قرآن کے الفاظ… جو ترجمے میں چھپ جاتے ہیں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حصہ اوّل: زوج اور امرأة — قرآن نے ایک ہی رشتے کے لیے دو الفاظ کیوں استعمال کیے؟قرآن مجید کا ایک عجیب حسن یہ ہے کہ کبھی ایک معمولی سا لفظ انسان کو رک کر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ہم قرآن پڑھتے ہیں، ترجمہ پڑھتے ہیں، اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن اگر ذرا ٹھہر کر دیکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے: *قرآن نے شوہر یا بیوی کے لیے کبھی “زوج” کہا اور کبھی “امرأة”… ایسا کیوں؟* کیا دونوں بالکل ایک ہی معنی رکھتے ہیں؟ یا لفظ کے انتخاب میں کوئی لطیف فرق بھی ہے؟
اور سب سے اہم سوال:
*کیا یہ مشہور بات درست ہے کہ قرآن میں “زوج” خوشگوار ازدواجی تعلق کے لیے اور “امرأة” خراب ازدواجی تعلق کے لیے استعمال ہوتا ہے؟* آج ہم اسی سوال کو جذبات سے نہیں بلکہ *قرآن، عربی لغت اور قرآنی سیاق* کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اور ابتدا ہی میں ایک بات واضح کر دینا ضروری ہے: *ہم ایسا کوئی قاعدہ قرآن پر مسلط نہیں کریں گے جو خود قرآن کے تمام مقامات پر ثابت نہ ہو۔* یہ احتیاط اس لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر اس موضوع کے بارے میں ایک بہت خوبصورت مگر حد سے زیادہ عمومی دعویٰ گردش کرتا ہے کہ “زوج” ہمیشہ ایسی بیوی کے لیے آتا ہے جس سے ازدواجی ہم آہنگی ہو، جبکہ “امرأة” وہاں آتا ہے جہاں میاں بیوی کے درمیان فکری یا ایمانی تعلق باقی نہ رہا ہو۔ یہ بات بعض قرآنی مثالوں میں بہت خوبصورت طور پر نظر آتی ہے، لیکن *یہ ہر مقام پر قطعی اصول نہیں بنتی۔* اور قرآن کے ساتھ علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ جہاں بات ثابت ہو وہاں اسے یقین سے کہیں، اور جہاں صرف ایک لطیف احتمال ہو وہاں اسے احتمال ہی کہیں۔
سب سے پہلے: “زوج” کا اصل مفہوم کیا ہے؟
عربی کا لفظ *زَوْج* مادہ *ز و ج* سے ہے۔ اس کا بنیادی مفہوم صرف “بیوی” نہیں۔ عربی لغت میں *زوج* اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسری چیز کے ساتھ *جوڑی، قرین یا ہم پلہ* ہو۔ عربی زبان کے معتبر لغوی ماخذ کے مطابق زوج کا بنیادی تصور *دو چیزوں کا ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا یا قرین ہونا* ہے؛ اسی لیے شوہر بھی زوج ہے اور بیوی بھی زوج۔ یعنی: *زوج = جوڑی کا ایک رکن، قرین، ساتھی، ہم پلہ*
اسی مادے سے: *ازدواج* *زواج* *تزویج* جیسے الفاظ بنتے ہیں۔ اور قرآن میں بھی *زوج* کا استعمال صرف میاں بیوی کے لیے نہیں ہوا۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ* “اور ہم نے ہر چیز کی دو قسمیں پیدا کیں۔” سورۃ الذاریات، ۵۱:۴۹ یہاں *زوجین* کا مطلب میاں بیوی نہیں بلکہ *دو جوڑے/دو قرین* کے مفہوم میں ہے۔ اسی طرح قرآن میں *ازواج* مختلف انواع اور جوڑوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا لفظ *زوج* کے اندر بنیادی تصور ہی *رابطہ، جوڑی اور قرینیت* کا ہے۔
پھر جب بیوی کے لیے “زوج” کہا جائے تو؟
