Daily Roshni News

قرآن کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قرآن کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ

حصہ 42

قرآن اور اطمینانِ قلب — وہ سکون جو دنیا کی کسی چیز سے نہیں ملتا

پچھلی قسط میں ہم نے صبر کی بات کی تھی۔

ہم نے دیکھا کہ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو درد محسوس نہ ہو۔

صبر یہ ہے کہ درد کے باوجود انسان اللہ سے اپنا تعلق نہ توڑے۔

لیکن اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر انسان صبر تو کرلے، مگر دل کا اضطراب ختم نہ ہو تو؟

اگر رات کو آنکھ کھلے اور ذہن میں ہزاروں سوال ہوں؟

اگر مستقبل کا خوف دل کو گھیر لے؟

اگر انسان کے پاس بظاہر سب کچھ ہو، لیکن اندر سے وہ خالی محسوس کرے؟

اگر مال ہو مگر سکون نہ ہو۔

لوگ ہوں مگر تنہائی ہو۔

کامیابی ہو مگر اطمینان نہ ہو۔

تو پھر انسان کہاں جائے؟

قرآن ایک ایسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے جو انسان اکثر پوری زندگی باہر تلاش کرتا رہتا ہے۔

اطمینانِ قلب۔

سکون آخر ہے کہاں؟

انسان سمجھتا ہے:

“جب میرے پاس زیادہ پیسہ ہوگا تو میں پرسکون ہوجاؤں گا۔”

پھر پیسہ آتا ہے۔

لیکن خوف باقی رہتا ہے۔

وہ سوچتا ہے:

“جب اپنا گھر بن جائے گا تو سکون ملے گا۔”

گھر بن جاتا ہے۔

پھر نئے مسائل شروع ہوجاتے ہیں۔

وہ سوچتا ہے:

“جب میری شادی ہوجائے گی تو زندگی مکمل ہوجائے گی۔”

شادی ہوجاتی ہے۔

پھر نئی ذمہ داریاں سامنے آجاتی ہیں۔

وہ سوچتا ہے:

“جب میرے بچے کامیاب ہوجائیں گے تو دل مطمئن ہوجائے گا۔”

بچے بڑے ہوجاتے ہیں۔

لیکن فکر کی ایک نئی شکل پیدا ہوجاتی ہے۔

پھر انسان کو احساس ہوتا ہے:

مسئلہ ہمیشہ حالات کا نہیں تھا۔

کچھ مسئلہ دل کے اندر بھی تھا۔

قرآن کا جواب

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

“خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔”

(سورۃ الرعد: 28)

یہ آیت صرف ایک خوبصورت جملہ نہیں۔

یہ انسان کی پوری اندرونی زندگی کے لیے ایک اصول ہے۔

دنیا ہمیں چیزیں دیتی ہے۔

لیکن:

دل کا حقیقی اطمینان اللہ سے تعلق میں ہے۔

ذکر کا مطلب صرف زبان سے تسبیح پڑھنا نہیں

یہ بات سمجھنا ضروری ہے۔

ذکر یقیناً اللہ کا نام لینا، تسبیح، تہلیل، تکبیر، دعا اور قرآن کی تلاوت ہے۔

لیکن ذکر کا دائرہ اس سے وسیع ہے۔

جب انسان مشکل میں اللہ کو یاد کرتا ہے:

ذکر۔

جب نعمت ملنے پر “الحمدللہ” کہتا ہے:

ذکر۔

جب گناہ کا موقع ہو اور اللہ کو یاد کرکے رک جاتا ہے:

ذکر۔

جب فیصلہ کرتے ہوئے اللہ سے رہنمائی مانگتا ہے:

ذکر۔

جب مصیبت میں اللہ پر اعتماد کرتا ہے:

ذکر۔

یعنی ذکر صرف زبان کی حرکت نہیں۔

دل کی سمت بھی ہے۔

دل بے چین کیوں ہوتا ہے؟

کیونکہ انسان کا دل ہمیشہ کسی نہ کسی چیز سے وابستہ رہنا چاہتا ہے۔

اگر وہ اللہ سے جڑ جائے تو اسے ایک مضبوط مرکز مل جاتا ہے۔

لیکن اگر وہ:

