Daily Roshni News

ایاز کی فراست

ایاز کی فراست

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)آدمی کی خوبیاں ہی بعض اوقات اس کی دشمن بن جاتی ہیں۔ ایاز کی ذہانت، دیانت و امانت اور اپنے آقا کے ساتھ وابستگی، کامل فرمانبرداری ایسے اعمال تھے جنہوں نے تمام ارکانِ دولت کو اس کا دشمن بنا دیا تھا۔ ایاز کے خلاف ان کے دلوں میں کدورت، بغض اور حسد کا مادہ روز بروز بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اُدھر سلطان کا لطف و کرم اور جود و سخا ایاز کے حق میں بڑھ رہا تھا۔ ایک دن بد باطن امراء نے بادشاہ سے عرض کی کہ ہم غلاموں کی ناقص عقل میں یہ بات نہیں آرہی کہ آپ ایک معمولی غلام ایاز کی عقل و بصیرت پر کیوں کر یقین رکھتے ہیں۔

​سلطان نے اس وقت کوئی جواب نہ دیا اور مسلسل اس معاملے میں خاموش رہا۔ چند دنوں بعد دربار کے ان حاسد امراء کو ساتھ لے کر جنگل اور پہاڑوں کی طرف نکلا۔ کوسوں میل دُور ایک قافلہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ سلطان نے ایک امیر کو حکم دیا گھوڑے پر تیزی سے جاؤ اور قافلے والوں سے پوچھو کہ کہاں سے آئے ہو؟ وہ امیر سلطان کے حکم کی تعمیل میں گیا اور کچھ دیر بعد واپس آ کر بتایا کہ قافلہ شہر ”رے“ سے آیا ہے۔ سلطان نے پوچھا قافلے والوں کی منزل مقصود کیا ہے؟ اس کا جواب امیر نہ دے سکا۔ سلطان نے ​دوسرے امیر سے کہا۔ ”اب تم جاؤ اور پوچھو کہ کارواں کدھر جائے گا۔؟ دوسرا امیر جواب لایا کہ ان کا ارادہ یمن کا ہے۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا ان کا ساز و سامان کیا ہے۔ اس بات کا جواب وہ نہ دے سکا۔ وزیر حیران ہوا کہ یہ تو اس نے معلوم ہی نہیں کیا۔ بادشاہ نے ایک اور امیر کو بھیجا اور حکم دیا کہ دریافت کر کے آؤ کہ ان کے پاس کیا سامان ہے؟ اس نے واپس آ کر کہا کہ ان کا سامان ”رے“ کے برتن ہیں۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا وہ قافلہ ”رے“ شہر سے کب نکلا تھا؟ وہ امیر اس سوال کا جواب دینے سے عاجز رہا۔ بادشاہ نے ایک اور وزیر کو بھیجا تا کہ وہ معلوم کرے کہ انہوں نے سفر کب شروع کیا۔؟ اس نے واپس آکر بتایا کہ ساتویں رجب کو یہ قافلہ ”رے“ سے روانہ ہوا۔ اور ساتھ ہی بادشاہ نے یہ بھی پوچھا کہ ”رے“ شہر میں اشیاء کا بھاؤ کیا ہے۔ وہ سلطان کے سوال کا جواب دینے سے عاجز رہا۔ اسی طرح بادشاہ نے تیس سرداروں کو بھیجا اور ایک ایک سوال دریافت کیا ان میں سے ہر ایک نے اسی ایک ہی سوال کا جواب معلوم کیا اور واپس آ گیا۔

​غرض سب امیر ناقص العقل اور پریشان ذہن ثابت ہوئے قافلے والوں کا پورا حال کسی نے جاننے کی زحمت گوارا نہ کی۔ اس مشاہدے کے بعد سلطان نے ان بد باطن امراء سے کہا تم لوگ ایاز پر اعتراض کرتے ہو کہ وہ اتنا منظورِ نظر کیوں ہے۔ سلطان نے ان پر ایک معنی خیز نظر ڈالی اور کہا میں تم سے پہلے ایاز کا امتحان لے چکا ہوں میں نے اس کو یہ دریافت کرنے کیلئے بھیجا کہ قافلہ کہاں سے آیا ہے۔ وہ گیا اور قافلے کا سارا حال دریافت کر کے واپس آیا میں نے اس سے جو سوال کیا اس نے تسلی بخش جواب دیا جو معلومات تم تیسں آدمیوں نے تیسں پھیروں میں فراہم کیں۔ اب تمھیں پتا چل گیا کہ میں اس کی اتنی قدر کیوں کرتا ہوں۔ یہ سُن کر سب امیروں کے چہرے شرم سے پانی پانی ہو گئے۔ انہوں نے اپنی گستاخی کی معافی چاہتے ہوئے کہا کہ بے شک ہم ایاز کی برابری نہیں کر سکتے۔

​ایاز کی فراست، قابلیت، ذہانت دادِ خدا دادی تھی۔

​درسِ حیات:

حسد ایک بیماری ہے اس سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ

کتاب. حکایتِ رومیؒ

“اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا” (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے

خدا کا پاکستانی چینل

تصوف کی دنیا

Khuda Ka Pakistani Channel

Tasawuf Ki Dunya

Loading