مغلیہ سلطنت — قسط نمبر 1
ظہیر الدین بابر — فرغانہ کے کمسن شہزادے کا خواب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سنہ 1494ء کی ایک سرد صبح…وسطی ایشیا کے ایک نسبتاً چھوٹے سے خطے فرغانہ میں ایک بارہ سالہ لڑکا اچانک ایک ایسی دنیا کا وارث بن گیا تھا جس کے تخت کے چاروں طرف تلواریں کھنچی ہوئی تھیں۔
اس لڑکے کا نام تھا ظہیر الدین محمد بابر۔
اس وقت شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ یہ کم سن شہزادہ، جس کے ہاتھ ابھی پوری طرح تلوار سنبھالنے کے عادی نہیں ہوئے تھے، آنے والے برسوں میں ہندوستان کے ایک ایسے شاہی خاندان کی بنیاد رکھے گا جس کی حکومت برصغیر پر تین صدیوں سے زیادہ عرصے تک کسی نہ کسی صورت میں قائم رہے گی۔
لیکن بابر کی کہانی کسی سیدھی لکیر کی طرح آگے نہیں بڑھتی۔
یہ شکستوں کی کہانی ہے۔
یہ جلاوطنی کی کہانی ہے۔
یہ اپنے ہی رشتہ داروں سے لڑنے، شہر فتح کرنے اور پھر انہی شہروں کو کھو دینے کی کہانی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ ایک ایسے انسان کی داستان ہے جو بار بار ٹوٹا، مگر ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر واپس آیا۔
—
فرغانہ کی وادی آج بھی وسطی ایشیا کے نقشے پر موجود ہے۔
پہاڑوں سے گھری ہوئی، دریاؤں اور زرخیز زمینوں سے مالا مال یہ خطہ اس زمانے میں صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں تھا۔
یہ وسطی ایشیا کی سیاست کا ایک اہم میدان تھا۔
مشرق میں طاقتور خاندان تھے، مغرب میں تیموری شہزادوں کی باہمی کشمکش، اور ہر طرف ایسے سردار جو موقع ملتے ہی اپنے حریف کے خلاف تلوار اٹھانے میں دیر نہیں کرتے تھے۔
بابر کے والد عمر شیخ مرزا فرغانہ کے حکمران تھے۔
وہ تیمور لنگ کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔
اور یہی نسبت بابر کے لیے ایک عظیم اعزاز بھی تھی اور ایک خطرناک بوجھ بھی۔
کیونکہ تیمور کی اولاد میں تخت صرف وراثت سے نہیں ملتا تھا۔
اسے سنبھالنے کے لیے طاقت چاہیے تھی۔
فوج چاہیے تھی۔
حلیف چاہیے تھے۔
اور سب سے بڑھ کر قسمت چاہیے تھی۔
—
ایک دن قلعہ نما رہائش گاہ کے قریب ایک افسوسناک خبر پھیلی۔
عمر شیخ مرزا وفات پا گئے تھے۔
روایات کے مطابق ان کی موت ایک حادثے میں ہوئی۔
اور یوں صرف بارہ برس کی عمر میں بابر فرغانہ کا حکمران بن بیٹھا۔
بارہ سال…
ذرا تصور کیجیے۔
ایک طرف شاہی تاج۔
دوسری طرف دشمنوں سے بھری دنیا۔
اور درمیان میں ایک کم سن لڑکا۔
اس عمر میں عام بچے اپنے مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔
بابر کو اپنا مستقبل خود بنانا تھا۔
—
نئے بادشاہ کے تخت نشین ہوتے ہی مسئلے شروع ہوگئے۔
فرغانہ کے اندر بھی سب کی وفاداریاں پکی نہیں تھیں اور باہر بھی کئی آنکھیں اس کم سن حکمران کے تخت پر لگی ہوئی تھیں۔
بابر کے چچا اور دوسرے تیموری شہزادے اپنے اپنے علاقوں میں طاقت رکھتے تھے۔
ان سب کے دل میں ایک ہی سوال تھا:
کیا یہ لڑکا واقعی اس سلطنت کو سنبھال سکے گا؟
بابر کو بہت جلد اس سوال کا جواب دینا تھا۔
اور اس نے جواب الفاظ سے نہیں، عمل سے دینے کا فیصلہ کیا۔
—
مگر بابر کے دل میں ایک اور خواب بھی تھا۔
سمرقند۔
وہ شہر جس کا نام سن کر وسطی ایشیا کی سیاست کا پورا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا تھا۔
شاندار عمارتیں۔
علم و ادب کے مراکز۔
قدیم بازار۔
