Daily Roshni News

وہ جو مردوں کو زندہ کرتا تھا

وہ جو مردوں کو زندہ کرتا تھا

مصر کے دیہاتی اُس کی راہ دیکھ رہے تھے۔ ہر کسی کی زبان پر یہی الفاظ تھے: ’’وہ آسمان سے آیا ہے، خدا کا دین لایا ہے، دل کی بات بتاتا ہے اور آنے والے وقت کے اندھیروں کو روشن کر کے دکھاتا ہے۔ مرے ہوؤں کو اٹھا دیتا ہے۔‘‘

وہ کون تھا؟

جنہوں نے اُسے دیکھا تھا، وہ اُس کی کرامات سے اس قدر مسحور ہو گئے تھے کہ یہ جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے تھے کہ وہ کون ہے۔ وہ تسلیم کر لیتے تھے کہ وہ آسمان سے آیا ہے، خدا کا دین لایا ہے، اور جو لوگ اُس کی راہ دیکھ رہے تھے، وہ اس سوال سے بے نیاز تھے کہ وہ کون ہے۔

قافلے گزرتے تھے تو اُس کی کرامات سناتے تھے۔ کوئی اکیلا دُکیلا مسافر کسی گاؤں میں جاتا تھا تو اُس کے معجزوں کا ذکر کرتا تھا۔ بعض لوگ اُسے نبی اور پیغمبر بھی کہتے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جو اُسے بارش کا دیوتا مانتے تھے اور اُس کی خوشنودی کے لیے انسانی جان کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار تھے۔

ان میں سے کوئی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا تھا کہ اُس کا مذہب کیا ہے اور وہ کیسا عقیدہ ساتھ لایا ہے۔ لوگ ابھی پسماندگی کے دور میں تھے، علم سے بے بہرہ تھے اور قدرت کے ستم کا شکار رہتے تھے۔ انہیں جہاں امید بندھتی تھی کہ ان کے مصائب کا حل موجود ہے، وہیں جا کر سجدے کرتے تھے۔

ان کی اکثریت مسلمان تھی۔ اسلام کی روشنی وہاں تک پوری آب و تاب سے پہنچی تھی۔ مسلمانوں نے مسجدیں بھی بنا رکھی تھیں، پانچوں وقت سجدے بھی کرتے تھے، مگر اسلام کے بنیادی عقائد کی کوئی تعلیم دینے کا انتظام نہ تھا۔ اُن کے امام بے علم تھے، جو اپنی امامت کو برقرار رکھنے کے لیے لوگوں کو عجیب و غریب باتوں سے ڈراتے تھے۔ قرآن کو انہوں نے، نعوذ باللہ، کالے علم کی ایک کتاب بنا ڈالا تھا اور ایسا تاثر پیدا کر رکھا تھا کہ قرآن کو صرف امام ہی سمجھ سکتا ہے۔ چنانچہ یہ مسلمان قرآن کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتے تھے۔

ان اماموں نے لوگوں کے دلوں میں غیب کا ایک خوف بٹھا دیا تھا اور انہیں باور کرا دیا تھا کہ جو کچھ بھی ہے، وہ غیب میں ہے اور غیب میں جھانکنے کی قدرت صرف امام کو حاصل ہے۔ اماموں نے انسان کو ایک کمزور چیز بنا دیا تھا۔

اس مقام سے وسوسے اور توہمات پیدا ہوئے۔ صحرائی آندھیوں کی چیخوں میں انہیں اُس مخلوق کی آوازیں سنائی دینے لگیں جو امام کہتے تھے کہ انسانوں کو نظر نہیں آ سکتی۔ بیماریاں جنات اور شرار بن گئیں۔ امام معالج اور عامل بن گئے، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کے قبضے میں جنات ہیں۔

انسان غیب سے اور غیب کی سزا سے اتنے خوف زدہ رہنے لگے کہ اُن کے دلوں میں اسلام کا عقیدہ کمزور پڑ گیا اور وہ ہر اُس آواز پر لبیک کہنے لگے جو انہیں غیب کی مخلوق اور غیب کی سزا سے بچانے کا یقین دلاتی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ لوگ بے تابی سے اُس کی راہ دیکھ رہے تھے جو آسمان سے آیا تھا اور مرے ہوؤں کو اُٹھا دیتا تھا۔

وہ مصر کے اُس دیہاتی علاقے میں وارد ہوا تھا جو جنوب مغرب کی سرحد کے ساتھ تھا۔ اُس زمانے میں سرحد کا کوئی واضح وجود نہیں تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے کاغذوں پر ایک لکیر کھینچ رکھی تھی، لیکن وہ بھی کہا کرتا تھا کہ دینِ اسلام اور سلطنتِ اسلامیہ کی کوئی سرحد نہیں۔

دراصل سرحد عقیدوں کے درمیان تھی۔ جہاں تک اسلام کی گرفت تھی،

اسلامیہ سلطنت تھی اور جہاں غیر اسلامی نظریات شروع ہوتے تھے، وہ علاقہ غیر کہلاتا تھا۔ مصر کے جس آخری گاؤں میں مسلمانوں کی غالب اکثریت تھی، وہ امارتِ مصر کا آخری اور سرحدی گاؤں سمجھا جاتا تھا۔ اسی باعث صلیبی ملت اس کے نظریات پر حملے کرتے اور اسلامی عقائد کو کمزور کرکے وہاں اپنے عقائد کا غلبہ پیدا کرتے تھے۔

اس سے ثابت ہوتا تھا کہ اُس وقت سرحدوں کی حیثیت جغرافیائی کم اور نظریاتی زیادہ تھی۔ اس دور کے واقعات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلموں نے غلبۂ اسلام کے ساتھ ہی مسلمانوں پر نظریاتی حملے شروع کر دیے تھے۔

وہ جانتے تھے کہ مسلمان جنگ کو جہاد کہتے ہیں اور قرآن نے مسلمانوں پر جہاد فرض کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ حالات کے تقاضے کے پیشِ نظر جہاد کو نماز پر فوقیت حاصل ہے۔ یہ بھی کہ کسی غیر مسلم سلطنت میں مسلمان باشندوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہو تو دوسری سلطنتوں کے مسلمانوں پر یہ اقدام فرض ہو جاتا ہے کہ مظلوم رعایا کو غیر مسلموں کے ظلم و ستم سے بچائیں، خواہ اس مقصد کے لیے جنگی کارروائی کرنی پڑے۔

انہی قرآنی احکام نے مسلمانوں میں عسکری جذبہ پیدا کیا تھا، جس کا اثر یہ تھا کہ مسلمان جس ملک پر فوج کشی کرتے یا جس میدان میں بھی لڑتے تھے، اُن کے ذہن میں جنگ کا مقصد واضح ہوتا تھا۔ گو اُن پر مالِ غنیمت حلال قرار دیا گیا تھا، لیکن اُن کے ہاں لوٹ مار جنگ کے مقاصد میں شامل نہیں ہوتی تھی، نہ ہی وہ مالِ غنیمت کے لالچ سے لڑتے تھے۔

اس کے برعکس صلیبیوں کی جنگ ملک گیری کی ہوس کی آئینہ دار ہوتی اور وہ لوٹ مار پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹنے کا کام بھی صلیبی فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

صلیبیوں کو اس کا یہ نقصان اٹھانا پڑتا تھا کہ ہر میدان میں اُن کی جنگی طاقت مسلمانوں کی نسبت پانچ سے دس گنا ہوتی تھی، مگر وہ مٹھی بھر مسلمانوں سے شکست کھا جاتے تھے۔ شکست نہ کھائیں تو فتح بھی حاصل نہ کر سکتے تھے۔

وہ جان گئے تھے کہ قرآن کے احکام نے مسلمانوں میں جنگی جذبہ پیدا کر رکھا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نام پر لڑتے اور جانیں قربان کرتے ہیں۔ صلیبیوں کے جرنیلوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو مسلمانوں پر مذہبی جنون کی گرفت کمزور کرنے کی ترکیبیں سوچتے اور اُن پر عمل کرتے تھے۔

وہ جان گئے تھے کہ ایک مسلمان جو دس غیر مسلموں کا مقابلہ کرتا ہے، وہ کوئی فرشتہ اور جن بھوت نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے اندر اللہ کی طاقت اور اپنے عقیدے کی قوت محسوس کرتا ہے، جو اُسے کسی لالچ سے اور اپنی جان سے بھی بے نیاز کر دیتی ہے۔

چنانچہ صلاح الدین ایوبی سے بہت پہلے ہی یہودی اور صلیبی عالموں اور مفکروں نے مسلمانوں کی عسکری روح کو مردہ کرنے کے لیے اُن کی کردار کشی شروع کر دی تھی اور اُن کے مذہبی عقائد میں پرکشش ملاوٹ کرکے اُن کے ایمان کو کمزور کرنا شروع کر دیا تھا۔