یہاں ایک خوبصورت بات سامنے آتی ہے۔ عربی میں شوہر بھی *زوج* ہے اور بیوی بھی *زوج*۔ کیونکہ لفظ بنیادی طور پر *ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے جوڑے* کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ قرآن حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے: وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ “اور ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔” سورۃ البقرۃ، ۲:۳۵ یہاں حضرت حوا علیہا السلام کے لیے *زوج* کا لفظ آیا۔ یعنی قرآن نے انہیں صرف ایک عورت کے طور پر نہیں بلکہ *آدم علیہ السلام کی زوج، ان کی قرینہ اور ازدواجی ساتھی* کے طور پر بیان کیا۔ اسی طرح سورۃ الاعراف میں فرمایا: يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ سورۃ الاعراف، ۷:۱۹ یہاں بھی یہی لفظ ہے۔
لیکن قرآن میں “امرأة” بھی ہے
اب آئیے دوسرے لفظ کی طرف۔ *امرأة* عربی میں بنیادی طور پر *عورت، عورتِ مخصوص یا ایک عورت* کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ بھی بیوی کے معنی میں آتا ہے۔ مثلاً حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ “اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی کی مثال بیان فرمائی۔” سورۃ التحریم، ۶۶:۱۰ اور حضرت لوط علیہ السلام کے بارے میں: وَامْرَأَتَ لُوطٍ “اور لوط کی بیوی۔” سورۃ التحریم، ۶۶:۱۰ یہاں ایک بہت اہم بات سامنے آتی ہے۔ قرآن نے دونوں عورتوں کو *امرأة* کہا۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے شوہر نبی تھے، مگر وہ *ایمان میں اپنے شوہروں کی شریک نہیں تھیں*۔ حضرت نوح علیہ السلام ایمان پر تھے۔ ان کی بیوی ایمان پر نہ تھیں۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ کے نبی تھے۔ ان کی بیوی ان کی دعوت اور ایمان میں شریک نہ تھیں۔ قرآن نے دونوں کو پوری وضاحت سے ایک دوسرے سے الگ کر دیا: فَخَانَتَاهُمَا “پس ان دونوں نے ان سے خیانت کی۔” سورۃ التحریم، ۶۶:۱۰
یہاں “خیانت” سے مراد ازدواجی بے وفائی نہیں، بلکہ *دین اور دعوت کے معاملے میں خیانت* ہے؛ مفسرین نے اسی مفہوم کی وضاحت کی ہے۔ یہ مثال یقیناً ہمیں *زوج* اور *امرأة* کے استعمال میں ایک نہایت گہری معنوی کیفیت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ لیکن ابھی ہم حتمی اصول قائم نہیں کریں گے۔ کیونکہ قرآن خود ہمیں آگے کچھ ایسی مثالیں دکھائے گا جو ہماری سادہ تقسیم کو چیلنج کرتی ہیں۔
فرعون کی بیوی: ایک حیران کن مثال
اب ذرا اس عورت کو دیکھیے جس کا شوہر تاریخ کے بدترین ظالموں میں شمار ہوتا ہے۔ فرعون۔ اور اس کی بیوی؟ وہ ایمان لے آئی۔ قرآن فرماتا ہے: وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ “اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی۔” سورۃ التحریم، ۶۶:۱۱ ذرا رک کر دیکھیے: فرعون کی بیوی کے لیے بھی لفظ *امرأة* آیا۔ حالانکہ وہ ایک عظیم مومنہ تھی۔ وہ اللہ سے دعا کرتی ہے: رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ “اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔” سورۃ التحریم، ۶۶:۱۱ یہاں مشہور سوشل میڈیا والا اصول ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ: امرأة = خراب ازدواجی تعلق تو فرعون کی بیوی اس اصول کو قبول نہیں کرتی۔ وہ ایمان کی بلند ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ قرآن میں *امرأة ہمیشہ خراب ازدواجی تعلق کی علامت ہے۔*
