شباب کی باتیں
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)کچھ کرم فرماؤں نے ہمیں بھی امیر مینائی سمجھ لیا ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ، “سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے”
جب سے یہ اعزازات کا بٹوارہ ہوا ہے اور جن کو ان کا “حصہ” نہیں ملا، انہوں نے اپنی محرومی کے حوالے سے ہمیں چھیڑنا شروع کر دیا ہے، حالانکہ ہم تو ایک مشہور استاد شاعر کے کہے پر پہلے ہی صاد کر بیٹھے ہیں کہ
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں
مگر کیا کیا جائے کہ امیر مینائی کا محولہ مصرعہ یار لوگوں نے ہم پر منطبق کرتے ہوئے ہم سے امیدیں باندھنا شروع کر دی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دکھوں کا علاج ہمارے پاس ہو سکتا ہے۔ مثلآ ایک صاحب نے ہمیں واٹس ایپ پر میسج میں ایک بندے کی تصویر ارسال کر کے کمپیوٹر کی زبان میں “پوک” کرنے کی کوشش کی اور لکھا کہ سر آپ نے بالکل صحیح فرمایا اور جو الفاظ آپ نے ان ایوارڈز کے حوالے سے لکھے ہیں بالکل درست ہیں۔ حالانکہ وہ الفاظ جن کا شکایت کنندہ نے حوالہ دیا، پاکستان کے ایک بہت اہم سینیئر شاعر اور استاد فن جناب ظفر اقبال کے ہیں۔
اب کہیں تمغہء رسوائی ملا اس کے طفیل
شہر میں ورنہ ظفر آپ کی عزت کیا تھی؟
شکایت کنندہ نے اپنے وائس میسیج میں یہ دعوی’ کیا کہ جن کی تصویر انہوں نے ہمیں ارسال کی ہے ان کا نام یہاں صوبائی کمیٹی سے منظور نہیں ہوا، گویا ڈراپ کر دیا گیا تھا، مگر پھر بھی انہیں مرکزی کمیٹی سے پرائیڈ اف پرفارمینس مل گیا ہے۔ ہم نے انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ بھائی تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ یعنی انگار جانے اور لوہار جانے۔
یہ تو زور کا زمانہ ہے جس کا زور چلتا ہے اور تگڑی سفارش میسر آتی ہے، اسے ایوارڈ حاصل کرنے سے کون روک سکتا ہے؟ ہاں اتنا ضرور ہے کہ جنہوں نے سفارش کے بل پر ایوارڈز “اچک” لیئے ہیں، اگر ان میں ذرا سی بھی غیرت ہوگی، تو کم از کم تنہائی ہی میں سہی، ایوارڈز کو دیکھ دیکھ کر ان کا ضمیر انہیں ملامت ضرور کرے گا۔ اور اگر تنہائی میں بھی ان کا ضمیر نہیں جاگتا اور انہیں ملامت نہیں کرتا تو پھر ایسے لوگوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
ہمیں بھی آپ سے اک بات عرض کرنا تھی
پر اپنی جان کی پہلے امان مانگتے ہیں
ان دنوں ایک بہت اچھے شاعر رحمان فارس کی تازہ لکھی ہوئی ہجو ” *مسدس در مدح حاسد* خاصی وائرل ہے۔ (ایک ایوارڈ گزیدہ دل کی آہ پر ایک نظر) کا ایک خاتون جویریہ شہزاد خان نے جائزہ لیتے ہوئے، حال ہی میں بقضائے الہی رحلت کرنے والے ایک بہت ہی سینیئر اور باکمال شاعر حلیم قریشی پر، “مبینہ طور پر” رحمان فارس کے اس طنز بلکہ شدید رکیک حملوں پر بات کی ہے۔ اور کہا ہے کہ مرحوم کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی ہے اگر واقعی وہ ان کے اس انٹرویو کا رد عمل ہے جس میں حلیم قریشی نے اپنے سے جونیئر شعراء کو پرائیڈ آف پرفارمینس اور مقابلتا” حلیم قریشی کو تمغہء امتیاز کے لیے نامزدگی پر احتجاج کیا تھا۔ تو اس سے درگزر کرنا چاہیے تھا ۔
