Daily Roshni News

عارفانہ کلام۔۔تسبیح۔۔۔ شاعر۔۔۔ ناصر نظامی(گولڈ میڈلسٹ)

عارفانہ کلام

تسبیح

شاعر۔۔۔ ناصر نظامی(گولڈ میڈلسٹ)

میرا دل کرتا ہے ہر دم تیرے، خیال کی تسبیح

میری نس نس میں ہوتی ہے تیرے، جمال کی تسبیح

نہ تسبیح میں کوئی دانہ ہے

نہ  ہاتھوں  سے  گھمانا۔  ہے

دما دم ہوتی رہتی ہے، یہ ہے، کمال کی تسبیح

یہ ہے اِخلاص کی تسبیح

ذِکرِ اَنفَاس۔  کی  تسبیح

ہوتی ہے دل کے حُجرے میں سدا اِک، تال کی تسبیح

رُخِ انوار کی تسبیح

زُلفِ خمدار کی تسبیح

نرگسی آنکھوں کے ڈوروں کے،رنگ لال کی تسبیح

ادائے یار کی تسبیح

جفائے یار کی تسبیح

کبھی خوشحال کی تسبیح ،کبھی،ملال کی تسبیح

چھوڑ دے خُود نُمائی کو

غیر کی،۔  آ شنائی     کو

تو پڑھ دل کی کتاب چھوڑ، قِی٘ل و قَال کی تسبیح

لوگوں کو گھیر لیتی ہے

پھر نظر، پھیر  لیتی ہے

نظر بازوں کی نظروں کے سنہرے، جال کی تسبیح

نہ ساقی ہے نہ مئے خانہ

نہ ساغر ہے  نہ پیمانہ

چڑھی ہے نظروں کو، نظروں کے، انتقال کی تسبیح

کہاں اب میری ہستی ہے

ہر طرف اس کی بستی ہے

ہوتی ہے میری سانسوں میں، اس کی، دھمال کی تسبیح

نظر بھی خود ہے، ناظر بھی

پوشیدہ بھی ہے، ظاہر۔  بھی

کبھی ہے ہِجر کی تسبیح، کبھی، وِصال کی تسبیح

اپنی خاموشیاں توڑو

اب یہ رو پوشیاں چھوڑو

خبر کچھ لیجئے گا،یاروں کے، احوال کی تسبیح

نہ تم اتنا بھی اِ تراو

نہ حد سے آ گے تم جاؤ

نہ جانے کس گھڑی پھر ہو شروع، زوال کی تسبیح

محبت اپنا شیوہ ہے

یہ سب سے،میٹھا میوہ ہے

محبت میں نہیں چلتی، یہ زر و مال، کی تسبیح

مٹے ہستی ہے، پھر ، ملتا

کٹے سَر، تو ہے، سِرّ ، ملتا

یہ خونی تسبیح ہے، کر بلا کے، قَتَّال کی تسبیح

عشق منصور کا۔ نعرہ

عشق سرمد کا  نَقَّارہ

یہ تسبیح نوکِ نیزہ پہ، علی کے، لال کی تسبیح

اندھیرا بھی اجالا ہے

روشنی کا۔ حوالہ ہے

اس کے محور سے بنتی ہے یہ ماہ و سال کی تسبیح

عشق کا راز گہرا ہے

یہ اندھا، گونگا، بہرا ہے

چلتی ہے چال الٹی، عشق کی، چال کی تسبیح

اندھیرا رُوشنائی ہے

اس میں جلوہ آ رائی ہے

اس میں خود کرتا ہے رب، اپنے ہی، جلال کی تسبیح

ہے دل میں طور کا جلوہ

خدا کے نور ، کا۔   جلوہ

یہ تسبیح تو ہے، دیدِ مُوسی کے، سوال کی تسبیح

درود اک سرود ہے

دل کے اندر موجود ہے

رب ہے کرتا، نبی کی، آور ان کی، آ ل کی تسبیح

یہ تسبیح دل میں ہوتی ہے

یہ تسبیح نور  کا موتی ہے

یہ تسبیح تو ہے، قطب و صوفی و ابدال کی تسبیح

تو خود جنت ہے دوزخ ہے

تو خود،پردہ ہے، برزخ ہے

یہ تسبیح ہے، تیرے اپنے ہی، اعمال کی تسبیح

یہ تسبیح حق ادا کر دے

یہ بندے کو  خدا کر دے

یہ کیف و مستی کی تسبیح، یہ وجد و حال کی تسبیح

نظر ان کی، سلامت ہے

پینے میں، کیا ملامت ہے

نظامی کرتا ہے اس شاہ ء خوشخصال کی تسبیح

ناصر نظامی

گولڈ میڈلسٹ

ا یمسٹرڈم ہالینڈ

Loading