تو پھر “امرأة” کا انتخاب کیوں؟
یہاں ہمیں ایک زیادہ محتاط اور خوبصورت فہم کی طرف جانا ہوگا۔ *زوج* میں لفظی طور پر “قرینیت، جوڑی اور ازدواجی نسبت” کا تصور موجود ہے۔ جبکہ *امرأة* ایک عورت کو بطور *فرد* بھی نمایاں کر سکتا ہے۔ فرعون کی بیوی کو دیکھیں۔ وہ فرعون کی زوجیت کے رشتے میں ضرور ہے، لیکن ایمان کے معاملے میں وہ *فرعون کا حصہ نہیں*۔ فرعون کفر کی علامت ہے۔ وہ ایمان کی علامت ہے۔ ایک ہی گھر۔ ایک ہی شوہر۔ مگر دو بالکل مختلف راستے۔ قرآن نے اسے *امرأة فرعون* کہا اور اسی کے فوراً بعد اسے *ایمان والوں کے لیے مثال* بنا دیا۔ یہاں لفظ کا انتخاب کم از کم ہمیں اس حقیقت پر غور کرنے کی دعوت ضرور دیتا ہے کہ: *ازدواجی رشتہ انسان کے ایمان اور کردار کی ضمانت نہیں ہوتا۔*
اور یہی قرآن کا ایک بہت بڑا سبق ہے
ایک نبی کی بیوی ہو کر بھی کوئی عورت ایمان سے محروم ہوسکتی ہے۔ اور ایک ظالم بادشاہ کی بیوی ہو کر بھی کوئی عورت اللہ کی مقبول بندی بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے قیامت کے لیے بھی ایک حیران کن حقیقت بیان کی: *رشتہ انسان کو نہیں بچائے گا۔* انسان اپنے ایمان اور اپنے عمل کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اسی لیے نوح علیہ السلام کی بیوی اپنے نبی شوہر کی نسبت سے نجات نہ پا سکی۔ اور فرعون کی بیوی اپنے کافر شوہر کی وجہ سے ہلاک نہیں ہوئی۔ *شوہر اور بیوی کا رشتہ دنیا میں بہت بڑا رشتہ ہے، لیکن اللہ کے سامنے انسان کی آخری شناخت اس کا ایمان اور عمل ہے۔* یہ نکتہ “زوج” اور “امرأة” کے مطالعے کو محض عربی الفاظ کی بحث سے کہیں آگے لے جاتا ہے۔
لیکن اب ایک اہم سوال باقی ہے
اگر *امرأة* ہمیشہ خراب ازدواجی تعلق کی علامت نہیں… تو پھر قرآن میں حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی بیویوں کے لیے *امرأة* کیوں آیا؟ اور اگر *زوج* ہمیشہ مثالی ازدواجی تعلق کا نشان نہیں… تو قرآن کے دوسرے مقامات ہمیں کیا بتاتے ہیں؟ یہیں سے اصل تحقیق شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن میں حضرت زکریا علیہ السلام کی اہلیہ کے لیے بھی *امرأة* آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا “اور میری بیوی بانجھ ہے۔” سورۃ مریم، ۱۹:۵ حضرت زکریا علیہ السلام اپنی اہلیہ کے بارے میں دعا کر رہے ہیں۔ یہاں نہ کفر ہے۔ نہ دشمنی۔ نہ ازدواجی خیانت۔ نہ کوئی خراب تعلق۔ بلکہ ایک نبی اپنی اہلیہ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور اللہ سے اولاد کی دعا کر رہے ہیں۔ تو پھر یہاں *امرأة* کیوں؟ یہ مثال ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے آسان فارمولے سے آگے بڑھیں۔
ایک اور اہم مثال: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ
