Daily Roshni News

کیا قیامت کے دن سورج قریب آجائے گا؟ — صحیح حدیث، حشر اور موجودہ سائنس ۔۔۔تحقیق و ترتیب۔۔۔۔ طارق اقبال سوہدروی

کیا قیامت کے دن سورج قریب آجائے گا؟ — صحیح حدیث، حشر اور موجودہ سائنس

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کیا قیامت کے دن سورج قریب آجائے گا؟ — صحیح حدیث، حشر اور موجودہ سائنس ۔۔۔تحقیق و ترتیب۔۔۔۔ طارق اقبال سوہدروی)قیامت کے مناظر کے حوالے سے صحیح احادیث میں ایک انتہائی خوفناک اور چونکا دینے والی خبر ملتی ہے: قیامت کے دن سورج مخلوق کے بالکل قریب کر دیا جائے گا، اور لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبے ہوں گے۔

آج کی جدید سائنس اور فلکیات ہمیں بتاتی ہے کہ سورج زمین سے تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر دور ہے۔ اس کا درجہ حرارت اور تابکاری (Radiation) اتنی شدید ہے کہ اگر آج کے طبعی حالات (Physical conditions) میں سورج ذرا سا بھی زمین کے قریب آ جائے، تو یہاں زندگی کا تصور ہی ختم ہو جائے۔

تو پھر ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا بالکل فطری ہے کہ صحیح حدیث میں سورج کے قریب کیے جانے کا کیا مطلب ہے؟ کیا قیامت کے دن بھی آج کے طبیعی قوانین (Laws of Physics) اسی طرح قائم رہیں گے؟ اور کیا اس واقعے کو موجودہ فلکیات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے؟ آئیے اسے کھلے ذہن اور دیانتداری کے ساتھ سمجھتے ہیں۔

صحیح مسلم کی روایت کیا کہتی ہے؟

سب سے پہلے حدیث کو اس کی اصل صورت میں دیکھنا ضروری ہے۔ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“قیامت کے دن سورج مخلوق کے قریب کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہوگا۔”

اس حدیث کے ایک راوی سلیم بن عامرؒ کہتے ہیں کہ: “مجھے معلوم نہیں کہ ‘میل’ سے مراد زمین پر فاصلہ ناپنے والا میل ہے، یا آنکھ میں سرمہ لگانے والی سلائی (جسے عربی میں میل کہتے ہیں)۔”

پھر حدیث میں آتا ہے کہ لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبے ہوں گے:

کسی کا پسینہ ٹخنوں تک ہوگا، کسی کا گھٹنوں تک، کسی کی کمر تک، اور کسی کو پسینہ لگام کی طرح منہ تک ڈھانپ لے گا۔

کیا “ایک میل” کو آج کا کلومیٹر سمجھنا چاہیے؟

یہاں ہمیں محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ جب حدیث کے راوی کو خود اس لفظ کے دو مختلف معانی کا احتمال تھا، تو اسے فوراً آج کے 1.6 کلومیٹر والے ‘میل’ میں تبدیل کر دینا درست نہیں۔ اس حدیث کا مقصد ہمیں فلکیات کا کوئی ریاضیاتی فاصلہ بتانا نہیں، بلکہ قیامت کے دن کی غیر معمولی شدت اور ہولناکی کو بیان کرنا ہے۔

اگر سورج اتنا قریب ہو تو انسان زندہ کیسے رہے گا؟

آج کی فزکس کے مطابق یہ اعتراض بالکل درست ہے۔ اگر سورج ہمارے موجودہ سولر سسٹم میں زمین کے قریب آ جائے تو گرمی اس قدر بڑھ جائے گی کہ سمندر خشک ہو جائیں گے، کرۂ ہوائی (Atmosphere) تباہ ہو جائے گا اور کوئی بھی جاندار زندہ نہیں بچ سکے گا۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ہے: کیا قیامت کے دن یہ دنیا اور اس کے قوانین بالکل ایسے ہی رہیں گے جیسے آج ہیں؟

قرآن کا جواب ہے: نہیں۔

قیامت کے دن کائنات کا نیا نظام

قرآن بار بار بتاتا ہے کہ قیامت کے دن موجودہ کائناتی نظام (Cosmic order) درہم برہم ہو جائے گا۔

إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ “جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔” (التکویر: 1)

وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ “اور جب ستارے بے نور ہو کر بکھر جائیں گے۔” (التکویر: 2)

إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ “جب آسمان پھٹ جائے گا۔” (الانفطار: 1)

يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ “جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔” (ابراہیم: 48)

یعنی قیامت آج کی دنیا میں آنے والا کوئی عام قدرتی آفت (Natural disaster) نہیں ہے، بلکہ یہ اس پوری کائنات کے نظام کی بنیادی تبدیلی ہے۔ اس لیے قیامت کے سورج کو آج کے ‘سولر فزکس’ کے قوانین میں زبردستی فٹ کرنا درست نہیں۔