صلاح الدین ایوبی اور نور الدین زنگی کی بد نصیبی یہ تھی کہ وہ جب صلیبیوں کے خلاف اُٹھے تو اُس وقت تک صلیبیوں کی نظریاتی یلغار بہت حد تک کامیاب ہو چکی تھی۔

اسلام کے دشمنوں نے اس یلغار کو دو طرفہ استعمال کیا تھا۔ اوپر کے طبقے کو، جس میں حکمران، امراء اور وزراء وغیرہ تھے، دولت، عورت اور شراب کا دل دادہ بنا دیا تھا اور نیچے، یعنی پسماندہ لوگوں میں، توہم پرستی اور مذہب کے خلاف وسوسے پیدا کر دیے تھے۔

جس طرح زنگی اور ایوبی نے فنِ حرب و ضرب میں نئے تجربے کیے اور نئی چالیں وضع کیں، اسی طرح صلیبیوں نے درپردہ کردار کشی کے میدان میں نئے طریقے دریافت کیے۔

تین چار یورپی مورخین نے یہاں تک لکھا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بعض صلیبی حکمرانوں نے میدانِ جنگ کو اہمیت دینی ہی چھوڑ دی تھی۔ وہ اس نظریے کے قائل ہو گئے تھے کہ جنگ اس طریقے سے لڑو کہ مسلمانوں کی جنگی طاقت زائل ہوتی رہے۔ زور دار حملہ اُن کے مذہبی عقائد پر کرو اور اُن کے دلوں میں ایسے وہم پیدا کر دو جو مسلمان قوم اور فوج کے درمیان بداعتمادی اور حقارت پیدا کر دیں۔

اس مکتبۂ فکر کے صلیبی مفکروں میں فلپ اسنس سرِفہرست تھا۔ یہ صلیبی حکمران اسلام دشمنی کو اپنے مذہب کا بنیادی اصول سمجھتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ہماری جنگ صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی سے نہیں، یہ صلیب اور اسلام کی جنگ ہے، جو ہماری زندگی میں نہیں تو کسی نہ کسی وقت ضرور کامیاب ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی اُبھرتی ہوئی نسل کے ذہن میں قومیت کی بجائے جنسیت بھر دو اور انہیں عیش و عشرت میں ڈبو دو۔

آگسٹس اپنے مشن کی کامیابی کے لیے میدانِ جنگ میں مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال کر صلح کر لینے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔ ہم جس دور، یعنی ۱۱۶۹ء کے لگ بھگ کی کہانی سنا رہے ہیں، اُس وقت وہ نورالدین زنگی کے ہاتھوں شکست کھا کر مفتوحہ علاقے واپس کر چکا تھا۔ اُس نے زنگی کو تاوان بھی دیا تھا اور جنگ نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کرکے جزیہ دے رہا تھا، مگر جنگی قیدیوں کے تبادلے میں چند ایک معذور مسلمان سپاہی واپس کیے۔ تندرست قیدیوں میں سے اسلام دشمنی میں اُس نے قتل کر دیے تھے اور باقیوں کو شک کی نگاہوں سے دیکھتا تھا۔

اُس کے ساتھ سودا بازی کرنے والے جرنیل بھی اُس سے نفرت کرتے تھے اور اُس کے مطابق، اس الزام کے جواب میں ایک بار آگسٹس نے کہا تھا:

’’ایک مسلمان حکمران کو پھانسنے کے لیے میں اپنی کنواری بیٹیوں کو بھی اُس کے حوالے کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔ تم مسلمانوں کے ساتھ صلح نامے اور دوستی کے معاہدے کرنے سے گھبراتے ہو، کیونکہ اس میں تم اپنی توہین کا پہلو دیکھتے ہو۔ تم یہ نہیں سوچتے کہ مسلمان کو میدانِ جنگ کی نسبت صلح کے میدان میں مارنا آسان ہے۔ ضرورت پڑے تو اُس کے آگے ہتھیار ڈال کر صلح نامہ کرو، معاہدہ کرو اور گھر آکر معاہدے اور صلح نامے کے الٹ ردِعمل کرو۔ کیا میں ایسا نہیں کر رہا؟ کیا تم نہیں جانتے کہ میرے خون کے رشتے کی دو لڑکیاں دمشق کے ایک شیخ کے حرم میں ہیں؟ کیا اُس شیخ سے تم لڑے بغیر بہت سارا علاقہ نہیں جیت چکے؟ کیا اُس نے دوستی کا حق ادا نہیں کیا؟ وہ مجھے اپنا دوست سمجھتا ہے اور میں اُس کا جانی دشمن ہوں۔ میں ہر ایک غیر مسلم سے کہوں گا کہ مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کرو اور انہیں دھوکہ دے کر مارو۔‘‘

یہ تھی وہ صلیبی ذہنیت جو ایک کامیاب سازش کے تحت سلطنتِ اسلامیہ کی جڑوں کو دیمک کی طرح کھا رہی تھی۔ اس سازش کا یہ نتیجہ تھا کہ مصر میں بغاوت کی چنگاری شعلہ بننے لگی تھی، جسے سرد کرنے کے لیے سلطان صلاح الدین ایوبی کو کرک کا محاصرہ اُس حالت میں اٹھانا پڑا، جب وہ صلیبیوں کی ایک سوار فوج کو قلعے سے باہر شکست دے چکا تھا۔

اُسے محاصرہ نورالدین زنگی کے حوالے کرکے اپنی فوج سمیت قاہرہ جانا پڑا۔ وہ دل برداشتہ تو نہیں تھا، لیکن دل پر ایسا بوجھ تھا جو اُس کے چہرے پر صاف نظر آ رہا تھا۔ اُس کی فوج کے سپاہی اس خیال سے مطمئن تھے کہ انہیں آرام کے لیے قاہرہ لے جایا جا رہا ہے، لیکن دستوں کے وہ کمان دار جو سلطان ایوبی کے عزم اور لڑنے کے طریقۂ کار کو سمجھتے تھے، حیران تھے کہ اُس نے نورالدین کو فوج سمیت کیوں بلایا اور محاصرہ کیوں اُٹھایا ہے۔ وہ تو فتح یا شکست تک لڑنے کا قائل تھا۔

اُس کے ہیڈکوارٹر کے دو تین سالاروں کے سوا کسی کو علم نہیں تھا کہ مصر کے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں اور سوڈان میں تقی الدین کا حملہ ناکام ہو گیا ہے اور اُسے خیریت سے پیچھے ہٹانا ہے۔ سلطان ایوبی کے ساتھ علی بن سفیان بھی تھا۔ وہی مصر کے اندرونی حالات کی رپورٹ لے کر آیا تھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے کرک سے کوچ کے حکم کے ساتھ یہ حکم بھی دیا تھا کہ راستے میں بہت کم پڑاؤ کیے
جائیں گے اور کوچ بہت تیز ہوگا۔ اس حکم سے سب کو شک ہوا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔

سفر کی پہلی شام آئی۔ فوج رات بھر کے لیے رک گئی۔ سلطان ایوبی کا خیمہ نصب ہو گیا تو اُس نے اپنے اعلیٰ کمانڈروں اور اپنی مرکزی کمان کے عہدیداروں کو بلایا۔ اُس نے کہا:

’’آپ میں زیادہ تعداد اُن لوگوں کی ہے جنہیں معلوم نہیں کہ میں نے محاصرہ کیوں اُٹھایا ہے اور میں فوج کو قاہرہ کیوں لے جا رہا ہوں۔ بے شک محاصرہ ٹوٹا نہیں۔ آپ میں سے کوئی بھی پسپا نہیں ہوا، لیکن میں اسے اگر شکست نہیں، پسپائی ضرور کہوں گا۔ میرے رفیقو! ہم پسپا ہو رہے ہیں اور آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ آپ کو پسپا کرنے والے آپ کے اپنے بھائی ہیں، اپنے رفیق ہیں۔ وہ صلیبیوں کے رفیق بن چکے ہیں اور انہوں نے بغاوت کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اگر علی بن سفیان، اُس کے نائب اور غیاث پلِیس چوکس نہ ہوتے تو آج آپ مصر نہ جا سکتے۔ وہاں صلیبیوں اور سوڈانیوں کی حکمرانی ہوتی۔ ارسلان جیسا حاکم صلیبیوں کا آلۂ کار نکلا، وہ والا دری کے دو جوان بیٹے مروا کر خودکشی کر چکا ہے۔ اگر ارسلان غداری کرے تو آپ اور کسی پر بھروسہ کریں گے؟‘‘

