Daily Roshni News

بغداد کی عظیم ترین عمارت، ریاستی مشینری کا جمود اور ایک لاپتہ دانشور (459 ہجری / 1067 عیسوی)

بغداد کی عظیم ترین عمارت، ریاستی مشینری کا جمود اور ایک لاپتہ دانشور (459 ہجری / 1067 عیسوی)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ذی القعدہ 459 ہجری۔ عباسی خلافت کے دارالحکومت بغداد میں دجلہ کے کنارے ایک عظیم الشان عمارت کا افتتاح ہونے جا رہا تھا۔ یہ ‘مدرسہ نظامیہ’ تھا، جسے سلجوقی سلطنت کے طاقتور ترین وزیرِ اعظم، نظام الملک طوسی نے خطیر ریاستی سرمائے سے تعمیر کروایا تھا۔ یہ اس دور کی سب سے بڑی یونیورسٹی تھی جس کا مقصد سلطنت کو ججز، بیوروکریٹس اور نظریاتی محافظ فراہم کرنا تھا۔

افتتاح کے دن عباسی خلیفہ کے نمائندے، سلجوقی جرنیل، اور شہر کے تمام معززین جمع تھے۔ ریاستی پروٹوکول تیار تھا، لیکن اس عظیم ادارے کا نامزد کردہ پہلا سربراہ (Rector) اور سلجوقی ریاست کا سب سے بڑا فقیہ غائب تھا۔ ریاستی دستے شہر میں دوڑائے گئے اور بالآخر اس شخص کو بغداد کے ایک دوسرے محلے کی ایک چھوٹی اور خستہ حال مسجد میں معمول کے مطابق درس دیتے ہوئے پایا گیا۔

جب سلجوقی عمال نے ان سے نظامیہ نہ آنے کی وجہ پوچی، تو اس شخص نے ایک ایسا ٹھوس قانونی اور ریاستی جواب دیا جس نے سلجوقی بیوروکریسی کو ہلا کر رکھ دیا:

“میری انٹیلی جنس کے مطابق، اس مدرسے کی تعمیر میں جو لکڑی اور سامان استعمال ہوا ہے، وہ شہر کے کچھ شہریوں سے ان کی مرضی کے خلاف غصب (Confiscate) کیا گیا ہے۔ جب تک ریاست اس ایک ایک لکڑی کا حساب اور معاوضہ ادا نہیں کرتی، میں اس عمارت کے اندر قدم نہیں رکھوں گا۔”

سلجوقی سلطنت، جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے بازنطینی شہنشاہ کانپتے تھے، کا پورا ریاستی ڈھانچہ ایک عام سے خستہ حال لباس پہنے ہوئے شخص کے سامنے مفلوج ہو گیا۔ یہ ابو اسحاق الشيرازی تھے، جنہوں نے طاقت کے بجائے قانون کی حکمرانی کو ریاست پر مسلط کیا۔ یہ اس شخص کی داستان ہے جس نے غربت میں زندگی گزاری، لیکن جس کے ایک دستخط کے بغیر عباسی اور سلجوقی سلطنت کا کوئی قانونی مسودہ پاس نہیں ہوتا تھا۔

ابو اسحاق ابراہیم بن علی الشیرازی کی پیدائش 393 ہجری (1003 عیسوی) میں فارس (ایران) کے علاقے ‘فیروز آباد’ میں ہوئی۔ ان کا تعلق کسی شاہی یا مالدار گھرانے سے نہیں تھا۔