جب فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری دی تو قرآن فرماتا ہے: وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ “اور ان کی بیوی کھڑی ہوئی تھیں، پس وہ ہنس پڑیں، تو ہم نے انہیں اسحاق کی خوشخبری دی۔” سورۃ ہود، ۱۱:۷۱ یہاں بھی *امرأتُه* آیا۔ یہ کوئی خراب ازدواجی تعلق کا واقعہ نہیں۔ بلکہ اللہ کی رحمت، خوشخبری اور ایک نیک گھرانے میں اولاد کی عطا کا واقعہ ہے۔ اب ہمارے سامنے ایک بہت خوبصورت علمی حقیقت آتی ہے: *لفظ “امرأة” کو صرف “خراب بیوی” کا مترادف بنا دینا درست نہیں۔*
تو پھر اصل فرق کہاں ہے؟
اب تک کی گفتگو سے ایک محتاط نتیجہ سامنے آتا ہے: *زوج* کا لفظ اپنے اندر *جوڑی، قرینیت اور ازدواجی نسبت* کا بنیادی مفہوم رکھتا ہے۔ *امرأة* عورت کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ہے جو سیاق کے مطابق بیوی کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن دونوں الفاظ استعمال کرتا ہے۔ کبھی ایک ہی عورت کو اس کے ازدواجی تعلق کے حوالے سے بیان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، کبھی اس کی شخصیت یا کسی خاص واقعے کے حوالے سے۔ اور قرآن کے الفاظ کو سمجھنے کے لیے صرف لفظ نہیں بلکہ **پورا جملہ، پورا واقعہ اور پورا سیاق** دیکھنا ضروری ہے۔
مگر یہاں ایک حیرت انگیز سوال پیدا ہوتا ہے…
اگر *زوج* اور *امرأة* کے درمیان فرق اتنا سادہ نہیں جتنا عام طور پر بتایا جاتا ہے… تو پھر قرآن نے: *حضرت آدم علیہ السلام کی بیوی کو زوج کہا،* *حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کو امرأة کہا،* *حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کو امرأة کہا،* *فرعون کی بیوی کو امرأة کہا،* *حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی کو امرأة کہا،* *اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کو بھی امرأة کہا…* تو کیا ان تمام مقامات میں لفظ کے انتخاب کے پیچھے *مختلف سیاقی جہتیں* ہیں؟ اور کیا کہیں ایسا بھی ہے کہ *زوج* صرف ازدواجی نسبت کو نہیں بلکہ ایک مکمل “جوڑی” یا “قرینیت” کو نمایاں کرتا ہو؟ *یہ سوال ہمارے اگلے کینوس کا اصل دروازہ ہے۔*
ایک بات جو اس پوری تحقیق میں یاد رکھنی چاہیے
قرآن کی زبان کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ ہم پہلے ایک قاعدہ بنائیں اور پھر آیات کو اس قاعدے میں فٹ کریں۔ بلکہ: *پہلے قرآن کے تمام متعلقہ مقامات جمع کریں، پھر سیاق دیکھیں، پھر عربی لغت دیکھیں، پھر مفسرین کی گفتگو دیکھیں، اور آخر میں نتیجہ اخذ کریں۔* یہی طریقہ ہمیں خوبصورت مگر غیر ثابت شدہ “قرآنی رازوں” سے محفوظ رکھے گا۔ اور شاید یہی قرآن کے ساتھ علمی محبت کا تقاضا بھی ہے۔
حصہ دوم: *زوج اور امرأة — رشتہ ایک، مگر قرآن کا زاویۂ نظر مختلف کیوں؟*
پہلے میں ہم نے ایک بہت اہم بات واضح کی تھی: “زوج” اور “امرأة” کو محض “اچھی بیوی” اور “بری بیوی” کے دو الگ قرآنی الفاظ سمجھ لینا درست نہیں۔ قرآن خود اس سادہ فارمولے کو توڑ دیتا ہے۔ فرعون کی مومن بیوی کو بھی *امرأة* کہا گیا، اور حضرت زکریا علیہ السلام کی نیک بیوی کے لیے بھی *امرأة* آیا۔ تو پھر سوال باقی رہتا ہے: *اگر لفظ کا فرق صرف ازدواجی تعلق کی اچھائی یا خرابی نہیں، تو قرآن ان دونوں الفاظ کو مختلف مقامات پر کیوں لاتا ہے؟* اس کا جواب ہمیں لفظ کے بنیادی مفہوم اور *سیاق* کو ایک ساتھ دیکھنے سے ملتا ہے۔
زوج صرف “بیوی” نہیں