حاضرین پر سناٹا طاری ہو گیا۔ بے چینی اور اضطراب اُن کی آنکھوں میں چمک رہا تھا۔ سلطان ایوبی خاموش ہو کر سب کو دیکھتا رہا۔

اُس دور کا ایک وقائع نگار، قاضی بہاؤ الدین شداد، کسی غیر مطبوعہ تحریر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ دو قندیلوں کی کانپتی ہوئی روشنی میں سب کے چہرے اس طرح نظر آ رہے تھے جیسے وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں۔ وہ آنکھ بھی نہیں جھپکتے تھے۔ سلطان ایوبی کے الفاظ سے زیادہ اُس کا لب و لہجہ اور انداز اُن پر اثر انداز ہو رہا تھا۔

سلطان ایوبی کی آواز میں روز والا جوش نہیں، بلکہ لرزہ سا تھا، جو سب کو ڈرا رہا تھا۔ اُس نے کہا:

’’میں یہ کہہ کر کہ آپ میں بھی غدار ہیں، معافی نہیں مانگوں گا۔ میں آپ کو یہ بھی نہیں کہوں گا کہ قرآن پر حلف اُٹھاؤ کہ آپ اسلام اور سلطنتِ اسلامیہ کے وفادار ہیں۔ ایمان بیچنے والے قرآن ہاتھ میں لے کر بھی وفاداری کا یقین دلایا کرتے ہیں۔

میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہر وہ انسان جو مسلمان نہیں، وہ آپ کا دشمن ہے۔ دشمن جب آپ کے ساتھ محبت اور دوستی کا اظہار کرتا ہے تو اس میں اُس کی دشمنی چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ آپ کو آپ کے بھائیوں کے خلاف اور آپ کے مذہب کے خلاف استعمال کرتا ہے، اور جہاں اُسے مسلمانوں پر حکومت کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ مسلمان مستورات کی عصمت دری اور اسلام کی بیخ کنی کے لیے ہوتا ہے۔ یہی اُس کا مقصد ہے۔

ہم جو جنگ لڑ رہے ہیں، یہ ہماری ذاتی جنگ نہیں۔ یہ ذاتی حکمرانی قائم کرنے کے لیے ملک پر قبضے کی کوشش نہیں۔ یہ دو عقیدوں کی جنگ ہے۔ یہ کفر اور اسلام کی جنگ ہے۔ یہ جنگ اُس وقت تک لڑی جائے گی، جب تک کفر یا اسلام ختم نہیں ہو جاتا۔‘‘

’’گستاخی معاف، سالارِ اعظم!‘‘ ایک سالار نے کہا، ’’اگر ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہم غدار نہیں ہیں تو ہمیں مصر کے حالات سے آگاہ کریں۔ ہم عمل سے ثابت کریں گے کہ ہم کیا ہیں۔ ارسلان فوج کا نہیں، انتظامیہ کا حاکم تھا۔ ایسے غدار انتظامی شعبوں میں ملیں گے، فوج میں نہیں۔ کرک قلعے کا محاصرہ آپ نے اُٹھایا ہے، ہم نے نہیں۔ محترم زنگی کو آپ نے بلایا ہے، ہم نے نہیں۔ ہمارا امتحان میدانِ جنگ میں ہو سکتا ہے، پُرامن کوچ میں نہیں۔ مصر میں کیا ہو رہا ہے؟‘‘

صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کی طرف دیکھا اور کہا:

’’علی! انہیں بتاؤ، وہاں کیا ہو رہا ہے۔‘‘

علی بن سفیان نے کہا:

’’غداروں نے دشمن کے ساتھ مل کر سوڈان کے محاذ کے لیے رسد روک لی۔ منڈیوں سے غلہ غائب کر دیا ہے۔ دیہاتی علاقوں میں اجنبی لوگ آ کر غلہ اور خورد و نوش کی دیگر اشیاء خرید کر لے جا رہے ہیں۔ گوشت نایاب کر دیا گیا ہے۔ رسد اگر بھیجی جاتی ہے تو راستے میں تاخیر کی جاتی ہے۔ یوں بھی ہوا کہ رسد بھیج کر دے دی گئی۔ دشمن نے رسد کے قافلے کو راستے میں روک لیا۔ شہر میں بدکاری عام ہو گئی ہے۔ جوئے بازی کے ایسے دلچسپ طریقے رائج ہو گئے ہیں جن کے ہمارے لڑکے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ دیہاتی علاقوں سے فوج کو بھرتی نہیں ملتی اور جانور بھی نہیں ملتے۔ فوج میں بے اطمینانی پیدا ہو گئی ہے۔ ہمارے قومی کردار کو تباہ کرنے کے سامان پیدا کر دیے گئے ہیں۔

انتظامیہ کے حکام چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکمران بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہیں یہ لالچ صلیبیوں نے دے رکھا ہے۔ ان حاکموں کو باہر سے بے دریغ دولت مل رہی ہے۔ چونکہ سلطنت اور امارت کا انتظام انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہے، اس لیے انہوں نے ایسی فضا پیدا کر دی ہے جو دشمن کے لیے سازگار ہے۔

سب سے زیادہ خطرناک صورت یہ پیدا ہو گئی ہے کہ دیہاتی علاقوں میں عجیب و غریب عقیدے پھیل رہے ہیں۔ لوگ غیر اسلامی اصولوں کے قائل اور پابند ہوتے جا رہے ہیں۔ اس میں خطرہ یہ ہے کہ ہمیں فوج انہی علاقوں سے ملتی ہے اور ہماری موجودہ فوج انہی علاقوں سے آئی ہے۔ بے بنیاد اور غیر اسلامی عقیدے فوج میں بھی آ گئے ہیں۔

’’کیا آپ نے اس کا تدارک نہیں کیا؟‘‘ حاضرین میں سے کسی نے پوچھا۔

’’جی ہاں!‘‘ علی بن سفیان نے کہا، ’’میرا تمام تر شعبہ مجرموں کے سراغ لگانے اور انہیں پکڑنے میں مصروف ہے۔ میں نے اپنے جاسوس اور مخبر دیہاتی علاقوں میں بھی پھیلا رکھے ہیں، مگر دشمن کی تخریب کاری اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ اُس کے آدمیوں کو پکڑنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی دشمن کے جاسوسوں اور تخریب کاروں کو پناہ اور تحفظ دیتے ہیں۔ کیا آپ یہ سن کر حیران نہیں ہوں گے کہ دیہاتی علاقوں کی بعض مسجدوں کے امام بھی دشمن کی تخریب کاری میں شامل ہو گئے ہیں؟‘‘

’’یہ تو ہو نہیں سکتا کہ میں انتظامیہ فوج کے سپرد کر دوں۔‘‘ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا، ’’فوج جس مقصد کے لیے تیار کی گئی ہے، یہ اُس کی تکمیل کا فرض ہے۔ تو سلطنت کے لیے بھی بہتر ہوتا ہے اور فوج کے لیے بھی۔ جس طرح ایک کمان دار کو اپنے سالار کا معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کر رہا ہے، اسی طرح ہر سالار کو باخبر رہنا چاہیے کہ اُس کے ماتحت کیا کر رہے ہیں۔ کیا واقعی فرائض میں کوتاہی تو نہیں ہو رہی؟‘‘

’’میرے رفیقو! ہمیں خدا نے تاریخ کی سب سے زیادہ کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ مصر کے حالات آپ نے سن لیے ہیں۔ سوڈان کا حملہ ناکام ہو گیا ہے۔ تقی الدین اپنی غلطیوں کی بدولت سوڈان کے صحرا میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ اُس کی فوج چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں بکھر گئی ہے۔ اُس کی پسپائی بھی ممکن نظر نہیں آتی۔

میں کہہ نہیں سکتا کہ محترم زنگی کرک فتح کر لیں گے یا نہیں، لیکن اُسے بھی میں اپنی ناکامی کہتا ہوں۔ آپ انتہائی مشکل حالات میں بھی میدانِ جنگ میں دشمن کو شکست دے سکتے ہیں، مگر دشمن نے جس محاذ پر حملہ کیا ہے، اُس پر دشمن کو شکست دینا آپ کے لیے بظاہر آسان نظر نہیں آتا۔

آپ اَریخ زن ہیں، صحراؤں کا سینہ چیر سکتے ہیں، مگر مجھے خطرہ نظر آ رہا ہے کہ صلیبیوں کے اس محاذ پر آپ ہتھیار ڈال دیں گے۔‘‘

حاضرین میں سے چند ایک کی جوشیلی اور پُرعزم آوازیں سنائی دیں۔

سلطان ایوبی نے کہا:

