المعتصم باللہ عباسی خلافت کے آٹھویں خلیفہ تھے، جنہوں نے 833ء میں خلافت سنبھالی۔ وہ اپنے بھائی مامون الرشید کے بعد بغداد کے تخت پر بیٹھے اور اپنی غیر معمولی فوجی طاقت کے لیے مشہور ہوئے۔
تحریر : History Uncovered
المعتصم ایک مضبوط اور جنگجو حکمران تھے۔ انہوں نے فوج کو منظم کیا اور خاص طور پر ترک سپاہیوں کو بڑی تعداد میں اپنی فوج میں شامل کیا۔ یہی فوج بعد میں عباسی سلطنت کی طاقت کا اہم ستون بن گئی۔
ان کے دور کا سب سے مشہور واقعہ بازنطینی سلطنت کے خلاف جنگ تھا۔ 838ء میں بازنطینی شہنشاہ تھیوفیلس نے زبردست حملہ کیا اور عموریہ شہر پر قبضہ کیا۔ جب یہ خبر المعتصم تک پہنچی تو انہوں نے ایک بڑی فوج تیار کی۔
المعتصم نے اناطولیہ کی طرف پیش قدمی کی اور بازنطینی فوج کو شکست دیتے ہوئے عموریہ کا محاصرہ کر لیا۔ کئی دنوں کی شدید لڑائی کے بعد شہر عباسی فوج کے قبضے میں آ گیا۔ یہ فتح المعتصم کے دور کی سب سے بڑی فوجی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
روایات کے مطابق عموریہ کی فتح نے عباسی خلافت کی فوجی طاقت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ پورے خطے میں المعتصم کا رعب قائم ہوگیا۔
المعتصم نے بعد میں سامرا کو اپنا دارالحکومت بنایا، کیونکہ بغداد میں فوج اور شہری آبادی کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ سامرا آنے والے برسوں میں عباسی خلافت کا اہم سیاسی اور فوجی مرکز بن گیا۔
المعتصم کا دور طویل نہیں تھا۔ تقریباً آٹھ سال خلافت کرنے کے بعد 842ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔
المعتصم کی میراث ایک ایسے عباسی خلیفہ کی ہے جس نے تلوار، فوجی تنظیم اور سیاسی طاقت کے ذریعے خلافت کو مضبوط رکھنے کی کوشش کی۔ ان کی سب سے بڑی پہچان عموریہ کی فتح اور عباسی فوج کی نئی طاقت تھی۔
#AlMutasim
#AbbasidCaliphate
#IslamicHistory
#BaghdadHistory
#HistoryUncovered
![]()

