Daily Roshni News

خلافتِ عباسیہ کا بانی ابو العباس سفاح۔۔

خلافتِ عباسیہ کا بانی ابو العباس سفاح۔۔

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)خلافتِ عباسیہ کے روحِ رواں اور عباسی سلطنت کے سب سے پہلے خلیفہ ابو العباس عبد اللہ بن محمد، المعروف ابو العباس السفاح تھے۔ انہوں نے امویوں کے تقریباً نوے سالہ اقتدار کے سورج کو غروب کر کے ایک نئی عظیم عالمی سلطنت کی بنیاد رکھی، جو اگلے پانچ سو سال تک دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکمران رہی۔ السفاح کی زندگی، ان کے نسب، جدوجہد، اقتدار کے قیام اور ان کے طریقِ حکمرانی کی تفصیل ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔

​نسب اور ابتدائی زندگی:

​ابو العباس کا پورا نام عبد اللہ بن محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی نسل سے تھے۔ ان کی ولادت 721 یا 722 عیسوی کے قریب الشراۃ کے علاقے “الحمیمہ” (موجودہ اردن) میں ہوئی۔ الحمیمہ عباسی خاندان کا وہ مرکز تھا جہاں انہوں نے نہایت پراسرار اور منظم انداز میں اموی حکومت کے خلاف اپنی تحریک کا جالا بُنا تھا۔

​ابو العباس کی تربیت ایک علمی اور سیاسی ماحول میں ہوئی جہاں بچپن سے ہی انہیں اپنے خاندان کے اس دیرینہ مقصد سے آگاہ کیا گیا کہ اقتدار کو بنو امیہ سے چھین کر آلِ محمد (بنو ہاشم) کے سپرد کرنا ہے۔ ان کے بڑے بھائی ابراہيم الإمام نے تحریک کی قیادت سنبھالی تھی، لیکن اموی خلیفہ مروان ثانی کو جب اس خفیہ تحریک کی خبر ملی تو اس نے ابراہیم الامام کو قید کر کے قتل کروا دیا۔ وفات سے قبل ابراہیم نے تحریک کی باگ ڈور اور خاندان کی سرپرستی اپنے چھوٹے بھائی ابو العباس کے سپرد کر دی اور ہدایت کی کہ وہ الحمیمہ سے کوفہ منتقل ہو جائیں۔

​عباسی تحریک :

​عباسیوں نے امویوں کے خلاف جنم لینے والی عمومی بے چینی، خصوصاً نان-عرب مسلمانوں (موالی) اور شیعانِ علی کی ہمدردیوں کو مہارت سے اپنے حق میں استعمال کیا۔ اس تحریک میں سب سے اہم کردار خراسان کے ایک باصلاحیت اور بے رحم قائد ابو مسلم خراسانی نے ادا کیا۔

​ابو مسلم نے خراسان میں سیاہ پرچم بلند کیے اور اموی گورنروں کو شکست دیتے ہوئے پیش قدمی کی۔ اموی فوجوں کو مسلسل شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور یوں عباسی لشکر عراق کے قلب تک پہنچ گیا۔ اس دوران ابو العباس اپنے اہل خانہ کے ساتھ کوفہ میں روپوش رہے۔ جب کوفہ پر عباسی فوج کا مکمل قبضہ ہو گیا، تو ابو العباس کوفہ کی جامع مسجد میں ظاہر ہوئے جہاں لوگوں نے ان کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی۔

​خلافت کا اعلان اور خطبہ:

​نومبر 749ء (ربیع الاول 132 ہجری) میں ابو العباس نے کوفہ کی جامع مسجد میں اپنا پہلا باضابطہ خطبہ دیا۔ اس خطبے میں انہوں نے اپنے خاندان کی فضیلت اور اہل بیت کے حقوق پر زور دیا، امویوں کے ظلم و ستم کا ذکر کیا اور عوام کے سامنے ایک نئے عدل و انصاف سے بھرپور دور کا وعدہ کیا۔​اسی خطبے کے دوران انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے تاریخ میں ان کی شناخت قائم کر دیدی۔

“میں السفاح (خون بہانے والا یا سخاوت کے ساتھ مال لٹانے والا) اور المبیح (مباح کرنے والا) ہوں۔”

​اگرچہ لفظ “السفاح” کا ایک مطلب بے انتہا سخی ہونا ہے، لیکن تاریخ نے اسے ان کی بے رحم دشمن کشی کی پالیسی کی بنا پر “خونریز” کے معنوں میں زیادہ محفوظ کیا۔

​معرکہ زاب اور اموی سلطنت کا کامل خاتمہ

​ابو العباس کے خلیفہ بننے کے باوجود آخری اموی خلیفہ مروان ثانی کے پاس ایک بڑی اور تجربہ کار فوج موجود تھی۔ جنوری 750ء میں دریائے زاب (عراق) کے کنارے تاریخ کا فیصلہ کن معرکہ زاب لڑا گیا۔