’’اس وقت جو فوج مصر میں ہے، وہ جب شوبک اور کرک کے محاذ سے مصر گئی تھی تو اُس کے کمان داروں اور عہدیداروں کا جذبہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا آج آپ کا ہے، مگر قاہرہ پہنچ کر جب انہوں نے دشمنوں کے سبز باغ دیکھے تو بغاوت کے لیے تیار ہو گئے۔ اب اس فوج کی کیفیت یہ ہے کہ آپ اُس پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔‘‘

’’ہم ایسے ایک ایک کمان دار اور عہدیدار کو قتل کرکے دم لیں گے۔‘‘ ایک سالار نے کہا۔ہم سب سے پہلے اپنی صفوں کو غداروں سے پاک کریں گے۔‘‘ ایک اور نے کہا۔

’’اگر میرا بیٹا صلیبیوں کا دوست نکلا تو میں اپنی تلوار سے اُس کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں رکھ دوں گا۔‘‘ ایک بوڑھے نائب سالار نے کہا۔

’’میں اس قسم کی جوشیلی اور جذباتی باتوں کا قائل نہیں۔‘‘ سلطان ایوبی نے کہا۔

حاضرین کا جوش غضب ناک ہو گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو سلطان ایوبی کے سامنے بات کرنے سے ڈرا کرتے تھے، مگر اب یہ سن کر کہ اُن کی فوج کی وہ نفری جو مصر میں ہے، دشمن کی تخریب کاری کا شکار ہو کر اپنی سلطنت کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی ہے اور بغاوت پر اتر آئی ہے، تو وہ لوگ آگ بگولہ ہو گئے۔

ایک نے سلطان ایوبی کو یہاں تک کہہ دیا:

’’آپ ہمیں ہمت، حوصلے اور بردباری سے حل کرنے کی تلقین کرتے ہیں، مگر بعض حالات ایسے ہوتے ہیں جنہیں قتل، کردار اور زیادتی بگاڑ دیتی ہے۔ ہمیں اجازت دیں کہ قاہرہ تک ہم ایک بھی پڑاؤ نہ کریں۔ ہم آرام اور خوراک کے بغیر متواتر سفر کریں گے۔ ہم اس فوج کو منظم کرکے قید کر لیں گے۔‘‘

صلاح الدین ایوبی کے لیے ان لوگوں پر قابو پانا محال ہو گیا۔ اُس نے کچھ اور باتیں کہہ کر مجلس برخاست کر دی۔

علی الصبح فوج نے کوچ کیا۔ یہ کوچ ترتیب سے ہو رہا تھا۔ سلطان ایوبی اپنے عملے کے ساتھ الگ تھلگ جا رہا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ علی بن سفیان اُس کے ساتھ نہیں تھا۔ شام تک فوج کو دو مرتبہ کچھ دیر کے لیے روکا گیا۔ شام گہری ہونے کے بعد بھی فوج چلتی رہی۔ رات کا پہلا پہر ختم ہو رہا تھا، جب سلطان ایوبی نے رات کے قیام کے لیے فوج کو روکا۔

سلطان کھانے سے فارغ ہوا تو علی بن سفیان آگیا۔

’’سارا دن کہاں رہے، علی؟‘‘ سلطان ایوبی نے پوچھا۔

’’گزشتہ رات میرے دل میں ایک شک پیدا ہو گیا تھا۔‘‘ علی بن سفیان نے جواب دیا، ’’اس کی تصدیق یا تردید کے لیے سارا دن فوج میں گھومتا پھرتا رہا۔‘‘

’’کیسا شک؟‘‘

’’آپ نے رات دیکھا نہیں تھا کہ تمام سالار، کمان دار اور عہدیدار کس طرح اُس فوج کے خلاف بھڑک اُٹھے تھے جو مصر میں ہے؟‘‘ علی بن سفیان نے کہا، ’’مجھے شک ہونے لگا تھا کہ یہ اپنے اپنے دستوں کو بھی اسی طرح بھڑکائیں گے۔ میرا شک صحیح ثابت ہوا۔ انہوں نے تمام تر فوج کو مصر کی فوج کے متعلق ایسی باتیں بتائی ہیں کہ تمام انتقامی جذبے سے مشتعل ہو گئی ہے۔

میں نے سپاہیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم محاذوں پر زخمی اور شہید ہوتے ہیں اور ہمارے ہی ساتھی قاہرہ میں بیٹھ کر سلطنت اور اسلامی پرچم کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنا چاہتے ہیں۔ ہم جاتے ہی انہیں ختم کریں گے، پھر سوڈان میں پھنسی ہوئی فوج کی مدد کو پہنچیں گے۔

قابلِ صد احترام امیر! اگر ہم نے کوئی پیش بندی نہ کی تو قاہرہ پہنچتے ہی خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ ہماری یہ فوج انتقامی جذبے کے زیرِ اثر غصے میں ہے اور ہماری مصر والی فوج پہلے ہی بغاوت کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔‘‘

’’مجھے اس پر تو خوشی ہے کہ مسلسل معرکوں کی تھکی ہوئی اس فوج میں یہ جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔‘‘ سلطان ایوبی نے کہا، ’’اور ہمارا دشمن کیا چاہتا ہے؟ وہ چاہتا ہے کہ ہماری فوج دو حصوں میں بٹ کر آپس میں لڑے جائے۔‘‘

وہ گہری سوچ میں پڑ گیا، پھر کہنے لگا:

’’جب ہم قاہرہ سے خاصا دور ہوں گے تو میں ذمہ دار اور ذہین قاصد بھیج کر مصر والی فوج کو کسی دوسرے سے کرک کی سمت کوچ کا حکم دے دوں گا۔ شاید میں خود آگے چلا جاؤں اور اُس فوج کو کوچ کرا دوں، تاکہ یہ فوج جو ہماری ہے، جب وہاں پہنچے تو وہاں اسے اس فوج کا کوئی سپاہی نظر نہ آئے۔ تم نے اچھا کیا ہے، علی! میری توجہ ادھر ہٹ گئی تھی۔

وہ پُراسرار غیب دان، جس کے متعلق سرحد کے دیہاتی علاقوں میں مشہور ہو گیا تھا کہ آسمان سے آیا ہے، خدا کا دین لایا ہے اور مرے ہوؤں کو زندہ کرتا ہے، اپنے مصاحبوں کے قافلے کے ساتھ سفر کرتا تھا۔

جنہوں نے اُسے دیکھا تھا، وہ کہتے تھے کہ وہ بوڑھا نہیں۔ اُس کی داڑھی بھورے رنگ کی اور چہرے کی رنگت گوری بتائی جاتی تھی۔ اُس نے سر کے بال لمبے رکھے تھے۔ لوگ بتاتے تھے کہ اُس کی شربتی آنکھوں میں پورے چاند جیسی چمک ہے اور اُس کے دانت ستاروں کی طرح سفید اور شفاف ہیں۔ اُس کا قد اونچا اور جسم گٹھا ہوا بتایا جاتا تھا اور وہ بولتا تھا تو سننے والے مسحور ہو جاتے تھے۔

اُس کے ساتھ بہت سے مصاحب اور بہت سے اونٹ تھے۔ سامان والے اونٹ الگ تھے، جن میں سے بعض پر بڑے بڑے خیمے لدے ہوتے تھے۔ اُس کا قافلہ آبادی سے دور رکتا اور وہ وہیں لوگوں سے ملتا تھا۔ کسی آبادی میں نہیں جاتا تھا۔

وہ جب کسی مقام سے کوچ کرتا تو اُس کے آگے آگے کچھ لوگ اونٹ اور گھوڑے بھگا دیتے اور راستے میں آنے والے لوگوں اور بستیوں کو خبر کر دیتے تھے کہ وہ آ رہا ہے۔ یہ لوگ ہر کسی کو اُس کی کرامات اور روحانی قوتوں کے کرشمے سناتے تھے۔ لوگ کئی کئی دن کے راستے سے چل کر اُس کے دیدار کے لیے آ بیٹھتے تھے۔

جس رات علی بن سفیان صلاح الدین ایوبی کو بتا رہا تھا کہ محاذ سے قاہرہ کو جانے والی فوج مصر میں مقیم فوج کے خلاف مشتعل ہو گئی ہے، اُس رات وہ غیب دان قاہرہ سے بہت دور ایک نخلستان میں خیمہ زن ہوا۔

اُس کا ایک اصول یہ تھا کہ چاندنی راتوں میں کسی سے نہیں ملتا تھا۔ دن کے دوران بھی کسی کے ساتھ بات نہیں کرتا تھا۔ اندھیری راتیں اُسے پسند تھیں۔ اُس کا خیمہ ایسی قندیلوں سے روشن ہوتا تھا جن میں سے ہر ایک کا رنگ دوسری سے مختلف تھا۔ ان روشنیوں کا بھی ایک تاثر تھا جو حاضرینِ محفل کے لیے طلسماتی تھا۔