مال،

شہرت،

لوگوں کی تعریف،

کسی انسان،

نوکری،

کاروبار،

یا مستقبل

کو اپنا آخری سہارا بنا لے تو خوف پیدا ہوسکتا ہے۔

کیونکہ دنیا کی ہر چیز بدلنے والی ہے۔

جس چیز کو آپ کھونے سے ڈرتے ہیں

ذرا اپنے دل سے پوچھیں:

“مجھے سب سے زیادہ کس چیز کے چھن جانے کا خوف ہے؟”

پیسہ؟

کاروبار؟

نوکری؟

صحت؟

رشتہ؟

اولاد؟

عزت؟

شہرت؟

پھر دوسرا سوال:

“اگر یہ چیز مجھ سے چھن جائے تو کیا میری زندگی ختم ہوجائے گی؟”

مومن کا جواب ہونا چاہیے:

نہیں۔

کیونکہ میری اصل وابستگی اللہ سے ہے۔

حضرت ابراہیمؑ اور دل کا اطمینان

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا:

> رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ

“اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔”

اللہ تعالیٰ نے پوچھا:

> أَوَلَمْ تُؤْمِن

“کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟”

انہوں نے عرض کیا:

> بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي

“کیوں نہیں، لیکن اس لیے کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہوجائے۔”

(سورۃ البقرۃ: 260)

یہاں ایک نہایت خوبصورت حقیقت سامنے آتی ہے۔

حضرت ابراہیمؑ کا ایمان تھا۔

لیکن انہوں نے اطمینانِ قلب کی خواہش بھی ظاہر کی۔

یعنی ایمان اور دل کے اطمینان کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے۔

ایمان صرف معلومات نہیں

کسی چیز کے بارے میں جاننا ایک بات ہے۔

اور اسے دل میں محسوس کرنا دوسری۔

آپ جانتے ہیں کہ اللہ رزق دینے والا ہے۔

لیکن جب کاروبار میں نقصان ہوتا ہے تو کیا دل بھی اسی یقین پر قائم رہتا ہے؟

آپ جانتے ہیں کہ اللہ مددگار ہے۔

لیکن مشکل وقت میں کیا دل گھبراہٹ کے بجائے اللہ کی طرف جاتا ہے؟

یہیں ایمان کا عملی امتحان ہوتا ہے۔

دل کو سکون چیزوں سے نہیں، تعلق سے ملتا ہے

ایک شخص کے پاس بہت کم مال ہے۔

لیکن وہ اللہ سے جڑا ہوا ہے۔

دوسرے کے پاس بہت مال ہے۔

لیکن وہ ہر وقت خوف میں ہے:

“اگر میرا پیسہ ختم ہوگیا تو؟”

“اگر کاروبار ڈوب گیا تو؟”

“اگر لوگ مجھ سے آگے نکل گئے تو؟”

پہلے شخص کے پاس کم ہوسکتا ہے۔

لیکن دل میں اطمینان زیادہ ہوسکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام مال سے منع کرتا ہے۔

بلکہ مسئلہ یہ ہے:

مال ہاتھ میں ہو، دل میں نہیں۔

سکون اور بے فکری میں فرق

اطمینان کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

ایک مطمئن انسان بھی پریشان ہوسکتا ہے۔

وہ بھی رو سکتا ہے۔

وہ بھی بیمار ہوسکتا ہے۔

وہ بھی مالی مشکل دیکھ سکتا ہے۔

لیکن فرق یہ ہے:

مسئلہ اس کے اندر پورا گھر نہیں بنا لیتا۔

وہ مشکل کو دیکھتا ہے۔

مگر مشکل کے پیچھے اللہ کو بھی دیکھتا ہے۔

رات کی تنہائی

کبھی رات کو سب سو جاتے ہیں۔

موبائل خاموش ہوتا ہے۔

دن کی مصروفیات ختم ہوجاتی ہیں۔

اور انسان اکیلا اپنے خیالات کے ساتھ رہ جاتا ہے۔

اسی وقت بہت سے خوف سامنے آتے ہیں۔

ماضی۔

مستقبل۔

رشتے۔

پیسہ۔

ناکامیاں۔

غلطیاں۔

اگر انسان اس وقت صرف موبائل کھول کر اپنے ذہن کو مزید مصروف کرے تو شاید کچھ دیر کے لیے توجہ ہٹ جائے۔