ہم بھی سمجھتے ہیں کہ ہجو میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اس سے احتراز کیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم رحمان فارس نے ہجو لکھتے ہوئے چونکہ کسی کا نام نہیں لیا، اس لیے یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے واقعتاً حلیم قریشی مرحوم کے خلاف ہی لکھا ہے۔ کیونکہ اگر ایک جانب حلیم قریشی مرحوم کے ایک مبینہ انٹرویو میں ان سے منسوب اظہار ناراضگی کا ذکر ہے تو دوسری جانب اکیڈمی ادبیات کی جاتی کردہ معلومات کے مطابق حلیم قریشی نے اکیڈمی کی چیئر پرسن، ڈاکٹر نجیبہ عارف کے ساتھ گفتگو میں تمغہء امتیاز کے لیے نامزدگی پر مثبت رد عمل دیا تھا۔ اس کے بعد یہ سمجھنا کہ رحمان فارس کی ہجو میں حلیم قریشی کی جانب ہی اشارہ کیا گیا ہے، سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس لیے اگر رحمان فارس نے کسی بھی نامعلوم شاعر کے خلاف ہجو لکھی ہے، تو ان کا مقصود حلیم قریشی کیسے ہو سکتے ہیں؟ جبکہ اس حوالے سے خود رحمان فارس ہی بہتر جانتے ہوں گے کہ ان کا مقصود خصوصی طور پر حلیم قریشی مرحوم تھے یا نہیں یعنی بقول شاعر *روۓ سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ*
* تاہم بعض مصرعوں میں جس قسم کے سخت الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے، ہماری دانست میں اس سے تعرض برتنا چاہیے تھا، کیونکہ اگر کوئی کمزور اور نسبتا” تازہ کار شاعر، حلیم قریشی کے محولہ انٹرویو کے دوران، ناراضی کا اظہار کرنے پر برافروختہ ہو کر، ان کی مخالفت پر اتر کر، اتنی پست سطح کو چھوتا، تو بات سمجھ میں آتی تھی، لیکن رحمان فارس، جو خود ایک بہت عمدہ لب و لہجے کے شاعر اور بلند مقام پر متعین ہیں، تدبر سے کام لیتے، تو بہتر ہوتا۔ جبکہ حلیم قریشی مرحوم کا بھی اپنا ایک خاص مقام ہے اور ان کے خلاف کچھ بھی بولا جائے، اس سے ان کی بلند پایہ شاعرانہ حیثیت کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری تو اتنی گزارش ہے، چونکہ حلیم قریشی صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے اس لیے سول ایوارڈز کے حوالے سے ان کی شخصیت کو اگر ہم کسی مثبت تبصرے کا حقدار نہیں سمجھتے تو کم از کم ان پر منفی طرز کے تبصرے کر کے ان کے خاندان اور دوست احباب کو دکھی نہ کیا جائے۔ اس کا خدانخواستہ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ رحمان فارس کی محولہ ہجو، حلیم قریشی کے خلاف ہے، کیونکہ رحمان فارس نے جب کسی خاص جانب اشارہ کیا ہی نہیں اور کسی کا بھی نام نہیں لیا تو الزام تراشی کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ اس لیے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جو بحث جاری ہے، اسے ایک درویش کی سوچ کے مطابق دیکھنا چاہیے جن سے کسی نے پوچھا کہ
*شعور اور شور میں کیا فرق ہے؟ درویش نے کہا صرف “ع” (عین) کے اضافے کا۔ سائل نے پوچھا عین سے کیا مراد ہے؟ جواب آیا، عین سے مراد ہے علم، عمل اور عقل۔ علم اور عمل سے بات کرو گے تو شعور کہلائے گا ورنہ صرف شور رہ جائے گا*
جمع ہم کو نہیں آتی، نفی سے ہم کو نفرت ہے
تمہیں تقسیم کرتے ہیں تو ضربیں ہم کو لگتی ہیں
![]()

