Daily Roshni News

سورۃ الشمس۔۔۔ قرآنِ کریم میں مسلسل قسموں کا طویل ترین تسلسل،  اس کا مطلب کیا ہے ؟

سورۃ الشمس۔۔۔ قرآنِ کریم میں مسلسل قسموں کا طویل ترین تسلسل،  اس کا مطلب کیا ہے ؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اگر کوئی شخص آپ کے پاس آئے اور کہے: “واللہ… واللہ… واللہ… میرے پاس ایک انتہائی اہم بات ہے”، تو آپ اپنے ہاتھ کا تمام کام چھوڑ کر پورے وجود کے ساتھ اس کی بات سنیں گے؛ کیونکہ بار بار قسم کھانا آنے والی بات کے عظیم ہونے کی دلیل ہے۔

تو پھر اس ذات کے بارے میں کیا خیال ہے جو خود رب العالمین ہے؟

سورۃ الشمس میں اللہ سبحانه وتعالیٰ نے مسلسل گیارہ قسمیں کھائی ہیں، اور یہ قرآن کریم میں مسلسل قسموں کا طویل ترین تسلسل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ۔۔وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا (2) ۝ وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا ۝ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا ۝ وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا ۝ وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا ۝ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ۝ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾

سورج اور اس کی دھوپ کی قسم، چاند کی قسم جب وہ اس کے پیچھے آئے، دن کی قسم جب وہ (سورج کو) ظاہر کر دے، رات کی قسم جب وہ اس پر چھا جائے، آسمان کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا، زمین کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا، اور انسانی نفس کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے درست بنایا، پھر اس کی برائی اور اس کی پرہیزگاری کی سمجھ اس کے دل میں ڈال دی.

ان تمام عظیم قسموں کے بعد — سورج، چاند، دن، رات، آسمان، زمین اور پھر انسانی نفس کی (جو تمام مخلوقات میں سب سے عجیب ہے) — جوابِ قسم آتا ہے، گویا پورا سامانِ کائنات خاموش کھڑا اس سچائی کا منتظر ہے:

﴿قَدْ أَفْللاحَ مَنْ زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا﴾

(بیشک کامیاب ہو گیا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا، اور ناکام ہوا وہ جس نے اسے گناہوں میں دبا دیا۔)

یعنی آپ کی زندگی کا سب سے بڑا منصوبہ اپنے نفس کا تزکیہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر ہمیں خبر دی ہے کہ انسان کی حقیقی کامیابی کا تمام تر دارومدار صرف ایک ہی بات پر ہے: کیا آپ نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا یا اسے گناہوں میں دبا دیا؟

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “پاکیزہ نفس وہ ہے جو اللہ کی اطاعت سے بلند ہوا، اور گندا نفس وہ ہے جسے گناہوں اور خواہشات کی دلدل میں چھپا دیا گیا ہو۔”

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى ۝ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى﴾

(بیشک وہ کامیاب ہو گیا جس نے تزکیہ حاصل کیا، اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی۔)

بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا کہ اس کے رسول ﷺ کی بنیادی ذمہ داری ہی نفوس کا تزکیہ ہے:

﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ… وَيُزَكِّيهِمْ﴾

(وہی ذات ہے جس نے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا… جو ان کا تزکیہ کرتا ہے)

انسان کا سب سے خطرناک دشمن صرف شیطان ہی نہیں… بلکہ اس کا اپنا نفس بھی ہے اگر اسے بغیر تربیت کے چھوڑ دیا جائے۔ یہی نفس برائی کا حکم دیتا ہے، سستی کو پسند کرتا ہے، خواہشات کی طرف مائل ہوتا ہے، عبادات کو بھاری سمجھتا ہے، معمولی باتوں پر غصہ ہوتا ہے، حسد کرتا ہے، غیبت کرتا ہے، تکبر کرتا ہے اور باطل کی حمایت میں جھگڑتا ہے۔

اسی لیے اسلاف اپنے نفس سے اس سے کہیں زیادہ جہاد کرتے تھے وہ اپنے دشمنوں سے کرتے تھے۔

نفس کا تزکیہ زندگی کا مکمل عملی نظام (برنامج) ہے:

 1…عقیدے کا تزکیہ: شرک اور ریاکاری سے۔

 2…دل کا تزکیہ: حسد، تکبر اور کینے سے۔

 3…زبان کا تزکیہ: غیبت، چغلی، جھوٹ اور فضول باتوں سے۔

 4…آنکھ کا تزکیہ: اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے نگاہیں پست رکھنے کے ذریعے۔

 5…کان کا تزکیہ: باطل باتیں سننے سے۔

 6…ہاتھ کا تزکیہ: ظلم اور حرام کھانے سے۔

 7…مال کا تزکیہ: زکوٰۃ اور صدقہ ادا کرنے سے۔

 8…وقت کا تزکیہ: اطاعت اور حرام کھیل کود کو چھوڑنے کے ذریعے۔

 9…تعلقات کا تزکیہ: حسنِ اخلاق، درگزر اور احسان کے ذریعے۔

اللہ کی بارگاہ میں قیامت کے دن کامیابی کا معیار دل کی سلامتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ۝ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾

(جس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، سوائے اس کے جو اللہ کے پاس سلامتی والے دل کے ساتھ آئے۔)

اور نبی کریم ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی:

«اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا» (صحیح مسلم)

(اے اللہ! میرے نفس کو اس کی پرہیزگاری عطا فرما، اور اس کا تزکیہ کر، تو ہی بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی اس کا سرپرست اور آقا ہے۔)

اگر تمام انسانوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ ہستی رسول اللہ ﷺ روزانہ اللہ سے اپنے نفس کے تزکیے کا سوال کرتے تھے، تو پھر ہمارا کیا حال ہونا چاہیے؟!

اے اللہ! ہمارے دلوں کو نفاق سے، ہمارے اعمال کو ریاکاری سے، ہماری زبانوں کو جھوٹ اور غیبت سے، ہماری آنکھوں کو حرام سے، ہمارے کانوں کو باطل سے پاک فرما، اور ہمارے نفوس کا تزکیہ فرما کیونکہ تو ہی ان کا بہترین تزکیہ کرنے والا ہے.

ثناءاللہ حسین:25/8/26

اسلام آباد

Loading