یہ نکتہ دوبارہ ذہن میں رکھیے: *زوج* کا بنیادی مفہوم “جوڑا، قرین، ساتھی” ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے: وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ “اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑے پیدا کیے۔” سورۃ الذاریات، ۵۱:۴۹ یہاں زوجین کا تعلق ازدواجی زندگی سے نہیں۔ یہاں بنیادی تصور *دو قرین چیزوں* کا ہے۔ اسی طرح قرآن جنت کی نعمتوں کے بیان میں *أزواج* کا لفظ استعمال کرتا ہے: وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ “اور ان کے لیے وہاں پاکیزہ جوڑے ہوں گے۔” سورۃ البقرۃ، ۲:۲۵ لہٰذا “زوج” کے اندر بنیادی طور پر *قرینیت اور جوڑی* کا تصور ہے۔ جب یہی لفظ شوہر یا بیوی کے لیے آتا ہے تو اس میں ازدواجی رشتے کی *جوڑی والی نسبت* نمایاں ہوتی ہے۔
آدم علیہ السلام کی زوج
قرآن کا پہلا ازدواجی تعلق دیکھیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ “اور ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری زوج جنت میں رہو۔” سورۃ البقرۃ، ۲:۳۵ یہاں قرآن نے حضرت حوا علیہا السلام کو: *امرأة آدم* نہیں کہا۔ بلکہ: وَزَوْجُكَ کہا۔ کیونکہ اس مقام پر گفتگو کا مرکز *آدم علیہ السلام اور ان کی زوج کی مشترکہ حیثیت* ہے۔ دونوں ایک ساتھ ہیں۔ دونوں کو ایک حکم دیا گیا۔ دونوں ایک ہی مقام پر ہیں۔ اور دونوں ایک ہی آزمائش کا سامنا کرتے ہیں۔ یہاں “زوج” کا تصور بہت موزوں معلوم ہوتا ہے: *ایک رشتہ، ایک جوڑی، ایک مشترک سیاق۔*
پھر نوح علیہ السلام کی بیوی کیوں “امرأة”؟
اب سورۃ التحریم کی طرف آئیے: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ “اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی۔” سورۃ التحریم، ۶۶:۱۰ یہاں دونوں خواتین کا ذکر ان کے شوہروں کی نبوت کے باوجود *ان کے اپنے ایمان اور کردار* کے حوالے سے ہے۔ دونوں نبیوں کے گھر میں رہتی تھیں۔ مگر ایمان کے معاملے میں اپنے شوہروں کی پیروکار نہیں تھیں۔ پھر قرآن فرماتا ہے: فَخَانَتَاهُمَا “پس ان دونوں نے ان سے خیانت کی۔” یہاں ایک بنیادی سبق سامنے آتا ہے: *نسبتِ رسول یا نسبتِ نبی انسان کو خود بخود نجات نہیں دیتی۔* شوہر نبی ہو سکتا ہے۔ لیکن بیوی کا ایمان اس کی اپنی ذمہ داری ہے۔
لیکن فرعون کی بیوی تو اس کے برعکس ہے
اب اسی سورت کی اگلی آیت دیکھیے: وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ “اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی۔” سورۃ التحریم، ۶۶:۱۱ یہاں معاملہ بالکل الٹ ہے۔ شوہر: *فرعون* اور بیوی: *مومنہ۔* شوہر ظلم اور کفر کی علامت۔ بیوی ایمان اور توحید کی مثال۔ اور قرآن نے یہاں بھی *امرأة* استعمال کیا۔ یہ مثال ہمیں ایک انتہائی اہم سبق دیتی ہے: *ازدواجی رشتہ ایمان کی ضمانت نہیں۔* نہ نیک شوہر کی بیوی ہونا کافی ہے۔ نہ برے شوہر کی بیوی ہونا ایمان کے راستے میں رکاوٹ ہے۔
فرعون کی بیوی کا اصل تعارف کیا بن گیا؟
وہ تاریخ میں فرعون کی بیوی کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن قرآن نے اسے صرف فرعون کے ساتھ تعلق میں قید نہیں کیا۔ اس نے اس کے ایمان کو محفوظ کیا۔ اس کی دعا قرآن میں آج تک زندہ ہے: رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ “اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔” سورۃ التحریم، ۶۶:۱۱ غور کریں: وہ محل نہیں مانگ رہی۔ دنیا کی آزادی نہیں مانگ رہی۔ فرعون کے اقتدار کی خواہش نہیں کر رہی۔ وہ کہتی ہے: *اے میرے رب! اپنے پاس میرے لیے گھر بنا دے۔* یہی ایمان ہے۔