جسمانی خدوخال کے اعتبار سے، معاصر مؤرخین کے مطابق، ان کا چہرہ انتہائی پروقار تھا، لیکن وہ ہمیشہ انتہائی سادہ، کھردرے اور اکثر پیوند لگے ہوئے سوتی کپڑے پہنتے تھے۔ ان کا عمامہ (پگڑی) عام طور پر پرانا ہوتا تھا۔ 415 ہجری میں جب وہ اعلیٰ قانونی تعلیم (فقہ) کے لیے بغداد پہنچے، تو ان کی مالی حالت اس قدر کمزور تھی کہ بعض اوقات انہیں مسلسل کئی دن تک فاقہ کرنا پڑتا۔ لیکن اس سخت ترین معاشی حالت نے ان کے اعصاب اور فہم کو ایک فولادی شکل دے دی۔ انہوں نے بغداد کے سب سے بڑے قاضی، قاضی ابو الطیب الطبری کی زیرِ نگرانی شوافع کے قانونی اور آئینی اصولوں پر مکمل عبور حاصل کیا۔

ابو اسحاق الشیرازی کا طریقہ کار اس دور کے روایتی علماء سے یکسر مختلف تھا۔ وہ کسی بھی قانونی شق (Clause) یا فقہی مسئلے کو اس وقت تک حتمی نہیں مانتے تھے جب تک کہ اسے ہر زاویے سے پرکھ نہ لیں۔ ان کا ریاستی اور تدریسی اصول یہ تھا کہ وہ ایک سبق کو سو مرتبہ دہراتے، تاکہ قانون کا کوئی بھی سقم (Loophole) باقی نہ رہے۔

انہوں نے شوافع کے فقہی اصولوں پر تاریخ کی سب سے ٹھوس اور جامع کتاب ‘المهذب’ (Al-Muhaddhab) تحریر کی۔ اس کتاب کی تدوین میں انہیں مسلسل 14 سال لگے۔ یہ محض ایک کتاب نہیں تھی، بلکہ ریاست کے قاضیوں کے لیے ایک مکمل آئینی دستور (Constitutional Framework) تھا جس میں تجارت، فوجداری، شادی، اور ریاستی معاہدوں کے ٹھوس قوانین درج تھے۔ سلجوقی اور عباسی درباروں میں جب بھی کوئی پیچیدہ ریاستی تنازعہ کھڑا ہوتا، تو حوالہ اسی کتاب کا دیا جاتا تھا۔

جیسا کہ آغاز میں ذکر کیا گیا، 459 ہجری میں مدرسہ نظامیہ کی تعمیر مکمل ہونے پر شیرازی نے اس کا چارج سنبھالنے سے انکار کر دیا۔

وزیرِ اعظم نظام الملک طوسی، جو سلجوقی ریاست کی نظریاتی صف بندی کے لیے شیرازی کو انتہائی ناگزیر سمجھتا تھا، اس بائیکاٹ سے شدید دباؤ میں آ گیا۔ ریاستی سطح پر تحقیقات کی گئیں، غصب شدہ سامان کا معاوضہ ادا کیا گیا اور نظام الملک نے ذاتی طور پر شیرازی کو راضی کیا۔

شیرازی نے نظامیہ کا سربراہ بننا اس شرط پر قبول کیا کہ وہ اس کام کی کوئی تنخواہ یا ریاستی وظیفہ اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لائیں گے۔ وہ مدرسے میں پڑھاتے، لیکن جو بھاری تنخواہ ریاست انہیں دیتی، وہ اسے مکمل طور پر غریب طلباء اور لاجسٹک اخراجات میں تقسیم کر دیتے اور خود اسی پرانے خستہ حال لباس میں واپس اپنے حجرے میں چلے جاتے۔

ابو اسحاق الشیرازی کی سیاسی اور سفارتی طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ 475 ہجری میں ہوا۔ بغداد کے عباسی خلیفہ ‘المقتدی بامر اللہ’ اور سلجوقی خاقان ‘ملک شاہ’ کے درمیان بعض سرحدی اور انتظامی معاملات پر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔ عباسی خلیفہ کو ایک ایسے سفیر کی ضرورت تھی جس کا رعب سلجوقی دربار پر عباسی جرنیلوں سے زیادہ ہو۔ خلیفہ نے اس انتہائی پیچیدہ سفارتی مشن کے لیے ابو اسحاق الشیرازی کا انتخاب کیا۔