وہ جہاں خیمہ زن ہوا تھا، اُس سے کچھ دور ایک بستی تھی، جس میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ حبشی رہتے تھے۔ اس بستی میں ایک مسجد بھی تھی، جہاں کا امام ایک خاموش طبیعت انسان تھا۔

ایک جوان سال آدمی کوئی دو مہینوں سے اُس کے پاس دینی تعلیم حاصل کرنے آیا کرتا تھا۔ یہ آدمی، جو اپنا نام محمود بن احمد بتاتا تھا، کسی دوسری بستی کی مسجد میں جایا کرتا تھا۔ اُس کی دلچسپی امامِ مسجد اور اُس کے علم کے ساتھ تھی، مگر اُس کی ایک دلچسپی اور بھی تھی۔ یہ ایک لڑکی تھی، جس نے اُسے اپنا نام سعدیہ بتایا تھا۔

سعدیہ کو محمود اتنا بھا گیا تھا کہ وہ اُسے کئی بار اپنی بکریوں کا دودھ پلا چکی تھی۔ اُن کی پہلی ملاقات بستی سے دور ایک ایسی جگہ ہوئی تھی، جہاں سعدیہ اپنی چار بکریاں اور دو اونٹ چرانے اور پانی پلانے کے لیے لے گئی تھی۔ محمود وہاں پانی پینے کے لیے رُکا تھا۔

سعدیہ نے اُس سے پوچھا تھا کہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جا رہا ہے۔

محمود نے کہا تھا، ’’نہ کہیں سے آیا ہوں، نہ کہیں جا رہا ہوں۔‘‘

سعدیہ سادگی سے ہنس پڑی تھی۔ محمود کی بات میں بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

سعدیہ نے محمود سے قدرتی سا سوال پوچھا، ’’مسلم یا سوڈانی؟‘‘

محمود نے جواب دیا کہ وہ مسلمان ہے تو سعدیہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔

محمود نے اُسے اپنا صحیح ٹھکانہ نہیں بتایا تھا۔ اُس کے ساتھ کچھ ایسی باتیں کی تھیں جو سعدیہ کو اچھی لگی تھیں۔ سعدیہ اُس سے سوڈان کی جنگ کے متعلق پوچھنے لگی۔ اُس کے انداز سے پتا چلتا تھا کہ اُسے اسلامی فوج کے ساتھ دلچسپی ہے۔

اُس نے جب صلاح الدین ایوبی کے متعلق پوچھا تو محمود نے اُس کی ایسی تعریفیں کیں جیسے سلطان صلاح الدین ایوبی انسان نہیں، خدا کا اُتارا ہوا فرشتہ ہو۔

سعدیہ نے پوچھا، ’’کیا صلاح الدین ایوبی اُس سے زیادہ مقدس اور برگزیدہ ہے جو آسمان سے اترا ہے اور مرے ہوؤں کو زندہ کر دیتا ہے؟

’’صلاح الدین ایوبی مرے ہوؤں کو زندہ نہیں کر سکتا۔‘‘ محمود نے جواب دیا۔

’’ہم نے سنا ہے کہ جو لوگ زندہ ہوتے ہیں، انہیں صلاح الدین ایوبی مار ڈالتا ہے۔‘‘ سعدیہ نے شکی لہجے میں کہا۔ ’’لوگ یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہے اور ہماری طرح کلمہ اور نماز پڑھتا ہے؟‘‘

’’تمہیں کس نے بتایا ہے کہ وہ لوگوں کو مار ڈالتا ہے؟‘‘

’’ہمارے گاؤں میں سے مسافر گزرتے رہتے ہیں اور وہ بتا جاتے ہیں کہ صلاح الدین ایوبی بہت برا آدمی ہے۔‘‘ سعدیہ نے کہا۔

’’تمہاری مسجد کا امام کیا بتاتا ہے؟‘‘ محمود نے پوچھا۔

’’وہ بہت اچھی باتیں بتاتا ہے۔‘‘ سعدیہ نے کہا، ’’وہ سب کو کہتا ہے کہ صلاح الدین ایوبی اسلام کی روشنی سارے مصر اور سوڈان میں پھیلانے آیا ہے اور اسلام ہی خدا کا سچا دین ہے۔‘‘

محمود اُس کے ساتھ اس موضوع پر باتیں کرتا رہا تھا۔ سعدیہ سے اُسے پتا چلا کہ اُس کے گاؤں میں ایسے آدمی آتے رہتے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان بتاتے ہیں، مگر باتیں ایسی کرتے ہیں کہ کئی لوگوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔

محمود نے سعدیہ کے شکوک رفع کر دیے اور اپنی ذات، میٹھی زبان اور شخصیت کا اُس پر ایسا اثر پیدا کیا کہ سعدیہ نے بے تابی سے کہا کہ وہ اکثر یہیں بکریاں چرانے آیا کرتی ہے اور محمود جب کبھی اِدھر سے گزرے تو اُسے ضرور ملے۔

محمود اُسے جذبات اور حقائق کے درمیان بھٹکتا چھوڑ کر اُس کے گاؤں کی طرف چلا گیا۔ سعدیہ یہ سوچتی رہ گئی کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اور کہاں جا رہا ہے؟ اُس کا لباس اسی علاقے کا تھا، مگر اُس کی شکل و صورت اور اُس کی باتیں بتاتی تھیں کہ وہ اس علاقے کا رہنے والا نہیں۔

سعدیہ کے شکوک صحیح تھے۔ محمود بن احمد دیہاتی علاقے کا رہنے والا نہیں تھا۔ وہ سکندریہ شہر کا باشندہ تھا اور علی بن سفیان کی داخلی جاسوسی (انٹیلی جنس) کا ایک ذہین کارکن تھا۔ وہ کئی مہینوں سے اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے سرحدی دیہات میں گھوم پھر رہا تھا۔

اُس نے کھانے پینے اور رہنے کا انتظام خفیہ رکھا ہوا تھا۔ اُس کے ساتھ چند اور جاسوس بھی تھے جو اس علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ وہ کبھی کبھی اکٹھے ہوتے اور اُن کے جو مشاہدات ہوتے تھے، وہ اپنے کسی ایک ساتھی کے سپرد کرکے اُسے قاہرہ بھیج دیتے تھے۔ اس طرح علی بن سفیان کے شعبے کو پتا چلتا رہتا تھا کہ سرحدی علاقے میں کیا ہو رہا ہے۔

محمود بن احمد کو سعدیہ مل گئی تو اُس نے اس لڑکی کے ساتھ بھی ایسی باتیں کیں جن سے اُسے گاؤں اور گرد و پیش کے علاقے کے لوگوں کے خیالات کا علم ہو سکتا تھا۔

اُس نے سعدیہ کے گاؤں کی مسجد کے امام کے متعلق خاص طور پر پوچھا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ دو گاؤں میں اُس نے ایسے امامِ مسجد دیکھے تھے جو اُسے مشکوک سے لگتے تھے۔ وہاں کے لوگوں سے اُسے معلوم ہوا تھا کہ یہ دونوں امام نئے آئے ہیں۔ اس سے پہلے ان مسجدوں میں امام تھے ہی نہیں۔

دونوں جہاد کے خلاف وعظ سناتے اور قرآن کی آیات پڑھ کر غلط تفسیریں بیان کرتے تھے، اور یہ دونوں پُراسرار غیب دان کو برحق بتاتے اور لوگوں میں اُس کی زیارت کا اشتیاق پیدا کرتے تھے۔

محمود اور اُس کے دو ساتھیوں نے ان دونوں اماموں کے متعلق رپورٹ قاہرہ بھیج دی تھی اور اب وہ سعدیہ کے گاؤں جا رہا تھا۔ اُسے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی تھی کہ اس گاؤں کا امام سلطان ایوبی کا مرید اور اسلام کا علمبردار ہے۔ اُس نے اس مسجد کو اپنا ٹھکانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔

وہ مسجد میں گیا اور امام سے ملا۔ اپنا جھوٹا تعارف کرا کے اُس نے کہا کہ وہ مذہبی علم کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ امام نے اُسے تعلیم دینے کا وعدہ کیا اور اسے مسجد میں رہنے کی پیش کش کی۔

محمود مسجد میں قید نہیں ہونا چاہتا تھا۔ اُس نے امام سے کہا کہ وہ دو تین روز بعد اپنے گھر جایا کرے گا۔ اُس نے امام کو بھی اپنا نام نہیں بتایا تھا۔ امام نے اُس سے نام پوچھا تو اُس نے کچھ اور نام بتا دیا۔ یہ پوچھا کہ وہ کہاں کا رہنے والا ہے تو اُس نے دور کسی سرحدی گاؤں کا نام بتا دیا۔

