Daily Roshni News

موت کی ضیافت۔۔۔ تحریر ۔۔۔  قدرت جوت۔۔۔قسط نمبر4

موت کی ضیافت

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔  قدرت جوت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ موت کی ضیافت۔۔۔ تحریر ۔۔۔  قدرت جوت)اور پھر چھوٹے بھائی کی جانب دیکھا۔ عین اسی وقت چھوٹے بھائی کو بھی روٹی والے کی آمد کا پتہ چل گیا۔ اس نے بھی اپنے بھائی کی جانب نگاہیں اُٹھا ئیں

۔ دونوں میں نگاہوں کا تبادلہ ہوا ، پھر چھوٹے لڑکے نے منہ ہی منہ میں کہا روٹی !

روٹی والے کے آنے کی آواز قریب تر ہوتی جارہی تھی۔ گلناز نے بڑی مشکل سے خود میں اٹھنے کی سکت مجتمع کی ، پھر ایک چادر اپنے گرد لپیٹ لی تاکہ باہر نکل سکے۔ وہ یہ فیصلہ کر چکی تھی کہ روٹی والے سے بطور قرض روٹیوں کا تقاضہ کرے گی اور جب دھلائی کے کام کے عوض اسے پیسے ملیں گے تو ادا کر دے گی۔ وہ دروازے کے قریب جاکھڑی ہوئی مگر گھوڑے کے ”دھم دھم“ کرتے ہوئے قدموں کی بھاری اور تیز آواز نے اس کے کمزور

دل کو دہلا دیا۔ اس نے ایک بار پھر خود پر قابو پایا اور دروازہ کھولا تو روٹی والا اور اس کا گھوڑا چند قدم آگے بڑھ چکے تھے۔ اس نے آواز نکالنا چاہی مگرناکام رہی اور کھلی آنکھوں سے روٹی والے کو اپنے سامنے دور جاتے دیکھتی رہی۔

گھوڑے پر لدے ٹوکرے اتنے بڑے تھے کہ گھوڑے کی پشت بالکل چھپ گئی تھی۔ دونوں میں سپید آٹے کی پکی ہوئی روٹیاں بھری ہوئی تھیں۔ گلناز نے دیکھا کہ روٹیاں اس قدر تازہ اور محتہ تھیں کہ انہیں چھونے کے خیال ہی سے اس میں مسرت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ پھر اس کے نتھنوں میں روٹیوں کی اشتہا انگیز خوشبو در آئی۔ اس نے بے اختیار ہو کر روٹی والے کو پکارا۔

مگر اس کی نقاہت بھری آواز کو روٹی والا سن ہی نہ سکا۔ گلناز کی ساری ہمت جواب دے گئی۔ اس نے دروازے کے پٹ کو مضبوطی سے تھام لیا۔ روٹیاں ان کے دروازے کے سامنے سے گزر رہی تھیں مگر وہ اپنا ہاتھ بڑھا کر اپنے لیے چند روٹیاں حاصل نہیں کر سکتی تھی۔ روٹیوں سے لدا ہوا گھوڑا برابر بڑھتا چلا جارہا تھا۔ اس کی دم رومال کی طرح یوں بل رہی تھی جیسے وہ گلناز سے کہہ رہی ہو ” خداحافظ گلناز …. خدا حافظ ۔

گلناز مڑی۔ اس نے اپنے پیچھے بڑے زور سے دروازہ بند کیا۔ وہ کمرے میں آئی اور اس نے دانستہ اپنے بچوں کی طرف دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی جو بڑی پُر امیدی کے عالم میں اس کے منتظر تھے۔ گلناز کو ایسی کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی جہاں وہ اپنے خالی ہاتھ چھپا سکے۔ پھر اچانک زندگی میں پہلی بار اس نے اپنے ہاتھوں کے لیے شرمندگی محسوس کی۔ اس احساس نے اس کی آنکھوں کو بھگو دیا۔ کمرے کے سکوت کو کسی نے نہیں توڑا۔ دونوں لڑکے بالکل خاموش رہے۔ بڑے لڑکے نے اپنی آنکھیں موند لیں جیسے وہ اپنی ماں کے خالی ہاتھوں کو نہیں دیکھ سکتا، چھوٹے بھائی نے بھی اس کی تقلید کی۔

گلناز بے چارگی سے فرش پر ہی بیٹھ گئی اور اس نے بازو اور پاؤں چادر میں سمیٹ کر یوں چھپائے جیسے وہ خود کو فضا میں تحلیل کرنا چاہتی ہوں۔ اس وقت وہ یوں لگ رہی تھی جیسے پرانے کپڑوں کا ڈھیر ۔ کمرے کی فضا پر خاموشی طاری ہو گئی۔

نصف گھنٹے تک کسی نے ملنے جلنے کی کوشش بھی نہ کی۔ بالآخر ایک بار پھر چھوٹے لڑکے نے خاموشی کے طلسم کو توڑا اور اپنے بستر ہی سے ماں کو پکارنے

لگا۔ ”ماں… ماں !