​ابو العباس نے اپنی فوج کی قیادت اپنے چچا عبد اللہ بن علی کے سپرد کی۔ عباسیوں کے عزم اور نظم و ضبط کے سامنے اموی لشکر ٹک نہ سکا اور اسے سخت ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مروان ثانی میدانِ جنگ سے بھاگ کر مصر چلا گیا، لیکن عباسی تعاقب کرنے والوں نے اسے تلاش کر کے قتل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی نوے سالہ اموی خلافت کا ابدی خاتمہ ہو گیا۔

​السفاح کی سخت گیر پالیسیاں:

​اقتدار سنبھالنے کے بعد ابو العباس السفاح کا سب سے بڑا چیلنج اپنی نوخیز حکومت کو استحکام دینا اور امویوں کی طرف سے کسی بھی ممکنہ بغاوت کا خاتمہ کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے انتہائی سخت اور سنگدلانہ اقدامات کیے۔

​اموی شہزادوں کا قتلِ عام:

 انہوں نے اموی خاندان کے تمام بااثر افراد کا چن چن کر ڈنڈوں اور تلواروں سے خاتمہ کروایا۔ تاریخ میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ نہرِ ابی فطرس کے مقام پر اموی خاندان کے تمام جلاوطنوں کو امان کا وعدہ دے کر بلایا گیا اور پھر وہاں انہیں قتل کر کے ان کی لاشوں پر دسترخوان بچھا کر کھانا کھایا گیا۔

​قبور کی بے حرمتی:

 اموی خلفاء کی قبور کو کھود کر ان کے جسد خاکی کی بے حرمتی کی گئی، سوائے عمر بن عبد العزیز کی قبر کے، ان کی عدل و انصاف کی وجہ سے ان کا احترام کیا گیا۔

​عبد الرحمٰن الداخل کا فرار: اس عمومی قتل عام سے اموی خاندان کا صرف ایک اہم شہزادہ، عبد الرحمٰن اول (الداخل) بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوا جو افریقہ کے راستے اندلس پہنچا اور وہاں ایک آزاد اموی امارت کی بنیاد رکھی۔

​طرزِ حکمرانی اور انتظامی اصلاحات:

​اگرچہ السفاح کا دور محض ساڑھے چار سال کے قلیل عرصے پر محیط تھا، لیکن انہوں نے ایک عباسی ریاست کی بنیادی عمارت کھڑی کرنے کے لیے اہم انتظامی اقدامات کیے:

​دار الحکومت کی منتقلی: امویوں کا مرکز دمشق تھا، لیکن السفاح نے شامی غلبے کو ختم کرنے کے لیے اپنا مرکزِ حکومت عراق منتقل کیا۔ انہوں نے پہلے کوفہ اور بعد میں الانبار کو اپنا دار الحکومت بنایا۔

​غیر عربوں کی حکومت میں شمولیت: امویوں کے برعکس، جہاں عربوں کو نمایاں ترجیح دی جاتی تھی، السفاح نے فارسیوں اور غیر عرب مسلمانوں (موالی) کو فوج اور بیوروکریسی میں اہم عہدے دیے۔ اس سے اسلامی سلطنت کا دائرہ کار عالمی اور آفاقی بن گیا۔

​جنگِ طلاس (751ء): السفاح کے دورِ حکومت کا ایک اہم بین الاقوامی واقعہ جنگِ طلاس ہے، جس میں عباسی فوجوں نے وسطی ایشیا میں چینی تانگ خاندان کی فوج کو شکست دی۔ اس فتح کے نتیجے میں مسلمانوں کو کاغذ بنانے کا فن حاصل ہوا، جسے سمرقند اور بعد میں پوری اسلامی دنیا میں پھیلا دیا گیا۔ اس قدم نے علم و سائنس کے عباسی “سنہری دور” کی بنیاد رکھی۔

​​وفات :

​ابو العباس السفاح کی مدتِ خلافت بہت مختصر رہی۔ ابھی وہ اپنی نئی قائم شدہ سلطنت کو مکمل استحکام بھی نہ دے پائے تھے کہ 136 ہجری (جون 754ء) میں صرف 32 یا 33 سال کی عمر میں چیچک (Smallpox) کے مہلک مرض میں مبتلا ہو کر الانبار کے مقام پر انتقال کر گئے۔

​اپنی وفات سے قبل انہوں نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے بھائی ابو جعفر المنصور کو اپنا جانشین نامزد کیا۔

​ابو العباس السفاح کو تاريخِ اسلام کے ایک ایسے موڑ پر دیکھا جاتا ہے جہاں سے دنیا کا سیاسی اور ثقافتی رخ بدل گیا۔ اگرچہ انہوں نے اپنی حکومت کی بنیادیں خونریزی پر رکھیں، لیکن یہی وہ خونریز شروعات تھیں جنہوں نے آئندہ دور میں ایک ایسی عظیم عباسی سلطنت کی بنیاد رکھی جس نے تاریخ کو بیت الحکمہ، بغداد، سائنس، فلسفہ، اور ثقافت کے لازوال اور درخشان ابواب سے نوازا۔

​اگر ابو العباس السفاح اپنی سخت گیر حکمتِ عملی سے امویوں کی طاقت کو مکمل طور پر نہ کچلتے، تو عباسی ریاست اپنی شروعات ہی میں شدید خانہ جنگی کا شکار ہو کر بکھر جاتی ہے۔۔۔ ✍️

Loading