امام مسکرایا اور آہستہ سے بولا:

’’محمود بن احمد! مجھے خوشی ہوئی ہے کہ تم اپنے فرائض سے بے خبر نہیں۔ سکندریہ کے مسلمان فرض کے پکے ہوتے ہیں۔‘‘

محمود ایسا چونکا جیسے بجلی گِر پڑی ہو۔ وہ سمجھا کہ یہ امام صلیبیوں کا جاسوس ہے، لیکن امام نے اُسے زیادہ دیر تک شک میں نہ رہنے دیا اور کہا:

’’میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے کم از کم تمہارے سامنے اپنے آپ کو بے نقاب کر دینا چاہیے۔ میں تمہارے ہی محکمے کا آدمی ہوں۔ میں تمہارے تمام ساتھیوں کو، جو اس علاقے میں ہیں، جانتا ہوں۔ مجھے تم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا۔ میں محترم علی بن سفیان کے اُس عملے کا آدمی ہوں جو دشمن پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے جاسوسوں پر بھی نظر رکھتا ہے۔ میں امام بن کر جاسوسی کا کام کر رہا ہوں۔‘‘

’’پھر میں آپ کو دانش مند آدمی نہیں کہوں گا۔‘‘ محمود بن احمد نے کہا، ’’آپ نے جس طرح میرے سامنے اپنے آپ کو بے نقاب کیا ہے، اس طرح آپ دشمن کے کسی جاسوس کے سامنے بھی بے نقاب ہو سکتے ہیں۔‘‘

’’مجھے یقین تھا کہ تم میرے آدمی ہو۔‘‘ امام نے کہا، ’’ضرورت ایسی آپڑی ہے کہ تمہیں اپنا اصلی روپ بتانا ضروری سمجھا۔ میرے ساتھ دو محافظ ہیں جو یہاں کے باشندوں کے بہروپ میں گاؤں میں موجود رہتے ہیں۔ مجھے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہے۔ اچھا ہوا کہ تم آ گئے ہو۔

اس گاؤں میں دشمن کے تخریب کار آ رہے ہیں۔ تم نے اُس آدمی کے متعلق سنا ہوگا جس کے متعلق مشہور ہو گیا ہے کہ وہ مستقبل کے اندھیرے کی خبر دیتا اور مرے ہوؤں کو زندہ کرتا ہے۔ یہ گاؤں بھی اُس کی اَن دیکھی کرامات کی زد میں آ گیا ہے۔

میں نے گاؤں والوں کو شروع میں بتایا تھا کہ یہ سب جھوٹ ہے اور لاشوں میں کوئی انسان جان نہیں ڈال سکتا، مگر اُس کی شہرت کا جادو اتنا سخت ہے کہ لوگ میرے خلاف ہونے لگے ہیں۔ میں سنبھل گیا، کیونکہ میں اس مسجد سے نکلنا نہیں چاہتا۔ مجھے ایک اڈے اور ٹھکانے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے گمراہ ہو چکے لوگوں کو اسلام کا سیدھا راستہ بھی دکھانا ہے۔

پندرہ دن گزرے، رات کو دو آدمی میرے پاس آئے۔ میں نے دیکھا کہ ان دونوں کے چہروں پر نقاب تھے۔ انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ میں یہاں سے چلا جاؤں۔ میں نے انہیں کہا کہ میرا اور کوئی ٹھکانہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہاں رہنا چاہتے ہو تو درس بند کر دو اور اُس کی باتیں کرو جو آسمان سے آیا ہے اور خدا کا سچا دین لایا ہے۔

میں دونوں کا مقابلہ کر سکتا تھا۔ ہتھیار ہر وقت اپنے پاس رکھتا ہوں، لیکن میں لڑ کر، قتل کرکے یا قتل ہو کر اپنا فرض پورا نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے عقل سے کام لیا اور انہیں یہ تاثر دیا کہ آج سے وہ مجھے اپنا آدمی سمجھیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں اُن کی باتوں پر عمل کروں گا تو مجھے ایک انعام یہ ملے گا کہ مجھے قتل نہیں کیا جائے گا اور دوسرا یہ کہ مجھے اشرفیاں دی جائیں گی۔‘‘

’’پھر آپ نے اپنے وعظ اور خطبے کا رنگ بدل دیا ہے؟‘‘ محمود نے پوچھا۔

’’کسی حد تک۔‘‘ امام نے جواب دیا، ’’میں اب دونوں قسم کی باتیں کرتا ہوں۔ مجھے اللہ کی نہیں، اپنی جان کی ضرورت ہے۔ میں اپنا فرض ادا کیے بغیر مرنا نہیں چاہتا۔ میں گاؤں سے باہر جا کر تمہیں یا تمہارے کسی ساتھی کو ڈھونڈنا بھی نہیں چاہتا، کیونکہ اُس کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی۔

خدا نے خود ہی تمہیں میرے پاس بھیج دیا ہے۔ میرے محافظ اُس رات میرے پاس نہیں تھے۔ اب تم ہی میرے ساتھ رہو۔ تم میرے شاگرد کی حیثیت سے میرے ساتھ رہو گے۔ تم سیدھے سادے گنواروں کی سی باتیں کیا کرنا۔

گاؤں میں چار پانچ آدمی ایسے ہیں جو ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اگر ہمیں قریب کوئی سرحدی دستہ مل جائے تو ہمارا مقصد پورا ہو سکتا ہے، مگر ہمارے سرحدی دستوں کے کسی کمان دار پر بھروسہ کرنا بڑا خطرناک ہے۔ دشمن نے اشرفیوں اور عورتوں سے انہیں اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ وہ تنخواہ ہمارے خزانے سے لیتے اور کام دشمن کا کرتے ہیں۔

محمود بن احمد اُس کے پاس رک گیا۔ اُسی روز امام نے اُسے اپنے دونوں محافظوں سے ملا دیا۔

شام کو جب سعدیہ مسجد میں امام کے لیے کھانا لے کر آئی تو محمود کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی اور مسکرائی۔

محمود نے پوچھا، ’’میرے لیے کھانا نہیں لاؤ گی؟‘‘

سعدیہ کھانا امام کے حجرے میں رکھ کر دوڑی گئی اور روٹی کے ساتھ ایک پیالے میں بکریوں کا دودھ بھی لے آئی۔ وہ چلی گئی تو امام نے محمود سے کہا:

’’یہ علاقے کی سب سے زیادہ خوب صورت لڑکی ہے۔ ذہین بھی ہے اور کم عمر بھی۔ اس کا سودا ہو رہا ہے۔‘‘

’’سودا یا شادی؟‘‘

’’سودا۔‘‘ امام نے کہا، ’’تم جانتے ہو کہ ان لوگوں کی شادی دراصل سودا ہوتا ہے، مگر سعدیہ کا سیدھا سودا ہو رہا ہے۔ ہمیں اس کے متعلق پریشان نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن خریدار مشکوک لوگ ہیں۔ وہ یہاں کے رہنے والے نہیں۔ یہ وہی لوگ معلوم ہوتے ہیں جو مجھے دھمکی دے گئے ہیں۔ تم اچھی طرح سمجھ سکتے ہو کہ وہ اس لڑکی کو اپنے رنگ میں رنگ کر ہمارے خلاف استعمال کریں گے۔ اس لیے اسے بچانا ضروری ہے اور اس لیے بھی اسے بچانا ضروری ہے کہ یہ لڑکی مسلمان ہے۔

ہمیں سلطنت کے ساتھ ساتھ سلطنت کی بچیوں کی عصمت کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ سودا نہیں ہو سکے گا۔ سعدیہ کے باپ کو میں نے اپنا مرید بنا رکھا ہے، لیکن وہ غریب اور تنہا آدمی ہے اور رسم و رواج سے بھاگ بھی نہیں سکتا۔ بہرحال، سلطنت اور سعدیہ کی عصمت کے محافظ ہمارے سوا اور کوئی نہیں۔‘‘

اس کے بعد محمود امام کا شاگرد بن گیا۔ دن گزرنے لگے اور اُس کی ملاقاتیں سعدیہ کے ساتھ ہونے لگیں۔ لڑکی چراگاہ میں چلی جاتی اور محمود وہاں پہنچ جاتا تھا۔

اُن کی بے تکلفی بڑھ گئی تو محمود نے سعدیہ سے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اُسے خریدنا چاہتے ہیں۔