شیرازی جب بغداد سے نیشاپور (سلجوقی دارالحکومت) کے لیے روانہ ہوئے، تو تاریخ نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ وہ جہاں سے گزرتے، صوبوں کے گورنر، فوجی کمانڈرز اور ترکمان جرنیل گھوڑوں سے اتر کر ان کے قافلے کا استقبال کرتے اور ان کی سواری کے گرد پیدل چلتے۔

جب وہ نیشاپور پہنچے، تو سلجوقی سلطنت کے سب سے بڑے فکری امام، امام الحرمین الجوینی (جو نظام الملک کے استاذ بھی تھے)، شہر سے باہر نکل کر ان کے استقبال کے لیے آئے اور احتراماً شیرازی کی سواری کی لگام تھام کر پیدل چلتے ہوئے انہیں شہر میں لائے۔ سلجوقی سلطان ملک شاہ اور وزیر نظام الملک نے دربار کے تمام پروٹوکول بالائے طاق رکھتے ہوئے شیرازی کو اپنے برابر بٹھایا۔ شیرازی نے کوئی سفارتی لفاظی نہیں کی، بلکہ ٹھوس آئینی شرائط پر مبنی خلیفہ کا پیغام پہنچایا، جسے سلجوقی دربار نے بلا چوں چراں تسلیم کر لیا۔

اس عظیم سفارتی مشن سے واپسی کے محض ایک سال بعد، 21 جمادی الثانی 476 ہجری کو بغداد میں ابو اسحاق الشیرازی کا انتقال ہو گیا۔

ان کی موت پر بغداد کا پورا ریاستی اور انتظامی نظام رک گیا۔ عباسی خلیفہ المقتدی نے ان کے جنازے کی خود سرپرستی کی۔ جب نیشاپور میں نظام الملک طوسی کو ان کی وفات کی خبر ملی، تو اس نے دربار برخاست کر دیا اور باقاعدہ ریاستی سطح پر تعزیت کا اعلان کیا۔

ابو اسحاق الشیرازی کی زندگی تاریخ کا وہ مستند اور ٹھوس باب ہے جو ثابت کرتا ہے کہ مطلق العنان بادشاہتوں اور خونخوار جرنیلوں کے دور میں بھی، اگر کوئی شخص اپنے اعصاب، قانون پر اپنی گرفت، اور مالیاتی دیانت داری (Financial Integrity) کو برقرار رکھے، تو بغیر کسی فوج کے بھی پوری سلطنت کی مشینری کو اپنے اشاروں پر چلا سکتا ہے۔ ان کی کتاب ‘المهذب’ آج تقریباً ایک ہزار سال گزرنے کے بعد بھی شوافع کے قانونی اور آئینی نظام کا سب سے مستند ستون ہے۔

تاریخی حوالہ جات:

طبقات الشافعية الكبرى — تاج الدین السبکی (Tabaqat al-Shafi’iyya al-Kubra — Taj al-Din al-Subki)

وفیات الاعیان وأنباء أبناء الزمان — ابن خلکان (Wafayat al-Ayan — Ibn Khallikan)

سیر اعلام النبلاء — شمس الدین الذہبی (Siyar A’lam al-Nubala — Al-Dhahabi)

المنتظم في تاريخ الملوك والأمم — ابن الجوزی (Al-Muntazam fi Tarikh al-Muluk wa’l-Umam — Ibn al-Jawzi)

الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر (Al-Kamil fi al-Tarikh — Ibn al-Athir)

البداية والنهاية — حافظ ابن کثیر (Al-Bidaya wa’l-Nihaya — Ibn Kathir)

تاریخ بغداد — خطیب بغدادی (Tarikh Baghdad — Al-Khatib al-Baghdadi)

اگر آپ سلطنت دہلی  کے  سلطان محمد بن تغلق کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇

Sultan Muhammad bin Tughluq Animated Documentary:

https://www.facebook.com/reel/1243571161152544

Loading