”ہاں بیٹے“

اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ماں…. میرے اندر کچھ ہو رہا ہے“۔

اوہ میرے پیارے بچے…. میرے ننھے منے بیٹے“۔

” یہاں میرے پیٹ کے اندر کوئی چیز حرکت کر رہی ہے“ اس نے پیٹ پر ہاتھ رکھتے

تم ہوئے کیا۔

اس کی وجہ بھوک ہے۔ میں جانتی ہوں، مگر تم گھبراؤ نہیں۔ یہ تمہاری آنتیں ہیں جو حرکت کر رہی ہیں اور بس “۔

نگر میں مر رہا ہوں… میں مر رہا ہوں“۔ بڑے لڑکے نے آنکھیں کھول کر اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھا۔ گلناز اب دونوں کی جانب متوجہ ہوگئی۔ چھوٹا لڑکا خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھیں سیاہ ہو چکی تھیں۔ ہونٹ خشک اور سفید ہو چکے تھے اور ان پر پپڑی جم گئی تھی۔ اس کے رخسار اندر کی جانب دھنس گئے تھے اور جلد یوں سفید ہو گئی تھی جیسے ان میں سے خون نچوڑ لیا گیا ہے۔ گلناز کو اچانک کوئی خیال آیا۔ اس نے اپنے بڑے لڑکے کی جانب دیکھا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی اشارہ کیا۔ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر گیا۔ گلناز بھی اس کے پیچھے پیچھے نکل آئی۔ برآمدےمیں جاکر وہ دونوں رک گئے۔ گلناز اپنے بڑے لڑکے کے کان میں سرگوشی کے انداز میں باتیں کرنے لگے جیسے اسے یہ خوف ہو کہ کوئی ان کی باتیں سن لے گا۔ وہ کہہ رہی تھی ہمیں اب ہر صورت میں بودس پنساری کی دکان پر جانا ہو گا۔ تم جاکر اس سے آٹا، چاول اور آلو لے آؤ اور اسے کہہ دینا کہ ہم چند دن کے اندر اندر اس کے پیسے ادا کر دیں گے“۔

لڑکے کا پرانا کوٹ اس قابل نہ تھا کہ وہ باہر کی سردی کا مقابلہ کر سکے۔ مگر وہ اسی کوٹ کو پہن کر باہر نکلا نقابت، کمزوری اور بھوک سے اس کی ٹانگیں لرز رہی تھیں۔ وہ اس کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھیں چنانچہ اسے دیواروں کا سہارا لے کر چلنا پڑا۔ گرتا پڑتا وہ آخر دکان بیک پہنچ گیا۔ دکان بے حد گرم تھی اور کئی لوگ خریداری میں مصروف تھے۔ وہ خاموشی سے ایک کونے میں کھڑا ہو گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ دکان دار سے تنہائی میں بات کرے ، جب سب لوگ چلے جائیں گے۔ اس دوران میں وہ اپنے بیخ بستہ جسم کو گرمی پہنچانا چاہتا تھا۔ جب دکان خریداروں سے خالی ہو گئی تو وہ انگیٹھی کے قریب سے اٹھ کر دکان دار کے پاس گیا اور اسے آدھ سیر چاول، آدھ سیر آنا اور آدھ سیر آلو تولنے کو کہا۔ پھر اس نے اپنا ایک ہاتھ جیب میں یہ ظاہر کرنے کے لیے ڈالا کہ پیسے نکالنا چاہتا ہو۔ پھر ایک دم اس نے اپنے چہرے پر معصومیت آمیز حیرانی ثبت کرلی اور کہا : “اوہ… ! میں بھی کتنا احمق ہوں، پیسے تو گھر ہی بھول آیا ہوں۔ مگر۔۔جاری  ہے

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ فروری 2026

Loading