شباب کی بات
*حیرت سے تک رہا ہے جہاں ادب مجھے*
ایک پشتو ضرب المثل کے مطابق باہر کی لڑائی تو گھر لے اؤ گے، مگر پھر گھر کی لڑائی کہاں لے کر جاؤ گے؟ غالباً اسی کہاوت پر عمل کرتے اور اپنے گھر آنگن کو میدان جنگ میں تبدیل کرنے سے احتراز کرتے ہوئے، “کارادب ؟” سے جڑی بعض خواتین نے گزشتہ روز اپنے اختلافات کو “حتمی نتائج” سے دوچار کرنے کے لیے نہایت عقلمندی کا مظاہرہ کیا اور آپس کی لڑائی کے لیے، حلقہء ارباب ذوق کے میدان کو چن کر ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کرنا شروع کر دیے۔معاملہ گلوں اور شکایات سے آغاز ہوا، پھرطعنہ پردازی سے ہوتا ہوا، دشنام طرازی کے دائرے میں داخل ہو گیا۔ اور جس طرح۔۔۔۔۔۔ (بیچ چوراہےکے) دھونا جیسے محاورے کا استعمال کیا جاتا ہے، تو لگ بھگ ویسے ہی کیفیت پیدا ہونی شروع ہوئی، تو ہم نےاس صورت حال پر اتنا ہی لکھنا مناسب سمجھا کہ
حیرت سے تک رہا ہے جہان “ادب” مجھے
اور ساتھ ہی لکھا کہ ” مزید کچھ لکھنا نہیں چاہتا ورنہ ( بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے والی بات ہو جائے گی) تا ہم یہ سلسلہ رکنے ہی میں نہیں آرہا تھا اور دونوں جانب سے وہ، وہ کچھ کہا جا رہا تھا کہ الامان و الحفیظ، اس لیے جب یہ سلسلہ کسی طور رکنے ہی میں نہیں آیا تو ایک بار پھر مجبور ہو کر گزارش کرنا پڑی کہ “محترم خواتین! یہ پانی پت کا میدان نہیں ہے، ادبی پلیٹ فارم ہے اور براہ کرم یہاں ادبی باتیں ہوں تو بہتر ہوگا” ۔ تاہم جب صورتحال میں کسی مثبت تبدیلی کے آثار تک نہیں دکھائی دیئے تو اس پر ہمیں ایک مشاعرے کے اختتام پر ہندکو زبان کے ایک استاد شاعر، مرحوم غلام رسول گھائل کا، مشاعرے کے میزبان، قمر عثمان آبادی مرحوم (جنہیں پشاور کے ادبی حلقوں میں ان کی طویل القامتی کی وجہ سے ازراہ تفنن، قمر اونٹ آبادی کہا جاتا تھا) سے وہاں موجود نوجوان شعراء کی سامان خورد و نوش پر اچانک حملہ آور ہونے اور بھری ہوئی میزوں کا بھرپور انداز میں “کریا کرم” کرنے پر شکایت کرتے ہوئے یہ کہنا کہ “اوئے قمر! ادب کی محفل میں ان بے ادبوں کو کس نے گھسنے دیا؟” اب بیچارہ قمر عثمان آبادی ماسوائے بغل جھانکنے کے اور کیا کر سکتا تھا؟ بس لگ بھگ ویسی ہی صورتحال دکھائی دے رہی تھی، یعنی “ادب کے میدان میں بے ادبی کے جو مظاہرے کیے جا رہے تھے” اور یہ جنگ رکنے ہی میں نہیں آرہی تھی، تو ہم نے حلقہء ارباب ذوق کی مجلس عاملہ کے گروپ میں (ایس او ایس) پیغام ارسال کر کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وکیل کھڑا کرنے کی درخواست کی۔ اس حوالے سے بھی ایک لطیفہ پشاوری زبان میں بہت وائرل ہے کہ ایک شخص اچانک گھر واپس آیا، وہ ایک دو دن کے لیے کاروباری سلسلے میں شہر سے باہر جانا چاہتا تھا، اور گھر آکر ضرورت کے مطابق ایک دو جوڑے کپڑے ساتھ لے جانے کے لیے بیوی کو تیاری کرنے کا کہنا چاہتا تھا۔ مگر جب وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی سامنے والے گھر میں رہائش پذیر خاتون سے الجھی ہوئی دکھائی دی۔ دونوں خواتین ایک دوسرے کو بے نقط سنا رہی تھیں، اشاروں کنایوں سے جنگ کو مزید بھڑکانا اس پر مستزاد تھا۔ شوہر نے بیوی سے کہا جاؤ جا کر میرے لیے دو جوڑے کپڑے استری کر دو، میں شہر سے دو چار دن کے لیے باہر جا رہا ہوں۔ بیوی نے کہا، دیکھتے نہیں ہمسائی گالیاں دے رہی ہے، اس کو جواب دیئے بغیر کیسے ہٹ جاؤں؟ شوہر نے کہا وہ تم مجھ پر چھوڑ دو، تمہاری جگہ میں لڑتا ہوں، بس تم کپڑے استری کر دو۔ بیوی وہاں سے ہٹ گئی اور شوہر نے اپنی بیٹھک کی کھڑکی میں مورچہ سنبھال لیا۔ مگر خاصی دیر تک ہمسائی کی گالیوں کی آواز اور اپنے شوہر کی خاموشی دیکھ کر بیوی نے غصے میں آ کر شوہر سے کہا، عجیب شخص ہو، مجھے اندر کپڑے استری کرنے بھیج دیا اور خود خاموش کھڑے گالیاں سن رہے ہو؟ اس پر شوہر نے جو جواب دیا چونکہ وہ ناقابل تحریر اور قابل دست اندازیء اخلاقیات “کے زمرے میں آتا ہے” ، اس لیے اگر اپ بضد ہوں کہ وہ جواب کیا تھا؟ تو کسی ٹھیٹھ پشاوری سے پوچھ لیں۔ ہاں اتنا ہوا کہ حلقہ کے جوائنٹ سیکرٹری مسرور حسین نے حلقہ کے اکاؤنٹ کو وقتی طور پر بند کر کے، جنگ بندی کی کامیاب حکمت عملی سے دونوں جانب کے توپوں کے دہانے بند کرا دیئے۔ ٔ اس پر ہم نے ایک اور پوسٹ میں مسرور حسین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ شکر ہے بالاخر پانی،پت سرنگا پٹم، دیبل،سومنات، سکندر اعظم اور راجہ پورس کی جنگ کے علاوہ دیگر تمام لڑائیوں کو جوائنٹ سیکرٹری نے روکنے میں کامیابی حاصل کی، امید ہے اب اس جنگ بندی کو توڑ کر محاذ جنگ دوبارہ گرم نہیں کیا جائے گا۔ اگرچہ اس فہرست میں ہم جنگ پلاسی کا تذکرہ کرنے بھول گئے تھے، اس کے باوجود حلقہ کے کرم فرماؤں نے ہمارے الفاظ کو سراہا اور مختلف ایموجیز کے ذریعے جس طرح تبصرے کیے، وہ بھی بہت حوصلہ افزا تھے۔
بہر کیف شکر ہے کہ نہ صرف اب دونوں طرف محاذ جنگ پر خاموشی ہے، توپوں کے دہانے سرد ہو چکے ہیں بلکہ جو گولے دوران جنگ ان توپوں سے داغے جانے کے بعد حلقہء ارباب ذوق کے میدان پانی پت میں آکر گرے تھے، دوست مکرم، انجینیئر عتیق الرحمن، نے مائنز ڈیٹیکٹو کے ذریعے ڈھونڈ ڈھونڈ کر صاف کر دیے۔ جبکہ اب طے کر لیا گیا ہے کہ آئندہ اگر کوئی حلقے کی فراخ دلی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ذاتی لڑائیوں کو یہاں لانے کی کوشش کرے گا تو ان کو بصد احترام حلقے کے دائرہ اثر سے باہر کرنے اور ان پر پابندی لگانے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی جاۓ گی۔ اب جس کے جی میں ائے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا
![]()