حضرت زکریا علیہ السلام کی اہلیہ: ایک اہم مثال
اب وہ مثال جو ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام دعا کرتے ہیں: وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا “اور میری بیوی بانجھ ہے۔” سورۃ مریم، ۱۹:۵ اگر ہم یہ اصول بنا دیں کہ: *امرأة = ازدواجی تعلق میں خرابی* تو یہ آیت ہمارے سامنے سوال کھڑا کر دیتی ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی اہلیہ کے بارے میں یہاں کوئی ازدواجی اختلاف بیان نہیں۔ بلکہ مسئلہ *اولاد کا نہ ہونا* ہے۔ اسی لیے قرآن کے لفظ کو ایک جامد علامت بنا دینا درست نہیں۔ *سیاق لفظ کے معنی کو متعین کرتا ہے۔* یہ قرآن کو سمجھنے کا بنیادی اصول ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ
ایک اور مثال: وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ “اور ان کی بیوی کھڑی تھیں، پس وہ ہنس پڑیں، تو ہم نے انہیں اسحاق کی خوشخبری دی۔” سورۃ ہود، ۱۱:۷۱ یہاں بھی *امرأة* ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا گھر ہے جہاں اللہ کی رحمت نازل ہو رہی ہے۔ فرشتے آئے ہیں۔ اولاد کی خوشخبری دی جا رہی ہے۔ اور پھر قرآن کہتا ہے: وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ “اور اسحاق کے بعد یعقوب کی بھی۔” یہاں “امرأة” کو خراب ازدواجی تعلق کی علامت قرار دینا واضح طور پر ممکن نہیں۔
تو کیا “زوج” اور “امرأة” کا کوئی فرق ہی نہیں؟
ایسا کہنا بھی درست نہیں ہوگا۔ فرق ہے۔ لیکن ہمیں *فرق کی نوعیت درست سمجھنی ہوگی۔* زوج لفظی اعتبار سے: *جوڑا، قرین، ساتھی، ہم نسبت* اور جب شوہر یا بیوی کے لیے استعمال ہو تو: *ازدواجی جوڑی کا ایک رکن۔* امرأة لفظی اعتبار سے: *عورت / عورتِ مخصوص* اور سیاق میں: *کسی مرد کی بیوی بھی۔* اس لیے جب قرآن *امرأة* کہتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ ازدواجی تعلق کے بارے میں کوئی منفی فیصلہ دے رہا ہو۔ کبھی وہ صرف اس عورت کو **ایک مخصوص فرد** کے طور پر بیان کر رہا ہوتا ہے۔
ایک بہت خوبصورت فکری نکتہ
یہاں قرآن کا ایک بڑا انسانی سبق سامنے آتا ہے: انسان کی شناخت صرف اس کے رشتے سے نہیں ہوتی۔ ایک عورت: نبی کی بیوی ہو سکتی ہے۔ ظالم کی بیوی ہو سکتی ہے۔ بادشاہ کی بیوی ہو سکتی ہے۔ عام انسان کی بیوی ہو سکتی ہے۔ لیکن اللہ کے سامنے اس کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح ایک مرد بھی صرف کسی کا شوہر، بیٹا، باپ یا بھائی ہونے کی وجہ سے اللہ کے ہاں کامیاب نہیں ہوجاتا۔
قرآن نے دو گھرانے سامنے رکھ دیے
ایک طرف: حضرت نوح علیہ السلام + ان کی بیوی نبی گھر میں۔ مگر بیوی ایمان سے محروم۔ دوسری طرف: فرعون + اس کی بیوی ظالم شوہر۔ مگر بیوی ایمان کی بلند مثال۔ یہ دونوں واقعات ساتھ پڑھیں تو دل پر ایک زبردست حقیقت اترتی ہے: *ہدایت خاندانی وراثت نہیں۔* اور گمراہی بھی خاندانی وراثت نہیں۔ ہر شخص کا اپنا امتحان ہے۔