تیموری عظمت کی یادیں۔
اور وہ تخت جس پر کبھی بابر کے عظیم جد تیمور کی حکومت تھی۔
بابر کے لیے سمرقند محض ایک شہر نہیں تھا۔
وہ اس کے خاندان کی عظمت کی علامت تھا۔
اور شاید اسی لیے ایک کم سن فرغانوی بادشاہ نے اپنے دل میں یہ عہد کر لیا کہ وہ ایک دن سمرقند ضرور حاصل کرے گا۔
لیکن سمرقند کو حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔
اس شہر کی فصیلوں تک پہنچنے سے پہلے کئی سیاسی دیواریں توڑنی تھیں۔
—
سنہ 1497ء۔
بابر نے پہلی مرتبہ سمرقند کے خلاف بڑی مہم شروع کی۔
وہ ابھی نوجوان تھا، مگر اس کے اندر ایک عجیب اعتماد پیدا ہوچکا تھا۔
مہینوں کی محنت کے بعد شہر کا محاصرہ کیا گیا۔
سمرقند کے اندر بیٹھے لوگوں نے شاید یہ سوچا ہوگا کہ ایک کم عمر شہزادہ آخر کب تک باہر کھڑا رہ سکتا ہے؟
مگر بابر پیچھے نہیں ہٹا۔
آخرکار شہر کمزور پڑا۔
اور پھر وہ دن آیا جب بابر سمرقند میں داخل ہوا۔
ایک نوجوان تیموری شہزادہ اپنے آباؤ اجداد کے شہر میں داخل ہو رہا تھا۔
اس کے لیے یہ لمحہ خواب کی تعبیر جیسا تھا۔
وہ کامیاب ہوگیا تھا۔
مگر اسے ابھی معلوم نہیں تھا کہ تاریخ کبھی کبھی انسان کو اس کی سب سے بڑی خواہش اس لیے دیتی ہے کہ کچھ ہی دیر بعد اسے چھین سکے۔
—
سمرقند ہاتھ آیا تو فرغانہ ہاتھ سے نکل گیا۔
بابر کے مخالفین نے موقع دیکھ لیا۔
اس کی غیر موجودگی میں فرغانہ پر قبضہ کر لیا گیا۔
اب بابر کے سامنے ایک عجیب صورت حال تھی۔
جس شہر کے لیے وہ لڑا تھا، وہ اس کے پاس تھا۔
مگر اپنا آبائی تخت اس کے ہاتھ سے جا چکا تھا۔
وہ سمرقند میں تھا، لیکن فرغانہ اس کے پیچھے چھوٹ چکا تھا۔
کچھ ہی عرصے بعد حالات مزید خراب ہوگئے۔
بابر نے سمرقند بھی کھو دیا۔
فرغانہ بھی۔
اور یوں وہ شخص جس نے چند برس پہلے دو علاقوں پر حکمرانی کی تھی، اب ایک بے گھر شہزادہ بن چکا تھا۔
—
یہ بابر کی زندگی کا پہلا بڑا سبق تھا:
تخت پر بیٹھنا آسان ہوسکتا ہے، مگر تخت کو بچانا آسان نہیں ہوتا۔
وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھٹکتا رہا۔
کبھی کسی قلعے میں پناہ ملتی، کبھی کسی سردار کے دروازے پر جانا پڑتا۔
کبھی امید بندھتی کہ اب قسمت بدلنے والی ہے، اور اگلے ہی دن سب کچھ ہاتھ سے نکل جاتا۔
لیکن بابر نے ہمت نہیں چھوڑی۔
اس کے پاس نہ مستقل سلطنت تھی، نہ بہت بڑی فوج۔
مگر ایک چیز ابھی باقی تھی:
اس کا خواب۔
—
وقت گزرتا گیا۔
بابر نے سمرقند دوبارہ حاصل کرنے کی کوششیں کیں۔
کامیابیاں بھی ملیں، ناکامیاں بھی۔
مگر وسطی ایشیا کی سیاست اس کے لیے مسلسل مشکل ہوتی جارہی تھی۔
اسی دوران ایک نئی طاقت تیزی سے ابھر رہی تھی۔
ازبک سردار محمد شیبانی خان۔
شیبانی خان نے وسطی ایشیا میں تیموری شہزادوں کے لیے زمین تنگ کرنا شروع کردی۔
اب بابر کا مسئلہ صرف اپنے رشتہ دار نہیں رہے تھے۔
ایک نئی طاقت سامنے آچکی تھی۔
اور اس طاقت کے سامنے تیموری شہزادوں کی اندرونی لڑائیاں انہیں مزید کمزور کر رہی تھیں۔
بابر نے حالات کو سمجھا۔
اسے احساس ہوا کہ اگر وہ اسی طرح ایک چھوٹے سے علاقے کے لیے لڑتا رہا تو شاید پوری زندگی اسی کشمکش میں گزر جائے گی۔
اور پھر تاریخ نے اس کے سامنے ایک نیا راستہ کھولا۔
—
سنہ 1504ء۔
بابر نے وسطی ایشیا کی پیچیدہ سیاست سے نکل کر جنوب کی طرف رخ کیا۔
اس کی منزل تھی:
کابل۔
کابل اس وقت سیاسی اور جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم مقام تھا۔