سعدیہ انہیں نہیں جانتی تھی۔ اُس کے لیے وہ اجنبی تھے۔ اُس نے انہیں اسی طرح آ کر دیکھا تھا جس طرح گائے، بھینس کو خریدنے سے پہلے دیکھا جاتا ہے۔ اُسے ڈر تھا کہ وہ عرب کا کوئی دولت مند تاجر یا کوئی امیر یا وزیر اپنے حرم میں رکھ کر قید کر لے گا، جہاں وہ اپنا گھر بسائے بغیر بوڑھی ہو کر مر جائے گی، یا اُسے ناچنا سکھا کر تفریح کی چیز بنا لیا جائے گا۔

اُس نے اپنے گاؤں کے فوجیوں سے ایسی لڑکیوں کے بہت قصے سنے تھے۔ وہ اتنے پسماندہ علاقے میں رہتے ہوئے بھی ذہین تھی اور اپنا بھلا برا سوچ سکتی تھی۔

اُس نے محمود کو دیکھا تو اُسے دل میں بٹھا لیا اور جب یہ دیکھ کر اُسے یقین ہو گیا کہ محمود بھی اُسے چاہنے لگا ہے تو اُس نے دل میں یہ ارادہ پختہ کر لیا کہ وہ فروخت نہیں ہوگی۔

وہ جانتی تھی کہ خریداروں سے بچنا اُس کے لیے ممکن نہیں۔ ایک روز اُس نے محمود سے پوچھا:

’’تم مجھے خرید نہیں سکتے؟‘‘

’’خرید سکتا ہوں۔‘‘ محمود نے کہا، ’’لیکن میں جو قیمت دوں گا، وہ تمہارے باپ کو منظور نہیں ہوگی۔‘‘

’’کتنی قیمت دو گے؟‘‘

’’میرے پاس دینے کے لیے اپنے دل کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘ محمود بن احمد نے جواب دیا، ’’معلوم نہیں تم اگر تمہارے دل میں میری محبت ہے تو میرے لیے یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔‘‘ سعدیہ نے کہا، ’’تم ٹھیک کہتے ہو کہ میرے باپ کو یہ قیمت منظور نہیں ہوگی، لیکن میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میرا باپ مجھے بیچنا بھی نہیں چاہتا۔ اُس کی مجبوری یہ ہے کہ وہ غریب ہے اور اکیلا ہے۔ میرا کوئی بھائی نہیں۔ میرے خریداروں نے میرے باپ کو دھمکی دی ہے کہ اُس نے اُن کی قیمت قبول نہ کی تو وہ مجھے اغوا کر لیں گے۔‘‘

’’تمہارا باپ اتنی زیادہ قیمت کیوں قبول نہیں کرتا؟‘‘ محمود نے پوچھا، ’’لڑکیوں کو بیچنے کا تو یہاں رواج ہے۔‘‘

’’باپ کہتا ہے کہ وہ لوگ مسلمان نہیں لگتے۔‘‘ سعدیہ نے کہا، ’’میں نے بھی باپ سے کہہ دیا ہے کہ میں کسی غیر مسلم کے پاس نہیں جاؤں گی۔‘‘

اُس نے بے تاب ہو کر کہا، ’’تم اگر مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے تیار ہو تو میں ابھی تمہارے ساتھ چل پڑوں گی۔‘‘

’’میں تیار ہوں۔‘‘ محمود نے کہا۔

’’تو چلو۔‘‘ سعدیہ نے کہا، ’’آج ہی رات چلو۔‘‘

’’نہیں!‘‘ محمود کے منہ سے نکل گیا، ’’میں اپنا فرض پورا کیے بغیر کہیں بھی نہیں جا سکتا۔‘‘

’’کیسا فرض؟‘‘ سعدیہ نے پوچھا۔

محمود بن احمد چونکا۔ وہ سعدیہ کو نہیں بتا سکتا تھا کہ اُس کا فرض کیا ہے۔ اُس نے منہ سے نکلی ہوئی بات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی، مگر سعدیہ اُس کے پیچھے پڑ گئی۔

محمود کو اچانک یاد آ گیا۔ اُس نے کہا، ’’میں امام سے مذہبی تعلیم لینے آیا ہوں۔ اس کی تکمیل کے بغیر میں کہیں نہیں جاؤں گا۔‘‘

’’اس وقت تک مجھے معلوم نہیں کہاں پہنچا دیا جائے گا۔‘‘ سعدیہ نے کہا۔

محمود فرض کو ایک لڑکی پر قربان کرنے پر آمادہ نہ ہو سکا۔ اُس کے دل میں یہ شک بھی پیدا ہوا کہ شاید سعدیہ دشمن کی جاسوس بھی ہو سکتی ہے، جسے اُسے بے کار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا اُس نے سعدیہ کے متعلق چھان بین کرنا ضروری سمجھا۔

صلاح الدین ایوبی کی فوج قاہرہ سے آٹھ دس میل دور تھی۔ اُسے بتا دیا گیا تھا کہ فوج مشتعل ہے اور مصر کی فوج پر ٹوٹ پڑے گی۔ سلطان ایوبی نے وہاں پڑاؤ کا حکم دے دیا اور سپاہیوں میں گھومنے پھرنے لگا۔ وہ خود سپاہیوں کے جذبات کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔

وہ ایک سوار کے پاس رُکا تو کئی سوار اور پیادہ اُس کے گرد جمع ہو گئے۔ اُس نے اُن کے ساتھ غیر ضروری سی باتیں کیں تو ایک سوار بول پڑا۔ اُس نے پوچھا:

’’گستاخی معاف، سالارِ اعظم! یہاں پڑاؤ کی ضرورت نہیں تھی۔ ہم شام تک قاہرہ پہنچ سکتے تھے۔‘‘

’’تم لوگ لڑتے لڑتے آئے ہو۔‘‘ سلطان ایوبی نے کہا، ’’میں تمہیں اس کھلے صحرا میں آرام دینا چاہتا ہوں۔‘‘

’’ہم لڑتے آئے ہیں اور لڑنے جا رہے ہیں۔‘‘ سوار نے کہا۔

’’لڑنے جا رہے ہیں؟‘‘ سلطان ایوبی نے انجان بنتے ہوئے پوچھا، ’’میں تو تمہیں قاہرہ لے جا رہا ہوں۔‘‘
’’وہ ہمارے دشمن ہیں۔‘‘ سوار نے کہا، ’’اگر یہ سچ ہے کہ ہمارے دوست بغاوت کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو وہ ہمارے دشمن ہیں۔‘‘

’’صلیبیوں سے بدترین دشمن۔‘‘ ایک اور سپاہی نے کہا۔

’’کیا یہ سچ نہیں، سالارِ اعظم، کہ قاہرہ میں غداری اور بغاوت ہو رہی ہے؟‘‘ کسی اور نے پوچھا۔

’’کچھ گڑبڑ ہے۔‘‘ سلطان ایوبی نے کہا، ’’میں مجرموں کو سزا دوں گا۔‘‘

’’آپ پوری فوج کو کیا سزا دیں گے؟‘‘ ایک سوار نے کہا، ’’سزا ہم دیں گے۔ ہمیں کمان داروں نے قاہرہ کے سارے حالات بتا دیے ہیں۔ ہمارے ساتھی شوبک اور کرک میں شہید ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں کے اندر ہماری بیٹیوں اور بہنوں کی عصمت دری ہوئی ہے اور کرک میں ابھی تک ہو رہی ہے۔ ہمارے ساتھی قلعے کی دیواروں سے دشمن کی پھینکی ہوئی آگ میں زندہ جل گئے ہیں۔ قبلۂ اول پر کافروں کا قبضہ ہے اور ہماری فوج قاہرہ میں بیٹھی عیش کر رہی ہے۔ آپ کے خلاف بغاوت کی تیاری کر رہی ہے۔

جنہیں شہیدوں کا پاس نہیں، اپنی بیٹیوں کی عصمتوں کا خیال نہیں، انہیں زندہ رہنے کا بھی حق نہیں۔ ہم جانتے ہیں، وہ اسلام کے دشمن کے دوست بن گئے ہیں۔ ہم جب تک غداروں کی گردنیں اپنے ہاتھوں سے نہیں کاٹیں گے، ہمیں شہیدوں کی روحیں معاف نہیں کریں گی۔

ذرا ان زخمیوں کو دیکھئے، جنہیں ہم اپنے ساتھ لا رہے ہیں۔ کسی کی ٹانگ نہیں، کسی کا بازو نہیں۔ کیا یہ اس لیے ساری عمر کے لیے اپاہج ہو گئے ہیں کہ ہمارے ساتھی اور ہمارے دوست دشمن کے ہاتھ میں کھیلیں؟‘‘