حشر کی زمین اور آخرت کے جسم

صحیح احادیث میں آتا ہے کہ حشر کی زمین ایک سفید، صاف اور بے نشان زمین ہوگی، جو آج کی زمین جیسی نہیں ہوگی۔ اسی طرح، اسلامی عقیدے کے مطابق انسانوں کو نئے سرے سے اٹھایا جائے گا۔ یہ نئے جسم قیامت کی شدت، طویل قیام اور حساب کتاب کے مراحل برداشت کرنے کے قابل ہوں گے۔ اس لیے آج کے انسانی جسم کی حیاتیاتی حدود (Physiological limits) کو آخرت کے جسم پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

پسینہ اعمال کے مطابق کیوں؟

اس حدیث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سب لوگ ایک ہی سطح تک پسینے میں نہیں ہوں گے۔ پسینے کا یہ فرق درجہ حرارت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اعمال کی وجہ سے ہوگا۔ یعنی قیامت کا یہ منظر محض ‘ہیٹ ڈائنامکس’ کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسان کے اخلاقی حساب اور اعمال سے جڑا ہوا ایک روحانی اور غیبی واقعہ ہے۔ اسے صرف فزکس کی نظر سے دیکھنا حدیث کے اصل مقصد کو محدود کر دے گا۔

سائنس اور وحی کا دائرہِ کار

سائنس ہمیں بتا سکتی ہے کہ آج کا سورج کتنا گرم ہے، اس کا فاصلہ کتنا ہے اور زمین پر زندگی کتنی حرارت برداشت کر سکتی ہے۔ لیکن سائنس یہ نہیں بتا سکتی کہ قیامت کب آئے گی، حشر کی زمین کیسی ہوگی، یا دوبارہ اٹھائے جانے والے جسموں کی ساخت کیا ہوگی۔ یہ تجرباتی سائنس کے دائرے سے باہر کے سوالات ہیں۔

کیا ہمیں اس حدیث کو کوئی ‘سائنسی معجزہ’ بنا کر پیش کرنا چاہیے؟ بالکل نہیں۔ یہ کہنا کہ “ناسا نے ثابت کر دیا ہے کہ سورج قریب آ جائے گا”، ایک انتہائی غلط اور غیر علمی رویہ ہوگا۔ یہ خبر ہمیں ٹیلی اسکوپ سے نہیں، بلکہ سچی وحی سے ملی ہے۔ سائنس انسان کے مشاہدے کا نام ہے، اور وحی اللہ کی طرف سے دی گئی غیب کی خبر ہے۔ ایک مسلمان ان دونوں کو مانتا ہے، لیکن دونوں کو آپس میں گڈ مڈ نہیں کرتا۔

اگر اللہ چاہتا تو قیامت ابھی دکھا دیتا!

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر یہ سب سچ ہے تو ابھی کیوں نہیں دکھا دیا جاتا؟ اس کا جواب وہی ہے جو ایمان بالغیب کا ہے۔ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ قرآن فرماتا ہے:

“جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں عمل کے اعتبار سے کون بہتر ہے۔” (الملک: 2)

اگر آخرت کا سارا منظر ابھی لیبارٹری کے تجربے کی طرح سب کے سامنے آ جائے، تو پھر آزمائش کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔

حاصلِ کلام اور اصل سبق

اس حدیث کا مقصد ہمیں یہ سکھانا نہیں ہے کہ سورج قیامت کے دن کتنے کلومیٹر کا سفر طے کرے گا۔ اس کا اصل اور بڑا پیغام یہ ہے کہ انسان کو ایک دن اپنے اعمال کے ساتھ اپنے رب کے حضور کھڑا ہونا ہے۔

وہ ایسا دن ہوگا جب دنیا کا کوئی بھی حفاظتی نظام، دولت، عہدہ یا ٹیکنالوجی انسان کو نہیں بچا سکے گی۔ وہاں نجات کا انحصار صرف اور صرف انسان کے اعمال اور اللہ کی رحمت پر ہوگا۔

ہم صحیح حدیث کی خبر پر پورا ایمان رکھتے ہیں، اپنی طرف سے اس کی کوئی جھوٹی سائنسی تشریح نہیں گھڑتے، اور سائنس سے وہ بات نہیں منواتے جو اس کے دائرے میں ہی نہیں آتی۔ کیونکہ قیامت کوئی عام فلکیاتی پیشگوئی نہیں ہے—یہ اس رب کے حکم سے آنے والا دن ہے جس نے خود اس سورج، زمین اور فزکس کے ان تمام قوانین کو پیدا کیا ہے۔

#قیامت #سورج #حشر #صحیح_حدیث #آخرت #فلکیات #قرآن_اور_حدیث #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں

اہم مراجع:

القرآن الكريم: التکویر: 1–2، الانفطار: 1، ابراہیم: 48، یٰس: 38، الملک: 2

صحیح مسلم: حدیثِ مقداد بن اسودؓ (سورج کے قریب کیے جانے اور پسینے کے درجات کا بیان)

صحیح بخاری و صحیح مسلم: حشر اور آخرت کی زمین سے متعلق احادیث

تفاسیر و شروحات: تفسیر ابن کثیر (آیاتِ قیامت)، شرح صحیح مسلم از امام نوویؒ

سائنس: جدید فلکیات، Solar physics، Sun-Earth distanc

Loading