پہاڑوں کے درمیان واقع یہ شہر وسطی ایشیا، افغانستان اور ہندوستان کے راستوں کو ایک دوسرے سے ملاتا تھا۔
بابر نے کابل پر قبضہ کرلیا۔
اور پہلی مرتبہ اسے ایسا مرکز ملا جہاں وہ نسبتاً مضبوط بنیاد قائم کرسکتا تھا۔
یہاں اس نے اپنی طاقت دوبارہ جمع کی۔
اپنے ساتھیوں کو منظم کیا۔
فوج تیار کی۔
اور مستقبل کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔
—
مگر بابر کے دل سے سمرقند کا خواب پوری طرح نکلا نہیں تھا۔
وہ دوبارہ وسطی ایشیا کی طرف متوجہ ہوا۔
اس نے کئی کوششیں کیں۔
لیکن شیبانی خان کی طاقت بڑھتی جارہی تھی۔
بالآخر بابر کو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑی کہ سمرقند کا خواب شاید اس راستے سے پورا نہیں ہوگا۔
کبھی کبھی تاریخ انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا پڑتا ہے:
کیا وہ اپنے ماضی کے پیچھے بھاگتا رہے، یا مستقبل کی طرف دیکھے؟
بابر نے مستقبل کا انتخاب کیا۔
اور یہی فیصلہ آنے والے برسوں میں ہندوستان کی تاریخ بدلنے والا تھا۔
—
کابل میں بیٹھا یہ تیموری شہزادہ اب ایک نئے خطے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
اس کے سامنے ایک ایسی سرزمین تھی جس کے بارے میں وسطی ایشیا کے لوگ صدیوں سے سنتے آئے تھے۔
دریاؤں سے بھری ہوئی۔
زرخیز میدانوں والی۔
بڑے شہروں اور بے شمار ریاستوں والی۔
اور اس وقت سیاسی طور پر بکھری ہوئی۔
ہندوستان۔
دہلی میں لودھی خاندان کی حکومت تھی۔
سلطان ابراہیم لودھی تخت پر بیٹھا تھا، مگر اس کے اپنے امرا اور افغان سردار اس سے پوری طرح خوش نہیں تھے۔
سلطنت بظاہر طاقتور تھی۔
مگر اندر سے دراڑیں پیدا ہوچکی تھیں۔
بابر نے ان دراڑوں کو دیکھا۔
اور شاید پہلی مرتبہ اسے محسوس ہوا کہ جس سمرقند کو وہ برسوں سے حاصل نہیں کرسکا، اس کے بجائے قسمت اسے ایک ایسی سرزمین کی طرف بلا رہی ہے جہاں اس کے لیے ایک بالکل نئی سلطنت کا امکان موجود تھا۔
—
لیکن ہندوستان کوئی آسان شکار نہیں تھا۔
اس کے سامنے ایک بڑی سلطنت تھی۔
مضبوط قلعے تھے۔
ہاتھیوں سے لیس فوجیں تھیں۔
اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا حکمران تھا جو اپنے تخت کو بچانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا سکتا تھا۔
بابر کو معلوم تھا کہ اگر وہ ہندوستان کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو واپسی آسان نہیں ہوگی۔
اسے صرف ایک شہر نہیں چاہیے تھا۔
اسے ایک نئی دنیا فتح کرنی تھی۔
اور اس نئی دنیا کے دروازے پر کھڑا تھا:
دہلی کا تخت۔
بابر نے اپنی نگاہیں کابل سے آگے بڑھائیں۔
اس کی زندگی کا سب سے بڑا سفر اب شروع ہونے والا تھا۔
وہ سفر جو اسے ہندوستان کے میدانوں تک لے جائے گا۔
وہاں ایک ایسی جنگ ہونے والی تھی جس میں ایک طرف بابر کی نسبتاً چھوٹی مگر منظم فوج ہوگی…
اور دوسری طرف سلطان ابراہیم لودھی کی ایک بہت بڑی فوج۔
میدان ہوگا پانی پت۔
اور فیصلہ صرف ایک جنگ کا نہیں ہوگا۔
فیصلہ ہوگا کہ ہندوستان پر اگلی صدیوں تک کس خاندان کا پرچم لہراتا ہے۔
مگر پانی پت پہنچنے سے پہلے بابر کو ایک اور امتحان سے گزرنا تھا۔
اور اس بار دشمن صرف باہر نہیں تھا…
کچھ لوگ اس کے اپنے لشکر کے اندر بھی اس جنگ سے خوفزدہ تھے۔
آخر وہ کون سا خوف تھا جس نے بابر کے سپاہیوں کے دل ہلا دیے؟
یہ داستان اگلی قسط میں جاری رہے گی۔
![]()