’’ہم انہیں اپنے ہاتھوں سزا دیں گے!‘‘

پھر ایسا شور بپا ہو گیا کہ ساری فوج وہاں جمع ہو گئی۔ صلاح الدین ایوبی کے لیے اس جوش و خروش پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔ وہ سپاہیوں کے جوش اور جذبے کو سرد کرکے اُن کا دل بھی نہیں توڑنا چاہتا تھا۔ اُس نے انہیں صبر کی تلقین کی۔ کوئی حکم نہ دیا اور اپنے خیمے میں چلا گیا۔

اُس نے مشیروں اور نائبین کو بلا کر کہا:

’’یہ فوج اگلے ہفتے تک یہیں پڑاؤ کرے گی۔‘‘

اُس نے کہا، ’’میں نے دیکھ لیا ہے کہ خانہ جنگی ہوگی۔ فوج کا آپس میں ٹکرا جانا دشمن کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ میں آج رات قاہرہ جا رہا ہوں۔ کسی کو معلوم نہ ہو سکے کہ میں یہاں نہیں ہوں۔ سپاہیوں کے جوش کو سرد کرنے کی بھی کوشش نہ کی جائے۔‘‘

اُس نے ضروری احکام اور ہدایات دے کر کہا:

’’ہماری قاہرہ والی فوج، جو بغاوت پر آمادہ ہے، میری نظر میں بے گناہ ہے اور ہماری قوم کے وہ نوجوان جو جوئے اور دینی عیاشی کے عادی ہوتے جا رہے ہیں، وہ بھی بے گناہ ہیں۔ فوج کو ہمارے اعلیٰ حکام نے غلط باتیں بتا کر بھڑکایا ہے۔ انہی حکام کے ایماء پر دشمن نے ہمارے ملک کے سب سے بڑے شہر میں عیش و عشرت کے سامان پھیلائے ہیں۔

اس اخلاقی تباہ کاری کو فروغ صرف اس لیے خاص طور پر ملا ہے کہ ہماری انتظامیہ کے وہ حکام، جنہیں اس تخریب کاری کو روکنا تھا، وہ اسے پھیلانے میں شریک ہیں۔ جب کسی قوم کے سربراہ اور امراء دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے لگتے ہیں تو اس قوم کا یہی حشر ہوتا ہے۔

ہماری فوج سوڈان کے ظالم صحرا میں پھنسی ہوئی ہے۔ کیا یہ دشمن کی سازشیں نہیں، جسے ہمارے اپنے بھائی کامیاب کر رہے ہیں؟

اس سے دشمن کو ایک فائدہ یہ ہو رہا ہے کہ تقی الدین اور اُس کے وہ عسکری جو جذبۂ جہاد سے لڑ رہے ہیں، وہ مر رہے ہیں اور نوبت ہتھیار ڈالنے تک آ گئی ہے۔ اور دوسرا فائدہ یہ کہ ہماری قوم کو بتایا جائے گا کہ یہ دیکھو، تمہاری فوج شکست کھا گئی ہے، کیونکہ یہ اس قابل تھی۔‘‘
بھائی مصر کی امارت پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ سب سے پہلے فوج کو قوم کی نظروں میں رسوا اور ذلیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ من مانی کر سکیں۔ مجھے امارت کے ساتھ چپکے رہنے کی کوئی خواہش نہیں۔ اگر میرے مخالفین میں سے کوئی مجھے یہ یقین دلا دے کہ وہ میرے عزم کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے گا تو میں اُس کی فوج میں سپاہی بن کر رہوں گا۔ اگر ایسا کون ہے؟ یہ لوگ اپنی باقی زندگی بادشاہ بن کر گزارنا چاہتے ہیں، خواہ دشمن کے ساتھ ساز باز کرکے بادشاہی ملے، اور میں اپنی زندگی وہیں دینا چاہتا ہوں جہاں میں قوم کو اُس مقام پر لانا چاہتا ہوں، جہاں وہ اپنے دین کے دشمنوں کے سر پر پاؤں رکھ کر بادشاہی کرے۔ ہمارے ان لالچی اور غدار حاکموں کی نظر اپنی اپنی ذات پر ہے، میری نظر قوم کے مستقبل پر ہے۔‘‘

اُس نے بولتے بولتے توقف کیا۔

’’میرا گھوڑا فوراً تیار کرو۔‘‘

اُس نے اُن افراد کے نام لیے، جنہیں اُس کے ساتھ جانا تھا۔ اُس نے کہا، ’’نہایت خاموشی سے ان سب کو بلاؤ اور انہیں قاہرہ چلنے کے لیے کہو۔ میرا خیمہ یہیں لگا رہنے دو، تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ میں یہاں نہیں ہوں۔‘‘

اُس نے گہرا سانس لیا اور کہا:

’’میں آپ کو ذہن نشین کراتا ہوں کہ جو فوج بغاوت کے لیے تیار ہے، میں اُس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کروں گا۔ تم میں سے کوئی بھی اس فوج کے خلاف کدورت نہ رکھے۔ اسی طرح اپنے نوجوانوں کو بھی قابلِ نفرت نہ سمجھنا۔ میں اُن کے خلاف کارروائی کروں گا جو نوجوانوں اور قوم کو گمراہ اور ذلیل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

یہی فوج جب اپنے دشمن کے سامنے آئے گی اور دشمن اُس کا تیروں سے استقبال کرے گا تو فوج کو یاد آئے گا کہ وہ اللہ کی فوج ہے۔ دماغ سے بغاوت کے کیڑے نکل جائیں گے۔ آپ جب اپنے بچوں کو اپنے دین کا دشمن دکھائیں گے تو اُن کا ذہن ازخود جوئے سے ہٹ کر جہاد کی طرف آ جائے گا۔

میں آپ کو صاف الفاظ میں بتا دیتا ہوں کہ اسلام اور سلطنتِ اسلامیہ کی بقا اور وقار فوج کے بغیر ممکن نہیں۔ میں صلیبیوں اور یہودیوں کے عزائم، اُن کے طرزِ جنگ اور اُن کی زیرِ زمین کارروائیوں کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ اسلام کی فوج کو کمزور کرکے اسلام کا خاتمہ کریں گے۔

جس روز اور جس دور میں کسی بھی مسلمان ملک کی فوج کمزور ہو گئی، وہ ملک اپنی آزادی اور اپنا وقار کھو بیٹھے گا۔ کسی بھی دور میں کوئی مسلمان مملکت مضبوط اور باوقار فوج کے بغیر زندہ نہیں رہ سکے گی۔ ہمارا آج کا غلط اقدام اسلام کی جڑیں کاٹ دے گا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ آنے والی نسلیں ہماری لغزشوں، ناکامیوں اور کامیابیوں سے فائدہ اٹھائیں گی یا نہیں۔‘‘

’’امیرِ مصر!‘‘ ایک مشیر نے کہا، ’’اگر ہمارے بھائی غداری کے فن ہی میں مہارت حاصل کرتے رہے تو آنے والی نسلیں غلام ہوں گی۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوگا کہ آزادی کسے کہتے ہیں اور قومی وقار کیا ہے۔ کیا ہمارے پاس اس کا کوئی علاج ہے؟‘‘

’’قوم کا ذہن بیدار کرو۔‘‘ سلطان ایوبی نے کہا، ’’قوم کو رعایا نہ کہو۔ قوم کا ہر فرد اپنی جگہ بادشاہ ہوتا ہے۔ کسی بھی فرد کو قومی وقار سے محروم نہ کرو۔

ہمارے امراء اور حاکموں میں چونکہ بادشاہ اور خلیفہ بننے کا جنون سوار ہے، اس لیے وہ قوم کو رعایا بنا کر اسے اپنے اقتدار کے استحکام کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

یاد رکھو، قوم جسموں کا مجموعہ نہیں، جسے تم مویشیوں کی طرح ہانکتے پھرو۔ قوم میں دماغ بھی ہے، روح بھی ہے اور قومی وقار بھی ہے۔ قوم کی ان خوبیوں کو ابھار دو، تاکہ قوم خود سوچے کہ اچھا کیا اور برا کیا ہے، اچھا کون اور برا کون ہے۔

اگر قوم محسوس کرے کہ صلاح الدین ایوبی سے بہتر امیر موجود ہے، جو سلطنتِ اسلامیہ کے تحفظ کے ساتھ اسے سمندروں سے پار بھی وسعت دے سکتا ہے، تو قوم کا کوئی بھی فرد مجھے راستے میں روک لے اور جرأت سے کہے کہ صلاح الدین ایوبی! تم یہ مسند خالی کر دو، ہم نے تم سے بہتر آدمی ڈھونڈ لیا ہے۔‘‘

جاری ھے ۔۔۔۔۔۔۔
لائک کمنٹ فالو

Loading