لیکن دل کی اصل ضرورت باقی رہتی ہے۔

کبھی اسی تنہائی کو اللہ کے ساتھ گفتگو میں بدل کر دیکھیں۔

دو رکعت نماز۔

چند آیات۔

کچھ استغفار۔

اور دل کی سچی دعا۔

یہ وہ وقت ہوسکتا ہے جہاں انسان کو دنیا نہیں بلکہ:

اپنا رب چاہیے۔

قرآن دل سے کیا کرتا ہے؟

قرآن صرف معلومات نہیں دیتا۔

وہ انسان کی سوچ کو درست کرتا ہے۔

وہ اسے یاد دلاتا ہے:

تم اکیلے نہیں۔

تمہارا رب جانتا ہے۔

تمہارا رب دیکھتا ہے۔

تمہارا رب سنتا ہے۔

تمہاری زندگی بے مقصد نہیں۔

تمہاری آزمائش بے معنی نہیں۔

اور دنیا آخری منزل نہیں۔

یہ یقین دل کے اندر ایک نئی بنیاد بناتا ہے۔

ایک خطرناک عادت

جب انسان پریشان ہوتا ہے تو فوراً موبائل اٹھاتا ہے۔

پھر ویڈیوز۔

پھر سوشل میڈیا۔

پھر خبریں۔

پھر لوگوں کی زندگیاں۔

پھر موازنہ۔

پھر مزید بے چینی۔

کبھی آپ نے غور کیا؟

ہم دل کے سکون کے لیے ایسی چیزیں استعمال کررہے ہوتے ہیں جو خود ذہن کو مزید شور سے بھر دیتی ہیں۔

خاموشی بھی ضروری ہے

ہر وقت معلومات حاصل کرنا ضروری نہیں۔

ہر وقت کسی سے بات کرنا ضروری نہیں۔

ہر وقت اسکرین دیکھنا ضروری نہیں۔

کبھی خاموش بیٹھیں۔

اپنی سانس محسوس کریں۔

اپنے خیالات کو دیکھیں۔

پھر اللہ کو یاد کریں۔

اپنے دل سے کہیں:

“یا اللہ! میں ہر چیز کو کنٹرول نہیں کرسکتا، لیکن تو ہر چیز پر قادر ہے۔”

یہ جملہ دل کو بہت کچھ سکھاتا ہے۔

ذکر اور ذہنی سکون

جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کا دھیان بار بار ایک مرکزی حقیقت کی طرف واپس آتا ہے:

اللہ۔

دنیا کے بے شمار خدشات کے درمیان دل کو ایک مرکز ملتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذکر کو اطمینانِ قلب کے ساتھ جوڑا۔

لیکن ذکر کو صرف ایک رسمی عمل نہ بنائیں۔

جب “الحمدللہ” کہیں تو واقعی نعمت یاد کریں۔

جب “استغفراللہ” کہیں تو واقعی اپنی غلطی یاد کریں۔

جب “حَسْبِيَ اللَّهُ” کہیں تو واقعی اللہ پر بھروسہ کریں۔

الفاظ اور دل کو قریب لائیں۔

جب دل ٹوٹ جائے

کبھی انسان کسی انسان سے بہت امید لگاتا ہے۔

پھر وہ انسان اسے مایوس کردیتا ہے۔

کبھی دوست۔

کبھی شریکِ حیات۔

کبھی رشتہ دار۔

کبھی کاروباری ساتھی۔

کبھی کوئی ایسا شخص جس پر آپ نے پورا اعتماد کیا تھا۔

دل ٹوٹتا ہے۔

لیکن شاید یہ لمحہ ایک حقیقت سکھاتا ہے:

انسان سہارا ہوسکتا ہے، آخری سہارا نہیں۔

آخری سہارا اللہ ہے۔

لوگوں کی محبت اچھی ہے

اسلام ہمیں لوگوں سے محبت کرنے سے نہیں روکتا۔

محبت کریں۔

دوست بنائیں۔

رشتے نبھائیں۔

والدین سے محبت کریں۔

اولاد سے محبت کریں۔

اپنے شریکِ حیات سے محبت کریں۔

لیکن ایک توازن رکھیں:

محبت کرو، عبادت نہ کرو۔

یعنی کسی انسان کو اپنی زندگی کا ایسا مرکز نہ بنا دو کہ اس کے بغیر اللہ کو بھول جاؤ۔

جب انسان آپ کو چھوڑ دے

اگر کوئی آپ کو چھوڑ دے تو درد ہوگا۔

اس درد کو محسوس کریں۔

اسے تسلیم کریں۔

لیکن اپنے آپ سے کہیں:

“وہ شخص میری زندگی کا ایک حصہ تھا، میری پوری زندگی نہیں۔”

اور:

“میرا رب میرے ساتھ ہے۔”

یہ جملہ دل کو دوبارہ زمین پر کھڑا کرسکتا ہے۔

سکون اور معافی

کبھی دل میں کسی کے خلاف غصہ ہوتا ہے۔

آپ اسے بار بار یاد کرتے ہیں۔

وہ شخص شاید اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا ہے۔

لیکن آپ کا دل اسی واقعے میں پھنسا ہوا ہے۔

یہاں معافی صرف دوسرے کے لیے نہیں۔

کبھی:

اپنے دل کی آزادی کے لیے بھی ہوتی ہے۔

معاف کرنا ہمیشہ یہ نہیں کہ آپ دوبارہ اسی شخص پر اعتماد کریں۔

بلکہ یہ ہوسکتا ہے کہ:

آپ اپنے دل کو ماضی کی قید سے آزاد کردیں۔

اطمینان اور شکر

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

“اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔”

(سورۃ ابراہیم: 7)

شکر صرف زیادہ نعمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔

شکر انسان کی نظر بدل دیتا ہے۔

جو شخص صرف یہ دیکھتا ہے کہ:

“میرے پاس کیا نہیں”

وہ پریشان رہتا ہے۔

جو دیکھتا ہے:

“میرے پاس کیا ہے”

وہ شکر سیکھتا ہے۔

ایک شکر کی مشق

آج رات سونے سے پہلے صرف پانچ چیزیں لکھیں جن پر آپ اللہ کا شکر ادا کرسکتے ہیں۔

مثلاً:

میری سانس۔

میرا ایمان۔

میرا گھر۔

میرا خاندان۔

آج کا کھانا۔

پھر سوچیں:

دنیا میں کتنے لوگ ان بنیادی نعمتوں کے لیے بھی ترس رہے ہیں؟

شاید آپ کے پاس وہ چیزیں موجود ہیں جنہیں آپ نے کبھی نعمت سمجھا ہی نہیں۔

اطمینان کا مطلب یہ نہیں کہ خواہشیں ختم ہوجائیں

انسان کی خواہشات رہیں گی۔

آپ بہتر زندگی چاہیں گے۔

زیادہ رزق چاہیں گے۔

کامیابی چاہیں گے۔

اپنے بچوں کا اچھا مستقبل چاہیں گے۔

یہ سب فطری ہے۔

لیکن اطمینان یہ ہے:

خواہش پوری نہ ہونے پر انسان اللہ سے نفرت نہ کرے۔

وہ کوشش کرے۔

دعا کرے۔

پھر اگر نتیجہ مختلف ہو تو کہے:

“میرے رب کا علم میرے علم سے بڑا ہے۔”

دل کا سب سے بڑا خوف

شاید انسان کا سب سے بڑا خوف یہ ہے:

“اگر سب کچھ مجھ سے چھن گیا تو میرے پاس کیا بچے گا؟”

قرآن کا جواب ہے:

اگر دنیا کی چیزیں چلی جائیں، تب بھی:

اللہ باقی ہے۔

اور جب اللہ باقی ہے تو امید باقی ہے۔

اسی لیے مومن کا آخری سہارا دنیا نہیں۔

رب العالمین ہے۔

سکون کا ایک قرآنی راستہ

جب دل بے چین ہو تو یہ پانچ کام آزما سکتے ہیں:

1۔ وضو کریں۔

2۔ دو رکعت نماز پڑھیں۔

3۔ قرآن کی چند آیات ترجمے کے ساتھ پڑھیں۔

4۔ اپنے دل کی بات اللہ کے سامنے رکھیں۔

5۔ پھر اپنی ذمہ داری کا اگلا چھوٹا قدم اٹھائیں۔

یاد رکھیں:

عبادت انسان کو دنیا سے بھاگنے کے لیے نہیں۔

دنیا کا سامنا بہتر طریقے سے کرنے کے لیے بھی مضبوط کرتی ہے۔

اگر دل پھر بھی بے چین رہے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر اضطراب چند اذکار سے فوراً ختم نہیں ہوجاتا۔

کبھی انسان طویل عرصے تک پریشانی میں رہتا ہے۔

ایسے وقت میں عبادت کے ساتھ عملی اسباب بھی اختیار کریں۔

اپنی زندگی کے مسائل کو سمجھیں۔

قابلِ اعتماد لوگوں سے بات کریں۔

اپنے معمولات درست کریں۔

ضرورت ہو تو ماہر سے مدد لیں۔

اسلام عملی اسباب اختیار کرنے سے نہیں روکتا۔

بلکہ:

دعا اور تدبیر دونوں کو ساتھ رکھتا ہے۔

اصل اطمینان

حقیقی اطمینان شاید یہ نہیں کہ:

“میری زندگی میں کوئی مسئلہ نہیں۔”

بلکہ:

“میری زندگی میں مسئلے ہوسکتے ہیں، لیکن میں ان کے درمیان اپنے رب کو نہیں کھوؤں گا۔”

یہ بہت بڑا فرق ہے۔

ایک شخص اور دو زندگیوں کا تصور

پہلا شخص:

بہت کچھ رکھتا ہے۔

لیکن ہر وقت ڈرتا ہے کہ کہیں چھن نہ جائے۔

دوسرا شخص:

کم رکھتا ہے۔

لیکن شکر کرتا ہے۔

دعا کرتا ہے۔

اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔

رات کو سکون سے سوتا ہے۔

دونوں کے حالات ایک جیسے نہیں۔

لیکن:

دلوں کی حالت مختلف ہے۔

آج اپنے دل سے یہ سوال پوچھیں

1۔ میں سکون کہاں تلاش کررہا ہوں؟

2۔ اگر میری سب سے بڑی خواہش پوری نہ ہو تو کیا میرا اللہ سے تعلق قائم رہے گا؟

3۔ کیا میں ہر پریشانی کا حل صرف دنیاوی چیزوں میں تلاش کرتا ہوں؟

4۔ میری زندگی میں قرآن کے لیے روزانہ کتنا وقت ہے؟

5۔ کیا میں اللہ کو صرف مشکل وقت میں یاد کرتا ہوں یا آسانی میں بھی؟

6۔ کون سی چیز میرے دل پر سب سے زیادہ قبضہ کیے ہوئے ہے؟

ایک خاموش تجربہ

آج دس منٹ کے لیے موبائل ایک طرف رکھ دیں۔

کوئی ویڈیو نہیں۔

کوئی موسیقی نہیں۔

کوئی سوشل میڈیا نہیں۔

صرف خاموشی۔

پھر قرآن کھولیں۔

چند آیات پڑھیں۔

ان کا ترجمہ پڑھیں۔

اور اپنے آپ سے پوچھیں:

“اللہ مجھے آج کیا سمجھانا چاہتا ہے؟”

ہوسکتا ہے دس منٹ میں دنیا نہ بدلے۔

لیکن:

آپ کے اندر کچھ بدلنا شروع ہوجائے۔

آخر میں

انسان پوری زندگی سکون تلاش کرتا ہے۔

کبھی پیسے میں۔

کبھی شہرت میں۔

کبھی محبت میں۔

کبھی کامیابی میں۔

کبھی سفر میں۔

کبھی تفریح میں۔

لیکن یہ سب چیزیں اپنی جگہ خوبصورت ہونے کے باوجود دل کی آخری ضرورت پوری نہیں کرسکتیں۔

کیونکہ دل ایک ایسی حقیقت چاہتا ہے جو:

نہ بدلتی ہو۔

نہ چھنتی ہو۔

نہ ختم ہوتی ہو۔

اور وہ ہے:

اللہ سے تعلق۔

اسی لیے قرآن کہتا ہے:

> أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

خبردار!

اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

ایک جملہ ہمیشہ یاد رکھیں

“سکون حالات کے کامل ہوجانے کا نام نہیں؛ سکون یہ یقین ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، میرا رب میرے ساتھ ہے۔”

Loading