشاد دعوتِ دین، تعلیم، تربیت اور معاشرتی معاملات سب کے لیے ایک عظیم اصول فراہم کرتا ہے۔اسی طرح حضرت جریر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘ (صحیح بخاری)۔ یہ حدیث اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ رحمتِ نبوی ﷺ کا تعلق صرف انسانوں سے نہیں بلکہ تمام مخلوقات کے ساتھ حسنِ سلوک سے ہے۔اسی مضمون کی ایک اور حدیث  حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے ۔وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسنؓ کو بوسہ دیا۔ ایک شخص نے کہا کہ میرے دس بچے ہیں مگر میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا::’’جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘ (صحیح بخاری)۔  یہ واقعہ خصوصاً والدین اور اساتذہ کے لیے ایک اہم تربیتی اصول فراہم کرتا ہے کہ بچوں کی شخصیت محبت، شفقت اور حسنِ سلوک کے ماحول میں زیادہ بہتر طور پر پروان چڑھتی ہے۔حضرت ابوہریرہؓ  ہی سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’بے شک اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور

 اعمال کو دیکھتا ہے‘‘(صحیح مسلم)۔ یہ حدیث انسان کی حقیقی قدر و قیمت کا معیار واضح کرتی ہے نیز دل کی پاکیزگی، نیت کی درستی اور عملِ صالح کی ترغیب دلاتی ہے۔

      ایک اور حدیث جس سے علم کی اہمیت واضح ہوتی ہے ، اسے بھی حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے‘‘(صحیح مسلم)۔ یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ تعلیم و علم کا حصول اسلامی تہذیب کا بنیادی حصہ ہے۔

      اور آخر میں اس حدیث کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں:

      حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’اللہ تبارک وتعالیٰ کے فاضل گشتی فرشتے ہیں جو مجالس ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں اور جیسے ہی انہیں ذکر کی مجلس ملتی ہے تو وہ اس میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے ایک دوسرے کو ڈھانپ ہوئے آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ انہیں بہت اچھی طرح جانتا ہے۔’’تم لوگ کہا ں سے آئے ہو؟‘‘ وہ جواب دیتے ہیںکہ’’ ہم زمین پر آپ کے بندوں کے پاس سے آرہے ہیںجوکہ آپ کی پاکی اور بڑائی، آپ کی توحید اور آپ کی حمد بیان کرتے ہوئے آپ سے مانگ رہے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے ؟‘‘ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔’’ کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ ‘‘ فرشتے کہتے ہیں کہ’’ اے اللہ دیکھی تو نہیں‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (تم تصور تو کرو)’’ اگر انہوں نے جنت دیکھی ہوتی تو ان کی کیا کیفیت ہوتی؟‘‘فرشتے کہتے ہیں کہ وہ آپ کی پناہ مانگ رہے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کس چیز کی پناہ مانگ رہے تھے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ اے اللہ ! آپ کی آگ سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ دیکھی تو نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ (تم تصور کرو) اگر انہوں نے میری آگ دیکھی ہوتی تو ان کی کیا کیفیت ہوتی! وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ آپ سے استغفار کررہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،’’ میں نے ان کی مغفرت کردی اور جو وہ مانگ رہے تھے ان کو عطا کردیا اور جس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے میں نے ان کو پناہ عطا کردی۔ نبی  ¿اکرم ﷺ نے فرمایا فرشتے عرض کرتے ہیں کہ  ’’ اے اللہ! ان میں فلاں گناہ گار بندہ وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔   حضور ﷺنے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے   ’’ میں نے اسے بھی معاف کر دیا کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا‘‘۔  ]مسلم جلد 6 ص274 حدیث نمبر6839

      لہٰذا محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا صرف زبان سے درود و سلام پڑھنا نہیں بلکہ آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ اگر ہم سچائی کو اختیار کریں، کمزوروں پر رحم کریں، پڑوسیوں کا خیال رکھیں، اپنی زبان کو برائی سے محفوظ رکھیں، دوسروں کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، علم کی جستجو جاری رکھیں اور ضرورت مند انسانوں کی مدد کریں تو دراصل ہم اسو? رسول ﷺ کو اپنی عملی زندگی میں زندہ کررہے ہوں گے۔

رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا یہی پیغام قرآنِ کریم کے اس جامع فرمان کی عملی تفسیر ہے:

’’بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘

      پس ربیع الاول کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ ہم محبتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنے کردار، اپنے معاملات، اپنی معاشرت، اپنی تعلیم و تربیت اور اپنی خدمتِ انسانیت کے ذریعے ثابت کریں۔ یہی سیرتِ طیبہ کا زندہ پیغام اور یہی اسوہ ¿ حسنہ کی اصل روح ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Loading