اسی لیے رشتوں پر غرور نہ کریں
کبھی انسان کہتا ہے: *میرے والد بہت نیک ہیں۔* *میرے خاندان میں علماء ہیں۔* *میرے شوہر بہت دیندار ہیں۔* *میرے گھرانے کا بڑا مقام ہے۔* یہ سب نعمتیں ہیں۔ لیکن نجات کی ضمانت نہیں۔ قرآن ہمیں نوح علیہ السلام کے گھر سے یہ سبق دیتا ہے۔ اور فرعون کے گھر سے بھی۔ ایک نبی کا گھر ایمان کی ضمانت نہیں۔ اور ایک ظالم کا گھر ایمان کی رکاوٹ نہیں۔ *اللہ کے سامنے ہر شخص اپنے ایمان اور عمل کے ساتھ کھڑا ہوگا۔*
یہاں ایک اور لطیف پہلو سامنے آتا ہے
قرآن بعض مقامات پر **زوج** کا استعمال کرتے ہوئے شوہر اور بیوی کو ایک *جوڑی* کے طور پر سامنے لاتا ہے۔ مثلاً: أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ “تم اور تمہاری زوج جنت میں رہو۔” یہاں دونوں ایک مشترک خطاب کا حصہ ہیں۔ جبکہ *امرأة* کے استعمال میں بعض مقامات پر عورت کی اپنی شخصیت اور حالت زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا میں: وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا اصل توجہ اس عورت کی *حیاتیاتی حالت* پر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں: وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ اصل منظر میں اس عورت کا *وہاں موجود ہونا اور اس کا ردعمل* بیان ہو رہا ہے۔ فرعون کی بیوی کے واقعے میں: امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ اصل توجہ اس عورت کی **اپنی ایمانی شناخت** پر ہے۔ یہ ایک قابلِ غور قرآنی اسلوب ہے۔ لیکن یہاں بھی ہمیں الفاظ کے ساتھ *سیاق کو فیصلہ کن حیثیت* دینی چاہیے۔
ایک خطرناک غلط فہمی
سوشل میڈیا پر بعض اوقات یہ جملہ لکھا جاتا ہے: “قرآن میں جہاں میاں بیوی کے درمیان محبت اور ایمان کا تعلق ہو وہاں زوج آتا ہے، اور جہاں تعلق ٹوٹ جائے وہاں امرأة آتا ہے۔” یہ جملہ پڑھنے میں بہت خوبصورت ہے۔ لیکن علمی طور پر اسے *قرآن کا قطعی اصول* کہنا درست نہیں۔ کیونکہ: *حضرت زکریا علیہ السلام کی اہلیہ = امرأة* *حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ = امرأة* اور دونوں مثالیں اس عمومی اصول کو ثابت نہیں کرتیں۔ اس لیے بہتر علمی تعبیر یہ ہوگی: “زوج” میں قرینیت اور ازدواجی جوڑی کا مفہوم بنیادی ہے، جبکہ “امرأة” عورت کے لیے عام لفظ ہے جو سیاق کے مطابق بیوی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض مقامات پر لفظ کا انتخاب متعلقہ شخصیت کی اپنی حالت یا شناخت کو نمایاں کرتا محسوس ہوتا ہے، لیکن اسے ہر جگہ ایک قطعی قاعدہ نہیں بنایا جا سکتا۔* یہ جملہ زیادہ محتاط بھی ہے اور قرآن کے ساتھ زیادہ دیانت دار بھی۔
لیکن پھر اصل “قرآنی لطافت” کہاں ہے؟
یہاں! قرآن ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ: *رشتہ اپنی جگہ، شخصیت اپنی جگہ۔* ایک عورت کسی کی بیوی ہو سکتی ہے، لیکن اس کی اپنی روحانی شناخت بھی ہے۔ وہ ایمان لا سکتی ہے جبکہ شوہر کافر ہو۔ وہ کفر اختیار کر سکتی ہے جبکہ شوہر نبی ہو۔ وہ نیک ہو سکتی ہے۔ وہ گمراہ ہو سکتی ہے۔ وہ اللہ کی محبوب بندی بن سکتی ہے۔ اور وہ اپنے شوہر کے مقام سے فائدہ نہ اٹھانے کے باوجود اللہ کے ہاں بلند ہوسکتی ہے۔
آج کے انسان کے لیے یہ سبق کتنا بڑا ہے!
