ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹر نیشنل )تصوف اور ادراکِ الٰہی کوئی خشک فلسفہ یا الفاظ کا گورکھ دھندا نہیں، بلکہ یہ دل کی تڑپ، روح کے سرور اور سچی محبت کا نام ہے۔
جب دل دنیا کی کثافتوں سے پاک ہونے لگتا ہے تو اس میں ایک ایسا نور، تسلسل اور ربط پیدا ہوتا ہے جو انسان کو اپنے خالق کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔
—
👁️ ۱۔ چشمِ بینا: دل کی آنکھ کا نور
انسان کے پاس صرف وہ آنکھیں نہیں جن سے وہ مادی دنیا کو دیکھتا ہے، بلکہ اس کے سینے میں ایک اور بصیرت بھی ہے جس کے ذریعے وہ حقیقت کو سمجھتا اور پہچانتا ہے۔
"جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں…”
(سورۃ آل عمران: 191)
یہی ذکر اور فکر جب دل میں جمع ہوتے ہیں تو کائنات محض اشیاء کا مجموعہ نہیں رہتی؛ انسان اس میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں دیکھنے لگتا ہے۔
اقبالؒ اسی اندرونی بیداری کی طرف یوں متوجہ کرتے ہیں:
«اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن»
یعنی اصل سفر باہر کی دنیا سے زیادہ اپنے باطن کی طرف ہے۔
—
🕊️ ۴۔ باطن کی بیداری اور خودی
روحانی سفر کا مقصد دنیا سے فرار نہیں، بلکہ اپنے اندر ایسی پاکیزگی پیدا کرنا ہے کہ انسان اپنی حقیقت، اپنی ذمہ داری اور اپنے رب کے سامنے اپنی بندگی کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔
اقبالؒ کے نزدیک خودی کا کمال تکبر نہیں بلکہ اپنی حقیقت کو پہچان کر اسے بلند مقصد کے لیے وقف کرنا ہے:
«خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے»
یہ مقام خواہشِ نفس کی پیروی کا نہیں بلکہ اپنی خواہش کو اللہ کی رضا کے تابع کرنے کا مقام ہے۔
—
✨ حاصلِ گفتگو
جب ذکر دل کو زندہ کرتا ہے، فکر نگاہ کو گہرا کرتی ہے، عشق انسان کو بدلتا ہے اور سلوک کردار کو سنوارتا ہے تو باطن میں ایک نئی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔
پھر انسان کائنات کو صرف آنکھ سے نہیں دیکھتا، بلکہ دل سے غور کرتا ہے۔
ایک قطرہ اسے قدرت کی نشانی دکھائی دیتا ہے،
ایک ذرہ اسے تخلیق کی حکمت کی طرف متوجہ کرتا ہے،
اور ہر منظر اسے اپنے رب کی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے۔