ہم اپنے بچوں کو کہتے ہیں: *تم فلاں خاندان سے ہو۔* ہم اپنی بیوی یا شوہر کے مقام پر فخر کرتے ہیں۔ ہم اپنے والدین کے نام پر اعتماد کرتے ہیں۔ ہم اپنی ذات، خاندان، برادری، عہدے اور تعلقات سے اپنی قدر طے کرتے ہیں۔ قرآن ہمیں خاموشی سے یاد دلاتا ہے: *تمہاری اصل قیمت تمہاری نسبت نہیں، تمہارا ایمان اور تمہارا کردار ہے۔* فرعون کی بیوی ہمیں یہی سکھاتی ہے۔ نوح علیہ السلام کی بیوی بھی یہی سکھاتی ہے۔ لوط علیہ السلام کی بیوی بھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ان واقعات کو قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔
تو “زوج” اور “امرأة” کی تحقیق ہمیں کہاں لے گئی؟
ہم نے آغاز کیا تھا ایک لفظی سوال سے: *زوج اور امرأة میں کیا فرق ہے؟* لیکن قرآن ہمیں ایک بہت بڑے سوال تک لے آیا: *کیا میں اپنے رشتوں کی وجہ سے نیک ہوں، یا واقعی اپنے رب کے سامنے نیک ہوں؟* کیا میرے والدین کی نیکی میری نیکی ہے؟ نہیں۔ کیا میرے شوہر یا بیوی کی دینداری میری دینداری ہے؟ نہیں۔ کیا میرے خاندان کا مقام مجھے اللہ کے سامنے ممتاز کردے گا؟ نہیں۔ کیا کسی برے شخص سے میرا رشتہ مجھے لازماً برا بنا دے گا؟ نہیں۔ *اللہ کے سامنے ہر انسان کی اپنی کہانی ہے۔*
اور شاید یہی اس قرآنی مطالعے کا سب سے خوبصورت نتیجہ ہے
*زوج* ہمیں رشتے کی یاد دلاتا ہے۔ *امرأة* ہمیں فرد کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔ اور دونوں کو ملا کر قرآن ہمیں بتاتا ہے: *رشتے زندگی کا حصہ ہیں، مگر انسان کی آخری شناخت نہیں۔* آپ کسی کے شوہر ہیں۔ آپ کسی کی بیوی ہیں۔ آپ کسی کے بیٹے ہیں۔ کسی کے والد ہیں۔ کسی کے بھائی ہیں۔ لیکن ان سب نسبتوں کے پیچھے ایک نسبت سب سے بڑی ہے: *عبدُ اللہ — اللہ کا بندہ۔* قیامت کے دن یہی نسبت اصل ہوگی۔
آخری بات
قرآن کے الفاظ میں لطافت تلاش کرنا بہت خوبصورت عمل ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خوبصورت یہ ہے کہ: *ہم قرآن کے لفظ کو اپنے اوپر لاگو کریں۔* جب قرآن فرعون کی بیوی دکھائے تو ہم سوچیں: *کیا ماحول خراب ہونے کے باوجود میں حق پر قائم رہ سکتا ہوں؟* جب نوح علیہ السلام کی بیوی دکھائے تو سوچیں: *کیا نیک لوگوں کے قریب رہنا کافی ہے، یا مجھے خود بھی ایمان لانا ہوگا؟* جب آدم علیہ السلام کی زوج کا ذکر آئے تو سوچیں: *کیا میرے رشتے میرے لیے اللہ کی طرف جانے کا ذریعہ بن رہے ہیں؟* اور جب “زوج” اور “امرأة” دونوں سامنے آئیں تو دل سے ایک سوال کریں: *میری دنیا میں میری کتنی نسبتیں ہیں… اور اللہ کے سامنے میری اپنی حقیقت کیا ہے؟* یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کا ایک لفظ *لغت سے نکل کر زندگی کا آئینہ* بن جاتا ہے۔
![]()

